منگل, مئی 21, 2024

نظم۔۔ (ازل سے مرد ظالم ہے۔۔ یہ اک فرضی حقیقت ہے)۔از :عبدالمنان صمدی

0
مری بچی مری معصوم سی بچی تجھے سب کچھ بتاؤں گا میں تیرا باپ ہوں لیکن تجھے مردوں کا میں دکھڑا سناؤں گا۔ کہ جیسے بیٹیاں سسرال سے آکر سناتی ہیں کہ جیسے روٹیوں کے قصے...

حمد” نظر کو روشنی دل کو اجالا کون دیتا ہے” از: قمر اعظم صدیقی

0
بھیرو پور، حاجی پور، ویشالی،بہار، نظر کو روشنی دل کو اجالا کون دیتا ہے اندھیری رات کو جگنو سا شیدا کون دیتا ہے ہماری سانس کو چلنے کی طاقت کس نے بخشی ہے ہماری...

غزل ’’اب کہاں تیری ردائے شب بخیر ‘‘ از: افتخار راغبؔ دوحہ، قطر

0
اب کہاں تیری ردائے شب بخیر شب کہاں گزرے گی میری اب بخیر عادتاً بھی مسکرا دیتا ہوں میں مسکرانے کا نہیں مطلب بخیر میرے دل کو دل سے ہے اُس کی طلب دل کو رکھّے...

حسرت ان غنچوں پہ ہے (مظفرؔ ، انیقہؔ اور شکیبؔ کے نام) از:ڈاکٹر عطاعابدی

1
شہادت کی بدولت وہ کئی معنوں میں زندہ ہے زمیں پر سرخرو ہو کرفلک والوں میں زندہ ہے مری آنکھوں میں وہ رنگوں کی صورت جھلملاتا ہے مرے ماضی کا یہ قصہ مرے خوابوں...

نظم “تلوار ٹیپو کی” از: امان ذخیروی

0
دلوں پر چل رہی ہے آج بھی سرکار ٹیپو کی ہمیں بھی کھیلنے کو چاہئیے تلوار ٹیپو کی وہ ٹیپو, فاطمہ بی بی کی جو آنکھوں کا تارا تھا جسے حیدر علی نے اپنے...

غزل “شامِ غم کی نہیں سحر شاید” از: افتخار راغبؔ دوحہ قطر

0
شامِ غم کی نہیں سحر شاید یوں ہی تڑپیں گے عمر بھر شاید حالِ دل سے مِرے ہیں سب واقف صرف تو ہی ہے بے خبر شاید روز دیدار تیرا کرتا ہوں تجھ کو حیرت...

نعت شریف ’’وجہِ لولاک محمدؐ ہیں صدا ملتی ہے‘‘ از: رہبر گیاوی

0
وجہِ لولاک محمدؐ ہیں صدا ملتی ہے نورِاحمدؐ سے دوعالم کو ضیاملتی ہے چوم کر روضئہ اقدس کوہے آئی شاید آج اٹھلاتی ہوئی سب سے صبا ملتی ہے کتنی خوش بخت ہے بستی وہ کھجوروں...

آیت اللہ العظمی حضرت امام خمینی کی ایک فارسی غزل کا منظوم اردو ترجمہ...

238
راز کا اپنے میں اک راز گشا چاہتا ہوں مجھ کو جو درد ہے میں اس کی دوا چاہتا ہوں طور دیکھا نہیں خواہش بھی نہیں ہے اس کی دل میں جو طور ہے...

اقبال کا نظریۂ حسینیت از: انتخاب : ڈاکٹر خالد مبشر

0
جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی کربلا کلام اقبال کی ایک نمایاں تلمیح ہے،جس سے اقبال استحکامِ خودی، شجاعت ومردانگی، ایثار وقربانی، انقلاب آفرینی،حق وباطل کی معرکہ آرائی،عصری حسیت اور بہت سے مضامین...

نظم “برگشتگی” از: ایس ایم حسینی

0
گھر کے پیچھے مرے آج بھی کچے مکانات ہیں اور کنڈوں کے ریلے چھتوں پہ شاید نیا احساس ہے! دنیا بدل گئی ہے مٹی کی دیوار سے قدریں اکھڑ گئی ہیں اور کوٹھیوں کو گہن لگ چکا ہے دھواں...

تازہ ترین

مقبول ترین پوسٹ

مضامین و مقالات