۔۔۔۔۔۔۔کون سا قانون الگ سے بنایا جائے؟

0
26

عرض داشت

ہندستانی پارلیمنٹ میں گفتار کے اُسلوب پرقابو رکھنے کے لیے کون سا قانون الگ سے بنایا جائے؟

گذشتہ دِنوں ایک رکنِ پارلیمنٹ کی تقریر کا مضمون اوراُس کے اُسلوبِ بیان میں کچھ ایسی اُڑان تھی کہ جمہوریت کے سب سے بڑے ادارے پر دنیا بھر میں لعنت کی صدائیں بلند ہو رہی ہیں۔

صفدرا مام قادری
شعبۂ اردو، کا لج آف کا مرس ،آرٹس اینڈ سائنس ،پٹنہ

پہلا سوال یہی ہے کہ جس ایوان کو قانون بنانے کا اختیار حاصل ہے، کیا اُس کی رفتار اور سَمت میں نامعقولیت آ جائے تو اب کسے اور کس قانون سے اُس کی نکیل کسی جائے؟ جمہوریت کے بارے میں یہ عام بات کہی جاتی ہے کہ اِس تنظیم میں اپنی اصلاح اور درستی کے لیے بہترین مواقع ہوتے ہیں مگر سیاسی مصلحت اندیشی اور ووٹوں کے نفع نقصان کے کھیل نے دنیا کے سب سے بڑے جمہوریے کو اُس معیار تک پہنچا دیا ہے جہاں سے پتا نہیں اصلاح کی کوششیں شروع بھی ہوں تو کتنا عرصہ اُس کی درستی میں لگے گا۔

معاملہ پورے ملک اور دنیا کو معلوم ہے۔ دو سیاسی جماعتوں کے افراد جو پارلیمنٹ کے منتخب ارکان ہیں اور ہندستان کے لاکھوں لوگوں نے اُنھیں ووٹ دے کر اُس ایوان تک پہنچایا ہے مگر حذبِ اقتدارکے ایک رُکن نے اشتعال انگیز انداز میں گفتگو کرتے ہوئے اقلیتی طبقے کے ایک ممبر کو طرح طرح کی سیاسی اور عوامی دشنام طرازیوں کا شکار بنایا۔ جس جوش اور جذبے میں حضور سر گرمِ تقریر تھے ایسا لگ رہا تھا کہ وہ اُس رُکنِ پارلیمنٹ اور اُس قوم کو صفحۂ ہستی سے مٹا دینا چاہتے ہیں۔ صرف اُن کے الفاظ غیر پالیمانی، غیر دانش مندانہ اور غیر انسانی نہیں تھے بلکہ اُن کا لہجہ یہ بتا رہا تھا کہ آدابِ پارلیمنٹ سے ہر گزز وہ واقف نہیں۔ سب سے کمال کی بات یہ ہے کہ جب وہ اپنی تقریر فرما رہے تھے، اُنھیں کئی نامور اور سینئر رُکنِ پارلیمنٹ کی مسکراہٹوں کی شاباسی بھی مل ری تھی۔

ہندستان کا پارلیمنٹ اکثر نازیبا کلمات کی ادئیگی پر سخت رُخ اپناتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔ پارلیمنٹ کے مالک و مختار اسپیکر ہوتے ہیں اور اُن کی اہمیت اِس وجہ سے بڑھ کر ہوتی ہے کہ وہ ہندستان کے گوشے گوشے سے چُن کر آئے ممبرانِ پالیمنٹ کی قیادت کرتے ہیں۔ اِنھی وجوہات سے پروٹوکال کے معاملے میں اُن کی حیثیت دوسروں سے بڑھ کر ہے۔ پارلیمنٹ میں مختلف جماعتوں اور مکاتبِ خیال کے افراد ہوتے ہیں۔ یہ بات کون نہیں جانتا کہ اُن کے بیچ شدید اختلافات اور سیاسی یا فلسفیانہ اُمور میں بعدِ مشرقین ہوتا ہے۔ جمہوریت کی یہی خوبی ہے کہ مختلف خیالات کے افراد بھی ایک مجلس میں جمع ہو کر ملک و قوم کے فائدے اور ترقی کے لیے غور و فکر کر سکتے ہیں مگر دشواری یہ ہے کہ ہمارے دونوں ایوان میں سیکڑوں کی تعداد میں ایسے افراد ہر بار بھیجے جاتے ہیں جن کا فعل اور کرداد کسی طور پر اِس لائق نہیں کہ وہ وہاں بیٹھ کر اپنی قوم کی تقدیر لکھیں۔ رہ رہ کر ایسے اعداد و شمار شائع ہوتے رہتے ہیں کہ تین سو سے زیادہ افراد پر سیکڑوں دیوانی اور فوج داری مقدّمات چل رہے ہیں۔ ڈکیتی چوری سے لے کر زنا کاری کے الزامات میں مبتلا لوگوں کی ایک الگ صف بندی ہے۔ ابھی کچھ مہینوں پہلے خاتون پہلوانوں کی تنظیم کے صدر جو اب بھی لوک سبھا کے رُکن ہیں، اُن پر جنسی استحصال کے الزامات لگے۔ کشمیر سے کنیا کماری تک ایسے اوصاف سے مزین ڈھیر سارے لیڈران ہیںجو کسی نہ کسی پارٹی کاٹکٹ لے کر لاکھوں لوگوں کی آنکھوں میں دھول جھونک کر پارلیمنٹ کا الیکشن جیت لیتے ہیں اور پھر اپنے کردار و گفتار سے پوری قوم کو رسوائی کا ٹیکا لگاتے ہیں۔

اکثر سیاست داں اور بڑے سیاست داں معافی مانگتے رہتے ہیں۔ اِس واقعے پر بھی راج ناتھ سنگھ کی طرف سے ابتدائی معافی آئی۔ عین ممکن ہے اُن سے بڑے قد کی لیڈروں سے بھی معافی مانگی جائے۔ بات کو گھوما پھرا کر بھی پیش کرنے کی کوشش ہوگی۔ اِس سے پہلے بھی ہزاروں بار ایسے واقعات صوبوں سے لے کر لوک سبھا اور راجیہ سبھا تک ہم نے دیکھا کیے ہیں۔دشواری یہ ہے کہ ہمارے وزیرِ اعظم، وزیرِ داخلہ اور خاص طور سے اتر پردیش حکموت کے سربراہ کی زبان اتنی بار پھسلی ہے کہ اب وہ لوگ معذرت بھی کرتے ہیں تو ایسا لگتا ہے کہ یہ نئے قصور کی تیّاری میں کیا جا رہا ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ پارلیمنٹ میں کون سے الفاظ بولے جائیں اور کون سے الفاظ نہیں بولیں جائیں، اِس کے بارے میں تحریری اور غیر تحریری اُصول و ضوابط پہلے سے مقرّرنہیں ہیں۔ پورے ملک یا دنیا میں گالیوں کے لیے ’اَن پارلیمنٹری‘ کی اصطلاح عام ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ضابطے سے جو بات کی جائے وہ پارلیمانی اور ضابطے سے جو نہ ہو وہ غیر پارلیمانی۔ مسئلہ یہ ہے کہ سب کی آنکھوں کے سامنے ایسے تماشے بار بار ہو رہے ہیں اور کسی کے چہرے پر ندامت نہیں ہے۔ اب یہ ایسا ہی ہو گیا ہے کہ کوئی جرائم پیشہ بھری گاڑیوں میں اسلحوں کے ساتھ آئے اور دو چار دس کو مار گرائے۔ دو چار عینی شاہدین ہوں بھی مگر پولس اور سرکاری عملے گواہی سے غائب رہیں گے۔ ہر صوبے کی اسمبلی اورپارلیمنٹ میںایسے پہچانے چانے والے چہرے موجود ہیں جو کبھی اپنی طرف سے یا کبھی حکومت کی طرف سے اشارہ ملنے پر ایسی حرکتیں کرتے ہیں اور پوری قوم ذلیل و رسوا ہوتی ہے۔ایک دشواری یہ بھی ہے کہ اِس کی مذمّت کرتے ہوئے ہم صرف ایک چہرے یا ایک نام کو سامنے رکھتے ہیں یا یا تازہ مثال پیشِ نظر ہوتی ہے جب کہ حقیقت یہ ہے کہ ہر سیاسی پارٹی کا فریضہ ہے کہ وہ اِن چہروں یا جمہوری اداروں کا کھلواڑ بنانے والوں کو ابتدائی مرحلے میں ہی روک دے۔ سیاسی پارٹی اگر اُنھیں اپنا اُمید وار نہ بنائے تو وہ کس طرح پارلیمنٹ یا اسمبلی تک پہنچ پائیں گے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی ہی آخری پارٹی نہیں ہے، ہر سیاسی پارٹی میں ایسے بدتمیز، عاقبت نا اندیش اور غیر جمہوری مزاج کے افراد بھرے پڑے ہیں۔ آخیر یہ اسمبلی اور پارلیمنٹ میں اپنے آپ نہیں پہنچ جاتے ہیں۔ اُنھیں وہ پارٹیاں الیکشن میں میدان میں اتارتی ہیں اور وہ جیت کر وبال مچانے کے لیے جمہوریت کے سب سے بڑے مسجد مندر میں پہنچ جاتے ہیں۔
ملک میں ہر طرح کی ملازمت یا کارکردگی کے لیے تربیت دینے کے ادارے ہیں۔ایک کلرک اورچپراسی کو بھی اُس کے کام کاج سیکھانے کے لیے ہر ادارے میں کچھ نہ کچھ تربیت کا اہتمام ہے۔ صرف قانون بنانے کے یہ سب سے اعلا ادارے ہی ایسے ہیں جن کے افراد کی آزادانہ تربیت کا کوئی باضابطہ ادارا یا کوئی انسٹی ٹیوٹ نہیں ہے۔ ہندستان کی آئین کوہی سامنے رکھ کر اگر اسمبلی اور پارلیمنٹ کے ارکان کا ایک معروضی امتحان کا ٹیسٹ لے لیا جائے تو دس سے پندرہ فیصد افراد ہی کامیاب ہو سکیں گے۔ اِس کا یہ مطلب ہے کہ اسکِل ڈویلپمنٹ کے ہنگاموں کے اِس دَور میں یہ ارکانِ ایوان ہی ایسے ہیں جو بہت کم جہت سے اعلا تربیت یافتہ ہیں۔

آج ہندستانی سیاست میں کوئی گاندھی یا جواہر لعل نہرو بھی نہیں کہ وہ اپنے جوشیلے بد زبان دوستوں کو اخلاقیات کا درس دیتے۔ پارلیمنٹ میں جب رام منوہر لوہیا نے غصّے میں جواہر لعل نہرو کو ’بیک بینچر‘ کہا تو کانگریسیوں میں ہنگامہ کرنے کا مزاج پیدا ہو گیا تھا مگر جواہر لعل نہرو نے اُنھیں ڈانٹ پیلائی اور احساس دلایا کہ لوہیا کے مرتبے کی وہ قدر کریں۔ ۱۹۵۷ء میں جب ڈاکٹر ذاکر حسین نے راجیہ سبھا میں بجٹ پر بولتے ہوئے کانگریسی پالیسیوں کی دھجّیاں اُڑا دی تھیں، اُس وقت بھی لوگوں نے ہنگامہ مچانے کی کوشش کی تھی مگر جواہر لعل نہرو نے لوگوں کو روکا اور ڈاکٹر ذاکر حسین کی مالیات کے تعلق سے علم سے فائدہ اُٹھانے کی بات کی۔ دشواری یہ ہے کہ جواہر لعل نہرو کی بات آتے ہی بعض سیاسی حلقوں میں آگ لگ جاتی ہے۔ گذشتہ دِنوں پارلیمنٹ کی آگ بھی کہیں نہ کہیں جواہر لعل نہرو کا نام آنے سے ہی لگی مگر اقتداری سیاست اور پارلیمنٹ کی اخلاقیات کی بات کرنے والا کوئی نہیں ہے۔ دشواری یہ ہے کہ رمیش بھدوری کی بات کے الفاظ غلط ہو سکتے ہیں، جوشِ بیان میں اشارات نازیبا ہو سکتے ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ ہندستانی سیاست بالخصوص وزیرِ اعظم کی سیاست اُسی راستے پر گامزن ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پارلیمنٹ کا اسپیکر بھی خاموش تماشائی ہے ورنہ اب تک ہاؤس سے برخواستگی کا پروانہ کسی دوسری پارٹی کے لیے اُسی روز جاری ہو جاتا مگر بہ قولِ شاعر:
وہی قتل بھی کرے ہے، وہی لے ثواب اُلٹا

[مقالہ نگار کالج آف کامرس، آرٹس اینڈ سائنس، پٹنہ میں اردو کے استاد ہیں]
safdarimamquadri@gmail.com

Previous articleبین کرتی آوازیں
Next articleمعروف محقق و شاعر ڈاکٹر ظفر کمالی کو بزمِ صدف انٹرنیشنل ایوارڈ مبارک ہو: محمد ولی اللہ قادری