یہ خاموشی کہاں تک؟ لذت فریاد پیدا کر از: ڈاکٹر کہکشاں عرفان الہ آباد

0
116

امن اورانسانیت کی دشمن اور بالخصوص مذہب اسلام کی دشمن حکومت بی جے پی روز ایک مکروہ اور تعصبانہ چال رہی ہے بھارت کا ہر طبقہ خواہ پڑھا لکھا ہو یا کم پڑھا لکھا واقف ہے ۔ کشمیر ہو یا دلی گجرات ہو یا آسام یا اترپردیش ہر ریاست میں مسلمانوں پر وحشیانہ تشدد کیا جارہا ہے تازہ ترین ظلم آپ سب نے آ سام کے دارانگ ضلع کے سیپا جھار علاقہ میں غیر قانونی قبضہ ہٹانے کے نام پر آسام کی پولس کی بربریت ،وحشی پن کا جو ویڈیو منظر عام پر آیا ہے اس ظلم اور نفرت کے پیچھے صرف اور بی جے پی حکومت اور کٹر ہندتو وادہے۔ پولس نے احتجاج کرنے والوں پر نہ صرف لاٹھیاں برسیاں بلکہ گولیوں کا استمعال بھی بے دردی سے کیا گیا، گولیوں سے ظلم اور نفرت کی پیاس نہیں بجھی تو انسانیت سوز حرکت لاش کو لاٹھیوں سے پیٹنے لگے اور لاش پر چڑھکر کودنے کا وحشیانہ عمل بھی کر گزرے ،باغ مشرق ہو کہ مغرب فضا ایک سی ہے۔بھارت کے وزیر اعظم اوراتر پردیش کے وزیر اعلی جو زبان اور لب ولہجہ استعمال کرتے ہیں توبہ انہیں تو اپنے مرتبے اور وقار کا احساس ہی نہیں، وہ کیا بولتے ہیں؟ کبھی کہتے ہیں۔” بولی سے نہیں تو گو لی سے” کبھی ” ابا جان” جیسے محترم رتبہ اور لفظ کو مسلمانوں کے لئے نفرت اور طنز کے زہر میں ڈوبے ہوے تیر کی طرح استعمال کرتے ہیں، کبھی لباس وطعام پر طنز کبھی اولاد پر طنز ، یقینا ہر مسلمان کا خون کھول رہا ہوگا میرا خون بھی کھول رہا ہے مجھے بھی اس حکومت کی بےحسی اور شر پسند ی پر بہت غصہ بہت افسوس ہے کہ یہ حکومت شتر بےمہار کی طرح ہے ہزاروں، لاکھوں لوگوں کے پرزور احتجاج کے باوجود نہ شر پسندوں اور حقیقی دہشتگردوں پر ایف آئ آر درج کی جارہی ہے اور نہ بے گناہ اور بے قصور لوگوں کو انصاف ۔

بھارت میں اہل اسلام پر جو مظالم پے درپے ہو رہے ہیں وہ جگ ظاہر ہیں ، کہ شر پسندوں کو حکومت کی حمایت حاصل ہے۔کبھی نکاح پر اعتراض طلاق پر اعتراض، کبھی اولاد پر اعتراض اعتراض، کبھی حجاب پر اعتراض، قرآن کی آیات پر اعتراض، اذان پر اعتراض، مساجد پر اعتراض، نماز پر اعتراض، ولی اللہ سلطان الہند خواجہ معین الدین چشتیؒ علیہ کی مبارک ذات پر چھینٹہ کشی اور تو اور بانئ اسلام رحمۃاللعالمین ،امام الانبیا ء حضرت محمد مصطفی رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس کو یوں کھلے عام باقاعدہ پریس کے سامنے نشانہ بنایہ گیا مگر حکومت کو کوئ غرض نہیں وطن عزیز کے امن چین میں کوئ طوفان آے، یا کسی مخصوص مذہب کے لوگوں کی دل آزاری ہو، یا یوں بار بار ٹھیس پہنچائ جاے یا جان بوجھ کر ان کی مذہبی غیرت و حمیت کو للکارا جاے ۔یہ بہت گہری سازش کا حصہ ہے یکے بعد دگرے، پے در پے مذہب اسلام کو نشانہ بنانا کوئ عام بات تو نہیں ؟ اور اب تبدیلئ مذ ہب کا الزام علماے دین پر لگا کر ان پر غیر ملکی فنڈنگ کے حصول کا الزام لگا کر ان کی عزت اور رتبے پر داغ لگانے کی کوشش کی جارہی ہے ۔پہلے مولانا عمر گوتم پھر جہا نگیر قاسمی صاحب اور اب مولانا کلیم صدیقی صاحب ۔بھلا زور زبردستی سے کسی کامذہب تبدیل کرایا جاکستا ہے ؟ اسلام زور زبردستی کا مذہب نہیں یہاں دولت کی ندیاں بہتیں ،شراب اور زنا بھی ممنوع ہے ۔اللہ جسے عزت بخشتا ہے اسی کو ایمان نصیب ہوتا ہاں بی جے پی، آرایس ایس، جن سنگھ اور ہندو واہنی جیسی کٹر فرقہ پرست تنظیمیں زبردستی مذہب تبدیل کرا سکتی ہیں ،کیونکہ ان کے وزراء ہی نعر ہ لگاتے ہیں،نعوذ باللہ “جب ملے کاٹے جائیں گے تو رام رام چلا ئیں گے” اور اسی لئے صرف مسلم علماے دین تشد د کا شکار۔ بناے جارہے ہیں ” دان تو ہندوستان کے مندروں اور مٹھوں اور آشرموں کو بھی ملتا ہے لاکھوں ،کروڑوں میں ، مذ ہب کی تبلیغ تو عیسائ بھی اس ملک میں کر رہے ہیں ۔ جانے کتنے دلت ہندو کٹر ہندتو کی ذلت سے تنگ آکر ،بےروزگاری اور بےگھری سے پریشان ہوکر ،چھواچھوت جیسے نفرت امیز برتاو سے عاجز دلت اور پسماندہ ہندو عیسائ بن جاتے ہیں ۔کروڑوں بلکہ اربوں کھربوں روپئے غیر ملکوں کی عیسائ مشنریوں سے اینگلو انڈین کے لئے آتے ہیں ان کے اسکول بھی چل رہے ہیں اور چرچ بھی اور فلاحی ادارے بھی پھر کسی عیسائ پادری اور پوپ یا فادر کو اے ٹی ایس کے لوگ یا حکومت کے کارندے گرفتار کیوں نہیں کرتے ؟ کیونکہ عیسائیوں سے ٹکرانے کی حکومتوں یا حکمرانوں کی اوقات نہیں ہے۔ پھر بھارت کے ہندو امریکہ اور انگلینڈ کی کرنسی کیسے لائنگے وزیراعظم امریکہ کی سیر کیسے کریں گے ؟ ۔

سچ تو یہ ہے کہ یوپی حکومت اپنی کہ ناکامیوں پر بوکھلائ ہوئ ہے اس حکومت کے اندر نہ نوجوان محفوظ ہے نہ بچے، نہ خواتین ، نہ طلباء و طالبات، نہ ایماندار اور بےباک صحافت، نہ ایماندار منصف، نہ سادھو ،نہ سنت، نہ رام نام جپنے والا مہنت، نہ مبلغ دین اسلام ، آپ سب نے سماچار بھارت اور دینک بھاسکر کے صحافی اور مالکان اور این ڈی ٹی وی کے اینکر رویش جی کے ساتھ حکومت کا ناروا رویہ بھی دیکھا ای ڈی کی بے بنیاد کارروائیاں بھی دیکھیں، اکھل بھارتیہ اکھاڑا پریشد کے مہنت نریندر گری کی مشتبہ موت یا قتل نے حکومت کو بوکھلا دیا کہ میڈیا اور ہندو برادری اور بالخصوص برہمن طبقہ اپنے مہنت کی موت کے را ز کو فاش کرنے کی کوشش نہ کریں اس لئے سارا دھیان ڈھونگی بابا نے تبدیلئ مذہب کی طرف موڑ دیا فوری طور پر عالم دین مبلغ اسلام مولانا کلیم صدیقی کو رات کے اندھیرے میں اغواکاروں کی طرح گرفتار کیا ہے۔یہ سراسر ظلم اور بھارت کے آئین کے خلاف ہے اگر کلیم صاحب پندرہ سالوں سے حکومت کے مجرم تھے تو یوپی حکومت ساڑھے چار سال سے کہاں سوئ تھی ؟ اور ایک مجرم کا استقبال آرایس ایس کے چیف موہن بھاگوت نے ہاتھ جوڑ کر کیسے کیا؟ کمال کی بات ہے اسی ملک سے وجے مالیا جیسا شراب کاروباری بینکوں سے 9ہزار کروڑ ، نیرو مودی بھی 11ہزار 300 سو کروڑ روپئے لے کر بھارت سے فرار ہوگیا للت مودی 7000ہزار کروڑ لے کر فرار ان لٹیروں کو مودی حکومت کی اے ٹی ایس ٹیم نہیں پکڑ سکی محض تین کروڑ کے لئے ایک باعزت،باکردار،شریف النفس اور عالم دین کو اے ٹی ایس کی ٹیم اغوا کر لیتی ہے ۔حکومت کی نظر ہر کسی کے پیسے اور دولت پر ہے۔ تعمیری کام تو کر نہیں پارہی اس لئے تخریبی عمل پر آمادہ ہے نریندر گری بھی کوئ عام بندہ نہیں تھے ۔کوئ عام انسان تو کیا پرندہ بھی پر نہیں مار سکتا ۔ ایسے مہنت کو کوئ شاگرد یا چیلا مرنے پر مجبور نہیں کر سکتا یہ سیاست کے لمبے ہاتھ اور خطرناک پنجے ہیں جو قانون کے لمبے ہاتھوں کو بھی کاٹ دیتے ہیں ۔ یقینا بڑے غبن اور لمبی وصولی کے پھندے سے نریندر گر ی کا گلا گھونٹا گیا ہے مگر بھارت کی میڈیا نے تو خود سرکس کا بندر بنا لیا ہے ۔جمورے نچاتا ہے جیسے چاہتا ہے۔جہاں چلانا ہوتا ہے وہاں منھ میں دہی جما لیتی ہے ، یہ وقت اتحاد کا ہے تمام برادران اسلام ، ہر مسلمان اور انصاف پسند انسان کا فرض ہے کہ ظلم کے خلاف متحد ہوں ، بڑی بلکہ کثیر تعدا د میں احتجاج کرایا جاے ، ملک کے تمام باشعور لوگوں سے گذارش ہے کہ مولانا کلیم صاحب اور بے گناہ عمر گوتم اور جہانگیر قاسمی کی رہائ کے لئے متحد ہوکر آواز اٹھائیں قانون دانوں سے اپیل ہے کہ قانونی مدد کریں ۔ اے عزیزان اسلام یہ وقت چیخنے چلانے یا لڑنے کا نہیں متحد ہوکر عقل اور حکمت سے کام لینے کا ہے ۔اپنے اللہ کی ذات پر کامل یقین کا ہے ۔ سچ کو آنچ کیا ؟

سبق پڑھ پھر صداقت کا شجاعت کا عدالت کا
لیا جاےگا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا

آپ کو یاد ہے جب ابرہہ بادشاہ کعبہ کو گرانے چلا تھا تو عبدالمطلب نے کیسے اپنے رب سے مدد مانگی تھی اور اللہ نے اپنے گھر کی حفاظت کی تھی ، سورہ فیل جسے ہم آپ الم تر کیف کہتے ہیں کی تفسیر پڑھیں ۔آپ کو یاد ہے اللہ نے فرعون جیسے ظالم دین دشمن کے محل میں اس کی نیک صفت بیوی کی آغو ش میں موسی علیہ السلام کی پرورش کرائ، آذر جیسے بت گر اور بت تراش کے بیٹے ابراہیم خلیل اللہ کو نبی بنایا شرک کے نطفے سے بھی پیغمبر پیدا کیا ہے۔اللہ بہت کار ساز ہے آپ سب دعا کریں کہ اللہ اسلام کو طاقت بخشے اور مسلمانوں کے اندرایمان صداقت،شجاعت عدالت امامت کی شمع روشن کردے اور مسلمانوں بھی ذیادہ کے ضمیر کو زندہ کردے
ہم اپنے علماء کی حمایت میں آواز بلند نہیں کریں گے تو کون کرے گا؟ ہم سب کب کب تک خاموش تماشائی بنے رہیں گے؟ ہے کوئ سیاسی تنظیم یا پارٹی جو ہمارے علماؤں اور بے گناہ لوگوں کی حفاظت کا ذمہ لے اور باعزت بری کراے قید و بند کی مشقتوں سے آزاد کراے ؟ ہم کس سیاسی پارٹی پر بھروسہ کریں؟

یہ خاموشی کہاں تک لذت فریاد پیدا کر
زمیں پر تو ہو ،اور تیری صدا ہو آسمانوں میں

Dr.Kahkashanirfan1980@gmail.com

Previous articleڈاکٹر محمد اطہر مسعود خاں کی مرتب کردہ کتاب: تذکروں کا اشاریہ از: ڈاکٹر مظفر نازنین،کولکاتا
Next articleہائی کورٹ کا بڑا فیصلہ!

اپنے خیالات کا اظہار کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here