یوپی ایس سی: کتنے مسلم امیدوار ھوۓکامیاب، جانیں کس کو ملا کون سا مقام؟

0
219

سول سروسز امتحان میں پاس ہونے والے 761 امیدواروں میں سے 27 امیدوار مسلمان ہیں۔ خیال رہے کہ اس سال سول سروسز امتحان پاس کرنے والے مسلم امیدواروں کی تعداد میں کمی آئی ہے، کیونکہ 2019 میں 44 مسلم امیدواروں نے کامیابی حاصل کی تھی۔ صدف چودھری نے ملک بھر میں میں 23واں اور مسلم امیدواروں میں اول مقام حاصل کیا ہے۔

اس مرتبہ مسلم طبقہ سے تعلق رکھنے والے کل 27 امیدواروں نے کامیابی حاصل کی ہے، جن میں سے 7 خواتین شامل ہیں۔ امروہہ سے تعلق رکھنے والی صدف چودھری نے کمال کرتے ہوئے 23 واں مقام حاصل کیا ہے۔ صدف کے والد بینک منیجر ہیں اور وہ کچھ مہینے پہلے اتراکھنڈ کے روڑکی میں رہائش پذیر ہو گئے ہیں۔ صدف کی کامیابی اس لیے بھی مثال بن گئی ہے کہ انہوں نے اس امتحان کے لئے کوئی کوچنگ نہیں لی اور گھر میں رہتے ہوئے ہی تمام تیاری کی۔ صدف اب انڈین فارن سروسز (آئی ایف ایس) میں شامل ہونا چاہتی ہیں۔

اس کے علاوہ سول سروسز 2020 میں ملک بھر سے 761 امیدوار کامیاب ہوئے ہیں جن میں 545 مرد اور 216 خواتین شامل ہیں۔ شبھم کمار نے امتحان میں پہلی پوزیشن حاصل کی ہے۔ جبکہ جاگرتی اوستھی اور انکیتا جین بالترتیب دوسرے اور تیسرے مقام پر رہیں۔
یو پی ایس سی امتحان 2020 میں کامیاب مسلم امیدوار

صدف چودھری، 23 واں مقام

فیضان احمد، 58 واں مقام

محمد منظر حسین انجم، 125 واں مقام

شاہد احمد، 129 واں مقام

محمد عاقب، 203 واں مقام

شہناز، 217 واں مقام

وسیم احمد بٹ، 225 واں مقام

بشریٰ بانو، 234 واں مقام

ریشما اے ایل، 256 واں مقام

محمد حارث سمیر، 270 واں مقام

التمش غازی، 282 واں مقام

احمد حسن الزماں چودھری، 283 واں مقام

سارہ اشرف، 316 واں مقام

محب اللہ انصاری، 389 واں مقام

زیبا خان، 423 واں مقام

فیصل رضا، 447 واں مقام

محمد یعقوب، 450 واں مقام

محمد جاوید، 493 واں مقام

الطاف محمد شیخ، 545 واں مقام

خان عاصم کفایت خان، 558 واں مقام

سید زاہد علی، 569 واں مقام

شاکر احمد، 583 واں مقام

محمد رسون، 589 واں مقام

محمد شاہد، 597 واں مقام

اقبال رسول ڈار، 611 واں مقام

عامر بشیر، 625 واں مقام

ماجد اقبال خان، 738 واں مقام

اس کے علاوہ یہ بھی بتادیں کہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے کوچنگ میں ٹریننگ لینے والے بیس امیدوار کامیاب ہوئے ہیں،حالاں کہ پچھلے سال یہاں کے تیس بچوں نے کامیاب حاصل کی تھی۔ اس لیے میڈیا میں یوپی ایس سی جہاد کا شور بھی تھا، مگر اس سال پچھلے سال کے مقابلے جامعہ کا ریکارڈ بہتر نہیں رہا ہے۔

نتائج کچھ مایوس کن ضرور ہیں لیکن حوصلے بلند ہوں تو آیندہ تدارک ممکن ہے۔

Previous articleمولانا مظہر الحق عربی و فارسی یونیور سٹی کا ضروری اعلان
Next articleامارتِ شرعیہ کے امیر کا انتخاب یا علماے کرام کی سیاسی بصیرت کا امتحان؟ از: صفدر امام قادری

اپنے خیالات کا اظہار کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here