یوم اساتذہ کے موقع پر

0
282

ذکر اس پری وش کا


علی گڑھ سے آدھی ادھوری تعلیم کے بعدمیدان عمل دہلی میں جن اصحاب نے محبت سے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے سہارا دیا ان میں میرے استاذ گرامی قدرپروفیسر خواجہ محمد اکرام الدین کا نام نامی سرفہرست ہے۔ ان سے میری ملاقات 2000 میں جے این یو میں ہوءی، جہاں موصوف اس وقت ماس میڈیا اردو کے کوآرڈینیٹر بلکہ سروے سروا تھے۔اوکھلا سے عمیر منظر، مرحوم عبدالقادر شمس، احسان علیگ کے ہمراہ شام کی کلاس کرنے کے لیے کبھی اکٹھا اور کبھی انفرادی طور پر جے این یوجایا کرتے تھے۔ غالباً میں نے خواجہ سر کو اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ ابتداءی چند کلاسوں ہی میں اندازہ ہوگیا کہ استاذ بڑے نرم خو اور ملاءم طبیعت کے مالک ہیں۔ متین ، پرسکون اور بردبار چہرے پر ان کی ہلکی داڑھی سے اندازہ ہوا کہ مدرسے والے ہیں اور طلبہ سے بڑی ہمدردی رکھتے ہیں۔ اس وقت استاذ باالعموم پاکستان پر بڑی شد و مد کے ساتھ اخباروں میں لکھا کرتے تھے۔ اوکھلا سے نکلنے والے اخبار’ان دنوں’ میں ان کا ایک مضمون پڑھا تو میں بڑا دل برداشتہ ہوا۔ غالباً اسی دن شام کی کلاس میں حاضری ہوءی تو اس مضمون کے حوالے سے میں نے اپنی بے اطمینانی کا برملا اظہار کردیا۔انھیں میری جرات پر حیرانی ہوءی اور غالباً مسرت بھی۔ وہ مسکراتے رہے اور کلاس ختم ہوتے ہی مجھے لے کر اپنے چیمبر میں آ گءے اور کہا کہ آپ تو بڑے اچھے اسٹوڈنٹ ہیں، کیا کرتے ہیں؟ میری پراءیویٹ ملازمت کے احوال سن کر معاً سنجیدہ ہوگءے اور چند ثانیے تک خاموش بھی رہے۔ غالباً اسی لمحہ ہم نے ایک دوسرے سے خاموش معاہدہ کرلیا۔شفقت اور عقیدت کا یہ رشتہ وقت کے ساتھ مضبوط اور پاءدار ہوتا چلاگیا۔ میں ان کی اضافی محبت کا حق دار ٹھہرا ، جس کا فیض لمحہ موجود تک جاری ہے۔ اس دوران میں گاہے بہ گاہے ان کے ربط میں بھی رہا ۔ جامعہ سے ایم اے کرنے کے بعد 2003 میں میں باقاعدہ جے این یو ایم میں داخل ہوگیا۔ اب انھیں دیکھنے اور قریب سے انھیں جاننے کے مواقع میسر آءے، قربت ایں جا رسید کہ میں استاد کے اہل خانہ کا ایک رکن بن گیا۔ استاذ گرامی سر اور اہلیہ استاذ بھابھی قرار پاءیں۔جے این یو میں غیریت کا احساس جاتا رہا۔

استاذ گرامی اپنے طلبہ اور رفقاءے کار کے لیے بیش قیمت سرمایہ ہیں۔ ان کی ترجیحات میں ہم طلبہ کے ساتھ ان کے رفقاء بلکہ اب تو پوری دنیا کی اردو برادری شامل ہے۔ استاذ نے اپنی لگن اور انتھک جدوجہد سے اقبال کے ‘شاہین’ کی عملی تعبیر پیش کی۔اب تگ و تاز ہی ان کی زندگی ہے۔ ہردم تازہ، رواں اورنہ رکنے والامزاج۔ نءے آفاق کی تلاش، اس کے لیے ہزار جتن اور اس میں خود کو جھونک دینے کا جذبہ استاذ کے معمولات زندگی میں شامل ہیں۔ یہیں سے طلبہ کے لیے ان کا مثالی اور تقلیدی سیاق تشکیل پاتا ہے اور خیال گزرتا ہے کہ وہ اتنی ساری چیزیں، اتنے سارے منصوے اور اتنے سارے کام کیوں کر سوچ پاتے ہیں بلکہ انھیں انجام دینے کے لیے کمربستہ بھی ہوجاتے ہیں۔اس ایک فرد کی ذات میں کءی کارواں چھپا ہوا ہے۔ ان کے منصوبہ بند عزایم اور فکر و تدبر میں ان کے شاگردوں کی ایک پوری جماعت ان کے ہمدوش ہے۔ اب استاذ گرامی کی شخصیت ایک ایسی بلندی پر آن پہنچی ہے ،جہاں ان کی جدوجہد اور کارناموں کے کءی ابواب ایک ساتھ روشن دکھاءی دیتے ہیں۔ تصنیف و تالیف، صحافت، درس و تدریس، ادارہ جاتی ذمے داریاں، اور ان میں ان کے نافذ کردہ منصوبے اور اسکیمیں، علمی و ادبی مذاکرہ، سیمینار، سمپوزیم کا انعقاد اور ان میں ان کی شرکت اور نہ جانے کیا کیا۔
ڈیجیٹل دنیا میں فروغ اردو سے متعلق استاد کی کد وکاوش سے نور اور روشنی کی ایک نءی کاءنات تشکیل پارہی ہے۔ ان کے نت نءے منصوبے اور غور و فکر سے ڈیجیٹل دنیا میں اردو کے لیے امکانات کی نءی راہیں ہموار ہورہی ہیں۔اپنی تمام تر جدوجہد کو استاذ نے ورلڈ اردو ایسوسی ایشن کے اپنے جدید اور منصوبہ بندپلیٹ فارم پر مرتکز کردیا ہے۔
ترجیحات:
آن لاءن مجلہ’ترجیحات’ولڈ اردو ایسو سی ایشن’ کا ترجمان رسالہ ہے، جو پوری دنیا میں اردو کے داءرہ اثرکو وسعت دینے کا منصوبہ رکھتا ہے۔اس کا مقصد ایسوسی ایشن کے اغراض و مقاصد کی عملی تشہیر و ترویج ہے ۔ اردو کی نئی بستیوں میں پھیلے پوری دنیا سے محبانِ اردو کو اس تنظیم سے جوڑنے ، ساتھ ہی اردو کی تمام بستیوں میں سنجیدہ علمی و ادبی مجلسوں کا اہتمام اس کے پیش نظر ہے۔ دنیا کے مختلف گوشوں میں موجود اردو کے اساتذہ /ادیبوں / شاعروں/ فکشن نگاروں/صحافیوں اور قلم کاروں سے رابطہ اور اشتراک، نئی نسل کے ادیبوں اور قلم کارو ں کی حوصلہ افزائی ، اردو تدریس کے فروغ کے لیے ممکنہ وسائل کی فراہمی کی کوشش ، اردو کے مہجری ادیبوں کی کتابوں کی اشاعت، اردو کی نئی کتابوں پرتبصرے اور اس کی رسائی کے امکانات کی تلاش ، مہجری ادیبوں پر مبنی انسائیکلو پیڈیا کی تیاری، دنیا کے مختلف ممالک میں سالانہ سیمنار و مشاعرہ کا انعقاد تنظیم کے منصوبے کا حصہ ہیں۔
ای کتب کی نشر و اشاعت:
ورلڈ اردو ریسرچ اینڈ پبلی کیشن سینٹر کے تحت کتابوں کی آن لائن اشاعت کے بڑے پلیٹ کا اہتمام کیا گیا ہے ۔ موجودہ عہد اور آنے والے دور میں ای ۔بُک کی بڑھتی مقبولیت اظہر من الشمس ہے۔ ای۔پبلی کیشن کے بڑے ادارے ابھی تک اردو کتابوں کی اشاعت کی سہولت نہیں فراہم کرتے۔ یہ ادارہ اس ناگزیر ضرورت کی تکمیل کرے گا۔ یہ پلیٹ فارم اردو اشاعتی ادارہ کے استحصالی رویہ کے خلاف ایک ٹھوس قدم بھی ہے، جس سے اردو قلم کار کی نہ صرف کتابیں مفت یا بالکل ارزاں قیمت میں شایع کی جاءیں گی بلکہ حسب مانگ کتاب پر محنتانہ بھی دیا جاءے گا۔ ای ۔ پبلی کیشن کا داءرہ برصغیر ہندو پاک کے علاوہ عالمی سطح پر اردو کی بستیوں تک پھیلا ہوا ہے۔
ان سرگرمیوں کی روشنی میں استاذ گرامی کو ایک نہایت منضبط، مربوط اور عزایم سے لیس اردو کے ایک سچے سفیر کی حیثیت سے دیکھاجاسکتا ہے۔ استاذ کی سرگرمیوں کو دیکھ کر بسااوقات باباءے اردو مولوی عبدالحق کی یاد تازہ ہوجاتی ہے جو اردو کے لیے ایک بے چین اور بے قرار دل رکھتے تھے۔ اردو کو لے کر اضطراب استاذ گرامی کا بھی مقدر ہے۔ بلکہ درست بات تو یہ ہے کہ میرے پیرومرشد اردو کے لیے ان دنوں امید پرستی کی آماجگاہ بنے ہوءے ہیں۔استاذ کی فعالیت کا عالم بھی دگر ہے ، میں نے انھیں فعالیت اور حوصلے کی جس منزل پہ اپنی ملاقات کے بالکل شروعاتی ایام میں دیکھا تھا، استاذ مضبوطی کے ساتھ ہمیشہ اسی سیاق میں آج بھی نظر آتے ہیں۔ سوچتا ہوں تو اس کی وجہ استاد مکرم کے ذہن و فکر میں مقصد کا استحضار نظر آتا ہے ۔واضح اور متعین مقصد کے بغیر فعالیت چہ معنی دارد؟ رجاءیت اور مثبت طرز فکر و عمل نے استاذ مکرم کو آج اردو کامردآہن بنا رکھا ہے ۔ع
وہ اردو کا مسافر ہے یہی پہچان ہے اس کی
جدھرسے بھی گزرتا ہے سلیقہ چھوڑجاتا ہے

Previous articleیوم اساتذہ : تحفے کا اصلی حقدار از: دانش حماد جاذب، اسسٹنٹ پروفیسر، ٹاٹا کالج چائباسہ
Next articleناقص تعلیم اور مسلم لڑکیوں کے رشتہ ازدواج کا مسئلہ ڈاکٹر احمد علی جوہر

اپنے خیالات کا اظہار کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here