ہم طالبان کو دہشت گرد نہیں مانتے! مولانا سید ارشد مدنی کا بیان

0
90

دیوبند : (ایجنسی)

جمعیۃ علماء ہند کے صدر اور بزرگ رہنما مولانا سید ارشد مدنی نے کہاکہ ہم طالبان کو دہشت گرد نہیں مانتے ۔ آزادی کے لیے لڑنا اگر دہشت گردی ہے تو پھر نہرو، گاندھی بھی دہشت گرد تھے۔

دینک بھاسکر کو دیئے گئے انٹرویو میں انہوں نے کہاکہ طالبان دہشت گرد نہیں ہیں اگر وہ غلامی کی زنجیریں توڑ کر آزاد ہورہے ہیں تو اس کو دہشت گرد ی نہیں کہیں گے۔ آزادی سب کاحق ہے اگر یہ دہشت گردی ہے تو پھر نہرو اور گاندھی ،شیخ الہند بھی دہشت گردتھے۔ وہ سارے لوگ جنہوں نے انگریزی حکومت کے خلاف لڑائی لڑی سارے دہشت گرد ہیں۔ دوسری بات یہ کہ لوگوں میں فتوے کی سمجھ نہیں ہیں۔ فتویٰ کسی کو پابند نہیں بناتا۔ ماننا نہ ماننا آپ کی مرضی۔ مولانا مدنی کے اس بیان پر نیا تنازع کھڑا ہوسکتا ہے ۔

دینک بھاسکر نے ان سے سوال کیا کہ دارالعلوم اور طالبان میں کیا رشتہ ہے اور طالبان کی فکر سے کتنا اتفاق رکھتا ہے ،کیا ان کی دہشت گردی کے خلاف کوئی فتویٰ دے گا۔؟ انہوں نے کہاکہ یہ جہالت کی بات ہے ۔ نادانی ہے۔ علماء نے ملک کی آزادی کے لیے جو قربانیاں دیں اس کا موازانہ نہیں کیا جاسکتا ۔ 1915میں ترکی اور جرمنی کی مدد سے شیخ الہند نے افغانستان کے اندر ’آزاد ہند ‘ نام کی ایک جلاوطن حکومت قائم کی ۔ اس میں راجہ مہندر پرتاپ سنگھ صدر اور مولانا برکت اللہ بھوپالی وزیر اعظم اور عبیداللہ سندھی کو وزیر داخلہ بنایا تھا۔ جو لوگ خود کو دیوبندی سمجھتےتھے یہی وہ ہیں جو شیخ الہند کے مریدین کی نسل سے ہیں،لیکن یہاں دارالعلوم آکر کسی نے تعلیم حاصل نہیں کی۔ میں پوچھتا ہوں کہ وہ کون سی حکومت ہے جس نے افغانیوں کو ویزا دے کر ہمارے یہاں بڑھنے کو بلایا۔

مولانا ارشد مدنی نے ایک سوال کے جواب میں کہاکہ طالبان کانظریہ ہے کہ وہ غلامی قبول نہیں کرے ،ہمارے آباء واجداد کی بھی ہی فکر تھی۔ دارالعلوم غلامی کی مخالفت کے لیے ہی بنا۔ طالبان نے اس فکر کے تحت روس اور امریکہ کی غلامی کی زنجیروں کو توڑا۔ باقی ہمارا ان سے کوئی تعلق نہیں۔ آج کل توہم خط بھی لکھتے ہیں توسینسر ہوتا ہے ۔ فون ریکارڈ ہوتا ہے کوئی یہ ثابت نہیں کرسکتا کہ دارالعلوم کا کوئی شخص طالبانیوں سے بات کرتا ہے ۔ دینک بھاسکر نے پوچھا کہ طالبان سرکار کے بارے میں رائے قائم کرنے کے لیے کتنا وقت لیں گے ؟ مولانا نے کہاکہ ہم کون ہوتے ہیں وقت دینے والے یہ تو مستقبل بتائے گا،ہم سیاسی لوگ نہیں ہیں۔

Previous articleالغزالی انٹرنیشنل اسکول میں حفظ قرآن کی تکمیل پر دعائیہ مجلس کا اہتمام
Next articleاردو کا جنازہ ہے دھوم دھام سے نکل رہا ہے از: قاسم سید

اپنے خیالات کا اظہار کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here