ہمارے ملک میں انگریزی کی غلامی ہندی بولتے ہوئے لوگ شرم محسوس کرتے ہیں:رازداں شاہد

0
42

گیا۱۴/ستمبر!(پریس ریلیز)

14 ستمبر 1949 کوآئین ساز اسمبلی میں فیصلہ کیا گیا کہ ہندی مرکزی حکومت کیف سرکاری زبان ہوگی۔ آئین میں ہندی کو سرکاری زبان کے طور پر قبول کرنے کا ذکر کیا گیا ہے۔ہندوستان کی سرکارزبان ہندی اوررسم الخط دیونا گری ہے۔ دستور ساز اسمبلی نے ایک ووٹ سے فیصلہ کیا ۔لیکن بدقسمتی سے ‘ہندی’ زبان کی اہمیت کم ہوتی جا رہی ہے۔ جو لوگ ہندی بولتے ہیں انہیں ایک مختلف نقطہ نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ عوامی مقامات پر ہندی بولتے ہوئے لوگ شرم محسوس کرتے ہیں۔

کیا آپ جانتے ہیں کہ دنیا میں 54 کروڑ لوگ ہندی بولنے والے ہیں۔ہندی زبان ہندوستانی ثقافت کا ورثہ ہے اور قومی یکجہتی کی علامت ہے ، لہذا اپنی ثقافت کو فروغ دینے اور اس خوبصورت ، سادہ اور آسان زبان پر زور دینے کے لیے ہمیں ہمیشہ ہندی زبان کا استعمال کرنا چاہیے۔ اسے جتنا ممکن ہو استعمال کرنے پر فخر کرنا چاہیے۔کڑوا سچ یہ ہے کہ انگریزوں کے جانے کے بعد سے ہمارے ملک میں انگریزی کی غلامی سے آزادی نہیں بلکہ غلامی میں اضافہ ہوا ہے۔انگریزوں نے 1947 میں ہندوستان کو تقسیم یعنی بٹوارا کا درد دیا تھا جسے ہمیشہ یاد کیا جاتا ہے۔ لیکن ایک اور بٹوارے کا درد جو انگریزوں نے دیا اسے کم ہی لوگ یاد کرتے ہیں۔ یہ بٹوارا ایک ہندوستانی زبان کا بٹوارا تھا جو ہندی اور اردو کے شکل میں آج ہم لوگوں کے سامنے ہے۔ 19ویں صدی میں ہندو-مسلم طبقہ کے درمیان نفرت پھیلانے کے مقصد سے انگریزوں نے اردو-ہندی زبان کا سہارا لیا اور ان دونوں کو دو طبقات کی زبان قرار دے دیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ہندووئں نے ہندی زبان کا دامن تھام لیا اور مسلمانوں نے اردو کو سینچنا شروع کر دیا۔ حالانکہ آج ہر ماہر لسانیات یہ کہتا ہے کہ ان دونوں زبانوں کی جڑیں ایک ہی ہیں، دونوں ہی کا تعلق کھڑی بولیوں سے ہے۔ ادب کے شعبہ میں پدم بھوشن سے سرفراز گوپی چند نارنگ نے اپنی کئی کتابوں میں اس تعلق سے لکھا ہے اور بی بی سی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں یہاں تک کہا تھا کہ ’’اردو اور ہندی میں ناخن اور گوشت کا رشتہ ہے جو الگ ہو ہی نہیں سکتا۔‘‘ اردو کے معروف ادیب عبدالستار دلوی اپنی کتاب ’دو زبانیں، دو ادب‘ کے پیش لفظ میں ان دونوں زبانوں کو ایک ہی ماں کی دو بیٹیاں بتاتے ہیں۔

سچ یہ ہے کہ آج ہمارے ملک میں انگریزی کا بول بالا ہے ایک دن ہندی دیوس ہے اور باقی 364دن غیر علانیہ انگریزی دیوس۔منگل کویوم ہندی کے موقع پرمنعقدایک وبنیار میں رازداں شاہد نے کہا کہ آج ہم یہ حلف لیں ہم ہندی کا استعمال کریںگے۔ صرف گھر اور کچن میں ہی نہیں، سماجی اداروں کے منچوں پر ہندی بولیں گے، فیس بک اور انسٹاگرام پر ہندی بھی لکھیں گے۔ بچپن کی یاد کو تازہ کرنے کے لئے ہی نہیں، ملک و دنیا کے مستقبل کی بات بھی ہندی میں کریں گے۔
سگی بہنوں سا جو رشتہ ہے اردو اور ہندی میں کہیں دنیا کی دو زندہ زبانوں میں نہیں ملتا

Previous articleقائد نوجوان مولانا محمد عثمان رحمانی لدھیانوی پنجاب کے شاہی امام مقرر
Next articleکریں سیاست بھی، حمایت بھی لیکن اجالے میں !! از: جاوید اختر بھارتی

اپنے خیالات کا اظہار کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here