ہاجرہ مسرور : ایک تعارف: از: کسان گروپ مغربی بنگال

0
6

پیدائش:17 جنوری 1930
لکھنؤ، برطانوی ہند
وفات:15 ستمبر 2012ء
کراچی، پاکستان
قومیت:پاکستانی
زبان:اردو
وجہ شہرت:حقوق نسواں مصنف
اعزازات
تمغائے حسن کارکردگی

ہاجرہ مسرور ایک پاکستانی حقوق نسواں کی علمبردار مصنف تھیں۔ انھیں کئی اعزازات سے نوازا گیا جس میں تمغۂ حسن کارکردگی 1995ء بطور بہترین مصنف اور عالمی فروغ اردو ادب ایوارڈ بھی شامل ہیں۔
ذاتی زندگی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہاجرہ ڈاکٹر تہور احمد خان کے ہاں لکھنؤ، بھارت میں 17 جنوری 1930ء کو پیدا ہوئیں۔
اعزازات
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔ تمغا حسن کارکردگی 1995ء
۔ نگار ایوارڈ
۔ عالمی فروغ اردو ادب ایوارڈ
تصانیف
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔ (1)چاند کی دوسری طرف
۔ (2)تیسری منزل
۔ (3)اند ھیرے اُجالے
۔ (4)چوری چُھپے
۔ (5)ہائے اللہ
۔ (6)چرکے
۔ (7)وہ لوگ

ہاجرہ مسرور
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک باکمال افسانہ نویس
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عبدالحفیظ ظفرؔ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اردو ادب میں جہاں مرد افسانہ نگاروں نے اپنی فنی عظمت کے نقوش ثبت کیے وہاں خواتین بھی اس میدان میں پیچھے نہیں رہیں۔ ان میں قراۃ العین حیدر اور عصمت چغتائی کے نام سر فہرست ہیں۔ قراۃ العین حیدر کی ناول نگاری کے بارے میں کیا کہا جائے۔ وہ بلاشبہ ایک عظیم ناول نویس تھیں۔ لیکن ناولوں کے علاوہ انہوں نے افسانہ نویسی میں بھی اپنے آپ کو منوایا۔ عصمت چغتائی نے بھی ناول نویسی اور افسانہ نگاری میں اپنا ایک الگ مقام بنایا۔ اس صف میں ہاجرہ مسرور کانام اگر شامل نہ کیا جائے تویہ ناانصافی ہوگی۔

یہ وہ افسانہ نویس تھیں جنہوں نے عورتوں کے حقوق کیلئے آواز اٹھائی۔ اس لحاظ سے انہیں جتنا بھی خراج عقیدت پیش کیاجائے کم ہے۔ہاجرہ مسرور 17 جنوری 1929ء کو لکھنؤ (بھارت) میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والد ڈاکٹر ظہور احمد خان برطانوی حکومت میں آرمی ڈاکٹر تھے۔ وہ دل کے دورے کے باعث انتقال کرگئے۔ ہاجرہ مسرور کی پانچ بہنیں اور ایک چھوٹا بھائی تھا۔ ان کی والدہ نے اس موقع پر خاندان کو سنبھالا۔ ہاجرہ نے بچپن سے ہی لکھنا شروع کر دیا۔ تقسیم ہندکے بعد وہ اور ان کی ہمشیرہ پاکستان آ گئیں اور لاہورمیں مقیم ہو گئیں۔ وہ اردو کی مشہور ادیبہ خدیجہ مستور کی چھوٹی بہن تھیں۔ہاجرہ مسرور کی کہانیاں ادبی جرائد میں بڑی باقاعدگی سے چھپتی تھیں۔ ادبی حلقوں میں ان کی کہانیوں کو بہت پسندکیا جاتا تھا۔ انہوں نے احمد ندیم قاسمی کے ساتھ ان کے ماہنامہ جریدے کیلئے کام کیا۔ وہ غیر روایتی انداز میں افسانے لکھتی تھیں۔ اس لیے وہ تنازعات کا شکار بھی ہوئیں۔ پھر ایک مرحلہ ایسا آیاکہ انہوں نے لکھنا چھوڑ دیا اوربڑی خاموشی سے زندگی گزارنا شروع کردی۔ لیکن اس کے باوجود ادبی حلقوں میں ان کی کمی بہت محسوس کی جاتی تھی۔ وفات سے کم از کم 20برس قبل انہوں نے لکھنا چھوڑ دیا تھا۔ ایک زمانے میں ان کے فیض احمد فیض کے ساتھ اختلافات پیدا ہو گئے اور کچھ لوگوں نے ان اختلافات کو بہت ہوا دی۔ اس پر بہت سے لوگوں نے ان سے منہ موڑ لیا۔ انہیں ہاجرہ آپاکہہ کر پکارا جاتا تھا۔اصل میں ہاجرہ مسرور پر اپنے شوہر احمد علی خان کی وفات کا بہت اثر ہوا اور پھر وہ نارمل زندگی بسرنہ کر سکیں۔ ان کی ایک چھوٹی بہن عائشہ جمال نے بھی افسانے لکھے لیکن وہ کوئی خاص مقام نہ بنا سکیں۔ہاجرہ مسرور اور ان کی بہنوں کو لکھنؤ میں یہ سہولت حاصل تھی کہ وہ ایک ایسے مکان میں رہتی تھیںجہاں کتابیںرکھنے کی بہت جگہ تھی۔ ان کے گھر بہت سے ادبی جرائد بھی منگوائے جاتے تھے۔ ان بہنوں نے لکھنا شروع کیا اور ان کی کہانیاں جن ادبی جرائد میں چھپتی تھیں ان میں ’’ادبی دنیا‘ ہمایوں‘ ساقی‘ خیام اور عالمگیر‘‘ شامل ہیں۔ ہاجرہ کو پانچ کہانیوںکے عوض 15 روپے ملتے تھے۔ آزادی سے کچھ عرصہ قبل خدیجہ مستور اورہاجرہ مسرور نے آل انڈیا ریڈیو کے لکھنؤ سٹیشن پر اپنی کہانیاں ریکارڈ کرائیں۔ قیام پاکستان کے بعد ان کا خاندان پہلے ممبئی سے کراچی آیا اور پھر لاہور شفٹ ہو گیا۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہے کہ ابھی وہ ممبئی میں تھیں تو ان کے دو افسانوی مجموعے ’’چرکے‘‘ اور ’’ہائے اللہ‘‘ شائع ہو گئے۔ ان کی پہلی کتاب سے انہیں 40 روپے رائلٹی ملتی تھی جبکہ دوسری کتاب سے انہیں 600 روپے ملے۔پاکستان میں ہاجرہ مسرور نے کئی ادبی جرائد کے لئے لکھنا شروع کیا اور یہاں ان کے چار افسانوی مجموعے منظر عام پر آئے۔ لاہورمیں ان کا افسانوی مجموعہ ’’سب افسانے میرے‘‘ شائع ہوا۔ جبکہ آکسفورڈ یونیورسٹی پریس نے ان کی بچوں کی دو کہانیاں شائع کیں۔ ان کہانیوں کے بارے میں یہ متفقہ رائے ہے کہ یہ بہت اعلیٰ پائے کی کہانیاں تھیں۔ایک دفعہ ان سے پوچھا گیا کہ انہوں نے اپنی بہن خدیجہ مستورکی طرح ناول کیوں نہیں تحریر کیے۔ حالانکہ جبکہ خدیجہ مستور نے ناول نویسی کی وجہ سے بہت نام کمایا۔اس پر ہاجرہ مسرور نے کہا تھا کہ خدیجہ ایسا کرسکتی تھی کیونکہ اس میں صبر بھی تھا اور استقامت بھی۔ اس کے علاوہ ناول لکھنے کیلئے جو ارتکاز درکار ہوتا ہے وہ بھی اس میں بہت تھا جبکہ مجھ میں نہیں۔ہاجرہ مسرور نے سادہ مگر مؤثر نثر تحریر کی۔ ان کے استعارے ایک مکمل جہان لیے ہوئے تھے۔ ان کی کردار نگاری میں بھی اتنی ہی لطافت تھی جتنی کہ ان کی علامتوں میں ہوتی تھی۔ پھران کا یہ وصف بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا کہ ان کا انداز بیاں نہایت اثر انگیز تھا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ کہانی لکھنے کا ڈھنگ جانتی تھیں۔ یہ بات حیران کن نہیں کہ اب بھی ان کی کہانیاں پڑھ کر قاری لطف اندوز ہوتا ہے۔ حالانکہ یہ کہانیاں 50 اور 60 کی دہائی میںلکھی گئی تھیں۔1962ء میں مجلس ترقی ادب نے انہیں ’’رائٹر آف دی ائیر‘‘ ایوارڈ دیا۔ یہ ایوارڈ انہیں ان کے ایک ایکٹ کے ڈراموں کے مجموعے ’’وہ لوگ‘‘ پر دیا گیا۔ ان کے ڈراموںکے مجموعوں کے دیباچے فیض احمد فیض اور امتیاز علی تاج نے تحریر کیے تھے۔ ہاجرہ مسرور نے کبھی فلمی کہانیوں پر توجہ نہیں دی۔ لیکن انہوں نے 60 کی دہائی میں صرف ایک فلم کا سکرپٹ لکھا۔ انہوں نے اس فلم کی نہ صرف کہانی لکھی بلکہ مکالمے بھی تحریر کیے۔ انہیںاس فلم کا بہترین سکرپٹ لکھنے پر نگار ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔ اس فلم کے بارے میں یہ کہنا ہرگز غلط نہ ہوگا کہ مشرقی پاکستان میں بننے والی یہ سب سے بہترین اردو فلم تھی جس کا نام تھا ’’آخری اسٹیشن‘‘۔ یہ فلم معروف شاعر اور فلمی گیت نگار سرور بارہ بنکوی نے بنائی تھی۔ یہ اداکارہ شبنم کی پہلی فلم تھی جنہوں نے یہ تسلیم کیا کہ اس فلم کا اسکرپٹ جاندار تھا جس کی وجہ سے انھوں نے اپنے کیرئیر کی بہترین کارکردگی اس فلم میں دکھائی۔ کہا جاتاہے کہ ’’آخری اسٹیشن‘‘ کے بعد ہاجرہ مسرور کو دیگر فلموں کی کہانیاں لکھنے کیلئے بھی کہا گیا لیکن انھوں نے انکار کر دیا۔ ہاجرہ مسرور کے بارے میں کہا جاتاہے کہ وہ ایک جرأت مند ادیبہ تھیں اور انہوں نے جو لکھا، بڑی بے خوفی سے لکھا۔ انہوں نے کبھی مصلحت سے کام نہیں لیا۔ وہ جو لکھنا چاہتی تھیں، وہ لکھا اور اپنے اصولوں پر ہمیشہ قائم رہیں۔ انہیں 1995ء میں تمغہ حسن کارکردگی سے نوازا گیا۔ اس کے علاوہ انہیں نگار ایوارڈ اور عالمی فروغ اردوادب ایوارڈ بھی دیا گیا۔ ان کے افسانوی مجموعوں میں ’’چاندکی دوسری طرف‘‘ ’’تیسری منزل‘‘ ’’اندھیرے اجالے‘‘ ’’چوری چھپے‘‘ ’’ہائے اللہ‘‘ ’’چرکے‘‘ ’’وہ لوگ‘‘ اور ’’ملمع‘‘ شامل ہیں۔اردو کے ایک ادیب نے ایک جگہ لکھاہے کہ بہت کم لوگ اس حقیقت سے واقف ہوں گے کہ ہاجرہ مسرور کی ساحر لدھیانوی سے منگنی ہوچکی تھی لیکن پھر یہ منگنی ٹوٹ گئی۔ اس منگنی کے ٹوٹنے کی وجہ بھی بہت دلچسپ بیان کی جاتی ہے۔ ایک ادبی محفل میں ساحر لدھیانوی نے پڑھتے ہوئے تلفظ کی غلطی کر دی جس پر ہاجرہ نے ان پر تنقید کی۔ اس پر ساحر نے ناراضی کا اظہار کیا اور پھر ان کی منگنی ٹوٹ گئی۔ بعد میں ہاجرہ کی شادی معروف صحافی احمد علی خان سے ہو گئی جو ایک مشہور انگریزی اخبارکے ایڈیٹر تھے۔ 15 ستمبر 2012ء کو ہاجرہ مسرورکا 82 برس کی عمر میں کراچی میں انتقال ہوگیا۔ حقوق نسواں کی اس علمبردار کا نام زندہ رہے گا۔

Previous articleحکومت بہار: محکمہ اقلیتی فلاح: وظیفہ کا اعلان 22-2021
Next articleمنیش سسودیا نے بجلی مفت کرنے کا کیا اعلان

اپنے خیالات کا اظہار کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here