گنگا جمنی تہذیب کے سچے علمبردار تھے راہی معصوم رضا- امان ذخیروی

0
113


(بزم تعمیر ادب ذخیرہ, جموئ نے یوم پیدائش پر انہیں خراج عقیدت پیش کیا )

جموئ 1 ستمبر ( پریس ریلیز)
بزم تعمیر ادب ذخیرہ, جموئ کے دفتر فضل احمد منزل ذخیرہ میں جناب ارشاد عالم خان, کی صدارت میں معروف شاعر, فلمی نغمہ نگار, ناول نگار ڈاکٹر راہی معصوم رضا کے یوم پیدائش پر ایک یادگاری تقریب کا انعقاد عمل میں آیا. صدر تقریب کی اجازت سے بزم تعمیر ادب ذخیرہ جموئ کے جنرل سکریٹری امان ذخیروی نے ان کی حیات و خدمات پر روشنی ڈالتے ہوئے انہیں گنگا جمنی تہذیب کا سچا علمبردار بتایا. جناب ذخیروی نے اپنی تقریر میں کہا کہ راہی معصوم رضا کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ہے. ان کی تحریروں میں عظمت ہندوستان کی تصویر جھلملاتی ہے. انہیں اپنے وطن عزیز سے بیحد محبت تھی, جس کا عکس ان کی تحریروں سے عیاں ہے. ان کے اسی جذبہء حب وطن نے ان سے وہ مشہور نغمہ لکھوایا جسے جگجیت سنگھ اور چترا نے اپنی آواز سے سجا کر لازوال بنا دیا…. چند اشعار ملاحظہ فرمائیں…..

ہم تو ہیں پردیس میں دیس میں نکلا ہوگا چاند
اپنی رات کی چھت پر کتنا تنہا ہوگا چاند

جن آنکھوں میں کاجل بن کر تیری کالی رات
ان آنکھوں میں آنسو کا اک قطرہ ہوگا چاند

رات نے ایسا پینچ لگایا ٹوٹی ہاتھ سے ڈور
آنگن والے نیم میں جاکر اٹکا ہوگا چاند……

اس نغمے میں ان تمام ہندوستانیوں کا درد سمٹ آیا ہے جو تلاش معاش میں وطن سے دور رہتے ہیں اور مادر وطن سے محبت کرتے ہیں. ایسے نادر روزگار فنکار کی پیدائش 1 ستمبر 1927ء کو غازی پور اتر پردیش کے گنگولی گاوں میں ہوئ. ان کی ابتدائ تعلیم غازیپور شہر کے ایک محلے میں ہوئ. پچپن میں پیر میں پولیو ہو جانے کی وجہ سے ان کی پڑھائی کچھ سالوں تک چھوٹ گئی. کسی طرح انٹرمیڈیٹ کرنے کے بعد وہ علی گڑھ چلے گئیے اور وہیں سے ایم اے کرنے کے بعد اردو میں “طلسم ہوش ربا” پر پی ایچ ڈی کی اور شعبہء اردو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے وابستہ ہو گئے. مگر انہیں مقبولیت فلمی نغمہ نگاری اور فلموں اور سیریلوں کے ڈائلاگ لکھنے سے ملی. سیریل مہابھارت کا ڈائلاگ لکھ کر انہوں نے کارہائے نمایاں انجام دیا. انہوں نے تقریباً 300 فلموں اور سیریلوں کے لئے اسکرین پلے رائٹنگ اور ڈائلاگ رائٹنگ کی ذمہ داری نبھائ. “میں تلسی تیرے آنگن کی” فلم کے لئے 1979ء میں انہیں فلم فئیر ایوارڈ سے نوازا گیا.

ہم یہاں ان کی کچھ مشہور تصانیف کا تذکرہ کر دینا ضروری سمجھتے ہیں جن سے آنے والی نسلیں استفادہ حاصل کر سکیں….
اجنبی شہر, اجنبی راستے(شعری مجموعہ)
آدھا گاوں, ٹوپی شکلا, اوس کی بوند, ہمت جونپوری, دل ایک سادہ کاغذ وغیرہ قابل ذکر ہیں. فلموں سے جڑنے کے بعد آپ کا قیام ممبئ میں رہا. وہیں 15 مارچ 1992 ء کو آپ نے جان جاں آفریں کے سپرد کر دی۔

Previous articleعزیز رحمن کی پناہ میں از: امتیاز وحید
Next article(Bssc)اردو معاون مترجم کے مینس امتحان کی تاریخ کا ہوا اعلان! جانیں کب ہوگا امتحان!

اپنے خیالات کا اظہار کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here