ڈاکٹرقطب الدین اشرف

ظفرؔکمالی اردو ظرافت اور تحقیق کا ایک برگزیدہ نام ہے۔ ان کا امتیاز یہ ہے کہ انھوںنے زندگی اور ادب کی پرکھ کے لیے مذہبی ضابطوں اور مستند ادبی اقدار کو اپنی فکرو تحریر کا معیار مقررکیا۔باطل سرگرمیوں کے ردکے لیے وہ مصلحت ، مفاہمت یا کسی رعایت کے قائل نہیں۔سخت گیر اتنے کہ اس میزان پر اگر کوئی کھوٹا اور ناقص ہے تو خواہ وہ کسی حیثیت یا منصب کا ہو ،اسے برملا لاغی اورداغی کہنے میں انھیں کوئی عار یا جھجک نہیں۔ باز خواہی اور حق نمائی کا یہ اندازاس رجحان کا اشاریہ ہے جو قاضی عبدالودود، رشید حسن خاںاور حنیف نقوی وغیرہ سے ہوتا ہوا ظفرؔکمالی کے تحقیقی و فکری زاویوں کی اساس بنا ۔ وہ اب تک کے اپنے طریقۂ تحقیق میںقاضی عبدالودود سے براہِ راست متاثرومستفید ہوئے ہیں۔انھیں قاضی صاحب کا سچا معنوی شاگرد کہنے میں کوئی مضائقہ نہیں۔ ان کی حالیہ کتاب’’تحقیقی تبصرے‘‘ میں استعمال کیے گئے تحقیقی پیمانے میں وہی ’بادۂ کہن‘ ہے جو قاضی صاحب کے ذوق اور علمی معیار کی پہچان وترجمان ہوا کرتی تھی۔ اردو تحقیق کا ایک نیا نصاب دیکھنا ہوتو ا ن کی یہ کتاب ضرورپڑھ لیں۔ ادب ،سماج اور مذہب میں پھیلی برائیوں اور بیماریوں کی عکاسی کا ہنر ملاحظہ کرناہوتو ان کی مزاحیہ رباعیاں اور قطعات حاضر ہیں جن کی تعداد ہزاروں میں ہے۔
۱۹۸۵ عیسوی سے قبل مَیں ظفرکمالی کو نہیں جانتا تھا’’اردو ظرافت اور رشید احمد صدیقی‘‘ پر تحقیق کے لیے مواد اور کتابوں کی فراہمی سنگین مسئلہ تھی۔ خود نگراں پروفیسر عبدالواسع صاحب نے ہاتھ کھڑے کردیے لیکن دورانِ گفتگو یہ عندیہ دیا کہ اگر احمد جمال پاشا سے رابطے کی کوئی صورت نکل آئے تو راہیں آسان ہوجائیں گی۔بہ صورتِ دیگر تحقیق کا عنوان تبدیل کرالیں۔ پاشا صاحب کو مَیں’’شکر کا چکر‘‘ سے جانتا تھا۔ خیر مسکین صورت بنائے (وہ صورت آج بھی ہے)ان سے ملا۔ ان کی شگفتہ وشایستہ بے تکلفی نے دل کا بار ہلکا کردیا۔ موہنی شخصیت کے مالک تھے اور بہت جلد اپنے بن جاتے اور اپنا بنالیتے تھے۔ کم رتبہ لوگوں کی پذیرائی کا انداز نرالا تھا جواب کم یاب ہواجاتا ہے۔ لوگوں کو ادنا رتبہ میسّر آجائے تو اپنی اکڑ پر مرے جاتے ہیں۔ اعلا ادنا کے امتیازات پاشا صاحب خود ختم کردیتے تھے۔ پھر تعاون اور شرف اندوزی کا سلسلہ چل پڑا۔ پاشا صاحب اکثر ظفرکی باتیں کرتے جیسے وہ اپنے کسی عزیز یا اولاد کو یاد کرتے ہوں۔ بعد میں معلوم ہواکہ یہ ان کے بیٹے نہیں شاگردِ رشید ہیں۔ رانی پوران کا آبائی وطن ہے۔ کم آمیز، خاموش فطرت، نپی تلی باتیں، ان کی یہ ادائیںصرف مجھے ہی نہیں بلکہ بہتوں کو بدگمان کردیتی تھیں۔ ان دنوں وہ زیادہ تر پاشا صاحب سے ہی محوِ گفتگو پائے جاتے۔ ایسے کہ آپ کا شک یقین میںبدل جائے کہ یہ دونوں سرگوشیوں میں کسی کی (اور بہت حدتک آپ ہی کی اگر آپ روبرو ہوں)کی عیب جوئی یا غیبت میں مبتلا ہیں۔ وہ لمحے بہت گراں گزرتے کہ آپ منتظر بیٹھے ہیں اور آپ کو نظر انداز کرکے یہ لوگ باتوں میںمنہمک ہیں۔ اس پہ طرّہ یہ کہ آپ کی جانب دزدیدہ نظروں سے دیکھ دیکھ کر مسکرائے بھی جارہے ہیں۔ ایسے میں آپ یاتواحتجاجاً وہاںسے نکل جائیں یا شدید احساسِ کمتری کو خود پر حملہ آور ہونے کی دعوت دیں۔ میرے لیے وہ پُر اسرار گفتگو ہتک کا باعث ہوتی۔ میں سوچتا کہ کسی کی دل آزاری کا شاید یہ مہذب طریقہ ہو۔ بعد کے واقعات اور قربتوں نے بتایا کہ یہ سراسرمیرا وہم تھا۔ پاشا صاحب یا ظفر کمالی سے کسی کی ہتک یا تذلیل کا تصور محال ہے۔ ظفر ان کے گھر اورکتب خانے بارہا آتے ان سے گفتگو کرکے اچھا لگتا۔ ان دنوں وہ ایم۔اے سے فارغ ہوکر پاشا صاحب کی ذات اور خدمات پر تحقیقی کام کررہے تھے۔ پٹنہ میں قیام کے لیے دولی گھاٹ محلّے کا انتخاب ان کی خوش ذوقی کی علامت تھا۔ لبِ دریا پُر بہار جگہ، مشہور فلمی ہستی کُم کُم کے گھر کے قریب ان کی بودوباش تھی۔ پاشا صاحب بھی اکثر وہیں قیام کرتے۔دوست یار بھی فیض یابی کے لیے پہنچ جاتے۔ مجاہدانہ اور درویشانہ زندگی تھی۔ ایک سگھڑ خاتون خانہ کی طرح انہماک و توجہ سے بلاشرکتِ غیرے خود کھاناپکاتے ۔ نماز پڑھتے پھر دسترخوان بچھادیتے۔ کمال محبت اور معذرت خواہی کے ساتھ کھانا کھلاتے۔ اپنی خدمت کو کمتر اور بے وقعت جاننا ظفرکمالی کو بزرگوں سے ملی دولت ہے۔

پاشاصاحب کی وفات کے بعد ظفر کمالی سے میرا خفیف نظریاتی اختلاف رہا۔ ’’پاشاچندگوشے‘‘ کی اشاعت پر وہ بہت بدظن رہے ۔ اُنھوں نے ایک خط میں مجھے اوقات بتانے کی بات کہی تھی ۔ ان کی بے رخی یا آزردگی کا اسی سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے ۔ میں اپنے موقف پر قائم رہا ، کیوں کہ میں نے خیانت نہیں کی تھی۔ منٹوکی طرح جو دیکھا اور جس طرح دیکھا سعادت مندی کے ساتھ لکھ دیا۔موضوع پاشا صاحب کی ان ہی کے گھر میںناقدری اور توہینِ ذات کا تھا۔میرا یہ خاموش پیغام تھا کہ جس گھر میں پاشا کو امان نہ تھی اس کو دارالامان سمجھنا آپ کو زیب نہیں دیتا ۔ ظفر غالباً’’نسوانی دباو‘‘ میں تھے ۔ وہ سایوں کا تعاقب کرتے رہے ۔ سرابوں کو سمیٹنے میں لگے رہے ۔میں اپنی وضع پر قائم ، کیوں کہ میرے دل میں بہر حال ان کا احترام تھا۔ تجدیدِ تعلق کے لیے اُنھوں نے خود پہل کی یہ ان کی اعلا ظرفی تھی ۔ اُنھوں نے اس خط کا حوالہ دیا جس میں ان کا غصہ ساتویں آسمان پر تھا ۔اس مضمون نماتاثراتی خاکے کو دوبارہ بہ اصرار لکھوایا۔ اپنے ناپسندیدہ عمل پر پشیمان ہونے والا انسان کتنا عظیم ہوتا ہے اس کا اندازہ کر نا مشکل ہے ۔
ظفر کمالی کو میں نے ان دنوں مغربی لباس (اب عمومی ہو گیا ہے )میں دیکھا۔ چہرہ خدا کے نور (داڑھی)سے عاری تھا ۔ کلین شیوتو نہ تھے مونچھیںکالی لکیر کی طرح ،پیشانی کشادہ، لحیم شحیم جسامت ، کھڑی کھڑی ناک ، گندمی رنگ، مشرقی ادا،نگاہیں نیچی ، متوازن رفتار،متحرک آنکھوں پر موٹے شیشے کی عینک، ہنستے تو بتیسی اپنے مراکز کے ساتھ عیاں، کم گو ، پست آواز، مختصر مگر ذہانت سے لبریز باتیں ان کے سراپا و شخصیت کی یہ تصویر تھی، تب وہ پچیس تیس کے رہے ہوںگے اب تقریباً ساٹھ کے ۔ درمیان کے تیس برسوں میں تبدیلیاں بہت آئیں۔ ظفراللہ سے وہ ظفر کمالی کب ہوئے ٹھیک یاد نہیں ۔ آواز میں البتہ کوئی تبدیلی نہیں ۔اب بھی وہ اس قدر دھیمی آواز میں مخاطب ہوتے ہیں کہ کمزور سماعت کے لوگوں کوآلۂ سماع استعمال کرنا پڑے۔چہرے پر اب اللہ کا نور کہ دور سے پیرِ طریقت لگتے ہیں۔مثبت تبدیلیاں انسان کے حساس ہونے کا پتا دیتی ہیں۔

صحت مند دینی ماحول میں ان کی اخلاقی اور ذہنی تربیت ہوئی ۔ دین داری گویا ان کی سرشت کا حصہ ہو۔ وہ تمام دینی فرائض کی ادایگی پابندی اور تندہی سے کرتے آئے ہیں ۔ نمازی بھی پکے’’مرغِ مصلّیٰ ‘‘ قسم کے نہیں۔ عقیدتاً اتحادِ باہمی کے قائل، دعوااہل ِسنت والجماعت ہونے کا ۔فاتحہ، صلٰوۃو سلام اور ایصال ثواب کے قائل(نمود و نمایش سے پرے)نئے مکان کی فاتحہ خوانی کا شرف ہمیں بخشا۔اسی غرض سے ایک مرتبہ شبِ برات میں بھی بلایا ۔غرض اسلامی اقدارو تہذیب کی شکست و ریخت کے اس پر آشوب دور میں ظفر کمالی روایتی اسلامی تہذیب کے پاس دار تھے اور ہیں۔
ایک دور پریشانی اور آزمایش کا تھا جس سے وہ سرخرو گزر گئے،بندگی پر حرف نہیں آنے دیا ۔ پاشا صاحب کی رحلت ،والد، والدہ کی جدائی دو بہنوں کی بیوگی کا درد ، انسانی وجود کو ریزہ ریزہ کر دینے والے صدمات نے ان کے قلب کو متاثرکیا۔ خدا اور رسول کے تئیں خود سپردگی ڈھال بن گئی۔ انسانوں کو اسی لیے فرشتوں پر فوقیت ہے کہ وہ اپنے رب اور اس محبوب کی رضاجوئی کے لیے سب کچھ سہہ لیتا ہے ۔ ایک صبر ہزار آفتوں سے بچاتا ہے ۔ ہمارا معاشرہ آج منافقت ،حسد، جلن جیسی وبائوں کی زد میں ہے ۔غیبت بیشتر گھروں کا وظیفہ بن گئی ہے ۔ظفر کی آنکھیں روتی ہیں۔ وہ اس طرح کے درجنوں واقعات بیان کرکے اپنے کرب کا اظہار کرتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے ’’جس کو نیکی سے مسرت ہو اور برائی کا ارتکاب برا لگے وہی مومن ہے ‘‘۔ یہ چیز ظفر کمالی کی زندگی میں موجود ہے۔

گذشتہ چند برسوں سے ایک صاحب نے مجھے بہت سے زیادہ پریشان اور ہراساں کر رکھا ہے ۔کافی ذہنی اذیت جھیلنے کے بعد اپنے حالات و تفکرات سے ظفر کو آگاہ کیا اور دعا کی درخواست کی ۔ میر ا اعتقاد ہے کہ دعا ردِّ بلا ہوتی ہے اور تقدیر کو دعا ہی بدل سکتی ہے ۔ انھوں نے دلاسہ دیا :’’آپ گھبرائیے مت ، اللہ پر بھروسہ رکھیے اور پوری طاقت و قوت سے اپنا دفاع کیجیے۔حد سے زیادہ شرافت کا برتاو فی زمانہ کمزوری تصور کیا جاتا ہے اپنی حق تلفی پر کڑا رُخ اپنائیے۔‘‘ ان کی باتوں میں اپنا پن اور اتنی تاثیر تھی کہ جیسے مایوسی و بے بسی دور ہو گئی ہواور اپنے دفاع کے لیے توانائی عود کر آئی ہو ۔دلاسے سے فارغ ہو کر اُنھوں نے دعائیں بھی کی ہوںگی ایسا میرا پختہ یقین ہے ۔ وہ آدمی پسپا ہوامگر اپنی رزالت کے اعادہ سے باز نہیں آیا۔ ’’گواہی یا تباہی‘‘ کی ضد پر قائم ہے۔ غرضیکہ ظفرکمالی پریشان حال مخلوقِ خدا کی دل جوئی اور حوصلہ افزائی فیّاضی کے ساتھ کرتے ہیں۔ اس کا دکھ بانٹتے اورپریشانی سے نجات کے لیے دعا بھی کرتے ہیں۔ ظفر مقامِ ولایت سے سرفراز ہیں کہ نہیں مَیں نہیں جانتا ہاں میرا تاثر یہ ہے کہ ولی صفت اورغیر معمولی انسان ضرور ہیں۔ ثبوت دینا ہوتو ان کی کتاب ’’رباعیاں‘‘ مطبوعہ ۲۰۱۰ء پیش کروں گا۔ تصوف کی پھواروں میں نہانا ہوتو کتاب ضرور پڑھ لیں۔
ظفر کا پیشہ تعلیم وتعلّم ہے۔وہ جہاں قیام پذیر ہیںاس محلے کی ننھی چھوٹی بچیوں کومفت پڑھانے میں بھی عار محسوس نہیں کرتے۔بلکہ اسی انہماک، محبت اور توجہ سے پڑھاتے ہیں جیسے وہ کالج کی اونچی جماعتوں میں درس دیتے ہیں۔ وہ ہرایک کی پیش رفت بھی شوق سے بتاتے اور ان کی خوبیاں گناتے ہیں۔ ’’اس کا ناظرہ اب ختم ہواچاہتا ہے۔ یہ کمزور ہے ،مخرج اور تلفظ کی ادائیگی ٹھیک نہیں‘‘ وغیرہ وغیرہ۔عمل کتنا چھوٹا لگتا ہے۔ مگر صلہ کتنا بڑا ہے۔ نیز جب یہ چھوٹی بچیاں بڑی ہوکر جانیں گی کہ ظفرکمالی نے انھیں پڑھایا ہے تو اپنی تقدیر پر ناز کریں گی۔

ظفر فارسی کے پروفیسر ہیں مگر اردو کے پیچیدہ مسائل کی حل طلبی کے لیے دور دراز سے ان کے پاس لوگ آتے رہتے ہیں۔ ایک اچھے استاد کی یہ خوبی ان کے اندر ہے کہ وہ سائل کومایوس نہیں کرتے اور نہ وعدۂ فردا پر ٹالتے ہیں۔ یوجی، پی جی کے نصاب کے گراں ترین ابواب کو سیاق وسباق کے ساتھ پڑھا اور سمجھا دینا ان کے لیے سہل ہے۔ سرسری گزرجانا پیشے کے تقدس اور خود ان کے مزاج کے منافی ہے۔ تدریس کا پیشہ (فریضہ)بڑی ذمے داری اور کثرتِ مطالعہ کا متقاضی ہے جسے وہ خوش اسلوبی اور پوری دیانتداری کے ساتھ انجام دے رہے ہیں۔
انسانی اقدار کے پاسدار ، نمودونمایش سے بہت دور خو د کو نہاں رکھنے کے عادی ہیں۔ کھل کربے تکلف باتیں وہ شاید و باید ہی کرتے ہیں۔ان کے ذاتی اوصاف بعض اوقات عیب اور دوسروں کے لیے بارِخاطر بھی بن جاتے ہیں۔مثلاً کم گوئی، تکلف کی زیادتی ، حددرجہ احتیاط کا برتاو وغیرہ، جنھیں اساس بنا کر ظفر کمالی کو کچھ کم نظر لوگ غائبانہ اچھا نہیں کہتے۔ وہ جو کبھی ان کو باکمال استاد کہتے نہیں تھکتے تھے ، اب زبان آلودہ کرنے سے بھی گریز نہیں کرتے۔خود پرستی اور رعونت پسند ی کا طعنہ دیتے ہیں۔ حیرت ہوتی ہے کہ ان نام نہاد پہلوئوں کو عنوان بنا کر حرف گیری کی جاتی ہے۔ کاش ظفر کی ادبی کارگزاری یا ان کی تحریروں پر تنقید کے لیے یہ توانائی صرف ہوتی تو ایک اچھی روایت قائم ہوتی، ورنہ جذبۂ حسد کی سطحی تسکین سے صرف خود کا خسارہ ہوتا ہے۔

پاشا صاحب کی حیات تک وہ با عمل ظرافت نگار تھے مگر متواتر حادثوں سے گزرنے کے بعد ان کی تحریروں میں ظرافت کی لَو مدھم اور طنز کی کاٹ گہری ہوتی گئی۔ بہت سارے مزاح نگاروں کی زندگی میں ایسا ہوا۔ کبھی وہ پاشا صاحب کی بزمِ بے تکلّفاں کے سرگرم رکن ہوتے۔مرشد جب کھُل جاتے تو ظفر ہی ان کو سنبھالتے۔ رضا نقوی واہی کے بعد بہار میں تیزی کے ساتھ مزاحیہ شاعری کے افق پر استادانہ شان و کمال کے ساتھ چھا جانے کا شرف ظفر کمالی کو حاصل ہے۔ اکبر الٰہ آبادی کی طرح ان کے مزاح و طنز کے موضوعات قوم کی بدحالی، سیاسی ستم ظریفی،پامال ہوتی اسلامی اقدار، معاشرت کی زوال پذیری و دیگر سلگتے مسائلِ حیات ہیں۔

وہ ظرافت نگا رہیں۔ شرارت، شوخی، اشارے، کنایے اور دیگر حربوں کا استعمال خوب جانتے ہیں۔ شکار کو فرار ہونے کا موقع نہیں دیتے۔ بروقت اور ایسے مسکت وار کرتے ہیں کہ آپ سر سہلاتے رہ جائیں۔ میری ابتدائی تحریروں (ابتدائی کی تخصیص نہیںکیوں کہ اثرات ہنوز باقی ہیں)پر نیاز فتح پوری کے افسانوی اسلوب کے اثرات حاوی ہیں۔ اس جانب انھوں نے کئی بار توجہ دلائی اوراس کے تعلّق سے اچھی اور مفید باتیں بتائیں۔یکایک میں نے کہہ دیا’’ہاں بھئی ہمیں اعتراف ہے کہ نیاز نے ہمیں برباد کیا‘‘۔ سنتے ہی فی البدیہہ بول پڑے’’واقعی نیازنے آپ کو برباد کردیا‘‘(نیاز بہ معنیٰ فاتحہ)میرے مشرب سے وہ خوب واقف ہیں اور یہ بھی کہ عقیدے کے معاملے میں شدت پسند بھی ہوں۔میری عقیدہ جاتی سخت گیری پریوں انھوںنے بڑی پیاری اور نرم چوٹ کی اور مجھے سکتے میں ڈال دیا۔ گویا آپ کے جملے سے آپ ہی پر حملہ۔لہٰذا عام لوگوں کو یہ اطلاع دی جاتی ہے کہ ایسے لوگوں سے گفتگو میں بہت احتیاط برتیں۔

اکثر محتاط لوگ بھی عادتاً یا لاشعوری طورپر عجیب وغریب اوربعض اوقات مخربِ اخلاق حرکت کرتے رہتے ہیں۔ اہلِ ظرافت بڑے ذہین و فطین ہوتے ہیں۔ حالات خواہ جیسے بھی ہوں مزاح کا بلیغ پہلو کھوج لیتے ہیں۔ یہ اتنی بے رحم قوم ہے کہ موقع تعزیت کا ہو یا تجہیزوتکفین کا ، مزاحیہ صورت حال کے لیے مواد حاصل کرہی لیتی ہے۔ ایک پروفیسر دورانِ درس باربار اپنی میانی کھجاتے ۔ کالج کے لڑکوں کے لیے تویہ تفریح اور لطف اندوزی کا سامان ہوتا مگر شرم وستم کا پہاڑ تو اصل میں ’’بے چاریوں‘‘ پر ٹوٹتا تھا ۔ یاروں نے نمک مرچ لگاکر ظفر کمالی کوبتایا ۔ بندۂ خدانے برجستہ فرمایا:’’ارے بھئی یہی ان کا سرچشمہ بلکہ ’’شرچشمۂ علم‘‘ ہے ۔ وہ اپنے علم کا ساز چھیڑنے کے لیے اسی سے مضراب کا کام لیتے ہیں‘‘۔
ایک دورایسا بھی گزرا جب میں قلم کا ری کو فضول کاری سمجھ بیٹھاتھا۔ اردو سے نالاں اور سخت بیزار، سراپا بے ادب۔ایسے میں ظفر نے ایک اتالیق کا فرض ادا کیا۔ انھوںنے ادب کی قدروقیمت بتائی۔ مجھ سے مجاہدہ کرایا اور علمی مشاہدے کی لذت سے آشنا کیا۔جس طرح ایک سرکش گھوڑے کوچابک سے سُدھاکر کام کا بنایاجاتا ہے، ظفرکمالی نے ستایش کی تمنا او رصلے کی پروا کیے بغیر ، میری طرح بہتوں کو اخلاق کے چابک سے زیر کیا اور دوبارہ قلم تھامنے اور کچھ کرگزرنے کا جذبہ دلوں میں پیدا کردیا ۔ کتب نویسی میں بھر پور تعاون، کتاب کا خاکہ تیار کرنے سے لے کر مواد کی نشاندہی اور اس کی فراہمی کے لیے ہمہ دم کوشاں،ترتیب و تدوین میں مدد،، مقالات کی تصحیح، کتابت کی پروف ریڈنگ، تبصرہ و تعارف نویسی،دوستوں اور تازہ واردان کوافراط وتفریط سے بچنے کی تلقین، ادبی اصولوں سے انحراف نہ کرنے کی تنبیہہ، زبان و بیان کی نزاکتوں پر نظر رکھنے کی ہدایت اور سب کی مسلسل حوصلہ افزائی ، فون کرکے خیریت دریافت کرنا کہ کام کہاں تک ہوا، مطلب یہ صاحب قسطوں میں نیکیاں کرتے ہیں دریا میں ڈالنے کے لیے۔ ظاہر ہے بدلہ احسان فراموشی سے ملتا ہے تو حوصلہ ٹوٹے گا ہی۔ ایسے دسیوں قصے وہ بیان کرتے اور آبدیدہ ہوجاتے ہیں۔ لیکن بہر حال ان کا یہ طرزِ عمل اردو کی بقا اور فروغ کے لیے تادیر یاد رکھا جائے گا۔

حالیہ اطلاع کے مطابق دس مطبوعہ کتابوں کے مصنف و خالق مزید تین کتابیں ترتیب دے چکے اور کئی کتابو ں کی ترتیب و تدوین میں لگے ہوئے ہیں۔مقالات ، مضامین وتبصروں کا ذخیرہ الگ۔ عمر پر بڑھاپے کی دستک مگر قلم پر جوانی کی آمد آمد۔ خداکرے ادب کے جغرافیائی حدود میں اضافہ کا جنون تادیرسلامت رہے۔

والدین، اساتذہ، احباب اور اہلِ قرابت سے ظفر ٹوٹ کر پیارکرتے ہیں۔ انھوںنے ان سے متعلق اپنی یادوں اور محبتوں کے ساگرکوفن کاری کے ساتھ رباعیوں کے کوزے میں بھردیا ہے۔ ظفر کی شخصیت اور فن پر لکھتے ہوئے ان کی زندگی کے اس پہلو کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ ان کی اہلیہ دین دار، سلیقہ شعارخاتون اور علم کی پیاس رکھنے والی ادیبہ بھی ہیں۔ پتا نہیں یہ ان کا ذاتی انتخاب تھیں یا اجتماعی، ہاں ایک بھیدی کی اطلاع کے مطابق دونوں کے مزاج میں ہم آہنگی اور اعتدال ہے جو اہلِ قلم حضرات کے یہاں کمیاب ہے۔پرسکون و متوازن ازدواجی زندگی فریقین کی روشن ضمیری، صحت مند خانگی فضا اور تابناک مستقبل کی دلیل ہے۔ اسی ماحول ا ور مکتب کی کرامت ہے کہ ان کے بچے آدابِ فرزندی سے متصف اور اخلاقی قدروں سے آراستہ ہیں۔ سعادت مند اولاد اللہ کی بیش بہا نعمت اور بخشش کا ذریعہ ہے۔سیوان اور اس کے مضافات کے شاعروں اور ادیبوں کے لیے ظفر کمالی کا دم بے حد غنیمت ہے۔ ہم جیسے لوگوں کے لیے تو ا ن کی ذات نعمتِ غیر مترقبہ سے کم نہیں۔ اللہ انھیں خوش اورسلامت رکھے۔

Previous articleHello world!
Next articleThis watermelon I bought on a whim is pretty good, but I can definitely imagine a better one.

1 COMMENT

  1. Wow, superb weblog layout! How lengthy have you been running a blog for?

    you made running a blog look easy. The full glance of your website is magnificent, as
    neatly as the content material! You can see similar here sklep

اپنے خیالات کا اظہار کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here