کیا ہو مدارس کا نصاب تعلیم؟کیا کچھ تبدیل کرنے کی ہے ضرورت؟جانیں تفصیل سے!

0
91

نئی دہلی:’’ نظریات سے واقفیت اور اب جو نت نئے نظریات وجود میں آرہے ہیں، علما کو ان سے واقف رہنا ضروری ہے۔ یہ زمانہ لائف لانگ لرننگ کا ہے۔ جس نے نئی صلاحیتوں کا حصول چھوڑ دیا وہ پچھڑ گیا، وہ پسماندہ ہوگیا‘‘۔یہ باتیں جماعت اسلامی ہند کے امیر سید سعادت اللہ حسینی نے مدارس کے نصاب پر منعقدہ ایک ورکشاپ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئی کہیں۔ ’

دینی مدارس کا نصاب تعلیم مدت و مراحل ‘کے عنوان سے اس ورکشاپ کا انعقاد مرکزی تعلیمی بورڈ ، جماعت اسلامی ہند کی جانب سے کیا گیا تھا۔

اس میں دارالعلوم ندوۃ العلماء، دارالعلوم دیوبند (وقف) ،اشاعت العلوم اکل کوا، جامعۃ الفلاح، جامعۃ دارالسلام عمر آباد اور دیگر تعلیمی اداروں کے نمائندوں کے علاوہ ملک بھر کی مختلف ریاستوں اور اداروں کے اسکالرز نے حصہ لیا ۔ ان اسکالرز میں عبد البر اثری فلاحی بمبیٔی،وارث مظہری دہلی، شکیب قاسمی دیوبند،احمد الیاس نعمانی لکھنو ، طارق ایوبی علی گڑھ، عمر عابدین حیدرآباد، محمد حذیفہ وستانوی گجرات، محفوظ فلاحی بھوپال اور پروفیسر اسحاق فلاحی و دیگر اہم اشخاص نے شرکت کی۔ امیر جماعت نے مزید کہا کہ ’’ علماء کی آج کے ماحول میں بڑی ذمہ داریاں ہیں۔ اب محلے، علاقے سے نکل کر پوری دنیا آپ کی مخاطب ہے۔اسلام کا پیغام پوری انسانیت کو دینا ہے ۔ یہ کام صرف انگریزی زبان سیکھ لینے سے نہیں ہوگا۔ مخاطب کے نظریات ، ان کے احوال و کوائف ، ان کی نفسیات ، ان کا کلچر ان کا سلوک و اخلاق سب کچھ سمجھنے کے بعد یہ کام انجام دینا ممکن ہوگا۔

ہمارے سامنے الگ الگ مزاج ، صلاحیتوں اور استعداد کے طلباء ہوتے ہیں۔ ہر ایک کو اس کی صلاحیت ، ذہنیت و استعداد اور احوال کے مطابق رہنمائی کرنا، انہیں تیار کرنا ہمارا کام ہے‘‘۔اس ورکشاپ میں چند اہم امور زیر غور آئے جن میں مدارس کے نصاب کی تجدید اور اس میں عصری علوم کی شمولیت۔ مدارس اسلامیہ کی درسی کتابوں کا درسی انداز میں تیار کیا جانا۔اساتذہ کی فنی اور تکنیکی ٹریننگ۔ فقہ اور کلام میں وسعت۔ اہداف کی پیمائش کا فارمیٹ ۔طلباء کو دینی تعلیم کے ساتھ نیشنل سرٹیفکیٹ کا اہل بنانا ،موجودہ نصابوں میں غیر مفید اجزا اور طلباء میں بحث و تحقیق کا مزاج پیدا کرنا، کے علاوہ دیگر متعدد اہم موضوعات پر غورو فکر کیا گیا۔ ورکشاپ کو نائب امیر جماعت پروفیسر سلیم انجینئر نے بھی خطاب کیا۔ انہوں نے تعلیم کے بعض جدید طریقوں سے مدارس کو فائدہ اٹھانے کا مشورہ دیا۔اس موقع پر مرکزی تعلیمی بورڈ کے ڈائریکٹر سید تنویر احمد نے نصاب سازی کے اصول و مبادی پر اپنے خیالات کا اظہار کیا ۔ پروگرام کے آخر میں بورڈ کے چیئرمین جناب مجتبیٰ فاروق نے مدارس کے ذمہ داران کو حالات سے باخبر رہنے اور حکومت کی پالیسیوں سے واقف رہنے اور مضر امور کے تدارک پر بیدار رہنے پر زور دیا۔ انہوں نے مہمانوں کا شکریہ اداکرتے ہوئے کہا کہ آئندہ بھی اس سلسلے میں غور و فکر کرتے رہنے کی ضرورت ہے۔ڈاکٹر محی الدین غازی اس اہم ورکشاپ کے کوارڈینیٹر تھے۔

Previous articleافسانہ ’’کھنڈروں میں بسے ہوئے لوگ‘‘ از: رفیع حیدر انجم
Next articleجمعیت علمائے ہند کی اہم پہل! طلباء کے لیے کیا وظائف کا اعلان، مولانا محمود مدنی نے مسلمانوں کو دیا اہم پیغام!

اپنے خیالات کا اظہار کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here