کیا وارث اپنا حصہ دوسرے کو دے سکتا ہے؟از:ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی

0
84

سوال :
ہمارے والد صاحب کا وطن ناگ پور تھا ۔ تین برس قبل ہم پونہ شفٹ ہوگئے تھے ۔ والد صاحب کا ارادہ تھا کہ ناگ پور کے گھر کو فروخت کرکے پونہ میں گھر لے لیں گے ۔ چھے ماہ قبل ان کا انتقال ہوگیا ہے ۔
ہم دو بھائی اور دو بہنیں ہیں ۔ والدہ ابھی حیات ہیں ۔ کیا ہم اپنے آبائی گھر کو فروخت کرکے والدہ کے نام سے پونہ میں نیا گھر لے سکتے ہیں؟

جواب:
اسلام میں تقسیمِ وراثت کی بڑی اہمیت ہے ۔ اس کی بہت تاکید کی گئی ہے ۔ کسی شخص کا انتقال ہو تو اس کی مملوکہ تمام چیزیں ، خواہ منقولہ ہوں یا غیر منقولہ اور ان کی مالیت کم ہو یا زیادہ ، اس کے قریب ترین ورثہ میں تقسیم ہونی چاہییں ۔ سورۂ نساء میں یہ بیان کیے جانے کے بعد کہ وراثت پانے کا حق جس طرح مردوں کو ہے اسی طرح عورتوں کو بھی ہے ، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
مِمَّا قَلَّ مِنہُ اَو کَثُرَ نَصِیباً مَفرُوضاً (النساء : 7)
” (یہ مال)خواہ تھوڑا ہو یا بہت اور یہ حصہ (اللہ کی طرف سے) مقرر ہے ۔ “

مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی ؒ نے اس آیت کی تشریح میں لکھا ہے :
” میراث بہر حال تقسیم ہونی چاہیے ، خواہ وہ کتنی ہی کم ہو ، حتّیٰ کہ اگر مرنے والے نے ایک گز کپڑا چھوڑا ہے اور دس وارث ہیں تو اسے بھی دس حصوں میں تقسیم ہونا چاہیے ۔ یہ اور بات ہے کہ ایک وارث دوسرے وارثوں سے ان کا حصہ خرید لے ۔ اس آیت سے یہ بات بھی مترشّح ہوتی ہے کہ وراثت کا قانون ہر قسم کے اموال و املاک پر جاری ہوگا ، خواہ منقولہ ہوں یا غیر منقولہ ، زرعی ہوں یا صنعتی ، یا کسی اور صنفِ اموال میں شمار ہوتے ہوں ۔ “ (تفہیم القرآن ، جلد اوّل ، سورۂ نساء ، حاشیہ نمبر 12)

تقسیمِ وراثت میں ایک بات یہ بھی قابلِ ذکر ہے کہ مستحقین کو ان کا حصہ ملنا چاہیے ، البتہ وہ اپنی آزاد مرضی سے اپنا حصہ کل یا اس کا کچھ جز چھوڑ سکتے ہیں ، یا کسی کو دے سکتے ہیں ۔

آپ کے والد صاحب کا انتقال ہوا تو ان کی وراثت آپ کی والدہ اور آپ بھائیوں اور بہنوں میں تقسیم ہونی چاہیے ۔ سورۃ النساء میں صراحت ہے کہ کسی شخص کا انتقال ہو اور وہ صاحبِ اولاد ہو اور اس کی بیوی بھی زندہ ہو تو بیوی کو آٹھواں حصہ ملے گا ۔ (آیت 12) باقی اولاد کے درمیان اس طرح تقسیم ہوگا کہ ہر لڑکے کو ہر لڑکی کے مقابلے میں دوگنا ملے گا : لِلذّکَرِ مِثل حَظِّ الاُنثَیَینِ (آیت:11) بہ الفاظ دیگر آپ کے والد صاحب کی پراپرٹی درج ذیل تفصیل کے مطابق تقسیم ہوگی :
بیوی کا حصہ 12.5%
ہر لڑکے کا حصہ 29.2% دو لڑکوں کا حصہ 58.3%
ہرلڑکی کا حصہ 14.6% دو لڑکیوں کاحصہ 29.2%

البتہ اس کی گنجائش ہے کہ اگر آپ سب بھائی بہن چاہیں تو اپنا اپنا حصہ اپنی والدہ کو دے سکتے ہیں ۔ اس طرح نیا گھر خرید کر اس کی رجسٹری اپنی والدہ کے نام کرواسکتے ہیں ۔(یہ بھی پڑھیں!کیا قرض دینے سے انکار پر گناہ ہوگا؟ از:ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی)

Previous articleظفر گورکھپوری کی شاعری میں مٹی کی میٹافزکس از:حقانی القاسمی
Next articleاحمد رشید کاافسانہ : “کھوکھلی کگر”ایک تجزیہ از:نثارانجم

اپنے خیالات کا اظہار کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here