کیا قرض دینے سے انکار پر گناہ ہوگا؟ از:ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی

0
137

سوال :
میرے ساتھ ایک کمپنی میں کام کرنے والے کئی ساتھی وقتاً فوقتاً قرض کا تقاضا کرتے ہیں ۔ ان میں سے اکثر وقت پر قرض نہیں لوٹاتے ، جب کہ کئی ایک تو واپس کرنا بھول جاتے ہیں ۔ بعض ایک ماہ بعد لوٹانے کے وعدے پر قرض لیتے ہیں ، لیکن سال گزرنے کے بعد بھی واپس نہیں کرتے ۔ مجھے ان سے تقاضا کرنے میں شرم محسوس ہوتی ہے ۔
اگر میرے پاس کچھ رقم ہو اور میں قرض دینے کی استطاعت رکھتا ہوں ، اس کے باوجود اس اندیشے سے کہ رقم وقتِ موعود پر واپس نہیں ملے گی ، انکار کردوں تو کیا میں گناہ گار ہوں گا؟

جواب :
مال اللہ کی نعمت ہے ، ضروریاتِ زندگی کی تکمیل کے لیے قدم قدم پر اس کی ضرورت پڑتی ہے ۔ اللہ تعالیٰ کاارشاد ہے:
اَموَالَکُم الّتِی جَعَلَ اللّٰہ لَکُم قِیَاماً (النساء : 5)
” تمھارے وہ مال جنھیں اللہ نے تمھارے لیے قیامِ زندگی کا ذریعہ بنایا ہے ۔ “

اس دنیا میں تما م انسان آزمائش کی حالت میں ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کسی کو مال و دولت سے محروم کرکے آزماتا ہے تو کسی کو عطا کرکے ۔ کسی کو کم دے کر آزماتا ہے تو کسی کو خوب نواز کر ۔ قرآن مجید میں ہے :
لَہُ مَقَالِیدُ السَّمٰوٰتِ وَ الاَرضِ یَبسُطُ الرِّزقَ لِمَن یَّشآءُ وَ یَقدِرُ اِنَّہُ بِکَلِّ شيءٍ عَلِیمٌ (الشوریٰ : 12)
” آسمانوں اور زمین کے خزانوں کی کنجیاں اسی کے پاس ہیں ۔ جسے چاہتا ہے کھلا رزق دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے نپا تُلا دیتا ہے ۔ اسے ہر چیز کا علم ہے ۔ “

جن لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے مال و دولت سے نوازا ہو انہیں اس کا شکر ادا کرنا چاہیے ۔ اس کا طریقہ یہ ہے کہ اس کے جو بندے غریب و محتاج ہوں ان کی مدد کریں اور ان کی ضروریات پوری کریں ۔ حدیث میں انسانوں کے کام آنے ور ان کا تعاون کرنے کی بڑی فضیلت بیان کی گئی ہے ۔ اللہ کے رسول ﷺ کا ارشاد ہے :
وَ اللّٰہُ فِی عَونِ العَبدِ مَا کَانَ العَبدُ فِی عَونِ اَخِیہِ (مسلم : 2699 )
” اللہ اپنے بندے کی مدد کرتا ہے جب تک وہ بندہ اپنے بھائی کی مدد کرتا رہتا ہے ۔ “

مدد اور تعاون کا دائرہ بہت وسیع ہے ۔ اس کا ایک پہلو مالی تعاون ہے ۔ ایک صورت یہ ہو سکتی ہے کہ مال دار شخص اللہ تعالیٰ کی خوش نودی حاصل کرنے کے لیے غریبوں کو اپنے مال کے ایک حصے کا مالک بنا دے ۔ اسے صدقہ و خیرات اور انفاق کہا جاتا ہے ۔ اس کی بہت فضیلت بیان کی گئی ہے ۔ اللہ تعالیٰ اسے اپنے ذمّے قرض سے تعبیر کرتا ہے ، جس کا وہ بھرپور بدلہ روزِ قیامت دے گا ۔ قرآن مجید میں ہے :
وَ فِی اَموَالَہِم حَقٌّ مَعلُومٌ للسّائِلِ وَ المَحرُومِ (المعارج : 24 _ 25)
” اور جن کے مالوں میں سائل اور محروم کا ایک مقرر حق ہے ۔“
اِنَّ المُصَّدِّقِینَ وَ المُصَََّدِّقٰتِ وَ اَقرَضُوا اللّٰہ قَرضاً حَسَناً یُضَاعَفُ لَہُم وَ لَہُم اَجرٌ کَرِیمٌ (الحدید : 18)
” مردوں اور عورتوں میں سے جو لوگ صدقات دینے والے ہیں اور جنھوں نے اللہ کو قرض حسن دیا ہے ، ان کو یقیناً کئی گنا بڑھا کر دیا جائے گا اور ان کے لیے بہترین اجر ہے ۔“

مالی مدد کی دوسری صورت یہ ہے کہ جس شخص کے پاس مال ہو وہ اسے کسی ضرورت مند کے طلب کرنے پر اس کو دے ، اس شرط کے ساتھ کہ وہ اسے ا یک مقررہ مدّت کے بعد یا جب اس کے پاس مال آجائے گا ، اس کا دیا ہوا مال واپس کردے گا ۔ اسے قرض کہتے ہیں ۔ حدیث میں قرض دینے کی فضیلت بیان کی گئی ہے اور اسے صدقہ کے مثل قرار دیا گیا ہے ۔ اللہ کے رسول ﷺ کا ارشاد ہے:
مَا مِن مُسلِمٍ یَقرِضُ قَرضاً مَرَّتَینِ الّا کَانَ کَصَدَقَتِھَا مَرَّۃً (ابن ماجہ : 2430 )
” جو مسلمان کسی دوسرے مسلمان کو دو مرتبہ قرض دے اسے ایک مرتبہ صدقہ کرنے کے برابر ثواب ملتا ہے ۔ “

جو شخص قرض لے اس کی ذمے داری ہے کہ اس نے جب اسے واپس کرنے کا وعدہ کیا ہو ، اس سے قبل ہی یا اس وقت تک واپس کردے ۔ اگر اس وقت تک اس کے پاس رقم کا نظم نہ ہو پایا ہو تو قرض دینے والے سے رابطہ کرکے مزید مہلت لے لے ۔ یہ بڑی غیر اخلاقی حرکت ہے کہ قرض لے کر خاموش بیٹھ جائے اور اسے واپس کرنے کا خیال دل میں نہ لائے ، یا موعود وقت نکل جائے اور وہ قرض کی واپسی سے بالکل بے پروا ہو ، یا اس کے پاس رقم تو موجود ہو ، لیکن وہ قرض کی واپسی میں ٹال مٹول سے کام لے ۔ اللہ کے رسول ﷺ کا ارشاد ہے:
مَن اَخَذَ اَموَالَ النَّاسِ یُرِیدُ اَدَاءَھَا اَدَّی اللّٰہُ عَنہُ، وَ مَن اَخَذَھَا یُرِیدُ اِتلَافَہَا اَتلَفَہَا اللّٰہُ (بخاری : 2387)
” جو شخص لوگوں سے مال لے اور اس کی نیت اس کی واپسی کی ہو ، اللہ اس کی ادائیگی کی توفیق دیتا ہے اور جو شخص ان کا مال لے اور اس کا ارادہ واپس کرنے کا نہ ہو ، اللہ اس کو برباد کردیتا ہے ۔ “
ایک دوسری حدیث میں ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا ہے:
مَطلُ الغَنِيِّ ظُلمٌ (بخاری : 2400 ، مسلم : 1564)
” جس کے پاس رقم ہو ، پھر بھی وہ قرض واپس کرنے میں ٹال مٹول سے کام لے ، اس نے زیادتی کی ۔ “

بہر حال اگر کسی شخص کے پاس کچھ مال ہو اور وہ اس کی ضروریات سے زیادہ ہو ، کوئی دوسرا شخص اس سے قرض مانگے تو عام حالات میں اسے قرض دے کر اس کی مدد کرنی چاہیے ۔ ایسا کرنے سے قرض دینے والا اللہ تعالیٰ کی جانب سے جزا کا مستحق ہوگا ۔ لیکن اگر اس کو اندازہ ہو کہ قرض لینے والا بھول جائے گا ، یا وقت پر واپس نہیں کرے گا ، یا ادائیگی میں ٹال مٹول سے کام لے گا تو اسے حق ہے کہ قرض نہ دے ۔ اس صورت میں وہ گناہ گار نہیں ہوگا ۔ البتہ اسے چاہیے کہ جھوٹ نہ بولے ، یہ نہ کہے کہ میرے پاس کچھ رقم نہیں ہے ، بلکہ کوئی عذر بتاکر خوب صورتی سے معذرت کرلے ۔

Previous articleحضرت مولانا سید ابو اختر قاسمی:حیات وخدمات میرے مطالعہ کی روشنی میں از:عبد الرحیم برہولیاوی
Next articleاشفاق احمد کا افسانہ گڈریا – ایک جائزہ از: ڈاکٹر محمد شاہنواز عالم

اپنے خیالات کا اظہار کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here