کیا عورت کوئی جنسِ بازار (Commodity) ہے ، جس کی اپنی کوئی مرضی نہیں؟از: ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی

0
119

کافی دن ہوگئے ، جماعت اسلامی ہند کی علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی ایریا کی مقامی شاخ کے ہفتہ واری اجتماع میں میری تقریر تھی _ میں نے ہجرتِ مدینہ کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اقدامِ ‘مواخات’ کے ذیل میں صحابۂ کرام کے جذبۂ ایثار و قربانی کا تذکرہ کیا _ اس ضمن میں اس واقعہ کا ذکر کیا کہ اللہ کے رسول نے مہاجر صحابی حضرت عبد الرحمٰن بن عوف اور انصاری صحابی حضرت سعد بن الربیع کو بھائی بھائی قرار دیا _ حضرت عبد الرحمٰن حضرت سعد کے گھر پہنچے تو انھوں (سعد) نے فرمایا : یہ میرا گھر اور یہ میرا باغ ہے _ آج سے اس کا نصف آپ کا ہے _ اور میری دو بیویاں ہیں _ ان میں سے جس کو آپ چاہیں اسے میں طلاق دے دوں اور آپ اس سے نکاح کرلیں _ اس اجتماع میں مشہور ماہرِ اسلامیات و معاشیات پروفیسر محمد نجات اللہ صدیقی موجود تھے _ پروگرام کے بعد انھوں نے فرمایا کہ اس واقعہ کو بیان نہیں کرنا چاہیے ، اس لیے کہ یہ عورت کے تشخص ، قدر و منزلت اور عزّت و وقار کے خلاف ہے _

اسی طرح کل (13اگست 2021) مسجد اشاعتِ اسلام ، مرکز جماعت اسلامی ہند میں خطبۂ جمعہ دیتے ہوئے مولانا ولی اللہ سعیدی فلاحی نے یہ واقعہ بیان کیا تو اس پر ہمارے ایک محترم رفیق نے یہی سوال کیا : کیا عورت commodity ہے ؟ کیا شوہر بیوی کی کسی غلطی یا سرکشی کے بغیر اسے طلاق دے سکتا ہے ؟ کیا طلاق کے لیے عورت کی رضامندی ضروری نہیں؟

مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اس مسئلے کی کچھ وضاحت کر دی جائے _ اسے درج ذیل نکات میں بیان کیا جاسکتا ہے :

(1) غور و فکر اور مطالعہ و تحقيق کا درست طریقہ یہ ہے کہ جو مسئلہ جس سماج سے متعلق ہو اسی سماج میں جاکر اور اسی پس منظر کو پیش نظر رکھ کر اس پر غور کرنا چاہیے _ مذکورہ واقعہ عہدِ نبوی کا ہے _ اُس وقت کی سماجی قدریں پیش نظر رہیں تو یہ اعتراض وارد نہیں ہوگا _

(2) ہمارے آج کے سماج میں عورت کا نکاح دشوار اور اس کا دوسرا نکاح دشوار تر ہوگیا ہے _ طلاق کو انتہائی ناپسندیدہ سمجھا جاتا ہے _ یہ تصور عام ہوگیا ہے کہ نکاح جنم جنم کا ساتھ ہے ، اسے زندگی کی آخری سانس تک نبھانا چاہیے ، چاہے عدم موافقت کے تمام اسباب جمع ہوں _ ان تصورات کے ساتھ مذکورہ واقعہ کا مطالعہ کیا جائے تو وہ عورت کے وقار اور تشخص کے خلاف معلوم ہوگا _

(3) لیکن مذکورہ واقعہ کا تعلق جس سماج سے تھا اس میں ان سماجی مسائل کا دور دور تک کچھ اَتا پَتا نہ تھا _ اُس سماج میں عورت کا نکاح بہت آسانی سے بغیر کچھ خرچ کیے ہوجاتا تھا _ اس کے لیے کوئی بڑا جشن (event) کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی تھی _ طلاق اور بیوگی کوئی عیب نہ تھا _ ایک بار ، دو بار ، تین بار ، چار بار ، پانچ بار ، عورت بیوہ یا مطلقہ ہوجائے تو اس کے اگلے نکاح میں کوئی دشواری نہیں پیش آتی تھی _ یہ تصور بالکل واضح تھا کہ نکاح ایک سماجی ضرورت ہے _ شوہر کی وفات کے بعد دوسرا نکاح کیا جاسکتا ہے _ اسی طرح اگر کسی وجہ سے شوہر طلاق دے دے تو عدت کے بعد دوسرے مرد سے بہ آسانی نکاح ہوسکتا ہے _

(4) عہد نبوی کا سماج وجود میں آئے تو طلاق سے عورت میں کوئی عیب نہیں پیدا ہوگا اور کوئی داغ نہیں لگے گا اور نہ اس سے اس کو کچھ نقصان ہوگا ، بلکہ اس صورت میں عورت سراسر فائدہ میں رہے گی _ اس لیے کہ اس کا دوسرا ، پھر وقتِ ضرورت تیسرا ، پھر چوتھا نکاح لازماً ہوجائے گا اور ہر نکاح میں اسے مہر ملے گا ، جس سے اسے مالی فائدہ حاصل ہوگا اور وہ مال دار سے مال دار تر ہوتی چلی جائے گی _

(5) غور کرنے کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ یہ صرف ایک صحابی کا آفر تھا _ سیرت کے لٹریچر میں مواخات کے بعد ایسا آفر کسی دوسرے صحابی کا نہیں ملتا ، حالاں کہ اس وقت اور بھی بہت سے صحابہ کی ایک سے زائد بیویاں تھیں _ اس بنا پر اگر یہ کہا جائے تو غالباً غلط نہیں ہوگا کہ یہ صرف ایک صحابی کا جذباتی آفر تھا _ اسی وجہ سے جس دوسرے صحابی کو یہ آفر دیا گیا تھا انھوں نے اسے قبول نہیں کیا _

(6) رہا یہ سوال کہ کیا طلاق کے لیے عورت کی رضامندی ضروری نہیں؟ اور کیا بغیر کسی وجہ کے عورت کو طلاق دی جاسکتی ہے؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ شرعی طور پر طلاق کے لیے عورت کی رضا مندی ضروری نہیں ہے _ عورت کا کوئی قصور نہ ہو تب بھی مرد اسے طلاق دے سکتا ہے _ اسی طور عورت کو بھی حق ہے کہ نکاح کے بعد اسے شوہر کی طرف سے کوئی تکلیف نہ پہنچی ہو تب بھی وہ اس سے خلع کا مطالبہ کرسکتی ہے _ اسلامی نقطۂ نظر سے نکاح ایک سماجی معاہدہ (Social Contract) ہے اور معاہدہ کے دونوں فریقوں میں سے ہر ایک کو اختیار ہے کہ وہ جب چاہے اسے ختم کرسکتا ہے _(یہ بھی پڑھیں !خواتین کے تحقیقی مقالات قرآنیات میں از: ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی)

Previous articleخواتین کے تحقیقی مقالات قرآنیات میں از: ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی
Next articleحقیقی آزادی از: ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی

اپنے خیالات کا اظہار کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here