کہنہ مشق شاعر قمرسنبھلی کا انتقال، دنیائے شعرو ادب کا عظیم خسارہ

0
63

(پر یس ریلیز )

تاریخی شہرسنبھل سے تعلق رکھنے کہنہ مشق شاعر جناب قرسنبھلی کا ( ۱۴ اگست ۲۰۲۱ بروز سنیچر رات گیارہ بے لکھنو کیپ ویل روڈ پر واقع مکان میں انتقال ہو گیا۔اناللہ۔۔۔

،ان کے انتقال کی خبر دنیائے شعر وفن کے لئے بڑی غمناک ثابت ہوئی ،ان کی عمر۸۰ سال تھی ان کی پیدائش ۱۹۴۲ء میں ہوئی مشہور شاعرظاہر حیدرآبادی سے ان کوشعری تلمذ حاصل تھا،ان کے والد قاری حکیم الدین سنبھلی تھے، دارالعلوم ندوۃ العلماء کے سابق شخ التفسیر مولانا محمد برهان الدین سمبھلی کے یہ برادرخورد تھے ، ان کی مطبوعہ تصنیفات میں آواز کالمس ، پھول آنگن کے ، جز میرے خواب کے روشن روش حرف ،ادبی شخصیات میری نظر میں ہیں ، اور غیر مطبوعہ دس تصنیفات ہیں ، انہوں نے اپنے پیچے تین صاحبزادیاں چھوڑی ہیں۔

، بڑی صاحبزادی مولانا محمد نعمان الدین ندوی ( مدیر معهد الدراسات العلمیہ ندوۃ العلماء کومنسوب ہیں ان کی نماز جناز ہ دار العلوم ندوۃ العلماء کے مہتم مولانا ڈاکٹر سعید الرحمن اعظمی ندوی نے احاطہ دار العلوم میں پڑھائی ، اور ڈالی گنج قبرستان میں تدفین عمل میں آئی۔

مولانا نعمان الدین ند وی اور اہل خانہ سے خصوصی تعزیت کی۔
شر کا ئےجنازہ میں ناظم ندوۃ العلماء حضرت مولاناسید محمد رابع ندوی کے علاوہ اہل تعلق کی ایک کثیر تعدادموجوتھی ۔

Previous articleواقعہ کربلا:انسانی منشورکاروشن باب از: عبدالوہاب قاسمی
Next articleآزادی نسواں اور فریب کاری از:مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی

اپنے خیالات کا اظہار کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here