کہنہ مشق شاعر اشرف یعقوبی کا شعری مجموعہ ’’پاگل ہوا پردے میں ہے‘‘پر ایک نظر از: مظفرنازنیں

0
117

شہر نشاط یعنی اپنا شہر کولکاتا جو علم و فن کا گہوارہ ہے، تعلیم و تعلم کا مرکز ہے، بیشتر علماء، ادباء، فنکار کو جنم دیا۔ ہمارے اس شہر کو یہ فخر حاصل ہے کہ یہاں نوبل پرائز یافتہ رابندر ناتھ ٹیگور نے جنم لیا اور دوسرے جتنے بھی نوبل پرائز یافتہ ہیں جیسے مدر ٹریسا، رنالڈ روس، ستیہ جیت رے، امرتیہ سین، ابھیجیت ونائک بنرجی سبھی کا تعلق بنگال سے ہے۔ ہمیں فخر ہے رابندر ناتھ ٹیگور، امبیندر ناتھ ٹیگور، شرت چندر چٹرجی، مدھو سدن دتہ تو ہمیں ناز ہے علامہ رضا علی وحشت کلکتوی، شاکر کلکتوی، پرویز شاہدی اور ان جیسے ہزاروں نام ہیں جن کے لئے تاریخ کے اوراق شاہد ہیں اور جن کا نام تاریخ کے اوراق میں آبِ زر سے لکھے جانے کے قابل ہیں۔ یہ باتیں ہیں عہدِ ماضی کی۔

اگر آج اردو شاعری کے تعلق سے دیکھیں تو کچھ مستند شعرائے کرام ہیں جن کے نام نہ آئے بغیر شہر کولکاتا کے اردو ادبی حلقے کی فہرست نامکمل ہے۔ ان ہی شعرائے کرام میں ایک معروف، کہنہ مشق، مستند شاعر ہیں جناب اشرف یعقوبی۔ اشرف یعقوبی صاحب شہر کولکاتا کے نارکلڈانگہ میں رہتے ہیں۔ نارکل ڈانگہ کی سرزمین نے بیشتر شعراء کو جنم دیا۔یہی وہ سرزمین ہے جہاں سے معروف عالمی شہرت یافتہ شاعر حلیم صابر، قیصر بیگ، یوسف اختر، انجم عظیم آبادی کا تعلق ہے۔

اشرف یعقوبی صاحب ایک کہنہ مشق، مشہور و معروف اور مستند شاعر ہیں۔ اکثر و بیشتر ادبی محافل اور مشاعرہ گاہ میں ان کی شرکت ہوتی ہے اور ان کے خوبصورت کلام سے سامعین محظوظ ہوتے ہیں اور ان کی موجودگی سے مشاعرے کی محفل زعفران زار ہوجاتی ہے۔ اشرف یعقوبی صاحب کا شعری مجموعہ ’’پاگل ہوا پردے میں ہے‘‘ میرے سامنے ہے۔ زیر نظر شعری مجموعہ کی اشاعت 2015ء میں ہوئی۔ یہ شعری مجموعہ 160 صفحات پر مشتمل ہے جو مغربی بنگال اردو اکیڈمی کے تحت شائع ہوا ہے۔کتاب دیدہ زیب، طباعت خوبصورت اور اچھی تزئین کاری کی ہوئی ہے جو قاری کو اپنی جانب متوجہ کرتی ہے۔ بے حد پرکشش ہے۔
زیر نظر کتاب ’’پاگل ہوا پردے میں ہے‘‘ کو جناب اشرف یعقوبی نے اپنے والد بزرگوار محترم محمد یعقوب انصاری (مرحوم)، والدہ محترمہ مولودن بی بی (مرحومہ)، شریک حیات اور بچوں کے نام منسوب کیا ہے۔ کتاب کے پہلے حصے میں ’’ثنائے مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم‘‘ اور اس کے بعد غزلیں ہیں جس سے یہ صاف پتہ چلتا ہے کہ شاعر کس قدر دیندار، پرہیزگار اور خدا ترس انسان ہیں۔ شریعت کے مکمل پابند ہیں اور طریقت کے قائل ہیں۔ سب سے پہلا شعر ملاحظہ کریں جس سے شاعر کی عظیم شخصیت کاپتہ چلتا ہے:

لئے فرمان وہ حکمِ خدا سے آگیا باہر
اجالا دونوں عالم کا گھٹا سے آگیا باہر
اور آگے یوں رقم طراز ہیں:
منیٰ کی وادیوں میں منہ چھپالے تیرگی اپنی
کہ سورج شہرِ مکہ میں گھٹا سے آگیا باہر
جو تھا سہما ہوا شمشیر کے سائے میں ظالم کی
وہ لفظِ التجا دستِ جفا ے آگیا باہر
سنورنے کے لئے محتاج تھا ہر آئنہ جس میں
وہ آئینہ حصارِ آئینہ سے آگیا باہر
رہے گا حشر میں محروم وہ اُن کی شفاعت سے
جو دنیامیں رضائے مصطفیٰ سے آگیا باہر
لئے پھرتی تھی اپنے پیٹ میں ماہی جسے اشرفؔ
وہ اس کے نام کے صدقے بلا سے آگیا باہر
شاعر اشرف یعقوبی صاحب کا ذہن مقدس شہر مدینہ کے روح پرور نظارہ سے اس قدر سرشار ہے جس کا ذکر موصوف نے صفحہ 12 میں اس شعر سے کیا ہے:
کٹے ہماری بھی شام و سحر مدینے میں
ہر ایک غم سے رہیں بے خبر مدینے میں
اسی کے فیض سے صد آفتاب روشن ہیں
ضیاء فگن ہے یہ کیسا قمر مدینے میں
مجھے کسی کی بھی اب رہبری نہیں منظور
مرے لئے ہے مرا راہبر مدینے میں
ملے زمانے کی دولت تو اُس کو ٹھکرا دوں
گزر بسر ہو اگر خاک پر مدینے میں
کسی شاعر کا شعر ہے:
الٰہی یہ تمنا ہے کہ موت آئے مدینے میں
نظر کے سامنے خیر الوریٰ کا آستانہ ہو
اسی احساسات و جذبات کی ترجمانی کہنہ مشق شاعر اشرف یعقوبی صاحب اپنے ان اشعار میں کرتے ہیں۔ ملاحظہ فرمائیں:
یہ اور بات ہے ہندوستاں میں رہتا ہوں
مگر یہ دل تو ہے آٹھوں پہر مدینے میں
سفر مدینے کا اشرفؔ قبول ہو جائے
اگر ہو ختم ہمارا سفر مدینے میں
آگے ایک اور خوبصورت نعت اس انداز میں ہے۔ ملاحظہ کریں:
میری تو مدینے والے سے ہر دن یہ گزارش ہوتی ہے
کب مجھ کو بلاتے ہیں آقاؐ کب اُن کی نواش ہوتی ہے
مومن کوئی اشکِ تمنا سے جب بہرِ زیارت کرلے وضو
تب شہرِ مدینہ میں اُس کے آنے کی سفارش ہوتی ہے
اک ہاتھ میں جامِ کوثر ہو اک ہاتھ میں آبِ زمزم ہو
اے ساقیٔ کوثر دل میں مرے دن رات یہ خواہش ہوتی ہے
جب نعتِ نبیؐ کہنا اشرفؔ لفظوں کو سلیقے سے رکھنا
حسّان کی سنت ہے اس پر انعام کی بارش ہوتی ہے
زیر نظر کتاب ’’پاگل ہوا پردے میں ہے‘‘ کے صفحہ 17 سے باقاعدہ غزل کا آغاز ہوتا ہے۔

ہر دور میں سرمایہ داروں کا اثر و رسوخ زیادہ رہا ہے اور سرمایہ دارانہ نظام کے تحت غریبوں کا استحصال ہوتا رہا ہے جسے کہنہ مشق شاعر اشرف یعقوبی صاحب کے اس شعر سے صاف ظاہر ہے:
تہِ دل سے کرو تعظیم اس کی ہے بجا لیکن
امیرِ شہر کا کیا؟ چاٹنا تلوا ضروری ہے
جب تک میں احتجاج کے قابل نہیں ہوا
پتھر کی طرح روز تراشا گیا ہوں میں
کاٹا ہے مجھ کو اتنا سیاست کے سانپ نے
لگنے لگا ہے زہرِ ہلاہل دوا مجھے
صفحہ 48 پر ایک خوبصورت غزل کے چند خوبصورت اشعار قارئین کے فن شناس نظروں کی نذر کرتی ہوں:
یہ کس منہ سے کہوں میری کمائی چھین لیتا ہے
بچا لاتا ہوں ڈاکو سے تو بھائی چھین لیتا ہے
بہت میٹھی زباں اردو ہے وہ کہتے نہیں تھکتا
مرے بچوں سے جو اردو پڑھائی چھین لیتا ہے
یہ میں کہتا نہیں تاریخ کے اوراق کہتے ہیں
خدا فرعون جیسوں کی خدائی چھین لیتا ہے
وہ ننگِ آدمیت ہے کہ جو دنیا کے لالچ میں
دلہن کے ہاتھ سے رنگِ حنائی چھین لیتا ہے
اشرف یعقوبی صاحب کے مزید دو شعر دیکھیں:
ننھی سی جان لے کے ہتھیلی پہ آگئی
مچھلی کو کیا ہوا کہ وہ خشکی پہ آگئی
جب خواہشوں کے سارے مسافر اتر گئے
تو زندگی کی ریل بھی پٹری پہ آگئی
کہنہ مشق شاعر اشرف یعقوبی صاحب کی نظر زمانے کے ہر پہلو پر جاتی ہے۔ توہم پرستی کے تعلق سے یہ شعر ملاحظہ کریں:
بھروسہ آج کل لوگوں کو ہے سڑکی نجومی پر
ہمارے شہر میں فٹ پاتھ پر تقدیر بکتی ہے
پھر بھی تو اُس میں بوئے وفا ڈھونڈتا رہا
وہ کاغذی گلاب ہے میں نے کہا نہ تھا
یہ تیرے ارد گرد ہوائیں ہیں اُن کے پاس
ہر سانس کا حساب ہے میں نے کہا نہ تھا
ضرورت کے تحت اور خودکش بم (Sucidal Squad) کے حوالے سے یہ شعر ملاحظہ کریں:
یہ کیسے مان لیں دہشت گردی کا شوق ہے اُن کو
بدن سے باندھ کر باردو جو ٹاور اڑاتے ہیں
زیر نظر کتاب ’’پاگل ہوا پردے میں ہے‘‘ اس کے عنوان کے تعلق سے صفحہ 112 پر اس کی دلیل پیش کرتے ہیں:
اب نہ بلبل نہ اس میں مینا ہے
دل کا پنجڑہ اداس رہتا ہے
آج کل پیار جس کو کہتے ہیں
ایک پاگل ہوا کا جھونکا ہے
خون پیتی ہے جب زمیں برسوں
تب کہیں انقلاب آتا ہے
ایک خوبصورت غزل صفحہ 137 پر ہے۔ ملاحظہ کریں:
بزرگوں کا کہا یہ قول ہے جھوٹا نہیں ہوگا
جو اپنے خون کا اپنا نہیں تیرا نہیں ہوگا
تغیر ہے بہت ممکن مگر ایسا نہیں ہوگا
نہاکر دودھ میں کوّا کبھی سادہ نہیں ہوگا
کچھ ایسا کر دکھا دنیا میں کہ دنیا کہے سب سے
اب اُس جیسا زمانے میں کوئی پیدا نہیں ہوگا
عجائب گھر میں کیوں مٹی کے برتن رکھ دیئے جائیں
روایت ہے ابھی زندہ ابھی ایسا نہیں ہوگا
سمجھ لے گی مرے جذبوں کی پامالی مری دنیا
شجر کے جسم پر جب ایک بھی پتّا نہیں ہوگا
یزیدی فوج کا جو کربلا والوں پہ تھا پہرا
قیامت تک کہیں پانی پہ یوں پہرا نہیں ہوگا
کتاب کے آخری صفحہ 160 پر ایک بہت ہی شاندار غزل ہے جو دراصل کہنہ مشق اور مستند شاعر کے جذبات کی بہترین ترجمانی اور احساسات کی عکاسی ہے:

یونہی جاتا نہیں کوئی ضرورت لے کے جاتی ہے
امیرِ شہر کے محلوں میں غربت لے کے جاتی ہے
وہاں جائیں گے کیسے یہ تو ملک الموت ہی جانے
ہوا بھی جن کی خلوت میں اجازت لے کے جاتی ہے
گنہ گاروں نے یہ تہمت لگائی صنفِ نازک پر
کہ دوزخ کی طرف مردوں کو عورت لیکے جاتی ہے
جہاں سے لوٹنے کے راستے محدود ہوتے ہیں
اس اندھے غار میں انساں کی فطرت لیکے جاتی ہے
پہنچ کر جس جگہ عقل و خرد کا کچھ نہیں چلتا
کبھی لوگوں کو اس جانب حمایت لے کے جاتی ہے
میاں زاہد کو حیرانی مری اس بات پر ہوگی
کہ کافر کو بھی جنت میں سخاوت لے کے جاتی ہے
نصیحت ساتھ لے کر ماں کی جو سسرال جاتی تھی
وہ بیٹی اب سہیلی کی نصیحت لے کے جاتی ہے
مرے بیٹے تری اچھی کمائی سے میں ڈرتا ہوں
جہاں جانے پہ پابندی ہے دولت لے کے جاتی ہے
میںنے اس کتاب شعری مجموعہ ’’پاگل ہوا پردے میں ہے‘‘ کا بغور مطالعہ کیا۔ ہر صفحہ کی ورق گردانی کی اور یہ سمجھ میں آیا کہ جناب اشرف یعقوبی ایک منجھے ہوئے مستند اور کہنہ مشق شاعر ہیں۔ جس موضوع پر قلم اٹھایا ہے بھرپور غزل کہہ ڈالی ہے۔ زمانے کے نشیب و فراز کو اشعار کے سانچے میں ڈھال دینے کا فن جانتے ہیں۔ دو شعر ملاحظہ فرمائیں:
تری جو حیثیت ہے اُس سے ہرگز کم نہ لکھوں گا
سمندر تیرے پانی کو مگر زمزم نہ لکھوں گا
یہ میرے زخم جو اچھے نمک پاشی سے ہوتے ہیں
بتادو اُس کو کیا لکھوں اگر مرہم نہ لکھوں گا
موصوف کی یہ کتاب ’’پاگل ہوا پردے میں ہے‘‘ بلاشبہ ایک بہترین شعری مجموعہ ہے۔ میں ان کی اس شاہکار تخلیق پر تہِ دل سے پُرخلوص مبارکباد پیش کرتی ہوں۔ اس کتاب کی ادبی حلقے میں خوب پزیرائی ہوئی ہے اور ہونی بھی چاہئے جو درحقیقت نئے قلمکار، نو مشق شعراء، طلباء و طالبات نیز ریسرچ اسکالرز کے لئے مشعلِ راہ ہے۔

آخر میں دربارِ ایزدی میں سجدہ ریز ہوکر دعا کرتی ہوں کہ خدا اپنے شہر شہر نشاط کولکاتا کے اس معروف، مستند اور کہنہ مشق شاعر کو اچھی صحت کے ساتھ طویل عمر عطا کرے جو خاموشی سے اردو ادب اور شاعری کی خدمت کررہے ہیں اور باغِ ادب میں نئے گل بوٹے کھلا رہے ہیں۔
بلاشبہ موصوف اردو شاعری کے تئیں گرانقدر خدمت انجام دے رہے ہیں اور ان شاء اللہ مستقبل میں آنے والی نسلیں ان سے فیضیاب ہوں گی۔
اپنے شہر شہرِ نشاط کولکاتا کے اس مستند شاعر کے لئے ہمیشہ میری نیک خواہشات اور نیک تمنائیں ہیں اور ایسے شعراء ہی اپنے شہر میں ادبی حلقے کی زینت ہیں اور بلاشبہ آسمانِ شاعری پر درخشاں اور تابندہ ستارے کی مانند پوری آب و تاب کے ساتھ روشن ہیں اور ان کی تابندگی سے نومشق شعراء کو روشنی ملے گی۔

Previous articleسپریم کورٹ کا بڑا قدم
Next articleعلماء کی مضبوط تنظیم از:ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی

اپنے خیالات کا اظہار کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here