کہانی ‘‘مضبوط پودا‘‘ از : آبینازجان علی(موریشس)

0
30

ایک علاقے میں دو مکانات ایک دوسرے کے قریب بنائے گئے تھے۔ دونوں مکانوں کے درمیان ایک دیوار تھی۔ ایک مکان میں ایک جوان آدمی رہتا تھا۔ اسے کمپوٹر سے بہت دلچسپی تھی۔ دوسرے مکان میں ایک بوڑھاآدمی رہتا تھا جو نوکری سے بہت پہلے سبکدوش ہوچکا تھا۔ اتفاق سے دونوں پڑوسیوں نے ایک ہی وقت میں اپنی اپنی زمینوں پر ایک جیسا پودا لگایا۔ جوان آدمی نے اپنے پودے کو خوب پانی دیا اور عمدہ قسم کے کھادکا بھی استعمال کیا۔ معمر آدمی نے اپنے پودے کو کم پانی دیا اوپودے میںر تھوڑا سا ہی کھاد لگایا۔ نوجوان آدمی کا پودا ہرا بھرا اور تناور ہوگیا۔ اس کی شاخیں اونچی ہوگئیں اور اس میں بہت سارے پتے بھی آگئے۔ معمر آدمی کا پودا بھی بڑا ہوا لیکن اس کے پڑوسی کا پودا زیادہ ہرا بھرا نظر آتا۔

ایک رات زوروں کی بارش شروع ہوگئی۔ بارش رکنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی۔ جب کئی گھنٹوں کے بعد بھی بارش نہیں رکی تونوجوان آدمی اور بوڑھا آدمی فکرمند ہوئے۔ زوردار بارش کے علاوہ تیز ہوائیں بھی چل رہی تھیں۔ وہ دونوںاپنے اپنے مکانوں سے باہر آئے۔ وہ دونوںدیکھنا چاہتے تھے کہ موسلادھار بارش میں ان کے پودوں کا کیا حال ہوا ہوگا۔ نوجوان کو یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ اس کے پیڑ کی جڑیں زمین سے نکل آئی تھیں۔ جبکہ اس کے پڑوسی کا درخت صحیح سلامت تھا۔ نوجوان نے پریشانی کی حالت میںاپنے پڑوسی کی طرف دیکھا اور پوچھا:’’ بارش نے میرے پودے کو جڑ سے کیوں اکھاڑ دیا۔ میں نے تو اس کا اتنا خیال رکھاتھا۔ آپ کا پودا اپنی جگہ مضبوطی سے قائم ہے۔ آپ نے اپنے پودے کا کم خیال رکھا۔ میں نے اپنے پودے کی دیکھ بھال میںآپ سے زیادہ محنت کی تھی۔‘‘

پڑوسی نے جواب دیا۔ ’’تم نے اپنے پودے کو وہ سب کچھ دیا جس کی اسے ضرورت تھی۔ تم نے پودے کو کثرت سے پانی اور کھاد دئے۔ چونکہ تمہارے پودے کو زندہ رہنے کے لئے خود سے کچھ نہیں کرنا پڑا اس کی جڑوں کو زمین میں زیادہ گہرائی میں جانے کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی۔ میں اپنے پودے کو صرف اتنا ہی پانی دے رہا تھاجس کے سہارے وہ زندہ رہ سکے۔ باقی ضرورت کی چیزیں حاصل کرنے کے لئے جڑوں کو زمین کے زیادہ نیچے جانے کی ضرورت محسوس ہوئی۔ اس طرح اس کی جڑیں مضبوط ہو گئیں۔ چونکہ تمہارے پودے کی جڑیں زمین کی سطح کے قریب تھیں، بارش اور ہوا نے تمہارے پودے کو آسانی سے گرا دیا۔ میرے پودے کی جڑیں زیادہ مضوط تھیں۔ چنانچہ میرا پودا قدرت کی سختیاں آسانی سے برداشت کرپایا۔ ‘‘

تجر بہ کار آدمی کہتا گیا:’’پودوں اور بچوں میں زیادہ فرق نہیں ہوتا۔ کیا والدین ایک پودے کی طرح اپنے بچوں کا خیال نہیں رکھتے؟ کبھی کبھی والدین اپنے بچوں کی اتنی حفاظت کرتے ہیںکہ ان کے بچے زیادہ لاڈ پیار سے بگڑ جاتے ہیں۔ وہ بچوں کو اتنی آزادی نہیں دیتے، یا ان کو وہ مواقع فراہم نہیں کرتے جن سے بچے اپنی ذمہ داری خود سنبھال سکیں۔ دوسری طرف اگر والدین بچوں پر کسی طرح کی پابندی نہ لگائیں اور بجے وہ سب کچھ کریں جو ان کا جی چاہے اور انہیں کوئی سہارا یا کوئی مدد نہیں ملے تووہ بچے زندگی میں غلط فیصلے لے سکتے ہیں۔ ان میں ذہنی پختگی نہیں آپاتی۔وہ کمزور ہوجاتے ہیں۔‘‘

اس وقت نوجوان کو احساس ہوا کہ بچوں کی دیکھ بھال کرنا پودے کی دیکھ بھال کرنے کے برابر ہے۔ کم خیال رکھنے سے پودا مر جائے گا۔ ضرورت سے زیادہ خیال رکھنے سے پودا کمزور ہوجاتا ہے۔ اسی طرح مناسب توازن سے بچوں کی صحیح پرورش ہوتی ہے۔ بچوں میں زندگی کا تجربہ آجاتا ہے۔ وہ زیادہ ذہین بنتے ہیں اور ان میں پختگی آجاتی ہے جس طرح مناسب دیکھ بھال سے پودا پھول اور پھل دیتا ہے۔

Previous articleعلامہ واقف ؔ عظیم آبادی -ایک طائرانہ نظر از : ڈاکٹر سیّدشاہداقبال(گیا)
Next articleرابعہ سیفی کا قتل از : مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی

اپنے خیالات کا اظہار کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here