کھرے لہجے کا شاعر ہمدم نعمانی ہواخاموش !از: علی شاہد دلکش

0
109

کھرے لفظوں اور گرج دار لہجے کا معروف شاعرخورشید انور جنہیں علمی و ادبی دنیامیں ہمدم نعمانی کی شناخت حاصل ہوئی ۔6/مئی2021 کو ہمیشہ کے لیے خموش ہو گئے۔قحط الرجال کے موجودہ زمانے میں عالمگیر وبا کرونا کی دوسری لہر نے چہار سمت موت کا ہولناک تانڈو کر رکھا ہے۔ مختلف ذرائع ابلاغ سے تقریباً روزانہ اموات کی خبریں پڑھ کر افسردگی ہو ہی رہی ہے۔ اللہ کی مرضی و مصلحت وہی جانے۔ اس پس منظرمیں زیرنظر شعر لب پہ آنا چاہ رہا ہے۔
 تیری مرضی جو دیکھ پائی ہے
خلش درد کی بن آئی ہے

مرحوم کے چھوٹے بھائی طیب نعمانی نے میسیج کیا تھا کہ ہمدم بھیا کی طبیعت ناساز ہے۔ دوا کے اثر تک بخار اتر جا رہا ہے پھر وقفے سے بخاربڑھ جا رہا ہے۔ اگلے دن آکسیجن لیول میں گڑبڑی اور جانچ کے بعد ٹائیفائیڈ کی علامت اور زیر ہسپتال کا علم ہوا۔ اسی اثناء میں کرونا زدہ ہوکرمتذکرہ تاریخ کو رحلت کی دلخراش خبر! یا غفور الرحیم۔۔۔ کروناسے متاثر ہوکرانتقال کرنے والوں کے لیے حکومتی انتظام کے مطابق اسی رات تدفین بھی ہوئی۔ اللہ مرحوم ہمدم نعمانی کی مغفرت کرے اور لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے،آمین۔ان کے دفعتا داغ مفارقت دینے سے افسوس کہ صوبائی اردو ادب کا ایک چراغ اور بجھا مزید بڑھی تاریکی!اپنے آپ میں جو ایک آفتابِ علم و ادب تھا، غروب ہوگیا۔کمرہٹی کی علمی و ادبی فضا سوگوار ہوئی۔ خانوادہ نعمانی میں شہر خموشاں سا سماں ہوگیا۔ مرحوم اپنی خوش اخلاقی و انکساری سے بہتوں کے دلو ںکے بہت قریب تھے۔ مارواڑی کل، حاجی نگر کے پرائمری اسکول میں اسسٹنٹ ٹیچر ہونے کے باوجود بیلگھریا بھیرب گانگولی کالج میں اردو شعبہ کی بنیاد اور باگ ڈور میں ہمدم نعمانی نے نمایاں و اہم رول نبھایا ہے۔ جہاں سے آج ان گنت تشنگانِ علم و ادب،اردو سبجیکٹ میں آنرز و پوسٹ گریجویشن تک کے حصول تعلیم میں سرگرداں ہوکر فیضیاب ہو رہے ہیں۔ہمدم نعمانی(مرحوم)نے بڑی تگ و دو اور جدوجہد کرکے شخص سے شخصیت کے فاصلے کو عبور کیا ۔ گورنمنٹ ٹیچرز ٹریننگ انسٹیٹیوٹ کے پرنسپل عبدالودود سرکے مطابق جب ہمدم صاحب وہاں زیرِ تربیت تھے تب نائٹ شفٹ کے وقت جوٹ مل میں کام بھی کیا کرتے تھے۔

مرحوم کے رفقا ء اور ہم عصروں نے میری جانکاری میں اضافہ کیا کہ رشتوں کے پاسدار اور خلیق انسان، کامیاب استاذ و نقیب اور اچھے شاعر و ادیب والی کثیرالجہات شخصیت کا نام ہمدم نعمانی ہے۔ نیز مرحوم ہمدم نعمانی اپنے چھوٹے بھائیوں کے مستقبل اورگھریلو کمزور معاشی حالات کے مدنظر اپنے ایم اے کی تعلیم کی حصولیابی کے دوران جوٹ مل میں مزدوری بھی کرتے تھے۔ پھر حالات سے لڑتے ہوئے کمپاؤنڈر اور طب کی پریکٹس بھی کیے۔ اپنے چھوٹے بھائی طیب کو بھیرب گانگولی کالج میں گیسٹ لیکچرار بنانے میں ہمدم بھائی کا ناقابل فراموش کردار رہا ہے۔ پھر استاذطیب اپنی محنت و کاوشوں کی بدولت اسی کالج میں پی جی شعبہ اردو کے انچارج مقرر کیے گئے ۔ راقم المضمون کی ذاتی ریڈنگ و مشاہدے کے مطابق گوری رنگت اور پان کی سرخی سے لال لب اور اس پر ادبی مسکان لیے کسی شاعر و ادیب کی عکاسی کی جائے تو عموماً وہ تصویر ہمدم نعمانی(خورشید انور) کی ابھر کر آئے گی۔ اب ہماری آنکھیں ڈھونڈتی رہ جائیں گی، مشاعرے و ادبی محفلوں میں منصب ِ نظامت پہ چلبلے انداز اور متحرک روش والے اس ناظم، شاعر اور ادیب کو؛ جسے سامعین اور شائقین ہمدم نعمانی کے نام سے جانتے و پہچانتے ہیں۔ ان کی نقابت ، گفتگو اور طرزِ تکلم سے عیاں ہوتا تھا کہ ان کا مطالعہ بہت عمیق اور وسیع ہے۔ اپنے عصر کا نمائندہ شاعر ہمدم نعمانی کے سانحہ ارتحال کی دفعتاً خبر نے صدمہ پر صدمہ پہنچایا۔ ایک خوش مزاج و مقبول زمانہ شاعر ہمارے درمیاں سے یوں اٹھ گیا! اس مصرعے کے مصداق: “بچھڑا !وہ اس ادا سے کہ رْت ہی بدل گئی”۔

جہاں ایک جانب زمانۂ طفلی سے انہیں علمی و ادبی محفلوں میں دیکھنے اور سننے کے بعد میرے پسندیدہ شاعروں و ناظمِ محفل میں ہمدم نعمانی کا نام بھی آتا ہے۔ تو دوسری جانب میری بلوغِ نوخیزی میں موصوف نے میری تحریر پہ اپنی پسندیدگی کا برملا اظہار بھی کیا تھا۔ حالانکہ میرے تعلقات ان سے کہیں زیادہ ان کے چھوٹے بھائی طیب نعمانی سے رہے ہیں۔ یہ لگاؤ اور انسیت بے تکلفانہ کی حد تک کہا جا سکتا ہے۔  ہمدم بھائی سے کمرہٹی اور کانکی نارہ میں میری کئی یادگار ملاقاتیں رہی ہیں۔ قابل غور امر ہے کہ وہ جب بھی ملے بالکل اپنوں جیسا تپاک سے ملے۔ہمدم بھائی چھوٹوں کو Accept اور بڑوں کو Respect کرناخوب جانتے تھے۔ غالباً اسی خصوصیت کی بناپر اپنے ہم عصروں میں وہ منفرد تھے۔ ڈاکٹر خورشید اقبال کی پی ایچ ڈی کی تکمیلیت اور معید رشیدی کی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں ملازمت کے بعد ایک استقبالیہ پروگرام و شعری نشست زیر اہتمام نعمانی ایجوکیشنل ٹرسٹ، کمرہٹی میں منعقد ہوئی تھی۔ طیب بھائی کی دعوت پر ناچیز بھی خواجہ احمد حسین، احمد منیر، بلند اقبال اور صاحبانِ تقریب کے ہمراہ طیب بھائی کی نئی رہائش گاہ پر پہنچا۔ اس محفل میں بشمول مرکزی کلکتہ ،کمرہٹی و اطراف کے ادبی چاند ستاروں کی بھی تشریف آوری ہوئی تھی۔ محفل کے اختتامیہ مرحلے میں طیب بھائی کی خواہش پہ ناظمِ تقریب ہمدم نعمانی نے مجھے بھی دعوتِ شعر گویائی دی۔ حقیر نے برجستہ کہا “میں باقاعدہ شاعری نہیں کرتا”۔ ہاں! اللہ کی مدد سے چھوٹے بڑے مضامین لکھ لیتا ہوں نیز کبھی کبھی ایک دو اشعار کی تک بندی بھی۔ اسی لمحے ہمدم بھائی نے متبسم لہجے سے مجھے گلے لگا لیا اور کہا تمہارے مضامین، رپورٹ اور مراسلے بہت اچھے ہوتے ہیں۔ شاہد دلکش کو بحیثیت نوجوان ادیب و قلمکار ہم جانتے و مانتے ہیں۔ہم نے تمہیں نعتیہ مشاعرے اور قصیدے کی محافل میں بھی پڑھتے سن رکھا ہے۔ خوب امیدیں وابستہ ہیں تم سے۔ چلو چند پسندیدہ و منتخب اشعار ہی سنا دو۔ تب اِس طفلِ اردو ادب نے پروفیسر وسیم بریلوی کے چند اشعار مائک پر پڑھا۔ ہمدم بھائی نے بھرپور حوصلہ افزائی کی۔واضح کردوں کہ گزرے مہینے میں اسمبلی انتخاب سے قبل کانکی نارہ حمایت الغرباء ہائی اسکول کے اسٹیج پر مغربی بنگال اردو اکیڈمی کے زیراہتمام مشاعرے میں جب راقم الحروف(علی شاہد دلکش) مائک پر اپنی نظم بعنوان “نقش دیر پا” پڑھ رہا تھا تو سب سے پہلے بلند آواز میں داد و تحسین سے نوازنے والوں میں اسٹیج پر پہلی صف میں مائیک کے دائیں جانب بیٹھے ہمدم بھائی اور بائیں بیٹھے خواجہ بھائی ہی تھے۔ دونوں نے جم کر میرے حوصلے کو جلا بخشا۔ پھر ناظم مشاعرہ ممتاز انور و دیگر شعراء و سامعین نے بھی مجھے سراہا۔ مگر اپنیی باری مکمل کرکے میرے مائک سے ہٹتے وقت اکلوتا ہمدم بھائی نے حقیرکی پیٹھ تھپتھپاتے ہوئے کہا کہ آغاز اچھا ہے۔ اللہ کرے یہ سفر بہتر سے بہترین ہو۔ اسی اسٹیج پر ناقابل فراموش واقعہ یوں رہا کہ جب ہمدم بھائی نے اپنی باری کی خوب غزل سرائی کرلی تو ذاتی ضروری کاز سے ان کو محفل سے جانے کی ہوئی۔ تب اسٹیج سے وقتِ رخصتی، دو ابھرتے ہوئے بہترین نوجوان شاعر عرفان سلیمی اور احسان خان پر اپنا ہاتھ رکھتے ہوئے ہمدم بھائی نے کہا کہ نئی پو َد میں تم لوگ بہت اچھی شاعری کر رہے ہو۔ تم دونوں سے خوب امیدیں ہیں۔ جم کر پڑھو اور خوب شاعری کرو میاں۔ میں یہ سب بغور تکتارہا اور دل ہی دل میں دعائیں دیتا رہا ۔افسوس! ہمارے درمیان ایسے جینوین بڑے لوگ عنقا ہوتے جا رہے ہیں۔اسی دوران میرے دل نے دماغ سے کہا کہ بابو شاہد !یوں ہی ہمدم میں دم نہیں۔ ایسا بڑا جگر وکلیجہ والی ادبی شخصیات اب خال خال ہیں جن میں حقیقی بڑاپن ہو۔ انسان کی یہی خصوصیات انہیں بڑا و ممتاز کرتی ہیں۔ زندہ دلوں میں اب بھی موصوف کی مزید یادیں تازہ ہیں۔ لہذا ہمدم نعمانی کو مرحوم کہتے ہوئے کلیجہ منہ کو آتا ہے۔ اللہ کریم ان کو غریق رحمت کرے اور پسماندگان کو صبر جمیل عطا کرے۔ آمین یارب العالمین بجاہ سید المرسلین۔
ساری دنیا میں ان دنوں تیزی سے اہل دل، اہل قلم اور پروانۂ علم و ادب اٹھتے جا رہے ہیں اور ان کی جگہ لینے والا نظر نہیں آتا۔ ہمارا غم پچھلوں کے غموں سے زیادہ شدید ہے کہ اب ہم قابل قدر صورتوں کو ترس رہے ہیں۔ بہر کیف گو پروانے ایک ایک کرکے جاں نثاری کا حق ادا کر رہے ہیں۔ بقول شاعر
فروغ شمع تو قائم رہے گا محشر تک
مگر محفل تو پروانوں سے خالی ہوتی جاتی ہے
اللہ تعالیٰ متذکرہ وبائی دور میں گزرنے والے تمام مرحومین کو اپنے جوار رحمت میں مقام رفیع عطا فرمائے اور باری تعالیٰ اپنے محبوب کے صدقے بخشش فرمائے، آمین! 
بغیر کسی ازم، لابی اور خانوادے سے مرعوب ہوئے گھن گرج والے لہجے میں شاعری کرنے اور سادگی سے پرُ زندگی گزارنے نے والے شاعر تھے ہمدم بھائی ۔ غزل میں چھری کی دھار رکھنے والے نیز کھرے لفظوں والے اس شاعر نے کیا خوب مقطع میں کہا ہے۔
کھرے لفظوں میں ہے تاثیر ہمد م
غز ل میں تو چھری کی دھار رکھ دے
کھرے لفظوں میں گفتگو کرنے والے ہمدم بھائی کی شاعری پر اہل علم و فن جم کر تبصرہ کریں گے مگر انہوں نے زیر نظر شعر میں سہل ممتنع کی شاعری کرتے ہوئے شعریت کا کیا خوبصورت لبادہ دیا ہے۔
مصرعۂ اول سنایا تھا ابھی
ہوگئے وہ مصرعۂ ثانی میں گم
مرحوم کی ادبی و تعلیمی خدمات،ناقابل فراموش صلاحیتیوں اور شاعری کو پسند کرنے والوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔ باضمیر شاعر ہمدم نعمانی کی غزل کے چند منتخب اشعار کو پڑھیں اور مرحوم کو اپنی داد و دعاؤں میں محفوظ رکھیں۔
سالار قوم مسند شاہی پہ خوش رہا
میرا ضمیر سچ کی گواہی پہ خوش رہا

میرے امیر شہر کی دلداریاں نہ پوچھ
وہ بے ضمیر میری تباہی پہ خوش رہا

فرعون وقت لاکھ ڈراتے رہے مگر
ہمدم اپنے عشق الہی پہ خوش رہا

عشق الٰہی سے سرشار ہونے والے شاعر اور ہمہ جہت شخصیت جو گزشتہ سال کرونا کی پہلی لہر میں اپنی ڈاکٹری پریکٹس کو بروئے کار لاتے ہوئے کمرہٹی جیسے گنجان آبادی والے حلقے میں کمزور معاش والوں کو رعایت کے ساتھ انجیکشن اور دوائیں دینے میں سرگرداں رہی، وہ موصوف ہمدم نعمانی کی ذات گرامی تھی۔ مزید نادارمریضوں کو مفت نسخہ تشخیص کر مالک حقیقی کو رضا کرنے کی سعی کرنے والے شاعر کے زیرنظر چار مصرعوں کو دیکھیں۔ 
صدائے حور و ملک لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہ
وہ باغِ گل کی مہک لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہ

ّٰ اسی کے جلوۂ قدرت کے سارے نظارے
زمیں سے تا بہ فلک لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہ
 رب العالمین جو رحمن و رحیم ہے۔ اس وحدہ لا شریک سے امید و دعا ہے کہ قادرالمطلق مرحوم خورشید انور(ہمدم نعمانی)کو ان کے درج بالا چار مصرعوں اورزیر نظر شعرکے عوض بخشش کرانہیں جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا کرے، آمین!
یہی نجات کا توشہ ہے دافعِ شر بھی
ہے سب سے نیک عمل لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہ

شعبہ : کمپیوٹر سائنس اینڈ انجینئرنگ
کوچ بہار گورنمنٹ انجینئرنگ کالج، مغربی بنگال
alishahiddilkash@gmail.com

Previous articleفنگر پرنٹس ۔ ابن صفی کی تحریروں کا حسین مرقع از: مالک اشتر
Next articleزمزم و فرات و انا ساغر اور شہادت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ!از:جاوید اختر بھارتی

اپنے خیالات کا اظہار کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here