کاش! وہ رات ہمیں بھی نصیب ہوجائے

0
192

ڈاکٹر محمد سراج اللہ تیمی
پرسا، پریہار، سیتامڑھی، بہار
رابطہ نمبر:9199726661

رمضان المبارک بڑی تیز رفتاری سے گزرتا جارہا ہے۔ ابھی کچھ دنوں قبل ہمیں اس کی آمد کا بڑی شدت، بلکہ بے صبری سے انتظار تھا۔ وہ دن نہایت آب و تاب اور شان و شوکت کے ساتھ آیا بھی جب اس عظیم الشان ماہ کا شاندار و روح پرور آغاز ہوا۔ دیکھتے ہی دیکھتے پہلا عشرہ ہم سے رخصت ہوگیا۔ دوسرا عشرہ بھی ہم سے جدا ہوا چاہتا ہے اور تیسرے عشرے کی آمد آمد ہے۔ جب ہم پہلے اور دوسرے عشرے میں اپنے روزوں، نمازوں، قرآن کریم کی تلاوتوں، نیکی اور خیر و بھلائی کے کاموں کا محاسبہ کرتے ہیں تو مایوسی ہاتھ آتی ہے اور یہ اعتراف کرنا پڑتا ہے کہ ہم نے ان دونوں عشروں میں بڑی کوتاہی کی ہے اور عبادتوں و ریاضتوں کا کچھ بھی حق ادا نہیں کیا ہے:

جان دی دی ہوئی اسی کی تھی
حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا

اب تیسرا عشرہ آنے ہی والا ہے۔ یہ وہ عشرہ ہے جس کی ایک عظیم الشان شب میں قرآن مقدس کا لوح محفوظ سے سمائے دنیا پر نزول ہوا۔اس شب کی عبادت اور اجر و ثواب کے حوالے سے متعدد نصوص کتاب وسنت میں پائے جاتے ہیں۔اللہ سبحانہ وتعالی نے اس رات کی فضیلت میں پوری سورة نازل فرمائی، جسے ہم سورۃ القدر کے نام سے جانتے ہیں۔اس شب کی فضیلت کے کئی وجوہات ہیں، مثلاً اللہ تعالیٰ نے اس شب میں بنی نوع انسان کی رشد و ہدایت کے لیے قرآن کریم نازل فرمایا۔ سورہ القدر میں اس رات کی تعظیم اور بندوں پر اللہ کے احسان کوبتانے کے لیے سوالیہ انداز اختیار کیا گیا ہے۔ یہ رات ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ اس رات میں فرشتوں کا نزول ہوتا ہے۔ فرشتے خیر وبرکت اور رحمت کے ساتھہ نزول کرتے ہیں۔ یہ سلامتی والی رات ہے، چونکہ اس رات میں بندوں کی مغفرت کی جاتی ہے۔اللہ تعالیٰ نے اس شب سے متعلق پوری ایک سورت نازل فرمائی جو روز قیامت تک پڑھی جائے گی۔ سورہ اس طرح ہے:اِنَّآ اَنْزَلَنٰهُ فِیْ لَیْلَةِ الْقَدْرِo وَمَآ اَدْرٰکَ مَا لَیْلَةُ الْقَدْرِo لَیْلَةُ الْقَدْرِ خَیْرٌ مِّنْ اَلْفِ شهرo تَنَزَّلُ الْمَلٰٓئِکَةُ وَ الرُّوْحُ فِیْهَا بِاِذْنِ رَبِّهِمْ ج مِّنْ کُلِّ اَمْرٍo سَلٰمٌ قف هِیَ حَتّٰی مَطْلَعِ الْفَجْرِo ترجمہ:بے شک ہم نے اس (قرآن) کو شبِ قدر میں اتارا ہے۔ اور آپ کیا سمجھے ہیں (کہ) شبِ قدر کیا ہے؟ شبِ قدر (فضیلت و برکت اور اَجر و ثواب میں) ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ اس (رات) میں فرشتے اور روح الامین (جبرائیل) اپنے رب کے حکم سے (خیر و برکت کے) ہر امر کے ساتھ اترتے ہیں۔

اس شب میں قیام اللیل کرنے والوں کے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں جیساکہ حضرت ابو ہریرەؓ سے مروی ہے : عَنْ أَبِي هُرَیْرَةَ رضی الله عنه عَنِ النَّبِيِّ صلی الله علیه وآله وسلم قَالَ: مَنْ یَقُمْ لَیْلَةَ الْقَدْرِ فَیُوَافِقُهَا، أُرَاهُ قَالَ: إِیمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ یعنی

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جو شخص لیلۃ القدر میں قیام کرے اور اس کو پا لے اس کی مغفرت کر دی جاتی ہے۔حضرت عائشہ رضی اﷲ عنہا سے روایت ہے، فرماتی ہیں کہ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! بتائیے اگر مجھے شب قدر معلوم ہو جائے تو میں اس میں کیا دعا مانگوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کہو: ’’اَللّٰهُمَّ إِنَّکَ عُفُوٌّ کَرِیْمٌ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّي‘‘ (یا اللہ! تو بہت معاف فرمانے والا کریم ہے، عفو و درگزر کو پسند کرتا ہے پس مجھے معاف فرما دے۔ حضرت ابو ہریرەؓ سے مروی ہے : عَنْ أَبِي هُرَیْرَةَ رضی الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ ﷲِ صلی الله علیه وآله وسلم: أَتَاکُمْ رَمَضَانُ شَهْرٌ مُبَارَکٌ فَرَضَ ﷲُ عزوجل عَلَیْکُمْ صِیَامَهُ، تُفْتَحُ فِیْهِ أَبْوَابُ السَّمَاءِ وَتُغْلَقُ فِیْهِ أَبْوَابُ الْجَحِیْمِ وَتُغَلُّ فِیْهِ مَرَدَةُ الشَّیَاطِیْنِ، ِﷲِ فِیْهِ لَیْلَةٌ خَیْرٌ مِنْ أَلْفِ شَهْرٍ، مَنْ حُرِمَ خَیْرَهَا فَقَدْ حُرِمَ۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تمہارے پاس رمضان المبارک کا مہینہ آیا۔ اللہ تعالیٰ نے تم پر اس کے روزے فرض کیے ہیں۔ اس میں جنت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کر دیئے جاتے ہیں اورسرکش و شریر شیاطین جکڑ دیئے جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس ماہ میں ایک ایسی رات ہے جو ہزار راتوں سے افضل اور بہتر ہے، جو اس (رات) کی خیرات و برکات سے محروم کر دیا گیا وہ (ہر خیر سے) محروم کر دیا گیا۔ اسی طرح حضرت انس سے مروی ہے:عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رضی الله عنه قَالَ: دَخَلَ رَمَضَانُ فَقَالَ رَسُوْلُ ﷲِ صلی الله علیه وآله وسلم: إِنَّ هٰذَا الشَّهْرَ قَدْ حَضَرَکُمْ وَفِیْهِ لَیْلَةٌ خَیْرٌ مِنْ أَلْفِ شَهْرٍ مَنْ حُرِمَهَا فَقَدْ حُرِمَ الْخَیْرَ کُلَّهُ وَلَا یُحْرَمُ خَیْرَهَا إِلَّا مَحْرُومٌ

۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب ماہ رمضان آیا تو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا یہ جو مہینہ تم پر آ گیا ہے، اس میں ایک ایسی رات ہے جو ہزار مہینوں سے افضل ہے، جو شخص اس رات کی خیرات و برکات سے محروم کر دیا گیا وہ گویا تمام خیر سے محروم کر دیا گیا اور اس رات کی خیرات و برکات سے محروم صرف وہی شخص کیا جاتا ہے جو (اصلاً ہر خیر سے) محروم ہو۔

حضرت مالک سے ایک روایت اس طرح ملتی ہے : عَنْ مَالِکٍ رضی الله عنه أَنَّهٗ سَمِعَ مَنْ یَثِقُ بِهٖ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ یَقُوْلُ: إِنَّ رَسُوْلَ ﷲِ صلی الله علیه وآله وسلم أُرِيَ أَعْمَارَ النَّاسِ قَبْلَهٗ أَوْ مَا شَاءَ ﷲُ مِنْ ذٰلِکَ، فَکَأَنَّهٗ تَقَاصَرَ أَعْمَارَ أُمَّتِهٖ أَنْ یَبْلُغُوْا مِنَ الْعَمَلِ مِثْلَ الَّذِي بَلَغَ غَیْرُهُمْ فِي طُوْلِ الْعُمْرِ، فَأَعْطَاهُ ﷲُ لَیْلَةَ الْقَدْرِ خَیْرٌ مِنْ أَلْفِ شَهْرٍ. رَوَاهُ مَالِکٌ وَالْبَیْهَقِيُّ. یعنی حضرت امام مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے ثقہ (یعنی قابل اعتماد) اہل علم کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سابقہ امتوں کی عمریں دکھائی گئیں یا اس بارے میں جو اﷲ تعالیٰ نے چاہا دکھایا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی امت کی عمروں کو چھوٹا خیال فرمایا کہ وہ کم عمروں کی وجہ سے اس قدر کثیر اعمال نہ کر سکیں گے جس قدر دیگر امتوں کے افراد اپنی طوالتِ عمری کی وجہ سے کر پائیں گے تو اﷲ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو شبِ قدر عطا فرما دی جو ہزار مہینوں سے بھی افضل ہے۔

ہم امت محمدیہ بہت ہی خوش نصیب ہیں کہ ہیں اللہ تعالیٰ نے شب قدر جیسی بابرکت رات عطا کی۔ ہم سے قبل اتنی عظیم رات کسی بھی نبی کی امت کو نصیب نہیں ہوئی، جیسا کہ حضرت انس سے مروی ہے:عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رضی الله عنه قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صلی الله علیه وآله وسلم:إِنَّ اﷲَ وَهَبَ لِأُمَّتِيْ لَیْلَةَ الْقَدْرِ، وَلَمْ یُعْطِهَا مَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ. رَوَاہ الدَّیْلَمِي۔ یعنی حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا بلا شبہ اللہ تعالیٰ نے لیلۃ القدر میری امت ہی کو عطا کی ہے۔ ان سے پہلے کسی امت کو یہ نہیں ملی۔ ہم اپنی اس خوش قسمتی پر فرحا و نازاں ہیں اور اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا بے حد شکر گزار ہیں۔

شب قدر کی فضیلت سے متعلق ایک روایت اس طرح ملتی ہے:عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ رضی الله عنه أَنَّهٗ قَالَ: یَا رَسُوْلَ ﷲِ، أَخْبِرْنَا عَنْ لَیْلَةِ الْقَدْرِ؟ فَقَالَ رَسُوْلُ ﷲِ صلی الله علیه وآله وسلم: هِيَ فِي رَمَضَانَ الْتَمِسُوْهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ، فَإِنَّهَا وِتْرٌ فِي إِحْدَی وَعِشْرِیْنَ أَوْ ثَــلَاثٍ وَّعِشْرِیْنَ أَوْ خَمْسٍ وَّعِشْرِیْنَ أَوْ سَبْعٍ وَّعِشْرِیْنَ أَوْ تِسْعٍ وَّعِشْرِیْنَ أَوْ فِي آخِرِ لَیْلَةٍ، فَمَنْ قَامَهَا إِیْمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهٗ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهٖ وَمَا تَأَخَّرَ یعنی حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اﷲ! ہمیں شبِ قدر کے بارے میں بتائیں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ (رات) ماہِ رمضان کے آخری عشرے میں ہوتی ہے۔ اس رات کو آخری عشرہ میں تلاش کرو۔ بے شک یہ رات طاق راتوں یعنی اکیسویں، تیئسویں، پچیسویں، ستائیسویں، انتیسویں میں سے کوئی ایک یا رمضان کی آخری رات ہوتی ہے۔ جو بندہ اس میں ایمان و ثواب کے ارادہ سے قیام کرے اس کے اگلے پچھلے (تمام) گناہ بخش دیئے جاتے ہیں۔

بیہقی میں ایک روایت اس طرح ہے : عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رضی الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ ﷲِ صلی الله علیه وآله وسلم: إِذَا کَانَ لَیْلَةُ الْقَدْرِ نَزَلَ جِبْرِیْلُ فِي کَبْکَبَةٍ مِنَ الْمَـلَائِکَةِ یُصَلُّوْنَ عَلَی کُلِّ عَبْدٍ قَائِمٍ أَوْ قَاعِدٍ یَذْکُرُ اﷲَ ل، فَإِذَاکَانَ یَوْمُ عِیْدِهِمْ یَعْنِي یَوْمَ فِطْرِهِمْ بَاهٰی بِهِمْ مَـلَائِکَتَهٗ فَقَالَ: یَا مَـلَائِکَتِيْ، مَا جَزَاءُ أَجِیْرٍ وَفّٰی عَمَلَهٗ، قَالُوْا: رَبَّنَا، جَزَائُهٗ أَنْ یُوَفّٰی أَجْرُهٗ. قَالَ: مَـلَائِکَتِيْ، عَبِیْدِيْ وَإِمَائِيْ قَضَوْا فَرِیْضَتِي عَلَیْهِمْ ثُمَّ خَرَجُوْا یَعُجُّوْنَ إِلَيَّ بِالدُّعَاءِ وَعِزَّتِي وَجَـلَالِي وَکَرَمِي وَعُلُوِّي وَارْتِفَاعِ مَکَانِي لَأُجِیْبَنَّهُمْ فَیَقُوْلُ: ارْجِعُوْا قَدْ غَفَرْتُ لَکُمْ وَبَدَّلْتُ سَیِّاٰتِکُمْ حَسَنَاتٍ قَالَ: فَیَرْجِعُوْنَ مَغْفُوْرًا لَّهُم۔

کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب شب قدر ہوتی ہے تو جبریل فرشتوں کی جماعت میں اترتے ہیں اور ہر اس کھڑے بیٹھے بندے پر جو اللہ کا ذکر کرتا ہے، سلام بھیجتے ہیں۔ جب ان کی عید کا دن ہوتا ہے یعنی عید الفطر کا دن تو اﷲ ان بندوں سے اپنے فرشتوں پر فخر کرتے ہوئے فرماتا ہے: اے میرے فرشتو! اُس مزدور کی اُجرت کیا ہونی چاہیے جو اپنا کام پورا کر دے؟ وہ عرض کرتے ہیں: الٰہی! اس کی اُجرت یہ ہے کہ اسے پورا پورا اجر دیا جائے۔ اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے: اے فرشتو! میرے بندے اور بندیوں نے میرا وہ فریضہ پورا کر دیا جو ان پر تھا۔ پھر وہ دعا میں دست طلب دراز کرتے ہوئے نکل پڑے۔اﷲ تعالیٰ نے فرمایا مجھے اپنی عزت، اپنے جلال، اپنے کرم، اپنی بلندی اور رفعتِ مکانی کی قسم: میں ان کی دعا ضرور قبول کروں گا۔ پھر اپنے بندوں سےفرماتا ہے: لوٹ جاؤ میں نے تمہیں بخش دیا اور تمہاری برائیوں کو نیکیوں میں بدل دیا۔ آگے فرمایا: پھر یہ لوگ بخشے ہوئے اپنے گھروں کو لوٹتے ہیں۔شب قدر کو جبرائیل امین فرشتوں کے جھرمٹ میں زمین پر اتر آتے ہیں۔ وہ ہر اُس شخص کے لئے دعائے مغفرت کرتے ہیں، جو کھڑے بیٹھے (کسی حال میں) اللہ کو یاد کر رہا ہو۔یہ رات دعاء کی قبولیت کی رات ہے، اپنے لئے ،دوست و احباب کے لئے اور والدین کے لئے،تمام گزرے ہوئے لوگوں کے لئے دعا ء مغفرت کرنی چاہئے ، اس رات میں دعاء میں مشغول ہوناسب سے بہتر ہے اور دعاؤں میں سب سے بہتر وہ دعا ہے جو حضرت عائشہؓ سے منقول ہے کہ اے اللہ تو معاف کرنے والا ہے اور معاف کرنے کو پسند کرتا ہے۔ تو مجھے بھی معاف فرمادے۔

شب قدر کی چند علامات یہ بیان کی جاتی ہیں کہ یہ رات چمکدار اور صاف ہوتی ہے نہ زیادہ گرم اور نہ زیادہ ٹھنڈی ہوتی ہے بلکہ بھینی بھینی اور معتدل ہوتی ہے۔اس رات کو شیاطین کو ستارے نہیں مارے جاتےہیں ۔آسمانوں کی طرف نگاہ اٹھا کر دیکھنے سے آنکھوں میں نور اور دل میں سرور کی کیفیت پیدا ہوتی ہے۔شب قدر کی بعد والی صبح کو سورج میں تیزی نہیں ہوتی۔اس رات میں عبادت کی بڑی لذت محسوس ہوتی ہے اور عبادت میں خشوع و خضوع پیدا ہو تا ہے۔

مذکورہ بیانات اور دلائل و براہین سے یہ بات اظہر من الشمس ہوتی ہے کہ شب قدر کی بڑی فضیلت ہے۔ اس میں عبادت اور ذکر و اذکار کا بہت ثواب ہے، بلکہ ہزار مہینوں کی عبادت سے بہتر ہے۔ کاش! اتنی عظیم الشان، اتنی عظیم المرتبت اور اتنی بابرکت رات ہمیں بھی نصیب ہوجاتی اور ہم بھی اس رات میں ایمان و ایقان کے ساتھ قیام اللیل کرتے، قرآن کریم کی تلاوت اور اللہ کے ذکر و اذکار سے اپنے سینے کو معمور و منور کرتے، اس کے فیوض و برکات کو اپنے دامن سمیٹتے اور اس رات کی ہماری بھی عبادت بنی اسرائیل کے اس بزرگ شخص کی عبادت کی طرح قرار دی جاتی جس نے مسلسل 83 برسوں تک اللہ کی عبادت و ریاضت کی تھی۔ بلاشبہ روئے زمین پر بہت سارے اللہ کے نیک بندے ہیں جو رمضان المبارک کے اخیر عشرے میں شب قدر کا شدت سے انتظار کرتے ہیں اور اس میں عبادتوں، ریاضتوں و دعاؤں کا اہتمام ہیں۔ کاش! ہم بھی ان نیک بندوں میں شامل ہو جاتے اور ہمیں بھی وہ رات نصیب ہوجاتی۔۔۔۔!!!

Previous articleفطری تقاضے__
Next articleانسانیت سوز واقعہ: حافظ قرآن بچے کو دے دی پھانسی!

اپنے خیالات کا اظہار کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here