ڈاکٹر محمد سالم سلفی: موت سے بھی ختم جس کا سلسلہ ہوتا نہیں

0
550

موت سے انسان کا رشتہ بدیہی سماج اور کائنات سے ضرور ٹوٹ جاتا ہے تاہم خیال کے توسل سے جو اقداری رشتہ کسی کی موت سے استوار ہوتا ہے وہ کبھی ختم ہی نہیں ہوتا۔ ٹھیک قدروں کی طرح کہ قدریں زمان و مکان کی قید سے ماورا آفاقی ہوتی ہیں، جو ذہن وفکر کو نسلاً بعد نسل بھی گرماتی رہتی ہیں اور اخلاف کے لیے قوت کا سرچشمہ بن جاتی ہیں۔ ڈاکٹر محمد سالم میں بھی جو شخصی خوبیاں تھیں، وہ ہم جیسے بہتوں کے لیے قابل تقلید نمونہ ہیں، اس چشمہ صافی سے اخذ و استفادہ جاری رہے گا اور لوگ خیر طلب اپنی فطرت کو مرحوم کی سراپا طلق الیدین فطرت سے صیقل کرتے رہیں گے۔

ڈاکٹر محمد سالم سلفی مورخہ 26/ جنوری 2024 صبح چار، پانچ بجے کے درمیان انتقال فرماگئے، اناللہ و اناالیہ راجعون۔ مرحوم اپنی برادری میں سلفی علماء کے اولین فارغین میں سے تھے، وہ مدھواپٹی کے عبدالوہاب بن نظام الدین اور صغریٰ خاتون بنت حاجی بلو (سوہانس) کے گھر16/ جنوری 1952 میں پیداہوئے۔ ان کے والد سیٹھ جی کے نام سے معروف تھے۔ والد تجارت پیشہ تھے، اپنا کاروبار تھا، زمینیں تھیں اوراس طرح وہ ایک کھاتے پیتے گھرانے کے چشم و چراغ تھے۔ سیٹھ جی کی دوشادیاں تھیں، پہلی بیوی سے تین بھائی دو بہنیں تھیں۔ وہ اپنے بڑے بھائی محمد ہاشم کے بعد پیداہوئے۔ان سے چھوٹے بھائی محمد عاصم عرف بھوگی کے نام سے معروف تھے۔ دوسری ماں سے ایک بہن تھی، جو اپنی بیٹی کے ساتھ اخیر وقت تک رہیکا میں مقیم رہیں اور وہیں انتقال کیا
ڈاکٹر محمد سالم سلفی کی ابتدائی تعلیم گانوں کے مدرسہ اسلامیہ میں ہوئی۔ اس کے بعد اعلیٰ تعلیم کے لیے انھیں احمدیہ سلفیہ، لہریا سرائے، دربھنگہ میں داخل کرایا گیا، جہاں سے انھوں نے 1965میں فراغت پائی۔ 1965 میں فارغین کی یہ جماعت پندرہ افراد پر مشتمل تھی۔ مرحوم مدرسہ اسلامیہ، رگھے پورہ و نبٹولی کے استاد مولانا محمد خلیل سلفی، مولانا علی مرتضیٰ سلفی اور مولانا محمد نسیم اختر سلفی کے ہم جماعت تھے۔ وہ شیخ لقمان سلفی (فراغت: 1963) اور مولانا شاکرعلی سلفی (فراغت:1964) سے جونیر اور مولانا محمد عاشق الہیٰ سلفی کے سینئر تھے۔ مدرسہ احمدیہ سلفیہ میں ان کی حیثیت ہمیشہ ایک اچھے، محنتی اور باصلاحیت طالب علم کی رہی، وہ نادی الاصلاح کے سکریٹری بھی رہے۔ مرحوم اپنے کیریئر کے تئیں شروع سے ہی بڑے حساس واقع ہوئے تھے لہٰذا سلفیہ میں دوران تعلیم ہی میٹرک اور انٹر کا امتحان دیا اور میڈیکل انٹرنس کی تیاری کے سلسلے میں پٹنہ آگئے، وہ اپنا مستقبل میڈیکل کے شعبے میں دیکھ رہے تھے، جس میں انھیں کامیابی نہیں ملی۔ میڈیکل میں سلکشن نہ ہونے کے سبب وہ واپس دربھنگہ آگئے اور اے۔ قیو۔ انصاری کے کلینک سے وابستہ ہوگئے۔ میڈیکل پروفیشن کی مبادیات انھوں نے یہیں سیکھی۔ اس کے بعد دربھنگہ کے معروف و مشہور معالج ڈاکٹر عبدالوہاب کے مطب میں بحیثیت کمپونڈروابستگی اختیارکی اور اس پیشے میں خود کو مزید صیقل کیا۔
ڈاکٹر صاحب کے بڑے صاحبزادے ریاض اختر ابھی محض تین سال کے ہی تھے کہ ان کی اہلیہ سلمیٰ عفت ڈائریا کے معمولی مرض میں مبتلا ئوئیں، جانبرد نہ ہوسکیں اور 29/ رمضان 1974 میں انتقال کرگئیں۔ ڈاکٹر صاحب کے چھوٹے بیٹے ایاز اخترکی عمر اس وقت تقریباً چھ ماہ کی تھی۔ اس دوران ڈاکٹر محمد سالم سلفی پٹنے میں تھے۔ مرحومہ ایک پڑھی لکھی خاتون تھیں۔ مدرسہ اسلامیہ، رگھے پورہ و نبٹولی سے ابتدائی تعلیم کے بعد بہار مدرسہ بورڈ سے عالمیت اور فضیلت کی سند یافتہ تھیں۔ ان کی تعلیم پر ڈاکٹر صاحب کی خصوصی توجہ تھی۔ امتحان دلانے اور تیاری کے جملہ مراحل کی ذمے داری ڈاکٹر مرحوم نے اپنے عزیزمولانا عاشق الہیٰ مرحوم کے سپرد کررکھی تھی، جسے مرحوم عاشق صاحب نے بحسن و خوبی نبھایا۔ مرحومہ صوم و صلوۃ کی پابند ایک ذہین خاتون تھیں او طبقہ اناث میں اپنی بہترین تقریرکے سبب مقبول تھیں۔
حالات ظاہر ہے بہت موافق نہیں تھے۔ تنہائی اور دو بچوں کی کفالت کا بار اس پر مستزاد تھا۔ اسی دوران کسی سے صلاح و مشورہ کے بعد انھوں نے دربھنگہ کو خیرباد کہا اور1977-78 کے عرصے میں بائسی، ضلع پورنیہ، بہار کا رخ کیا اور وہیں کے ہوکر رہ گئے۔ دربھنگہ سے بائسی منتقل ہونے کے بعد مرحوم نے اپنی پوری توانائی اپنی کلینک اور دونوں بچوں کی تعلیم و تربیت پر صرف کی۔ اچھی تعلیم و تربیت کا نظم کیا، اہلیہ کے انتقال کے بعد دوسری شادی نہیں کی اور پوری توجہ اپنے بچوں اور پیشے پر صرف کی۔ نتیجتاً اللہ نے انھیں دونوں محاذ پر کامران کیا۔ میڈیکل پریکٹس میں اللہ نے بڑی برکت دی، ان کا کاروبار خوب پھلا پھولا اور انھیں مالی استحکام حاصل ہوا، دوسری طرف ان کے بچوں نے واجب تعلیم حاصل کی۔ آج دونوں بچے برسرروزگار ہیں اور طمانیت بھری زندگی گزاررہے ہیں۔ بائسی، ضلع پورنیہ میں ڈاکٹر صاحب نے اولاً مدرسہ فیاض المسلمین کی دکان کرائے پر لی اور پریکٹس شروع کردی اوروہیں بائسی ہی میں رہائش پذیر بھی ہوگئے۔ اس وقت ان کے بڑے صاحبزادے پٹنے میں زیر تعلیم تھے، ریاض کی شادی کشن گنج میں ہوئی تو ڈاکٹرمرحوم بائسی سے کشن گنج منتقل ہوگئے، تاہم کلینک بائسی ہی میں رکھی البتہ مدینہ مارکیٹ بننے کے بعد مدرسہ فیاض المسلمین کی دکان سے ان کی کلینک مدینہ مارکیٹ کی دکان میں منتقل ہوگئی، اپنی کلینک کے متصل مرحوم نے اپنے صاحبزادے کی دوا کی دکان کھلوائی اور اخیر وقت تک وہیں پریکٹس کرتے رہے۔ رہائش چونکہ کشن گنج میں تھی لہذا معمول کے مطابق روزانہ صبح آتے اور شام کو واپس کشن گنج چلے جاتے تھے۔ ان کا یومیہ سفر بس سے ہوا کرتا تھا، کبھی کبھار ریاض کی موٹر سائکل اور اب اپنی وین سے آیا جایا کرتے تھے۔ ان کی رہائش کاغذیہ محلہ، وارڈ نمبر- 15 چوڑی پٹی، کشن گنج میں تھی۔
ڈاکٹر محمد سالم سلفی میانے کے قد بڑے نفیس بلکہ نستعلیقی شخصیت کے مالک تھے۔ گفتگو کا انداز بڑا دلچسپ اور منفرد تھا، ان کی شخصیت میں بڑی مقناطیسیت تھی، ایک بار جو ان سے ملتا، وہ متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا تھا بلکہ دوبارہ ملنے کی تمنا لیے جدا ہوتا تھا، چہرہ بیضوی، تیکھے نین نقش، ستواں ناک اور گندمی رنگت نے ان کی شخصیت کو جاذب نظر بنادیا تھا۔ جامہ زیبی بھی ان کی نفیس شخصیت کا شناخت نامہ تھی۔ وہ میرے والد مرحوم کے دوستوں میں تھے گوکہ وہ میرے والد مرحوم سے عمر میں بڑے تھے لیکن میرے والد ہمیشہ انھیں بہت محبت اور احترام کے سیاق میں یاد کرتے تھے۔ مرحوم کی تقریری صلاحیت بڑی عمدہ تھی۔ پرکشش آوازتھی، زبان و بیان میں بڑی حلاوت تھی، انداز بیاں عمدہ ہوا کرتا تھا۔ موضوعاتی گفتگو کرتے تھے۔ سامعین میں بڑے مقبول تھے اور لوگ باگ ان کی تقریر کو بغور سنتے تھے اور پسند کرتے تھے۔
مرحوم ڈاکٹر سالم قوم و ملت کا درد رکھتے تھے۔ احمدیہ سلفیہ سے فراغت کے بعد دو چار ہم خیال سلفیوں کے ساتھ ایک فلاحی اور اصلاحی کمیٹی قائم کی اور سماجی اصلاح کا کام شروع کیا۔ ان کے اصلاحی مشن کا دائرہ بنیادی طور پر مدھواپٹی، رگھے پورہ، ایروا اور سوہانس جیسی مسلم بستیوں پر پھیلا ہوا تھا۔ وہ بعد نماز مغرب گانو میں جاتے اور بے جا سماجی اور غیر دینی رسوم و رواج، سماجی بگاڑ، انتشار، تعلیم سے دوری، لڑائی جھگڑے اور بدعات اور اس کے مضمرات جیسے موضوعات پر تقریرکرتے تھے۔ اس وقت ان بستیوں میں تیلا سکرائت کی رسم عام تھی، لوگ باگ لائی موڑھی خریدتے، بنواتے اور اپنے عزیزوں میں تحفتاً دیتے تھے، اسی طرح پورنیما کی رسم کے سدباب کے لیے بھی اصلاحی کمیٹی نے بڑی کوششیں کیں لیکن انھیں اس میں کلیتاً کامیابی نہیں ملی۔ یہ رسمیں آج بھی ہماری معاشرت میں رائج ہیں۔ وطن سے نقل مکانی کے بعد بھی مرحوم سماجی اور فلاحی سرگرمیوں سے وابستہ رہے۔ کشن گنج کے سماجی امور میں ان کی مستقل دلچسپی بنی رہی۔ وہ انجمن اسلامیہ کے پلیٹ فارم سے سماجی کام کرتے تھے۔ مدرسہ تحفیظ القرآن، کشن گنج کے ممبر تھے۔ تعلیمی امور میں بھی بڑی دلچسپی تھی، گاہے بہ گاہے مدرسہ جایا بھی کرتے تھے اور مشورہ بھی دیا کرتے تھے۔ مرحوم غریب اور نادار بچوں کی کفالت کی ذمے داری بھی نبھاتے تھے۔ جامعۃ الامام البخاری کے چیرمین مولانا عبدالمتین سلفی سے بھی مرحوم کی بڑی قربت تھی، جماعتی طور پراور سماجی طور پر بھی بلکہ گھریلو نوعیت کے تعلقات تھے، مدرسہ میں آنا جانا تھا۔ مرحوم غریب پرور تھے، غربا کو سہارادینا، مفت علاج کرنا، پیسے نہیں ہیں تو انھیں اپنی طرف سے دوائیاں دینا، ضرورتاً کچھ نقد رقم بھی دینا اور حتی الوسع ان کی ضروریات کی تکمیل مرحوم کے پیش نظر رہتی تھی۔ اسی طرح مدرسے میں پڑھنے والے ضرورت مند بچوں کا بھی مرحوم خاص خیال رکھتے تھے۔ اسی لیے وہ بچوں میں مقبول بھی تھے۔ بائسی کے معزز شخصیات سے بھی مرحوم کے وسیع تعلقات تھے، ان میں عبدالمالک سلفی، مولانا محمد رضوان ریاضی، مرحوم سید معین الدین سابق ایم ایل اے، مائنریٹی سیل کے صدرمحمد زاہد الرحمن، مدرسہ انجمن اسلامیہ کے سکریٹری جناب محمد ہارون صاحب قابل ذکر ہیں۔
رشتوں کا احترام مرحوم ڈاکٹرمحمد سالم کی شخصیت کا وصف خاص تھا۔ مرحوم نے اپنے خاندان، بھائیوں، بہنوں اور رشتے داروں سے ہمیشہ گرم جوش تعلقات استوار رکھا اوراخیر سانس تک اسے نبھایا۔ اپنے چھوٹے بھائی بھوگی اور ان کے بچوں کا خاص خیال رکھتے تھے۔ بلکہ اپنے چھوٹے بھائی مرحوم بھوگی کے علاج و معالجے کے تمام مصارف برداشت کیے، رشتے داروں میں قربانی کے لیے پیسہ بھیجتے ، بچوں کی شادی کے اخراجات بھی برداشت کرتے تھے۔ بہن، بھانجہ، بھانجی کا خاص خیال رکھتے اور کسی کو نظر انداز نہیں کرتے تھے، رشتے داروں کی شادی میں خود بھی شریک ہوتے یا اپنے بچوں کو شرکت کے لیے بھیجتے تھے۔ اپنے بڑے بھائی کے بال بچوں کے ساتھ بھی ان کا حسن سلوک اخیر وقت تک جاری رہا۔ فون پر بھی اپنے رشتے داروں کی خبر گیری مرحوم کا وطیرہ خاص تھا۔ ایک روایت کے مطابق مرحوم خالد صدیقی سلفی سے یہ بھی کہا کرتے تھے کہ ” فلاں فلاں رشتے داروں کی ضرورت کے لیے گاہے بگاہے کچھ نقد دے دیا کیجئے اور مجھے بتلادیا کیجئے تاکہ میں آپ کی رقم بھیج دیا کروں۔ یہ سلسلہ مرحوم کی حیات تک جاری رہا”۔
بڑے بھیا مرحوم شاکر سلفی سے ڈاکٹر صاحب کی بڑی ذہنی ہم آہنگی تھی۔ مولانا ابوبکر سلفی سے بھی گہرے مراسم تھے۔ وہ نہ کسی دربار سے وابستہ رہے اور نہ حق سے کبھی منحرف ہوئے۔ ان کے خاص ملاقاتیوں میں یوں تو سلفی حضرات ہی تھے لیکن ان میں محمد عاشق علی سلفی اور حافظ عزیزالرحمن کو بہت عزیز رکھتے تھے۔ بڑے نرم خو، ملنسار اور رشتوں کا احترام اور ان کے تئیں ہمدردانہ رویہ رکھتے تھے، ان کی باتوں میں جادو تھا، شیخ لقمان سلفی کے ساتھیوں میں سے تھے، حج کے موقع سے شیخ لقمان نے بڑا محبت آمیز سلوک کیا اور مہمان نوازی کی ۔ معانقہ کے دوران شیخ لقمان روتے رہے اور طالب علمانہ زندگی میں ان کے حسن سلوک کو یاد کرتے رہے کہ اس وقت ان کی زندگی تنگی میں گزررہی تھی۔ مرحوم محمد جسیم الدین بھی شیخ لقمان کے ساتھیوں میں سے تھے انھیں بھی شیخ بہت پسند کرتے تھے۔ اور ان کا خاص خیال رکھتے تھے۔
مرحوم ایک سلجھے ہوئے انسان تھے۔ بلند اخلاق کے مالک تھے، مصائب کا سامنا کرنے، نرم گرم حالات میں خود کو سنبھالے رکھنے کی غیر معمولی صلاحیت تھی۔ ان کی گفتگو قرآن و احادیث سے مزین ہوا کرتی تھی۔ موقع اور مناسبت سے اقبال کے اشعار بھی ان کی نوک زبان پر رہا کرتے تھے۔ اپنے وطن مدھواپٹی ہو یا بائسی سماجی نزع اوراختلافات میں وہ صلح و صفائی میں پیش پیش دیکھے جاتے تھے۔ 1986 میں مدھواپٹی میں ایک برا حادثہ پیش آیا۔ دو متحارب گروپ میں بڑی تنا تنی ہوئی، اس وقت میں چھوٹا تھا اور جامعۃ الفلاح میں عربی اولیٰ کا طالب علم تھا، میں نے مرحوم کو عین لڑائی کے مابین دونوں گروپ کے لوگوں کو سمجھاتے اور انھیں شانت کرتے دیکھا۔ اپنی اسی صلح پسند طبیعت کے سبب انھیں گانوں اور بائسی میں بھی بڑی عوامی مقبولیت حاصل تھی۔
مرحوم کو اللہ نے بیت اللہ کی زیارت کا بھی موقع عنایت کیا۔ 2008 میں رمضان المبارک کے مہینے میں عمرہ کیا۔ پھر اسی سال حج کی سعادت سے بھی بہرور ہوئے۔ خوش بختی دیکھئے کہ 2017 میں انھیں دوسرے حج کی سعادت بھی ملی۔ دونوں بار شیخ لقمان صاحب سے ان کی ملاقات رہی، شیخ محترم نے ان کا گرم جوشی کے ساتھ استقبال کیا، انھیں اپنا مہمان خاص بنایا اوراپنے دیرینہ تعلقات کی یاد تازہ کی۔ سلفیہ کے طالب علمی کے زمانے میں شیخ لقمان کی دلجوئی میں اس وقت وہاں زیرتعلیم ہماری برادری کے طلبہ نے بڑی دلچسپی دکھائی اور ان کا خاص خیال رکھا، جس کے گہرے اثرات شیخ مرحوم کے دل پہ ہمیشہ نقش رہے اور جس کا اظہار بھی انھوں نے بارہا کیا۔ ڈاکٹر مرحوم سے شیخ مرحوم کے تعلق کو اسی تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔
ڈاکٹر سالم ہمارے اکابرین میں سے تھے، میری ان سے بالمشافہ کبھی ملاقات نہیں رہی۔ علی گڑھ کے زمانہ طالب علمی میں چھٹیوں میں ایک دفعہ جب میں گھر پر تھا تو مرحوم کو گانو میں رگھے پورہ کی طرف جاتے دیکھا تھا، لوگ مل رہے تھے، کسی نے ان سے مجھے بھی متعارف کرایا تو گویا ہوئے ہاں شکلاً تو آپ قابض کے لڑکے نظر آتے ہیں، اوہ! آپ اے ایم یو میں پڑھتے ہیں، اچھی بات ہے. اس کے بعد ایک طویل مدت گزر گئی، کلکتہ منتقل ہونے کے بعد البتہ ایک دن ان کے صاحبزادے ریاض نے فون کیا اور کہا ابو بات کرنا چاہتے ہیں، مرحوم نے بغرض تعلیم کلکتے میں ایک بچے کے داخلے سلسلے میں بات کی اور کہا دیکھ لیجئے کہ کسی طرح کی کوئی دقت پیش نہ آئے۔ مرحوم کی ہدایت کے مطابق میں ریاض اور اس بچے سے ملنے کولہو ٹولہ حاضر ہوا اور یہ کام بحسن و خوبی انجام پایا۔ گزشتہ سال گانو سے کلکتہ جاتے ہوئے ٹھاکر گنج میں قیام رہا تو ڈاکٹر مرحوم سے نیاز حاصل کرنے بائسی پہنچ گیا۔ اس وقت ڈاکٹر صاحب مریضوں کے ساتھ مصروف تھے۔ دیر تک ان سے باتیں ہوئیں، سماج، تعلیم اور مختلف امور پر باتوں کے درمیان جب میں نے ان سے اپنے بڑے نانا مولانا اعجاز قاسمی کا ذکرچھیڑا تو انھوں نے کہا کہ مولانا سے ”میں نے دریافت کیا کہ کیا وجہ ہے کہ برادری کے علماء کا کوئی اثر گانو سماج میں دکھائی نہیں دیتا؟ جبکہ تعلیمی اعتبار سے یہ مستند اوراچھے مدارس کے فارغین ہوتے ہیں۔ تو اس پر ان کا جواب تھا کہ یہ سندی علماء ہیں انھیں بزرگوں کی صحبت نہیں ملی”۔
یہ کہنے کے بعد مرحوم دیر تک خاموش رہے۔ پھر گویا ہوئے کہ مولانا مرحوم کی بات سوفیصد درست تھی۔ اگر علماء خود کو راہ راست پر رکھ پاتے تو برادری کی قلب ماہیئت ہوچکی ہوتی۔ جہلا اور خود سر لوگوں کے درمیان ہمارے علماء خود انہی کا حصہ بن کر رہ گئے۔ وغیرہ وغیرہ۔۔۔میں نے محسوس کیا کہ ان کا ملی درد سوا ہوا جاتا ہے۔ لہٰذا میں رخصتی کے لیے اجازت کا خواستگار ہوا تو خوشی کا اظہار کیا کہ آپ نے ملنے کی زحمت کی اور کلکتہ یونیورسٹی سے میری وابستگی پرمجھے چند تشجیعی کلمات سے نوازا اور بس۔
تعلیم، سماجی پس ماندگی اور علماء کی کارکردگی سے وہ کبھی مطمئن نہیں رہے، سلفیہ سے فراغت کے بعد ہمارے ان اکابرین نے اپنی بساط بھر کوششیں کیں لیکن جہل اور اس وقت کی فرعونیت کی دیوار سے ٹکراکر ان کی مساعی جلیلہ کو ناکامی ہاتھ آئی، خیر سے ڈاکٹرصاحب نے ہجرت کو ترجیح دی، خود کو سنبھالا دیا، اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت کا خیال کیا اورطمانیت بھری زنگی جی کررخصت ہوئے تاہم بہتوں علماء نے ایڑیاں رگڑ کر زندگی بسر کی۔ اونچی صلاحیت کے مالک مرحوم شاکر بھیا کو کبھی ان کی ذاتی لیاقت کے بقدر نعمتیں میسر نہیں ہوئیں، سماجی توقیر کے لیے مولانا مرحوم عبدالعزیز سلفی کی جدوجہد کبھی ختم نہیں ہوئی، عیسیٰ مرحوم پاگل ہوکر رخصت ہوئے۔ اسی سیاق میں یہ خیال بھی گزرتا ہے کہ خیر کے لیے اپنی برادی کی زمین ہمیشہ سے تنگ رہی ہے، جس کا سلسلہ ہنوز جاری ہے۔ نوواردین علماء کی کھیپ کا سلسلہ اب بھی جاری ہے لیکن ان کی خیرطلب تعلیم اور تگ و دو اب بھی بدی کے سامنے بے بس نظرآتی ہے۔ غور کیجئے تو افسوس ہوگا کہ صرف احمدیہ سلفیہ، دربھنگہ کے فارغین کی صلاحیتوں سے برادری والوں نے فائدہ اٹھایا ہوتا تو سماج میں ایک بھی جاہل نہیں رہتا لیکن۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ڈاکٹرسلفی کی موت پوری برادری پر شاق ہے۔ ان کی رحلت سے کچھ نئے پرانے زخم تازہ ہوگئے اس کے لیے معذرت۔ ڈاکٹر صاحب کے سالے حافظ مرتضیٰ عظمتی صاحب نے پانچ بج کر پینتالیس منٹ پر نماز جنازہ پڑھائی، مرحوم کشن گنج کے مشہور قبرستان کربلا میں مدفون ہوئے۔ جنازہ میں قوم وبرادری کے معززاشخاص اور رشتہ داروں کے علاوہ کشن گنج اوربنگال میں ان سے محبت کرنے والوں نے شرکت کی، اور ان کے لیے دعائیں کیں۔
ع۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تمھاری نیکیاں زندہ تمھاری خوبیاں باقی

Previous articleنیکی کے پھول
Next articleمولانا محمد سجاد ___حیات اور کارنامے