ڈاکٹر محمد اطہر مسعود خاں کی مرتب کردہ کتاب: تذکروں کا اشاریہ از: ڈاکٹر مظفر نازنین،کولکاتا

0
63

ڈاکٹر محمد اطہر مسعود خاں کی کتاب’تذکروں کا اشاریہ‘ دراصل ڈاکٹر صاحب کا بے حد اہم کام ہے۔ یہ کتاب ٢٠٢٠ء میں شائع ہوئی ہے۔ زیر نظر کتاب ٣٠٤ صفحات پر مشتمل ہے اور یہ اس وقت شائع ہوئی ہے جب وطن عزیز ہندوستان کووڈ-١٩ اور لاک ڈاؤن کے زیر اثر تھا۔ ایسے ماحول میں کسی کتاب کا شائع کرنا گویا جوئے شیر لانے کے برابر ہے۔

بلاشبہ یہ ڈاکٹر محمد اطہر مسعود خاں کا اہم کارنامہ ہے۔ زیر نظر کتاب ’تذکروں کا اشاریہ‘ کو انھوں نے ان طلبا و طالبات اور ریسرچ اسکالرز کے نام منسوب کیا ہے جو آئندہ وقت میں بہترین مصنف، محقق، نقاد اور تخلیق کار بنیں گے اور ملک و قوم اور زبان و ادب میں اپنا نام پیدا کریں گے۔
موصوف نے اس کتاب کو اپنے والد محترم جناب محمد غوث خاں صاحب، اپنی والدہ محترمہ مہر جہاں بیگم صاحبہ، استادان گرامی ڈاکٹر حسن احمد نظامی صاحب، ڈاکٹر شریف احمد قریشی صاحب، جناب اسرار احمد صاحب، استاد بھائی ڈاکٹر شمس بدایونی صاحب، سابق ایڈیٹر’نیا دور‘ ڈاکٹر وضاحت حسین رضوی صاحب اور نہایت ہم درد شخصیت پروفیسر رضیہ پروین صاحبہ کی نذر کیا ہے۔

کتاب کی فہرست میں پیش لفظ، مقدمہ، پھر ڈاکٹر عرفان عباسی کے تعلق سے کئی مضامین ہیں اور آخری حصہ میں چند علمی و ادبی شخصیات کے تبصرے ہیں جن میں پروفیسر رضیہ پروین کا مضمون ’اشاریہ تذکرہ شعرائے اتر پردیش: ایک نظر میں‘ صفحہ نمبر ٢٧٦پر ہے. دوسرا تبصرہ بعنوان ’تبصرہ اشاریہ تذکرہ شعرائے اترپردیش‘ ڈاکٹر الف ناظم کا تحریر کردہ ہے۔ ڈاکٹر رضیہ پروین گورنمنٹ گرلز پوسٹ گریجویٹ کالج رام پور میں صدر شعبۂ اردو ہیں۔

اسی کالج میں ڈاکٹر الف ناظم بھی اسسٹنٹ پروفیسر ہیں اور صفحہ نمبر ٢٨٧پر ایک تبصرہ بعنوان ’تبصرہ اشاریہ تذکرہ شعرائے اترپردیش‘ ہے، جوڈاکٹر سفینہ بیگم کا تحریر کردہ ہے۔ وہ مہاتما گاندھی کاشی ودیا پیٹھ وارانسی میں اسسٹنٹ پروفیسر ہیں۔
اس کتاب میں صفحہ نمبر ۷ پر ایک مضمون بعنوان ’کچھ اس کتاب کے بارے میں‘ ہے جس میں ڈاکٹر محمد اطہر مسعود خاں اشاریہ سازی کے تعلق سے کہتے ہیں کہ اشاریہ سازی اتنا مشکل فن ہے کہ اس کے مقابلے لوہے کے چنے چبانا بہت سہل اور آسان ہے اور پھر اس حقیقت کا اعتراف ان الفاظ میں کرتے ہیں: ”آج ہم چاہے فن شاعری کو لیں یا ناول، افسانہ اور دیگر نثری فنون وموضوعات کو۔ ان فنون کی اردو کتابوں کی تعداد ہزاروں میں نہیں بلکہ لاکھوں میں ہے۔ سینکڑوں لائبریریاں ان کتابوں سے بھری پڑی ہیں لیکن اشاریہ……؟ جی ہاں ہندوپاک کو ملا کر بھی مطبوعہ اشاریوں کی تعداد تین سو سے زیادہ نہیں ہے۔“

موصوف ١٩٩٨ سے ٢٠٢٠ ء تک مکمل ٢٣ سال سے اشاریہ سازی کر رہے ہیں۔ کتاب میں اس مضمون میں صفحہ نمبر ۲۲ پر ڈاکٹر محمد اطہر مسعود خاں، ڈاکٹر رضیہ پروین صاحبہ، ڈاکٹر الف ناظم صاحب، ڈاکٹر سفینہ بیگم صاحبہ کے تبصروں کے لیے ان کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ ڈاکٹر عرفان عباسی صاحب کے تعلق سے ڈاکٹر محمد اطہر مسعود خاں لکھتے ہیں کہ انھوں نے اپنی ساری زندگی علم وادب کی خدمت کرتے گزاری اور کم وبیش دس ہزار ادیبوں اور شاعروں کا تذکرہ لکھ کر ایسا کارنامہ انجام دیا جو عدیم المثال ہے اور تذکرہ نگاری میں بیسویں صدی کا یہ سب سے بڑا کام ہے جس کی کوئی دوسری نظیر شاذ ہی نظر آئے گی۔
موصوف فن اشاریہ سازی کے تعلق سے پیش آنے والی چند دقتوں کا ذکر کرتے ہوئے صفحہ نمبر ١٥ پر یوں رقم طراز ہیں: ”عبدالماجد دریابادی کا سوانحی تعارف کئی تذکروں میں موجود ہے۔ وہ شاعری بھی کرتے تھے اور ناظر ان کا تخلص تھا۔ اس لیے ہم نے اپنے اشاریہ میں ایک ہی پیٹرن یا طریقۂ کار اور ایک ہی نیٹ ورک کو قائم رکھتے ہوئے ان کا نام سب اشاریوں میں عبدالماجد دریابادی کی مناسبت سے ’ع‘میں رکھا ہے اور’ناظر دریابادی‘کو اس کے آگے بریکٹ میں رکھ دیا ہے۔ اس سے ہمیں تو ضرور دشواری پیش آئی لیکن یقین ہے کہ محققین کو ان شاء اللہ اس سے بہت سہولت حاصل ہوگی۔ یہی دشواری پروفیسر نثار احمد فاروقی کے نام کے ساتھ بھی پیش آئی۔ایک تذکرہ میں ان کو نثار احمد کی مناسبت سے ’ن‘میں رکھا گیا تھا اور دوسرے تذکرے میں صرف تخلص سے ہی ان کا تذکرہ رکھا گیا تھا۔

یعنی اتنی دقتوں کا سامنا کرتے ہوئے ڈاکٹر محمد اطہر مسعو دخاں نے اس کتاب کی ترتیب وتشکیل کی ہے۔ بلا شبہ اردو طلبا اور طالبات نیز ریسرچ اسکالرز کے لیے ایک بہت بڑا کام کیا ہے اور بلا شبہ یہ اردو والوں پر بھی بڑا احسان ہے۔ اشاریہ سازی ایک بڑا باریک اور تکنیکی کام ہے۔ اس میں ایک چھوٹے سے کاما اور ڈیش کی بھی اپنی اہمیت ہوتی ہے۔ موصوف نے کتاب کی پروف ریڈنگ پر بھی بہت خاص توجہ دی ہے اور کتاب کو ہر طرح سے کارآمد بنانے کی پوری کوشش کی ہے۔ صفحہ نمبر ٨٥ پر ڈاکٹر محمد اطہر مسعود خاں کا سوانحی اور ادبی تعارف موجود ہے۔
موصوف کی پیدائش ٢٨/جون ١٩٦١ء کو رام پور یوپی میں ہوئی۔ ١٩٧٥ میں ہائی اسکول حامد انٹر کالج رام پور سے پاس کیا۔ یہاں یہ تذکرہ دل چسپی سے خالی نہیں ہوگا کہ آج کا حامد انٹر کالج پہلے ریاست کے دور میں اسٹیٹ ہائی اسکول کہلاتا تھا اور تاریخی تناظر میں یہ بات قابل ذکر ہے کہ یہی وہ اسکول ہے جس میں مولانا محمد علی جوہر نے بھی تعلیم حاصل کی تھی۔
ڈاکٹر محمد اطہر مسعود خاں نے انٹر میڈیٹ ١٩٧٧ میں حامد انٹر کالج رام پور سے ہی پاس کیا۔ بی.اے ١٩٨٠ میں اور ایم. اے روہیل کھنڈ یونی ورسٹی بریلی سے ١٩٩٥ میں کیا اور پی ایچ.ڈی کی ڈگری بھی ٢٠٠٤ میں روہیل کھنڈ یونی ورسٹی سے حاصل کی۔ ٣٠/نومبر ١٩٩٧ کو رشتۂ ازدواج میں منسلک ہوئے. ایک صاحب زادے غلمان اطہر اور ایک صاحب زادی سعدیہ اطہر ہیں۔
موصوف کی تصانیف کی فہرست طویل ہے جن میں کھلتی کلیاں (بچوں کے لیے کہانیاں)، جھوٹ کے پیر (بچوں کے لیے کہانیاں)، سنہری فیصلہ(بچوں کے لیے کہانیاں)، مہ کامل(تحقیقی و تنقیدی مضامین)، موم کا دل(بچوں کے لیے کہانیاں)، غریب شہزادی(بچوں کے لیے کہانیاں)، ٹھنداخون(افسانوی مجموعہ)، دو گززمین (افسانوی مجموعہ)، اشاریہ ماہنامہ نیا دور ١٩٥٥-٢٠٠١، اشاریہ تذکرہ شعرائے اترپردیش، تذکروں کا اشاریہ۔ ان کے علاوہ بھی ڈاکٹر محمد اطہر مسعود خاں کی کئی کتابیں ہیں۔

ان کے ادبی سفر کا آغاز ١٩٧٥ سے ہوا جو ماشاء اللہ تا دم تحریر جاری و ساری ہے۔ موصوف کا قلم ادب اطفال، افسانہ، سوانح حیات، اشاریہ، تحقیقی وتنقیدی مضامین و مقالات، تبصرہ نگاری غرض مختلف موضوعات کا احاطہ کرتا اور ہر فن میں یکساں کمال دکھاتا ہے۔ ان کی دیرینہ ادبی خدمات کے اعتراف میں ان کو متعدد اعزازات افسانوی ادب، تحقیقی مقالات اور برائے ادبی خدمات دیے گئے ہیں جن کا احاطہ کرنا یعنی ان سب کی تفصیل بیان کرنا اس چھوٹے سے مضمون میں ممکن نہیں ہے۔
آل انڈیا ریڈیو سے بھی ان کے اب تک ۳۳ افسانے نشر ہو چکے ہیں۔ کتاب کے آخر میں صفحہ نمبر ٢٩٤ پر اشاریہ نیا دور پر چند قلم کاروں کے خطوط کے اقتباسات بھی پیش کیے گئے ہیں. اس سلسلہ میں موصوف بذات خود رقم طراز ہیں: ”میر ی کتابوں، تحقیقی، تنقیدی اور تخلیقی کاموں پر بہت سے قلم کاروں نے مضامین اور خطوط لکھ کر میری ہمت افزائی کی ہے اور یہ سلسلہ تیس بتیس سال سے جاری ہے۔ بلا شبہ اطہر مسعود خاں ایک کہنہ مشق افسانہ نگار، تذکرہ نگار اور اشاریہ ساز ہیں۔انھوں نے کتاب ’تذکروں کا اشاریہ‘ مرتب کرکے اپنی فنی بصیرت کا لوہا منوایا ہے۔
میں موصوف کو ان کے اس عظیم کارنامے کے لیے تہہ دل سے پرخلوص مبارک باد پیش کرتی ہوں کیوں کہ وہ مکمل طور سے دامے، درمے، قدمے، سخنے اور فہمے اردو کے فروغ اور اس کی بقا کے لیے، اردو کی ترقی اور ترویج کے لیے ۵۳ سال سے کوشاں ہیں اور یہ کام وہی شخص کر سکتا ہے جسے ادب سے بے حد لگاؤ ہو۔ اردو سے محبت اور انسیت ہو۔ بلا شبہ اردو اسکالرز سے انسیت، محبت اور خلوص کا ہی نتیجہ ہے کہ انھوں نے ’تذکروں کا اشاریہ‘جیسی کتاب مرتب کی اور وہ بھی ٢٠٢٠ میں جب کہ وطن عزیز ہندوستان کووڈ-١٩ اور لاک ڈاؤن کے زیر اثر تھا اور ہر طرف ویرانی چھائی ہوئی تھی۔ زمین پر پرندے اور آسمان پر طیارے تک پرواز نہیں کر رہے تھے۔ اس کتاب میں ہندستا ن اور پاکستان کے تین ہزار سے زیادہ ادیبوں کا اشاریہ ہے۔

ایک خوش خبری یہ بھی ہے کہ لاہور یونیورسٹی میں ایک اسکالر جویریہ امجد نے پروفیسر سعدیہ بشیر صاحبہ کی نگرانی میں ڈاکٹر محمد اطہر مسعود خاں کی افسانہ نگاری اور ادب اطفال میں خدمات کے لیے دسمبر٢٠٢٠ میں ایم.فل کی ڈگری حاصل کی ہے۔ اس اہم کام کے لیے میں جویریہ امجد اور ڈاکٹر محمد اطہر مسعود خاں کو مبارک باد پیش کرتی ہوں۔
بلا شبہ بارگاہ ایزدی میں سجدہ ریز ہو کر دعا کرتی ہوں کہ اللہ تعالیٰ موصوف کو صحت کے ساتھ طویل عمر عطا فرمائے تاکہ آنے والی نسلیں ان کی تخلیقات اور کتابوں سے فیض یاب ہوں اور ان کی نگارشات اور تخلیقات نئی نسل کے لیے مشعل راہ ثابت ہوں،آمین

Previous articleاتنی دیر میں بیربل کئی دیگ کھچڑی پکا چکا ہوتا از : سید فضیل احمد ناصری
Next articleیہ خاموشی کہاں تک؟ لذت فریاد پیدا کر از: ڈاکٹر کہکشاں عرفان الہ آباد

اپنے خیالات کا اظہار کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here