ڈاکٹر شہاب ظفر اعظمی کی کتاب ” کلیم الدین احمد” – ایک مطالعہ از: ڈاکٹر محمد سراج اللہ تیمی

1
329

ایم آئی ٹی بی ایڈ کالج، پٹنہ
ڈاکٹر شہاب ظفر اعظمی صدر شعبہ اردو، پٹنہ یونیورسٹی، پٹنہ کا شمار اردو زبان وادب کے معتبر ادباء میں ہوتا ہے۔ تنقید، تحقیق اور صحافت کے میدان میں ان کے کارہائے گراں مایہ اظہر من الشمس ہیں۔ ان کے علمی، ادبی، تحقیقی، تنقیدی اور صحافتی مضامین ملک وبیرون ملک کے رسائل وجرائد میں نہایت اہتمام سے شائع ہوتے رہے ہیں۔ پٹنہ یونیورسٹی سے شائع ہونے والے جریدہ “اردو جرنل” کے مدیر ہیں۔ اب تک ان کی متعدد تالیفات و تصنیفات شائع ہوچکی ہیں جن میں” اردو کے نثری اسالیب”،” فرات”،” مطالعہ و محاسبہ”،” اردو ناول کے اسالیب”، “جہان فکشن”،” متن اور معنی”، “صالحہ عابد حسین : فنی وفکری جہات”،” مطالعات فکشن “اور “کلیم الدین احمد”( مونو گراف) قابلِ ذکر ہیں۔

آخر الذکر کتاب اردو ڈائرکٹوریٹ، محکمہ کابینہ سکریٹریٹ، حکومت بہار، پٹنہ کے زیر اہتمام 2019 میں شائع ہوئی تھی۔
زیر مطالعہ کتاب میں ” پیش لفظ” اردو ڈائرکٹوریٹ کے سابق ڈائریکٹر امتیاز احمد کریمی نے لکھا ہے۔ اس میں انہوں نے کلیم الدین احمد کو مستند، معتبر ، بلند قامت ادبی شخصیات اور دبستانِ بہار کے معماروں میں شمار کیا ہے۔ ساتھ ہی انہیں اردو کے نقاد اعظم تسلیم کئے جانے پر مہر تصدیق ثبت کرتے ہوئے اردو تنقید میں ان کے کارہائے گراں مایہ کو طشت ازبام کیا ہے،ملاحظہ فرمائیں :

” پروفیسر کلیم الدین احمد اردو کے نقاد اعظم تسلیم کئے جاتے ہیں۔ انہوں نے اپنی تحریروں میں اردو تنقید، شاعری، تذکرے، داستان اور کئی اصناف کا غیر جانبدارانہ، سخت گیر اور مدلل احتساب کیا نیز اردو میں معروضی وعملی تنقید کی بنیاد رکھی۔ “اردو شاعری پر ایک نظر”، ” اردو تنقید پر ایک نظر “، تحلیل نفسی اور ادبی تنقید”، اردو زبان اور فن داستان گوئی”، “عملی تنقید” اور “اقبال ایک مطالعہ” جیسی کتابیں جہاں اردو تنقید کو اعتبار کی بلندی تک پہنچاتی ہیں، وہیں آنے والی نسلوں کو تنقید کا اعلیٰ معیار و اقدار فراہم کرتی ہیں۔ کلیم الدین احمد کی دیگر ادبی تصانیف مثلاً “اپنی تلاش میں”، ” میری تنقید ایک بازدید “، ” میر انیس “، معاصر”، جامع انگریزی اردو لغت”، ” اصنام “، ” دیوان جوشش”، “کلیات شاد” ان کی بے پناہ علمیت، وسیع تر مطالعے اور فکر ونظر پر دال ہیں۔ “(ص:5)

زیر مطالعہ کتاب میں سہ ماہی “سنگم” کے سابق نائب مدیر ڈاکٹر اسلم جاوداں کا مختصر، مگر جامع مضمون بعنوان “کلیم الدین احمد:ایک معروضی تعارف” شامل ہےجس میں انہوں نے کلیم الدین کی تاریخ پیدائش، جائے پیدائش، تعلیم وتربیت، ان کی ادبی، شعری ونثری تصنیفات، ایوارڈ و انعامات، انتقال وتدفین کے حوالے سے گفتگو کی ہے۔ اس مضمون کے آغاز میں ڈاکٹر اسلم جاوداں نے پروفیسر کلیم الدین کا تعارف بایں سطور قلمبند کیا ہے :

” پروفیسر کلیم الدین احمد اردو ادب کے سب سے زیادہ مستند اور محترم ناقد کی حیثیت سے پوری اردو دنیا میں امتیازی شناخت کے حامل ہیں۔ انہوں نے اردو میں تنقید نگاری کو جو معروضیت، زرف نگاہی، قطعیت اور واضح بیانی عطا کی وہ ان سے قبل نادر و نایاب تھی۔ انہوں نے اردو شعر وادب کا جس سخت اصول پسندی، معیار بندی اور قطعیت کے ساتھ جائزہ لیا اس سے قبل اس کی مثال نہیں ملتی۔ ان کے تنقیدی نقطۂ نظر کے بارے میں عام خیال یہ ہے کہ اس میں مغرب زدگی پائی جاتی ہے اور وہ مشرقی اقدار سے صرف نظر کرتے ہیں۔ یہی سبب ہے کہ انہوں نے غزل جیسی دلکش اور مقبول ترین صنف سخن کی برتر ادبی حیثیت کی نفی کرتے ہوئے اسے “نیم وحشی صنف سخن” کہا۔ ان کے تنقیدی رویے میں سخت گیری پائی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے اردو ادب میں تنقید کے وجود کی یکسر نفی کرتے ہوئے کہا:”اردو میں تنقید کا وجود محض فرضی ہے۔ یہ اقلیدس کا خیالی نقطہ ہے یا معشوق کی موہوم کمر”۔ کلیم الدین احمد کے مذکورہ دونوں جملوں نے ادبی دنیا میں تہلکہ مچا دیا اور اس پر زبردست ہنگامہ آرائی ہوئی۔ ان کی مخالفت میں سینکڑوں مقالے لکھے گئے لیکن بالآخر بیشتر ارباب قلم کو تسلیم کرنا پڑا کہ کلیم الدین احمد کی تنقید مضبوط اور مدلل بنیاد رکھتی ہے جس کو کسی طور سے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔آہستہ آہستہ اردو تنقید پر کلیم الدین احمد کی بالادستی تسلیم کرلی گئی۔ بہت سے دانشوران ادب کی نظر میں کلیم الدین احمد کی تنقید حرف آخر کا درجہ رکھتی ہے اور آج بھی وہ اردو کے سب سے بڑے ناقد تسلیم کئے جاتے ہیں۔ “(ص:6)

ڈاکٹر شہاب ظفر اعظمی نے بقلم خویش ” ابتدائیہ “لکھا ہے جس میں انہوں نےخواجہ الطاف حسین حالی کے بعد اردو تنقید کا دوسرا بڑا نام کلیم الدین احمد کا بتایا ہے اور یہ اعتراف کیا ہے کہ:
” کلیم الدین احمد اپنی تحریروں سے اردو شعر وادب کی دنیا میں ایک انقلاب برپا کرکے اسے عالمی ادب کا ہم پلہ بنانا چاہتے تھے۔ ان کی کوششیں اردو ادب کے لیے مفید ثابت ہوئیں اور آہستہ آہستہ ہی سہی، مگر ایک انقلاب ضرور آیا۔ اشتراکی ادب کا جادو کم ہوا اور ادب کو صرف ادب کی کسوٹی پر جانچنے کا رجحان وجود میں آیا۔ تنقید میں تعریف وتحسین کے ساتھ ساتھ کوتاہیوں اور خامیوں کی کی گرفت کا حوصلہ پیدا ہوا اور ناقدین نے سیکھا کہ تنقید گول مٹول باتیں کرنے کا نام نہیں، بلکہ تجزیہ اور احتساب کے بعد سچائی کے ساتھ تعین قدر کا نام ہے۔ انہوں نے تنقیدی نثر کے لیے سادہ نثر کی وکالت کی اور محمد حسن عسکری یا فراق گورکھپوری کی زبان کو نامناسب قرار دیا، چنانچہ تنقید میں آرائش، تصنع اور سجاوٹ سے پاک عام بول چال کی نثر لکھنے کا رجحان بڑھا. یہ محض چند نشانات ہیں جو کلیم الدین احمد کی اہمیت کی جانب اشارہ کرتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ الطاف حسین حالی کے بعد ایک مکمل ناقد صرف کلیم الدین احمد نظر آتے ہیں جن کے نقطۂ نظر اور طریقہ کار سے اختلاف کے باوجود اردو کے تقریباً تمام بڑے ناقدین ان کے وسعت علمی، نکتہ سنجی، ذہنی پختگی اور شعر وادب کی نباضی کے قائل رہے ہیں”۔ (ص:10)
کتاب میں ” کلیم الدین احمد : شخصیت اور سوانح ” عنوان قائم ہے جو صفحہ 15 سے 26 تک کا احاطہ کئے ہوا ہے۔ اس میں فاضل مصنف نے پروفیسر کلیم الدین احمد کی شخصیت اور ان کی سوانح عمری پر تفصیلی روشنی ڈالی ہے۔ اس کا لب لباب یہ ہے کہ کلیم الدین احمد کی پیدائش 15/ ستمبر 1908 کو (سرٹیفکیٹ کے مطابق 1909) شام ساڑھے چھ بجے محلہ خواجہ کلاں، پٹنہ سیٹی میں ہوئی۔ ان کے والد پروفیسر عظیم الدین احمد پٹنہ کالج میں عربی وفارسی کے پروفیسر اور ایک ذی علم شخص تھے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم اپنے والد سے حاصل کی، مگر جب والد محترم کو لاہور جانا پڑا تو گھر کے دوسرے بچوں کے ساتھ انہوں نے حافظ عبد الکریم سے تعلیم حاصل کی۔ اس دوران انہوں نے اردو کی پہلی، دوسری، تیسری کتاب، قاعدہ بغدادی اور قرآن شریف پڑھی اور آمد نامہ، گلستاں بوستاں سے گزرتے ہوئے میزان، منشعب، صرف میر، نحومیر،شرح مأئتہ عامل، ہدایتہ النحو اور کافیہ وغیرہ کا درس حاصل کیا۔ انگریزی تعلیم کی ابتدا انہوں کنگ ریڈر سے کی، اس کے بعد اسکولی تعلیم کا سلسلہ شروع ہوا۔ گھر میں ابتدا سے ہی ادبی ماحول تھا۔ والد، بڑے ابا، والد کے نانا کلیم پریشاں، بڑے بھائی اور بڑے ابا کے دوستوں میں سے اکثر شاعری کرتے تھے۔ اس کا اثر یہ ہوا کہ کلیم الدین احمد اسکول کے زمانے سے ہی اردو میں غزلیں کہنے لگے، نظمیں بھی کہیں، فارسی میں بھی شعر کہے۔ مطالعہ ان کا جنون تھا اور سامان تفریح بھی۔ انہوں نے ہمیشہ کتابوں کی رفاقت کو لوگوں کی رفاقت پر ترجیح دی۔ کم سخنی اور کم آمیزی کے باعث حلقہ احباب نہ کے برابر تھا۔ کتابیں ہی ہر وقت رفیق و غمگسار بنی رہیں۔ آرنلڈ کے اسلوب سے زیادہ متأثر تھے۔ 1933 میں کیمبرج یونیورسٹی سے اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے بعد پٹنہ کالج میں لکچرر مقرر ہوئے۔ 1952 میں پٹنہ کالج کے پرنسپل ہوئے۔ 1958 میں حکومت بہار کے ڈائرکٹر آف پبلک انسٹرکشن مقرر ہوئے۔اس دوران وہ دوبار بھاگلپور یونیورسٹی کے عارضی وائس چانسلر بھی مقرر کئے گئے۔ اکتوبر 1964 سے ستمبر 1967 تک بہار سکنڈری اسکول اکزامینیشن بورڈ کے اعزازی چئیرمین رہے۔ 15/ستمبر 1967 سے 17/جنوری 1970 تک اس بورڈ کے کل وقتی چئیرمین رہے۔ 1970 سے 1973 تک خدا بخش اورینٹل پبلک لائبریری، پٹنہ کے ڈائریکٹر رہے۔ 1973 میں انہیں غالب ایوارڈ سے نوازا گیا۔ 1974 میں وہ ترقی اردو بورڈ کے انگریزی اردو لغت کے چیف ایڈیٹر ہوئے۔ 1980 میں انہیں “اعزاز میر” کی سند سے نوازا گیا۔ جولائی 1980 سے دسمبر 1982 تک بہار اردو اکادمی کا نائب صدر رہے۔ 1981 میں انہیں حکومت ہند کی جانب سے پدم شری کا خطاب ملا۔ 12/ دسمبر 1983 کرشنا پوری، پٹنہ میں ان کا انتقال ہوا اور 22/ دسمبر 1983 کو بہ مقام آبائی مکان، خواجہ کلاں، پٹنہ سٹی، پٹنہ تدفین عمل میں آئی۔
ڈاکٹر شہاب ظفر اعظمی نے کلیم الدین احمد کی کتاب ” اپنی تلاش میں “جلد اول، دوم، “اردو تنقید پر ایک نظر”،” ادبی تنقید کے اصول ” اور جمیل جالبی کی کتاب ” ایلیٹ کے مضامین ” وغیرہ کی روشنی میں کلیم الدین احمد کے افکار و نظریات پر سیر حاصل گفتگو کی ہے۔ کلیم الدین احمد ادب اور تنقید کے گہرے رشتے کے قائل تھے۔ وہ ناقد کے لیے تنقید کے اصول وضوابط سے بخوبی واقفیت کو لازمی تصور کرتے تھے۔ اس سلسلے میں ڈاکٹر شہاب ظفر لکھتے ہیں:
” کلیم الدین احمد کے نزدیک تنقید اور ادب میں ایک گہرا رشتہ ہے۔ تنقید ادب کی پیروی کرتی ہے، ادب سے الگ ہوکر تنقید زندہ نہیں رہ سکتی۔ ادب پہلے وجود میں آتا ہے، تنقید بعد میں، کیوں کہ ادبی کارناموں سے ہی نقاد اصول فن اخذ کرتا ہے۔ ان کا خیال ہے کہ تنقید ایک مشکل ترین فن ہے جس کی بنیاد اصولوں اور ضابطوں پر ہے۔ نقاد کو تنقید کے تمام پہلؤوں سے واقف ہونا چاہیے۔ اس کے پاس لطیف قوت حاسہ اور وسیع فکر و نظر ہونا چاہیے”۔ (ص:35-34)

فاضل مصنف نے عنوان ” کلیم الدین احمد کی تنقیدی خدمات ” کے ضمن میں فن تنقید میں ان کی مہارت نیز مشرقی اور مغربی دونوں ادب سے ان کی بخوبی واقفیت،بلکہ ان پر دسترس رکھنے کی بڑی کشادہ دلی سے وضاحت و صراحت کی ہے۔ وہ رقمطراز ہیں:
” کلیم الدین احمد مشرقی ادب اور مغربی ادب دونوں سے نہ صرف واقفیت رکھتے تھے، بلکہ ان پر کم وبیش یکساں انہیں دسترس بھی حاصل تھی۔ اس لیے مشرقی و مغربی دونوں ادب، دونوں کے اصول و نظریات اور دونوں کے طریقئہ نقد کے اثرات کلیم الدین احمد کی تنقید پر پائے جاتے ہیں۔ ان کی تنقید میں توازن، وسعت، بے باکی اور بصیرت دونوں ادب کے مطالعے سے پیدا ہوئی۔” “(38-37)
مصنف موصوف نے مذکورہ عنوان کے تحت ہی اس بات پر بھی مہر لگائی ہے کہ کلیم الدین احمد کی تنقید نگاری کا آغاز ان کے والد پروفیسر عظیم الدین کی نظموں کے مجموعہ” گل نغمہ” سے ہوا تھا۔ انہوں نے اس مجموعہ کو ترتیب دیا تھا، اس میں اپنا تحریر کردہ مقدمہ بھی شامل کیا تھا جس میں انہوں غزل کے تعلق سے چند متنازعہ باتیں لکھی تھیں۔ اس مقدمہ میں ان کا یہ مشہور جملہ بھی شامل تھا کہ” غزل نیم وحشی صنف سخن ہے”۔ اعظمی صاحب نے اسی عنوان کے ضن میں کلیم الدین احمد کی چند تنقیدی نگارشات کا تعارف دل کھول کر قلمبند کیا ہے۔ قرأت کے دوران قطعاً گمان نہیں ہوتا کہ انہوں نے تعارف پیش کرنے میں کوتاہ نظری و کوتاہ قلمی سے کام لیا ہے جیسا بعض لوگ لیتے ہیں۔ جن کتابوں کاتعارف پیش کیا ہے ان میں “اردو شاعری پر ایک نظر” (حصہ اول، دوم)، ” اردو تنقید پر ایک نظر”، “اردو زبان اور فن داستان گوئی”، “سخن ہائے گفتنی”، “عملی تنقید”، “ادبی تنقید کے اصول”، “اقبال :ایک مطالعہ”، “قدیم مغربی تنقید” اور” میر انیس “شامل ہیں۔
یہ سچ ہے کہ پروفیسر کلیم الدین احمد بحیثیت ناقد بہت مشہور ہیں۔ انہیں دوسری اصناف میں زیادہ شہرت نہیں مل سکی۔ حالانکہ انہوں نے شاعری بھی کی تھی، خود نوشت بھی لکھی ہے اور تحقیق کے میدان میں بھی کام کئے ہیں۔ ڈاکٹر شہاب ظفر اعظمی نے اپنی اس کتاب میں ایک عنوان ” کلیم الدین احمد کی تحقیقی خدمات ” قائم کیا ہے جس میں انہوں نے یہ اعتراف کیا ہے کہ :
” اردو میں کلیم الدین احمد کو بحیثیت ناقد جو شہرت ملی ، اس نے ان کی دیگر تصنیفات اور ادبی کاوشوں کو لوگوں کی نگاہوں سے اوجھل کر دیا۔۔۔ کلیم الدین احمد کے یہاں جہاں تنقید کی ساری صلاحیتیں بدرجہ اتم موجود تھیں، وہیں تحقیقی اوصاف اور ہنر مند یوں سے بھی پوری طرح نوازے گئے تھے۔، چنانچہ انہوں نے نہ صرف یونیورسٹی میں اعلیٰ اور معیاری تحقیق کو فروغ دیا، بلکہ تذکرہ شورش، تذکرہ عشق، تذکرہ گلزار ابراہیم، کلیات شاد، دیوان جوشش اور تین تحقیقی مقالات وغیرہ سے عمدہ تحقیق کا ایک معیار بھی قائم کیا۔ “(ص:71)

فاضل قلمکار نے ان سبھی کتابوں پر مدلل و جامع تبصرہ کیا ہے اور ان سب کو کلیم الدین احمد کا بڑا تحقیقی کارنامہ قرار دیا ہے۔ نیز کلیم الدین احمد کو بڑا ناقد کے ساتھ ساتھ ایک بڑا محقق بھی باور کرانے کی سعئی مسعود کی ہے۔ صفحہ 78 پر “کلیم الدین احمد کی شاعری” عنوان قائم ہے جو صفحہ 82 تک پھیلا ہوا ہے۔ اس میں ڈاکٹر شہاب احمد نے اس حقیقت کو مترشح کیا ہے کہ کلیم الدین احمد کو بچپن سے ہی شعر وادب سے لگاؤ تھا۔ انہوں طالب علمی کے زمانے میں ہی شاعری شروع کردی تھی۔اس کے لیے دو کاپیاں بنارکھی تھیں۔ایک کا عنوان تھا “کشکول ” جس میں 230 غزلیں تھیں۔ دوسری کا نام ” سبد گل چیں “تھا۔ اس میں 125 نظمیں شامل تھیں۔ ان کی نظموں کا مجموعہ” 42 نظمیں” 1965 میں شائع ہوا۔ اسی طرح 25 نظموں پر مشتمل دوسرا مجموعہ 1966 میں منظر عام پر آیا۔ صفحہ 83 پر ” کلیم الدین احمد کی دیگر ادبی خدمات ” عنوان ہے۔ اس میں فاضل مصنف نے ” گل نغمہ”،” اپنی تلاش میں “، ” میری تنقید ایک بازدید “، “Idols “، “جامع انگریزی اردو لغت”، ” معاصر کے مضامین اور تبصرے”اور “دیگر رسائل میں شائع شدہ مضامین” کے حوالے سے خامہ فرسائی کی ہے۔ صفحہ 91 پر “نمونئہ نثر” عنوان ہے جو صفحہ 97تک کا احاطہ کئے ہوا ہے۔ اس میں کلیم الدین احمد کی کتاب “اردو شاعری پر ایک نظر”،” سخن ہائے گفتنی”، “اردو تنقید پر ایک نظر “، ” اقبال:ایک مطالعہ “، “میر انیس”، “میری تنقید ایک بازدید”،” ادبی تنقید کے اصول”، “ناول کا فن”، “عملی تنقید” اور “قدیم مغربی تنقید ” سے تقریباً 18اہم اقتباسات بطور نمونہ پیش کئے گئے ہیں جن کے مطالعہ سے کلیم الدین احمد کے افکار ونظریات، اسلوب اور طرز تحریر وغیرہ کا بخوبی علم ہوتا ہے۔ صفحہ 98 پر نمونہ نظم عنوان ہے جو 108 تک کو محیط ہے۔ اس کے ضمن میں کلیم الدین احمد کی تقریباً 15 نظمیں شامل ہیں۔ اخیر میں صفحہ 113 پر ” کلیم الدین احمد ناقدین و محققین کی نظر میں ” عنوان ہے جو صفحہ 120 تک مشتمل ہے۔ اس میں پروفیسرسید محمد حسنین، پروفیسر عبد المنان بیدل، قاضی عبد الودود، پروفیسر اختر اورینوی، پروفیسر آل احمد سرور، پروفیسر سید احتشام حسین، پروفیسر عبد المغنی، پروفیسر محمد حسن، پروفیسر صدرالدین فضا شمسی، پروفیسر عبادت بریلوی، پروفیسر شمس الرحمن فاروقی، پروفیسر سید محمد عقیل، پروفیسر اسلوب احمد انصاری، پروفیسر محمود الہی، پروفیسر شارب ردولوی، پروفیسر وہاب اشرفی، ڈاکٹر کلیم احمد عاجز، ڈاکٹر ظفر اوگانوی، پروفیسر نجم الہدیٰ، پروفیسر عبد الواسع، پروفیسر ابو الکلام قاسمی، پروفیسر اعجاز علی ارشد، ڈاکٹر ابرار رحمانی اور ڈاکٹر زائرہ کلیم کے پروفیسر کلیم الدین احمد کے حوالے سے تأثرات، نظریات اور اقوال وآرا شامل ہیں۔

مجموعی طور کہا جائے کہ ڈاکٹر شہاب ظفر اعظمی نے اپنی اس کتاب میں پروفیسر کلیم الدین احمد کی شخصیت، حیات، افکار ونظریات، تنقیدی، تحقیقی اور دیگر ادبی خدمات کے متعدد گوشوں پر نہایت مدلل، جامع و عالمانہ انداز میں روشنی ڈالی ہے۔ اردو مونوگراف میں یہ کتاب بڑی اہمیت کی حامل ہے۔ مصنف موصوف چونکہ پٹنہ یونیورسٹی میں اردو کے استاد ہیں، اس لیے انہوں نے یہ کوشش کی ہے کہ اس کتاب میں کلیم الدین احمد کے حوالے سے وہ سارے مواد جمع ہو جائیں جو کالجوں اور یونیورسٹیوں کے ریسرچ اسکالروں کے لیے بالخصوص اور دوسرے محققین کے لیے بالعموم نہایت کارآمد و نفع بخش ہوں۔

Previous article“کتاب گھر”از: ایس ایم حسینی
Next articleڈاکٹر خالد مبشر کا ایک چبھتا ہوا سوال:بہار کی دونوں سنٹرل یونی ورسٹیوں میں اردو کا شعبہ کیوں نہیں؟

1 COMMENT

اپنے خیالات کا اظہار کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here