ڈاکٹر سروپلی رادھا کرشنن اور یوم اساتذہ ​از: داؤد احمد

0
102

ماہر تعلیم،فلسفی اور معروف سیاسی رہنما ڈاکٹر سروپلی رادھا کرشنن کی ولادت ۵؍ستمبر۱۸۸۸ء میں مدراس سے چالیس میل دور تنترن نامی مقام پر ہوا تھا۔آپ نے اپنی ابتدائی تعلیم عیسائی مشنری اسکول میں حاصل کی تھی۔۱۹۰۹ء میں آپ نے ایم۔اے کی ڈگری حاصل کی۔اسی سال آپ پریسیڈینسی کالج مدراس میں فلسفہ کےاستاد مقرر ہوئے۔۱۹۲۱ء میں کلکتہ یونیوردٹی میں فلسفہ کے مدرس کے عہدہ پر تقرر ہوئے۔آپ آندھر اور بنارس یونیورسٹی کے وائس چانسلر بھی رہے۔۱۹۵۰ء میں آپ کو سو ویت روس میں ہندوستانی سفیر بنا کر بھیجا گیا۔وہاں آپ نے ہندوستانی تہذیب و ثقافت کا کامیابی کے ساتھ نمائندگی کی۔۱۹۵۲ء سے ۱۹۶۲ء تک ہندوستان کے صدر جمہوریہ رہے۔دوران صدر جمہوریہ ان کے کچھ شاگردوں اور دوستوں نے ان سے درخواست کی کہ انھیں ان کی پیدائش منانے کی اجازت دی جائے تو انھوں نے جواباًلکھا :

“میرے یوم پیدائش منانے کے بجائے اگر 5ستمبر کو یوم اساتذہ منایا جائے تو مجھے زیادہ فخر ہوگا”۔

۵؍ستمبرسابق جمہوریہ ہند ڈاکٹر سروپلی رادھا کرشنن کا یوم پیدائش ہے جو ان کی خواہش کے مطابق یوم اساتذہ کے طور پر منایا جاتا ہے۔درس وتدریس کو چھوڑ کر ہندوستان میں ایسا کوئی پیشہ نہیں ہے جسے قومی سطح پر یہ اعزاز حاصل ہوکہ اس کا باقاعدہ دن منایا جاتا ہو۔اس کا آغاز کچھ اس طرح ہوا کہ ۵؍اپریل ۱۹۵۲ء ہندوستان کے صدر جمہوریہ بننے کے بعد جب ڈاکٹر موصوف کا جنم دن منانے کی تجویز پیش کی گئی تو انھوں نے اپنے جنم دن کو یوم اساتذہ کی حیثیت سے منانے کی صلاح دی اور پھر آزاد ہندوستان کے پہلے وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو کی اجازت پر ۵؍ستمبر کو قومی یوم اساتذہ قرار دے دیا گیا۔پورے ملک میں ۵ستمبر کو یوم اساتذہ منایا جاتا ہے۔یہ دن ہم سب کے لئے اپنے ان اساتذہ کو یاد کرنے کا ہوتا ہے جنھوں نے ہمیں ایک اچھا انسان اور ایک اچھا شہری بنانے میں مدد کی ہے۔جنھوں نے اپنے علم کو ہم سے اس طرح بانٹا کہ آج ہم دنیا کا سامنا کرنے کے لائق ہو سکے ۔ہندوستان کے سابق صدرجمہوریہ سروپلی رادھا کرشنن کو ایک استاد کے طور پر تسلیم کیا جانا پسند تھا۔انھوں نے صدر ہونے کے باوجود استاد کی اپنی شاندار زندگی جی۔

ڈاکٹر رادھا کرشنن ایک اچھےاستادرہ چکے تھے۔انھوں نے ‘‘رابندر ناتھ ٹیگور کا فلسفہ’’ ‘موجودہ فلسفے پر مذہب کی چھاپ’ ۱۹۲۰ء میں ‘ہندوستانی فلسفہ’ اور ۱۹۲۲ء میں ‘ہندو نظریہ حیات’ کتابیں لکھیں۔یوم اساتذہ کے ذریعہ تمام اساتذہ کو خراج تحسین پیش کرکے ان کی خدمات کا اعتراف کیا جاتا ہے۔کرنا بھی ضروری ہے کیوں کہ بغیر استاد کے علم مکمل نہیں ہو سکتا۔مہر بان استاد نہ ملے ہوتے تو ہم طالب علموں کی مختلف شعبوں میں ترقی نا ممکن ہوتی،آج ہم جو کچھ ہیں ان کے مرہون منت ہیں۔
ہرسال یہ دن آتا ہے تو ہماری گزری ہوئی زندگی کی یادیں تازہ ہو جاتی ہیں کہ اس تعلیمی سفر کے دوران ہمارے مہربان اساتذہ کے ساتھ ہم نے جو وقت گزارا تھا وہ بہت یادگار تھا اور اسے بھول پانا اتنا آسان نہیں ہے۔اسے یاد کرکے دل میں ایک کسک پیدا ہوتی ہے لیکن قدرت کا یہی نظام ہے کہ زندگی آگے بڑھتی ہے اور کئی دن تک ہماری کیفیت بقول شاعر ؎
اداس شام کسی خواب میں ڈھلی تو ہے
یہی بہت ہے کہ تازہ ہوا چلی تو ہے
کسی بھی معاشرے میں استاد کا مقام نہایت اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔استاد دانشمندانہ روایات کی منتقلی اور تہذیب کے چراغوں کو روشن کرتا ہے ۔تعلیم کی جدید کاری و تعمیر میں سب سے اہم کردار استاد کا ہوتا ہے۔تعلیمی عمل میں استاد محور ہوتا ہے جس کے ارد گرد تمام تعلیمی نظام گردش کرتا ہے۔اساتذہ کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ بچوں کی پوشیدہ صلاحیتوں کا جائزہ لیتے ہوئے ان کو بہتر طریقہ سے پروان چڑھائیں۔استاد اپنا بیشتر وقت طلبہ کی قربت میں گزارتا ہے جس کے نتیجے میں اساتذہ کے رویے،حرکات و سکنات ،پسند ونا پسند اور برتاؤ کا طلبہ پر گہرا اثر پڑتا ہے۔اپنے دوستانہ برتاؤ،صبر اور خاموش مزاجی کے ذریعے استاد کمرۂ جماعت میں ایک اچھی جذباتی فضا کو ہموار کرتا ہے۔ادنیٰ و اعلیٰ لیاقت کے حامل طلبہ کے ساتھ مساویانہ تعلیمی منصوبہ بندی اور عمل پیرائی کے ذریعہ ایک اچھے استاد کا اندازہ قائم کیا جا سکتا ہے۔
آج تعلیم کا ہر طرف بول بالا نظر آتا ہے جو ایک خوش آئند بات ہے ۔یہ تعلیم ہی ہے جوانسان کو انسان بناتی ہے ۔تعلیم کے سبب ہی انسان چاند تک پہنچا ہے۔کہا جاتا ہےکہ بچے کی پہلی درسگاہ ماں کی گود ہوتی ہے۔دیکھا جائے تو ماں اور استاد میں زیادہ فرق نہیں ہوتا کیونکہ ماں اپنے بچوں کو گھر کی دہلیز میں رہ کر تعلیم دیتی ہے،طور طریقے سکھاتی ہے اور اسی کے ساتھ اچھی تربیت سے بھی آراستہ کرتی ہے اور استاد دہلیز کے باہر یعنی اسکولوں،مدرسوں اور کالجوں وغیرہ میں۔
تعلیم و تدریس نہایت ہی مقدس اور معزز پیشہ ہے،ہر مذہب اور ہر سماج میں اساتذہ کو بڑا احترام حاصل رہا ہے؛ کیوں کہ سماج میں جو کچھ بھلائیاں اور نیکیاں پائی جاتی ہیں اور خدمت خلق کا جو سرو سامان موجود ہے ،وہ سب دراصل تعلیم ہی کا کرشمہ ہے اور درسگاہیں ان کا اصل سر چشمہ۔اساتذہ کا احترام اسی قدر ضروری ہے جتنا اپنے والدین کا۔ استاد باپ کا درجہ رکھتا ہے لیکن اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنے شاگردوں کو وہی محبت اور پیار بھی دے، جو ایک باپ اپنی اولاد کو دیتا ہے۔
ہمیں چاہئے کہ ہم طالب دولت بننے کے بجائے طالب علم بننے کی طرف دھیان دیں۔قرآن شریف میں بھی علم حاصل کرنے کی تلقین کی گئی ہے جبکہ احادیث میں آیا ہے کہ علم حاصل کرو چاہے اس کے لئے چین تک ہی کیوں نہ جانا پڑے۔اس کے علاوہ یہ بھی کہا گیا ہے کہ ہر مرد اور عورت پر علم حاصل کرنا فرض ہے۔اسی بات سے ہم اندازہ لگا سکتے ہیں کہ تعلیم کا ہماری زندگی میں کیا مقام ہے۔بیشک استاد کا احترام ضروری ہے کیوں کہ استاد علمی پرورش کرکے ہمیں اچھا انسان بناتا ہے۔اسی لئے اسے قوم کا معمار کہا جاتا ہے ۔وہ طالب علم کے لئے مشعل راہ ہوتے ہیں ۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ سماج اور قوم کی تعمیر میں اسا تذہ کا بڑا رول ہے وہ نہ صرف طلبہ بلکہ سماج کے لئے بھی قابل احترام ہیں ۔ہمیں اساتذہ کی قدرومنزلت اور ان کی اہمیت کو سمجھنے کی ضرورت ہے کیونکہ ان کی محنتوں اور قربانیوں کے سبب ہی قوموں کی تقدیر سنورتی ہے۔ بقول شاعر ؎
یہ ارض وسماوات زباں ہو نہیں سکتے
استاد کے اوصاف بیاں ہو نہیں سکتے

اسسٹنٹ پروفیسرشعبہ اردو، فخرالدین علی احمد گورنمنٹ پی جی کالج،محموداۤباد،سیتاپور (یو۔پی)

Previous articleآتا نہیں کوئی فن استاد کے بغیر! از : مجاہد عالم ندوی
Next articleقیصر صدیقی کی شاعری میں عرفان ذات از: منصور خوشتر

اپنے خیالات کا اظہار کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here