’’چالیس بابا ایک چور‘‘ پر تنقیدی نظر

0
268

عبدالوہاب قاسمی

عہدِ حاضر کے ڈراما نویسوں میں جاوید دانش محبوب، مقبول اور پرکشش شخصیت کے حامل ہیں۔ وہ اپنے سامعین و قارئین پر کچھ ایساسحر قائم کرتے ہیں کہ انھیں پڑھنے اور سننے والا خود بخود ان کی طرف کھنچا چلاآتا ہے۔ وہ دنیوی جاہ و حشم کے بالمقابل اپنی ادبی خدمات کے توسط سے دلوں پر حکمرانی کرنے کا فن جانتے ہیں۔ ان کے سینے میں محبت سے لبریز دل ہے جو انسانیت کے لیے دھڑکتا ہے۔ یہی دھڑکن ان کے لب و لہجے میں خوشبو بن کر پھیلتی اور بکھرتی ہے۔ یہ خوبی ایک فن کار کی متاعِ بے بہا ہے جس کو وہ جتنا لٹاتا ہے اتنی ہی اس کی تخلیقی شخصیت نکھرتی چلی جاتی ہے۔ جاوید دانش اس راز سے آگاہ ہیں اس لیے ان کے ڈراموں کو پڑھتے ہوئے جو پہلا تاثر قائم ہوتا ہے وہ یہی کہ ان ڈراموں کے بین السطور میں ڈراما نگار کی دل گداز و دل آویز شخصیت بھی سماتی چلی گئی ہے۔
کینیڈا (امریکا)میں مقیم جاوید دانش کا قلم داستان سرائی، سفرنامہ نگاری اور ڈرامانویسی وغیرہ پر برسوں سے تحریری گل بوٹے سجارہا ہے جن میں فن کار کے دانشورانہ شعور کا پرتَو واضح طورپر نظر آتا ہے۔کسی بھی تخلیق میں تخلیق کار کے خلوص اور جذبۂ صادق کی شمولیت سے ہی ہمہ گیر اور وسیع تر انسانی مفادات کے تابندہ نقوش ابھرتے ہیں۔ جاوید دانش کے یہاں یہ نقوش خوشگوار حیرت کے ساتھ روشن ہوئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے ڈرامے سطحی اور رسمی قسم کے ہونے کے بجاے قاری کو نہ ختم ہونے والے جذبات و کیفیات سے سرشار کردیتے ہیں۔ ایسے ڈرامے سوچ کی بلندی اور فکر کی وسعت کے بغیر نہیں لکھے جاسکتے۔
جاوید دانش کی دیگر تصنیفات و تراجم سے قطعِ نظر ’’چالیس بابا ایک چور‘‘ کا مطالعہ کیجیے تو ڈرامانگار کے کئی انفرادی زاویے منور دکھائی دیتے ہیں۔ عصری حسّیت، مشاہداتی قوت، بصیرت افروزی، کرداروں کے درون میں جھانکنے کی خوٗ، ان کے نفسیاتی مطالعے، تہذیبی کش مکش، کہانی بننے کا فن، موضوع کامنفرد انتخاب اور ایک سلجھا ہوا اسلوب جیسے پہلوئوں پر ٹھہر ٹھہر کرغور کیجیے تو ان کی فنی پختگی کا احساس ہوتا ہے۔
’’چالیس بابا ایک چور‘‘ میں سات ڈرامے ہیں۔ ’’مکتی‘‘ ، ’’کوئل جان‘‘ ، ’’نئی شاخ زیتون کی ‘‘ ،’’جیون ساتھی کلینک‘‘، ’’کینسر‘‘ ، ’’چالیس بابا ایک چور‘‘ اور ’’ایک تھی روحی‘‘ جیسے عنوانات کے ذریعے جاوید دانش نے کہیں احتجاج، کہیں آہیں، کہیں آنسو، کہیں دنیا کی بے بسی، کہیں اجتماعی کش مکش اور کہیں انسانی کرداروں کے کھوکھلے پن کو آئینہ دکھانے کی کوشش کی ہے۔
جاوید دانش کے ڈراموں کے تفصیلی مطالعے سے پہلے ڈراموں کے تئیں ان کے نظریات کو جان لینے سے ان کے فن کی تفہیم آسان ہوجائے گی۔ان کے مطابق :
’’ڈراما زندگی کے سفر کا علامتی اظہار ہے۔ انسانیت کو سمجھنے اور انسانی رشتوں کا سفر! کیوں کہ تھیٹر اپنی تمام تر بازی گری کے باوجود ہمیں زندگی کرنے کا ہنر، خود زندگی سے بہتر طورپر سکھاتا ہے‘‘۔ (مقدمہ)
جو فن کار ڈرامے کو زندگی کا علامتی اظہار اور انسانی مفادات کے وسیع تناظر کا بیان متصور کرتا ہو ،ظاہر ہے اس کے یہاں زندگی کا گہرااور دانش مندانہ شعور دکھائی دے گا۔یہ شعور جاوید دانش کے تمام ڈراموں میں موجود ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ تھیٹر کی بازی گری سے زیادہ فن اور زندگی کے گہرے ربط پر یقین رکھتے ہیں۔
آگے بڑھنے سے پہلے ’’چالیس بابا ایک چور‘‘ میں کرداروں کے حوالے سے اپنے مقدمے میں جاوید دانش نے جو کچھ لکھا ہے اسے بھی ایک نظر دیکھتے چلیں۔ وہ لکھتے ہیں:
’’ہجرت کے تماشے‘‘ کے سبھی کرداروں کو دس سال بعد ایک بار پھر ’’چالیس بابا ایک چور‘‘ میں یکجا کردیا گیا ہے۔ دس برس پہلے تارکینِ وطن کو روزی روٹی اور آباد کاری کا مسئلہ درپیش تھا۔ اب دس برس بعد وہی کردار اپنی جگہ آباد اور کامیاب ہوچکے ہیںمگر اب مسئلہ ذہنی سکون اور قناعت کا ہے، مذہب اور سیاست کا ہے‘‘۔
مذکورہ اقتباس کے بین السطور سے جاوید دانش کی عصری حسّیت کو ہم محسوس کرسکتے ہیں۔ کوئی بھی فن کار جب تک اپنے اہداف کو متعین نہیں کرلیتا تب تک وہ اپنا تخلیقی سفر واضح سمت کی طرف جاری نہیں رکھ سکتا۔ قابلِ غور بات یہ ہے کہ جاوید دانش نے کردار وںکے تکرر کو قندِ مکرر کہہ کراپنے جو از کی راہ ہموارنہیںکی بلکہ عصری تقاضوں کو دیکھتے ہوئے رخشِ قلم کو اس طرف موڑ دیا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ کیفیت جو ’’ہجرت کے تماشے‘‘ میں قاری پر طاری ہوتی ہے وہ یہاں شئے دیگر بن کر قاری کو اپنی گرفت میں لے لیتی ہے۔ چنانچہ ’’چالیس بابا ایک چور‘‘ کے تمام ڈراموں میں ’’ذہنی سکون‘‘ کی غارت گری کے مختلف نقوش تلاش کیے گئے ہیں۔ چند اقتباسات ملاحظہ کریں:
’’فرنانڈو: (دھیمے لہجے میں) اچھا ہوا تم مرگئے جارج… ورنہ اس وقت میں تم سے نظریں نہ ملاسکتا…میں تم سے بہت شرمندہ ہوںکہ تمھاری آخری خواہش پوری نہ کرسکا(Pause )(روہانسا ہوکر) میں نے بہت کوشش کی …بہت سمجھایا…منتیں کیں… مگر کسی کو رحم نہ آیا… کسی کا دل نہ پسیجا…جیسے سب پتھر کے ہوگئے… کوئی بھی تمھارے غم میں شامل نہیں !صرف میںہوں…اب اسے میں اپنی خوش بختی سمجھوں یا بدبختی، سب سن کر اور سارا کچھ دیکھ کر بھی میں زندہ ہوں‘‘۔
(مکتی)
’’کوئل : ہم جانتے ہیں کہ ہم پیغمبر نہیں… ہم سماج کا ناسور ہیں… جتنا ہم خاندان … سماج اور پریم پر مرتے ہیں… محبت بانٹنا چاہتے ہیں… اتنا ہی ہمیں گراہوا سمجھاجاتا ہے… ہائے … کیا ظلم ہے… کیسا اندھیر ہے، شادی ہو حا جنم… ہمارے آشیرواد سے گھر آباد ہوتے ہیں… بچے کی خوشی منائی جاتی ہے… مگر سماج میں ہماری کوئی جگہ نہیں… مگر خود اپنا مذاق بنانے سے اچھا ہے کچھ اور کیا جائے… دنیا بدل رہی ہے… ہم بھی بدلنے کی کوشش کرسکتے ہیں…‘‘۔ (کوئل جان)
’’گلفام: یہ سب کیا ہے ، کیوں ہے ؟ مجھے کچھ سوچنے دے ، کون دھرتی کا خداہے ،مجھے کچھ سوچنے دے۔
(سرجھٹکتا ہے)اتنا کیوں سوچتا ہے یار؟ سچ بڑا کڑوا ہوتا ہے… مگر (Pause )یہ سچ ہے کیا؟ (ہنستا ہے)سب سے بڑا سچ ڈالر ہے ڈالر…یہ ڈالر کی ریل پیل… یہ بھاگتا لپکتا انسان … یہ ٹوٹتا بکھرتا سماج اور اس پر گرتے پڑتے آدرش …Cut! …Action … بکواس ہے سب…All Rubbish … اصول اور آدرش پرستی نے عیسیٰ کو سولی اور گاندھی کو گولی کے سوا کچھ نہیں دیا…تمھیں کیا ملے گا گلفام‘‘۔ (جیون ساتھی کلینک)
’’نجم : صرف مجھے بچا کر آپ کیا کریں گے وکیل صاحب! میری طرح ہزاروں نجم وقت کے ہاتھوں بے بس ہوکر وہ کر بیٹھتے ہیں جو ان کے اختیار سے باہر ہے۔ انصاف صرف میرے ساتھ نہیں ، سماج کے ان تمام لوگوں کے ساتھ ہونا چاہیے جو مرتے ہیں ، نہ جیتے ہیں‘‘۔ (کینسر)
’’سرور: (اونچی آواز میں) دوستو! میں یاسر عرفات، آج امن کا پیغام لے کر آیا ہے! بھائیو! مجھے آپ سب کی مدد کی ضرورت ہے! آج امن صرف فلسطین کی ضرورت نہیں … یہ روس، امریکا اور عرب ممالک کی بھی ضرو رت ہے۔ مجھے اندازہ ہے ہمارے کچھ ساتھی اس معاہدے سے ناخوش ہیں (پس منظر سے ناگوار آوازیں، ساتھ ہی العبد اور سمون غصہ کا اظہار کرتے ہیں)مگر ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ جنگ شروع کرنا آسان ہے لیکن امن قائم کرنا بہت مشکل‘‘۔ (نئی شاخ زیتون کی )
’’شبراتی: ٹھیک کہتا ہے … بڑی گرم ہوا چل پڑی ہے…ہر کوئی … ایک دوسرے کو شک کی نگاہوں سے دیکھتا ہے۔ آج سے دس سال پہلے کتنا سکون تھا۔ اس وقت صرف روٹی کی فکر تھی ہمیں… آج جب سب کچھ مل گیا تو سکون غارت… شاید دنیا سے ہی اٹھ گیا سکون… ہر طرف آگ لگی ہے ، اب فساد صرف میرٹھ یا گجرات میں نہیں، دنیا کو ہر کونہ میرٹھ بن گیا ہے‘‘۔ (چالیس بابا ایک چور)
مذکورہ اقتباسات میں ڈراما نگار کے تخلیقی اضطراب کو محسوس کیا جاسکتا ہے۔ سبھی اقتباسات انسان کی ذہنی بے سکونی کی الگ الگ وجوہات کو سامنے لاتے ہیں۔ کہیں واضح انداز میں اور کہیں انجام کار کے طورپر ۔ یہ مختلف کرداروں کے وہ مکالمے ہیں جن کو ڈرامانگار نے بڑی ہنر مندی سے تخلیقی جامہ پہنایا ہے۔ڈرامانگار نے زندگی کے دیگر شعبوں سے لے کر سیاست تک اور مرض سے لے کر موت تک کے عدم سکون پر اپنی نظریں جمائے رکھیں ۔ اس نے ہر منظر اور ہر پہلو کا مطالعہ بڑے خلوص اور ذمّے دار فن کار کی حیثیت سے کیا۔یہی وجہ ہے کہ اس نے ان گلیوں تک جانے میں بھی کوئی عار محسوس نہیں کی جن میں رہنے والوں کو ہمارا سماج قابلِ نفرت متصورکرتا ہے۔ اسے معلوم ہے کہ حقیقی زندگی کے رنگ و روپ تو انھیں گلیوں میں دکھائی دیتے ہیں۔ جب وہ زندگی کو ہی ڈراما خیال کرتا ہے تو پھر اس کے گہرے مشاہدوں کے بغیر اس کا جوہرِ فن کیوں کر صیقل ہوسکتا تھا۔ یہاں اس نے ناسٹلجیائی صورتِ حال سے پیدا ہونے والی کیفیت کو اسی جذباتی شدت کے ساتھ پیش کیا جیسا اس نے محسوس کیا۔
جاوید دانش کے یہاں موضوعات کا خوشگوار تنوع دکھائی دیتا ہے۔ ان کے سوچنے اور چیزوں کو مختلف زاویوں سے دیکھنے اور پیش کرنے کا اپنا تخلیقی انداز ہے۔ انھوں نے گھسے پٹے اور پامال موضوعات سے اپنا دامن بچائے رکھنے کی عمدہ کوشش کی ہے۔ ان کے موضوعات میں ہجرت زدہ افراد کے مسائل اور چیلنجوں کو اوّلیت دی گئی ہے مگر بغور دیکھیں تو ان مسائل کا تعلق آج کی دنیا میں کہاں اور کس ملک سے نہیں ہے۔ اس زاویے سے دیکھنے پر محسوس ہوتا ہے کہ جاوید دانش نے اپنے ڈراموں میں تخلیقی دوراندیشی کا بھرپور مظاہرہ کیا ہے۔ یہ موضوعات خاص منطقے میں رہتے ہوئے بھی وسیع اور ہمہ گیر ہوگئے ہیں۔ آج انسانی زندگی میں جس قدر المیے، حادثے اور وقوعے رونما ہورہے ہیں، حقیقی فن کار ان سے نظریں چراکر نہیں گزرسکتا۔ مذہب، سیاست، معیشت اور تہذیب و تمدن ہر جگہ اخلاقی بحران اور قدروں کی پامالی عام سی بات ہوکر رہ گئی ہے۔ جاوید دانش نے جس طرح اپنے موضوعات کا انتخاب کیا وہ یقینا ان کی مشاہداتی قوت کا احساس دلاتا ہے۔گوناگوں مسائل سے بھر پور ہماری زندگی کے سلگتے اور بالکل سامنے کے موضوعات سے انھوں نے کچھ ایسا سروکار رکھا کہ ان کے ڈراموں میں جدّت واضح طورپر نمایاں ہوگئی۔ اساطیری، مافوق الفطرت اور عشق و عاشقی جیسے عناصر پر مبنی ڈراموں سے بالکل مختلف انداز لیے یہ ڈرامے قاری کو نئی حسّیت، نئی آگہی اور نئے ذائقے عطاکرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ’’مکتی‘‘، ’’شاخ زیتون کی ‘‘اور ’’کوئل جان‘‘ جیسے ڈرامے اردو ادب میں پہلی بار قاری کے سامنے آئے ہیں۔
مرض کے موضوع پر دو ڈرامے ’’مکتی‘‘ اور ’’کینسر‘‘ شاملِ کتاب ہیں۔ ’’مکتی‘‘ میں ایڈز کے مرض کو اس طرح پیش کیا گیا ہے کہ اخلاقی بحران اور انسان دوستی کا زوال قاری کو ملول کردیتا ہے۔ یہ مرض جارج کے آزارِ جاں بننے سے زیادہ انسانی سماج کے لیے سوہانِ روح بن گیا ہے۔ کیا فادر، کیا ڈاکٹر، کیا خونی رشتے اور کیا قبرستان کے انتظام کار سب یک لخت نہ صرف بیگانے بلکہ متنفر ہوگئے۔ مغربی سماج کی یہ ایسی تصویر ہے جو انسانی ترقی کے اوج پر پہنچنے والوں کے منھ پر ایسااخلاقی طمانچہ ہے جس کی شدّت دیر تک محسوس ہوتی ہے۔
’’مکتی‘‘ میں جس طرح متمول سماج کا نقشہ کھینچا گیا ہے ’’کینسر‘‘ میں اس کے برعکس غربت کے ڈراونے انجام کی عکاسی کی گئی ہے۔دونوں ڈراموں کے پس منظر میں طنزیہ تلخی سے بھرپور کام لیا گیا ہے لیکن ’’کینسر‘‘ کی تلخی زیادہ شدید ہے۔کیونکہ ’’مکتی‘‘ میں جارج کی موت کا منظر فطری ہے مگر ’’کینسر‘‘ میںبیوی کا گلا دبا کر غیر فطری موت کے پس پردہ شوہر کی محبت کی جس جذباتی کیفیت کو پیش کیا گیا ہے وہ نہ صرف سچی صورتِ حال کی عکاسی ہے بلکہ دل و دماغ کے تاروں کو بھی جھنجھوڑ دیتا ہے۔اس منظر کو پیش کرتے ہوئے خود فن کا ر کے باطن میں کیسی ہلچل مچی ہوگی اس کو بھی محسوس کیاجاسکتا ہے۔
’کوئل جان‘‘ یہ اچھوتے موـضوع پر لکھا بہترین ڈراما ہے۔ جاوید دانش کی انسانی ہمدردی کے واضح نشان یہاں موجود ہیں۔ مخنث کی جذباتی، نفسیاتی ، سماجی اور معاشی تقاضوں کو ملحوظ رکھ کر اس ڈرامے کو تشکیل دیا گیا ہے۔قصہ در قصہ کی تکنیک سے اس میں دل چسپی کی فضا شروع سے آخر تک قائم رہتی ہے۔ اس میں ’’کوئل جان‘‘ کا مرکزی کردار گویا شبنمی چھانو ہے جس میں دوسرے جزوی کردار تھکی ہاری زندگی سے مایوس ہوکر ٹھنڈی سانس لیتے ہیں اور ماضی کے تلخ ایام کو بھلاکر نئی دنیا بسانے کا منصوبہ بناتے ہیں۔ یہ ڈراما جوں جوں آگے بڑھتا ہے قاری کی بے تابی بھی سوا ہوتی جاتی ہے۔ اس کی ایک اہم خوبی یہ بھی ہے کہ اس کو اسلوبیاتی سطح پر مخنثوں کے خاص ماحول میں مرتب کیا گیا ہے۔ وہی الفاظ ، وہی اندازِ بیان، وہی نوک جھونک، آوازے کسنا اور لب و لہجے کے اسی اتار چڑھاو کو کسی مصور کی طرح ڈرامے کا حصہ بنادیا گیا ہے جو ہجڑوں کے کرداروں کی انفرادی شناخت ہے۔ چلتی پھرتی اور جیتی جاگتی لفظی تصویر وں سے یہ ڈراما یاد گار بن گیا ہے۔ ایک مثال یکھتے چلیں:
’’کوئل
:
ہے ہے …خدا خیر کرے… کیا قیامت آگئی ہے… کون

ہے رے؟
کستوری
:
معاف کرنا باجی…میں ہوں کستوری
کوئل
:
ارے کہاں کی باجی… اور کیسی کستوری… ذرا روشنی میں تو آئو۔
کستوری
:
(سنبھلتے ہوئے… سامنے آتی ہے)
کوئل
:
ائے… ناسگندھ ناسروپ… کس کمبخت کے مارے نے تیرا نام کستوری رکھ دیا اور یہ رات گئے یہاں کیسے …باوا کا مکان ہے…سراٹھائے چلی آئی…کیوں؟
اس ڈرامے کے ذریعے جاوید دانش نے جنسی تفریق اور عدم مساوات کے خلاف اپنا احتجاج درج کرایا ہے اور کستوری کا کردار اس کا جیتا جاگتا نمونہ ہے۔
’’نئی شاخ زیتون کی‘‘ اس ڈرامے میں فلسطین اور اسرائیل کے مسئلے کو مرکزی خیال بناکر پیش کیا گیا ہے۔ امن و سکون کی حسین چاہت لیے جاوید دانش نے اس ڈرامے کو پر اسرار بنانے کی کوشش کی ہے اور عنوان سے ہی اپنے مدعا کو علامتی پیکر میں ڈھال دیا ہے۔ کیوں کہ زیتون کی شاخ کو امن اور صلح کی علامت کے طورپر دیکھا جاتا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس میں امن اور جنگ دونوں پہلوئوں کی تصویر فلسطینی اور اسرائیلی کرداروں کے سہارے سامنے آتی ہے۔
فلسطین اور اسرائیل کے مابین برسہا برس سے چلے آرہے تصادم و کش مکش کو اردو ادب میں خاص موضوع کے طورپر برتا گیا ہے۔ شعرو نثر کے بہت سے نمونے اس حوالے سے سامنے آئے لیکن ڈرامے کی دنیا اب تک خالی تھی۔ جاوید دانش نے غالباً پہلی بار اس موضوع کو اپنے فن کا حصہ بناکر اپنے داغہائے سینہ کو دکھانے کی کوشش کی ہے۔
یہ ڈراما جاوید دانش کی فنی بصیرت کا بہترین ثبوت فراہم کرتا ہے۔ محبت کی اندیکھی طاقت کو بطورِ ہتھیار استعمال کر کے انھوں نے ڈرامے کو گہری معنویت عطا کی ہے۔یہاں یہ سوال اہم ہوجاتا ہے کہ جاویددانش نے دونوں طرف کی خونی داستان لکھنے کے بجاے امن اور صلح کو مرکزی خیال کے طور پر کیوں پیش کیا ؟اس موضوع کے دیگر پہلوئوں پر توجہ کیوں نہیں دی؟ اس کا سیدھا جواب شاید یہی ہے کہ جنگ کا منطقی انجام آخر کار سکون ہی حاصل کرنا ہوتا ہے جو جنگ کیے بغیر بھی حاصل کیا جاسکتا ہے۔تو پھر جنگ کیوں ؟
’’جیون ساتھی کلینک‘‘ کتاب کا عمدہ ڈراما ہے۔ زندگی کی دھوپ چھانو میں ہارے ہوئے لوگوں کی ذہنی کش مکش اور باطنی ہیجان کااس میں بہت سچا اظہار ہوا ہے۔ سمندر پار کی زندگی بظاہر بہت آسودہ اور پرسکون نظرآتی ہے ۔ ظاہری شان و شوکت اور چمک دمک کے پس پردہ اضطراری کیفیت کوجس طرح جاوید دانش نے محسوس کیا ہر کوئی اس کو اسی طرح محسوس نہیں کرسکتا۔۔ زندگی کے بدلتے تناظرات میں انسان کا کیا کچھ بدل جاتا ہے اس کا احساس ہوتے ہوتے کافی دیر ہوچکی ہوتی ہے۔ مادّیت پرستی، ذہنی ، فکری اور معاشی آزادی نے مغربی معاشرے کو جس سنگین صورتِ حال تک پہنچا دیا ہے وہ بہت تکلیف دہ ہے۔وہاں کی خانگی اور ازدواجی زندگی میں آج جو اتھل پتھل اور بکھراو ہے اس کے پسِ پردہ ہر قسم کی آزادی کا غیر محدود تصور کارفرماہے ۔ رشتوں کے تقدس کی پامالی، خاندانی وجاہت، درونِ خانہ کا وقار اور اہلِ خانہ کے مابین جذبۂ ایثار کے فقدان نے مغرب کے افراد کو جسم کے ظاہری ڈھانچے میں تو باقی رکھا لیکن ’’من کی دنیا ‘‘ کو جوہرِ انسانیت سے خالی کردیا ہے۔ ان تمام صورتِ حال کا مطالعہ جاوید دانش نے بڑی گہرائی کے ساتھ کیا اور ڈرامے میں اس کی جس طرح تصویر کشی ہے وہ یقینا ان کی توانا تخلیقی شخصیت کا اشاریہ ہے۔ اس ڈرامے کے عنوان سے ہی انھوں نے قاری کو اپنا ہمزاد بنالیا۔ ’’جیون ساتھی‘ کے ساتھ لفظ ’’کلینک‘‘ کے استعمال سے ان کی فکری وسعت سامنے آتی ہے۔ ڈرامے کی کہانی جس مرکزی خیال کے گرد گھومتی ہے اس کی مناسبت سے عنوان کا انتخاب معنیٰ خیز ہے۔ اس لفظ کے ذریعے قاری اس معاشرے کو بڑے اور عام مرض میں گرفتار ہونے کا ادراک کرلیتا ہے۔اس ڈرامے میں یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ جاوید دانش نے بڑی دانش مندی سے شوہر کے انتخاب کے پسِ پردہ نسوانی جذبات و احساسات اور نفسیات کی ترجمانی کی ہے۔ ایک مثال ملاحظہ کریں:
’’صبرینہ: مجھے معلوم ہے، مجھے کیا چاہیے، نہ مجھے کسی آئیڈیل کی تلاش ہے ، نہ میں کسی شہزادے کی منتظر۔ زندگی گزارنے کے لیے دووقت کی روٹی… ایک چھت… اور ایک ذمّے دار ساتھی کی ضرورت ہوتی ہے… چھوٹی چھوٹی خوشیاں اور سکون ہی سب کچھ ہے، سب کچھ تھا میرے پاس مگر سکون غارت تھا۔ بس زندگی جہنم بن گئی ، آہ!
’’چالیس بابا ایک چور‘‘ یہ کتاب کا سب سے اچھا ڈراما ہے۔ اس عنوان کو کتاب کا نام رکھ کر ڈرامانگار نے اس کی اہمیت بھی واضح کردی ہے۔ اکسٹھ صفحات پر پھیلا یہ ڈراما کئی تہذیبوں کے حامل افراد کا سنگم ہے۔ کش مکش، تناو اور رسّہ کشی کا ڈرامائی انداز از اول تا آخر ڈرامے کو قابلِ قدر بناتا ہے۔ مہاجرین کی دلی کیفیات کو اس میں بڑی مہارت سے اجاگر کرنے کی سعی کی گئی ہے۔ کامیاب ڈرامے کے عناصر میں یہ بات شامل ہے کہ اس میں واقعات ، صورتِ حال اور کردار کے قول و عمل کو لفظوں میں متحرک اور زندہ کردیا جائے۔ یہ ڈراما اس کی عمدہ مثال ہے۔ یہی وجہ ہے کہ طوالت قاری کو بوجھل نہیں کرتی بلکہ ہر لمحہ نیا تلذذ عطاکرتی ہے۔ہندستان، پاکستان اور بنگال کے الگ الگ کرداوں میں مکانی بُعد کو مٹاکر فکری اور نفسیاتی ہم آہنگی پیداکرنا آسان نہیں تھا مگر جاوید دانش نے ایک ماہر ڈراما نگار کی طرح اس مرحلے کو سرکیا ہے۔
’’چالیس بابا ایک چور‘‘ کے ڈراموں میں تسلسل پر خاص تو جہ دی گئی ہے۔ تمام واقعات کی درمیانی کڑیاں مربوط اور منظم انداز میں ترتیب دی گئی ہیں۔ ابتداسے انتہا تک ایسی روانی ہے جو قاری کو بہائے لے جاتی ہے۔ ابہام، غیر موزونیت، بے ربطی اور بے کیفی کی فضا سے ڈرامے کو محفوظ رکھنا جاوید دانش کی فنی مہارت کا پتا دیتا ہے۔ انھوں نے آغاز و انجام کو اس قدر پرکشش بنایا ہے کہ ڈراما شروع ہوتے ہی قاری انجانے سرور میں محو ہوجاتا ہے۔ اسٹیج کی ضرورت کے ساتھ ساتھ ڈرامے کے مرکزی خیال و کردار کے مطابق ابتدائیے معنیٰ خیز بن گئے ہیں۔ یہاںسادگی میں پُرکاری کا عمدہ احساس ہوتا ہے۔ لفظوں سے تصویر بنانے اور خیال کو تحریروں میں مجسم کرنے کا منفرد انداز جاوید دانش کے پاس ہے۔ کچھ مثالیں ملاحظہ کریں:
’’کوئل اپنے آنگن میں کھڑی کچھ گارہی ہے…
’’سوکھی رُت میں چھائے بدریا، چمکی بجُریا ساتھ…
ڈوبو تم بھی سنگ میرے یا تھامو میرا ہاتھ… یا غریب نواز…
اچانک کستوری گرتی پڑتیEnter کرتی ہے…
’’سینٹرل جیل کا سیل… ملزم نجم کمرے میںٹہل رہا ہے بیک گرائونڈ سے آواز فضا میں تحلیل ہورہی ہے:
ہر طرف دن کا جال پھیلا ہے
کیسے ڈھونڈیں کدھر گئی ہے رات
یادیں اپنے لہو میں غلطاں ہیں
کتنی مجروح کرگئی ہے رات‘‘
جاوید دانش اپنے ابتدائیے میں جس ڈرامائی اٹھان کا سہارا لیتے ہیںوہ ڈرامے کے ساتھ لمحہ بہ لمحہ نہ صرف عروج کی منزلیں طے کرتی ہے بلکہ جاذبِ نظر اور تسکینِ قلب کا سامان بھی فراہم کرتی ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کسی ماہر مغنّی نے سنجیدہ ماحول میں دل کش راگنی چھیڑ دی ہو اور ٹھہر ٹھہر کر دلوں پر دستک دے رہا ہو۔ ان کے یہاں خلافِ توقع اور ناہموار آغاز کے بجاے ڈرامے کے فطری ماحول سے ہم آہنگ آغاز کا ایسا البیلا انداز ہے جو قاری اور سامع کو محوِ حیرت کردیتا ہے۔ مذکورہ مثالوں میں سنجیدگی ،ٹھہراو اور فطری عکاسی سے ہی دل کشی پیدا ہوئی ہے۔
جاوید دانش کے ڈراموں کا اختتام بھی قاری اور سامع کو اپنی طرف کھینچتا ہے۔ جو ڈرامانگار زندگی کے درد و کسک اور جیتی جاگتی حقیقتوں کا عکاس ہو اس کے یہاں حزنیہ اختتام کا ہونا فطری ہے۔ جاوید دانش کا انفراد یہ ہے کہ وہ اپنے حزنیہ اختتام کو محض حزنیہ نہیں رہنے دیتے بلکہ اس میں فکرو خیال کی ایسی چنگاری چھپادیتے ہیں جس کے روشن ہوتے ہی نہ صرف قارئین و سامعین کا پوراوجود منور ہوجاتا ہے بلکہ احتجاج، سوال، درد اور حوصلے جیسی کئی جہات روشن ہوجاتی ہیں۔یہ مثالیں ملاحظہ کریں:
’’ سنا تھا
خموشی ہر بلا کو ٹالتی ہے
اس لیے چپ ہوں
مجھے چپ سادھ لینے دو
مگر سن لو
کہ موسم اب بدلنا چاہتا ہے‘‘
(کوئل جان)
’’نرم و نازک حسین
ایک ننھا شجر
اپنے اندر چھپائے ہوئے
برگ و بر…
لمحہ لمحہ
جواں ہورہا ہے
مگر سرپہ بجلی کے تاروں کا ہے سلسلہ!!
(نئی شاخ زیتون کی)
جاوید دانش نے کرداروں اور مکالموں پر جس ریاضت کا ثبوت دیا ہے اس کا مظاہرہ شوقیہ طورپر ڈراما لکھتے وقت نہیں کیا جاسکتا۔ فن جب تحلیل ہوکر فن کا ر کے وجود کا حصہ بن جاتا ہے تو ایسی ریاضت ممکن ہوپاتی ہے۔ان کے ایک ایک کردار اور مکالموں میں ایسا لگتا ہے کہ فن کار کی روح سماگئی ہے ۔ ان دونوں بنیادی عناصر کو کامیابی کے ساتھ ڈرامے کا حصہ بنانا ڈرامانگار کی بنیادی ترجیح میں شامل ہوتا ہے۔ جاوید دانش اس راز سے آگاہ ہیں اسی لیے ایک قسم کا وقار، اعتدال اور توازن ان کے ڈرامائی کردار وں کی فطرت کا حصہ بن جاتے ہیں۔اس حوالے سے فرنانڈو، جارج، کوئل جان، سروری، گلفام، راحیل اورروحی جیسے کرداروں کو فراموش نہیں کیا جاسکتا۔
جاوید دانش کے مکالموں کا سب سے اہم پہلو زبان کا خوبصورت استعمال ہے۔ ان کے جملوں کی تخلیقی ساخت میں اثر آفرینی کی دنیا آباد ہے ۔ یہ جملے خیالات کی گہرائی و گیرائی سمیٹے بڑے پس منظر کا بیان بن گئے ہیں۔ان کے اس پہلو کا جوہر اس وقت اور چمکتا ہے جب وہ مخصوص علاقائی، دیہی اور گروہ سے منسوب زبان ، محاورے،اصطلاحات اور روزمرہ یا تکیۂ کلام کو اس کے ترجمان کردار کی زبان بناکر پیش کرتے ہیں۔ یہاں اچھے اچھوں کے قدم ڈگمگانے لگتے ہیں۔ بنگالی، دکنی، سنسکرت، پنجابی، انگریزی اور اردو جیسی زبانوں کو خوش اسلوبی سے نبھانا بہت پتّا ماری کا کام ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ڈراما محض مافی الضمیر کو ادا کردینے کا نام نہیں بلکہ کردار کے مطابق زبان کا استعمال کرتے ہوئے خیالات کی ترسیل یہاں ضروری ہے۔ اس میں شاعری یا نثرنگاری کی طرح زبان کی اکائی کے بالمقابل ہرکردار کی نجی زبان سے کام لینا پڑتا ہے۔ ہر مکالمہ ہر کردار کے منہ سے ادا نہیں ہوسکتا اور نہ ہی لب و لہجے یکساں ہوسکتے ہیں۔ ماہر ڈرامانگار مکالمے کی مختلف جہتوں مثلاً صورت حال، پیرایے، کردار کی مناسبت اور مجموعی رنگ وآہنگ سے مکالماتی فضا میں رنگ و نور بھرتا ہے۔ جاویدد انش نے ان چاروں صورتوں کا خیال ایک ماہر ڈراما نگار کی حیثیت سے رکھا ہے۔ چند مکالمے ملاحظہ کریں:
’’کوئل: ہیں ہیں …ارے نصیب کی پھوٹی…تو ہے کون میرے نام کی دہائی دینے والی؟‘‘
کوئل: صرف ایک پتّہ کے گرنے سے پتہ چل جاتا ہے کہ موسم اب پت جھڑکا ہے۔ اس کے لیے پورا درخت نہیں گرتا‘‘۔
(کوئل جان)
گلفام: وہ مرد باکمال ، بے مثال ، دل جمال… آگیا!
(جیون کلینک)
نجم: میں مقدمہ جیت کر بھی کیا کروں گا وکیل صاحب!
میں پہلے ہی زندگی کی بازی ہار چکا‘‘۔
رام بھروسے
:
ہم بھی تیس سال سے اِسی سَہرما… اپنا پھیملی اور پرم پَرا کو لے کر

جندا ہیں۔ اب دیکھو Continution کب تک چلتا ہے۔ ہم

انگریج نہ انگریجی کسی سے نہیں گھبراتے ہیں…بالکل نہیں …

متھلا یونیورسٹی کا M.A. ہیں…ارے تم لوگ کو کا مالوم!‘‘۔
جلیل
:
دیکھ رہا ہے۔شب دیکھ رہا ہے۔ گان باجنا، کوالی، توقریر آر…

ناچ کھیلا بھنگڑا… شوب پنجابی اردو، ہندی میں چول رہا ہے‘‘۔
یہ چند نمونے ہیں لیکن زبان کی سطح پر یہ مکالمے کتنے سجل اور مزین ہیں اس کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ ’’کوئل جان‘‘ اور ’’چالیس بابا ایک چور‘‘ اس حوالے سے یقینا جاوید دانش کے یاد گار ڈرامے ہیں۔
’’چالیس بابا ایک چور‘‘ یہ محض سات ڈراموں پر مبنی تصنیف نہیں بلکہ جاوید دانش کی فنی دسترس اور ڈراما نویسی پر ان کی انفرادی شناخت کی عمدہ دستاویز ہے۔قابلِ قدر ڈراموں سے یہ کتاب اپنی اہمیت کا احساس دلاتی ہے۔ اردو ڈرامے میں یہ نہ صرف خاطر خواہ اضافے کا باعث ہے بلکہ زندگی کے مطالعے کا نیاروزن بھی اس سے منور ہوتا ہے۔ فنی اور فکری سطح پر جاوید دانش نے یہاں جس ژرف نگاہی کا مظاہرہ کیا ہے اس سے اس بات کا اندازہ ہوتا ہے کہ وہ فن میں جگر کاوی اور تخلیقی مکاشفوں کا خاصا اہتمام کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے یہاں زندگی کا گہرا شعور اور وسیع تناظر دکھائی دیتا ہے۔ امید ہے کہ ڈرامے کے باب میں یہ تصنیف جاوید دانش کی تخلیقی شخصیت کو استحکام عطا کرے گی۔


Previous articleنوجوانوں میں قرآن مجید سے کیسے دل چسپی پیدا کی جائے؟
Next articleحمد یہ غزل: کس نے غنچوں کو نازکی بخشی

اپنے خیالات کا اظہار کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here