پیروڈی پر اہم تاریخی مصادر (حصہ اول) از: امتیاز وحید

0
166

شعبۂ اردو، کلکتہ یونیورسٹی

اردوظرافت کی سب سے شوخ اورلطیف صنف پیروڈی کے منظوم اور منثور سرمایے کو قبولِ عام بخشنے اور انھیں علمی سماج کے روبرو منظم انداز میں پیش کرنے کی مہم رسائل و جرائد کے پلیٹ فارم سے بھی چھیڑی گئی۔ اس سلسلے کی سب سے منضبط پہل سرسید ہال مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کے علمی و ادبی ترجمان ’اسکالر‘ ’پیروڈی نمبر‘(سن:۱۹۵۷؛کل صفحات:۱۳۲) کی اشاعت کہی جاسکتی ہے۔ سرسید ہال کو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں قلب کی حیثیت حاصل ہے۔اس کی علمی، ادبی اور تہذیبی سرگرمیوں میں’ہال ویک‘ کے رنگا رنگ پروگرام خاص اہمیت رکھتے ہیں۔۱۹۵۷ کے ’ہال ویک‘ پروگرام کا محور پیروڈی کانفرنس تھی،جس کے محرک پروفیسر آل احمد سرور اور منتظم ڈاکٹر محمد حسن تھے۔اس میں افتتاحیہ تقریر سرور صاحب نے کی اور پیروڈی کے فن اور اردو میں اس کے نشو ونما پر روشنی ڈالتے ہوئے مضامینِ پطرس میں’اردو کی آخری کتاب‘ کو مولوی اسمٰعیل میرٹھی کی نصابی کتاب(اردو کی پہلی کتاب)کی دلچسپ پیروڈی بتایا اور اس کی اہمیت کو یہ کہتے ہوئے اجاگر کیا کہ جس نے ’’مضامینِ پطرس‘ نہیں پڑھے ہیں تو اس کی تعلیم ادھوری ہے‘‘ ۔انھوں نے اسے مغرب سے مستعار ایک فن بتایا اور فرمایاکہ کسی ادبی شہ پارے کی پیروڈی ہونے کا یہ مقصد ہے کہ اس کے یہاں ایک اسلوب ہے۔وغیرہ وغیرہ ۔اس میں شرکت کرنے والے طلبا کے علاوہ معزز مہمانوں میں پروفیسر رشید احمد صدیقی،مسز حیدر پرنسپل گرلس کالج، خلیق نظامی، پروفیسر بشیرالدین احمد لٹن لائبریری، ڈاکٹر مسعود حسین خان، نسیم قریشی اور شہناز ہاشمی کے نام قابل ذکر ہیں۔

پیروڈی کانفرنس میں ڈاکٹر قمررئیس نے ممتاز حسین کی تنقید پر ایک دلچسپ پیروڈی پڑھی۔ قاضی غلام محمد نے نظیراکبرآبادی کی پیروڈی’نیا آدمی نامہ‘ پیش کی ۔طلبہ کی اس کارکردگی سے خوش ہوکر پروفیسر رشید احمد صدیقی نے قمررئیس اور قاضی غلام محمد کو دو انعام اپنی جیبِ خاص سے دینے کا اعلان کیا۔ ڈاکٹر محمد حسن نے پیروڈی کانفرنس اور پیروڈی پر اپنے خیالات کا اظہار کیااور یہ حکایتِ دل پذیر ’پیروڈی کانفرنس‘ اختتام کو پہنچ گئی۔

اس روداد اور تمہیدی پس منظر سے یہ بتانا مقصود ہے کہ سرسید ہال ویک کی ’پیروڈی کانفرنس‘ میں پیش کردہ منثور و منظوم پیروڈیوں کی اشاعت کے لیے سر سید ہال میگزین’اسکالر‘ کی خدمات حاصل کی گئیں اور انھیں ’اسکالر پیروڈی نمبر‘کے طور پر شایع کیا گیا۔مسلم یونیورسٹی کے اس وقت کے طالب علم ،معروف ظریف اور پیروڈی نگارجناب احمد جمال پاشا اس خصوصی پیروڈی نمبر کے اڈیٹر بنائے گئے،جس کی مجلسِ مشاورت میںپروفیسر آل احمد سرور، پروفیسر رشید احمد صدیقی، ڈاکٹر محمد حسن اور قمر رئیس شامل تھے۔
اسکالر کے خصوصی پیروڈی نمبرکے مندرجات کی تفصیل یہ ہے:
پیغامات،مقالہ:پیروڈی کا فن،حصۂ نثر:خوجی کی واپسی(مسعود علی ذوقی)،عوامی ادب میں سماجی شعور( قمر رئیس)، مرزا غالب ہاسٹل میں( ضیاء الدین شکیب)،برشاخِ آہو( سبط اختر)، میں مجبوراً لکھتا ہوں( ابنِ فرید)، اطلاع مزید منسلکۂ درخواست( حسن مثنیٰ) ،طرزِ نگارش میری اور کپور ایک تنقیدی و تحقیقی مطالعہ(ا حمد جمال پاشا)، تبصرے(ادارہ)/حصۂ نظم:مومن( شوکت تھانوی)، نذرِ سرور( قمر رئیس)،نیا آدمی نامہ،مفلسوں کا قومی ترانہ،منظوماتِ قاضی اورآیاتِ حسرت(قاضی غلام محمد)،مثنوی بیچ بیان اپنے ہاسٹل کے( ضیاء الدین احمد شکیب)، نذرِ غالب (عبدالوہاب فرہاد) اور نذرِ روش( بدیع الحسن)۔

اداریہ ’حرفِ آغاز‘میں احمد جمال پاشانے ’پیروڈی کانفرنس‘ کی روداراوراس میں پیش کردہ منثور و منظوم پیروڈیوں پر بھرپور گفتگو کی ہے۔اس جائزے میں انھوں نے پیروڈی کو طنز و مزاح اور کارٹون کے خاندان کا ایک فرد بتایا ہے،جس میں تضحیک سے تنقید کا کام لیا جاتا ہے مگر تضحیک اس کا منصب نہیں۔اس میںکسی سنجیدہ تخلیق کے کوبڑ پوری فنکاری کے ساتھ منعکس ہوجاتے ہیں اور ہنسی ہنسی میں اصلاح کی صورت نکل آتی ہے ۔اداریہ جامع اور پُر مغز ہے بطورِ خاص اس میں شامل پیروڈیوں پر تنقید آرا غور طلب ہیں۔

پیروڈی گرچہ فنی حیثیت سے مغرب کی دین ہے مگر اس اثر سے پہلے بھی ہمارے ادب میں اس کی خوبو‘گلابی اردو، غالب ،اکبر،اقبال اور آزاد نظموں کی پیروڈی کی صورت میں موجود تھی۔ ہمارے شعورو فکر کے متعدد شعبوں کی طرح صنف پیروڈی کے میدان میں بھی علی گڑھ کی خدمات قابلِ رشک حد تک اہم ہیں۔علی گڑھ طلبہ کی پیروڈی کانفرنس اردو میں پیروڈی کے صنفی سمت و رفتار اور تعینِ قدر کا باضابطہ نقطۂ آغازتھی، جسے اسکالر میگزین کے پیروڈی نمبر کی صورت میں پیش کیا گیا۔

اسکالر پیروڈی نمبرکا مزاج عملی اور اطلاقی زیادہ نظری کم ہے۔اداریہ کے ماسواپروفیسر آل احمد سرور کابیش قیمت پیش لفظ،پروفیسر رشید احمد صدیقی کا مضمون’کچھ پیروڈی کے بارے میں‘ اور قمر رئیس کا مضمون’پیروڈی کا فن‘نظری مباحث کا احاطہ کرتے ہیں۔ ان میں پیروڈی کے صنفی خد وخال ،تقاضے، مطالبات اور لوازمات پر روشنی پڑتی ہے۔پیروڈی میں تضحیک و تعریض کے حدود، تفریح طلبی میں اصلاح،مشیخت مآبی یا حد اعتدال سے بڑھی ہوئی قیامت خیز سنجیدگی پر قدغن،بدنیتی اور ذاتی عناد سے پیروڈی نگار کی برأت اور پہلو تہی،خلوص اور ہمدردی کے ساتھ جرأتِ رندانہ سے کام لینے کا ہنر، اسلوب اور فن پارہ کی خارجی ہیئت کی تقلیداور اس میں ’’مواد کے ساتھ پیروڈی نگار کی عیاری اوراسلوب اور ہیئت کے ساتھ وفاداری ‘‘جیسے گراں قدر فنی نکات سامنے آتے ہیں۔ اردو پیروڈی کی جانب اس کے بالکل ابتدائی ایام میں ان تنقیدی خیالات کو کمثلِ حبۃ اَمبتَت سَبعَ سنابلَ فی کُلِّ سُنبُلۃ مِعَۃَ حبّۃ کا درجہ حاصل ہے۔ بالخصوص قمر رئیس کے مقالے سے فکر و نظر کے دروازے کھلتے ہیں۔یہ مقالہ پیروڈی پر مغربی ماخذ نشاندہی کرتا ہے۔

حصۂ نثر کی پیروڈی میں ذوقی صاحب نے سرشار کا رنگ اڑاکر خوجی کو ایک نئے ماحول میں لاکھڑا کیا ہے۔ قمر رئیس نے ’عوامی ادب میں سماجی شعور‘ میں ممتاز شیریں کے طرزِ نگارش کی نقالی کی ہے جبکہ ابنِ فرید صاحب نے ’میں مجبوراً لکھتا ہوں‘میں پروفیسر احتشام حسین کے اسلوب اور طرز پر کامیاب نشانہ سادھا ہے۔’طرزِ نگارش میری‘ رشید احمد صدیقی کی طرزِ نگارش کا تحریفی تتبع ہے۔ ’کپور ایک تنقیدی و تحقیقی مطالعہ ‘ایک کامیاب طرزی پیروڈی ہے،جس میں ایک ہی ادیب پر مختلف نقادوں اور محققوں کے عمل جراحی کے کامیاب تجربات کیے گیے ہیں۔احمد جمال پاشا صاحب کی یہ پیروڈی مکمل صورت میں صرف اسکالر پیروڈی نمبر ہی میں ملتی ہے ۔یہ اسلوبیاتی پیروڈی کے زمرے میں سنگِ میل کا درجہ رکھتی ہے۔ غالباً ایسی ہی پیروڈی کے لیے پروفیسر رشید احمد صدیقی نے لکھا ہے کہ ’’اعلا پائے کی پیروڈی اتنی ہی قابلِ قدر ہوتی ہے جتنی کہ وہ عبارت یا شعر جس کی پیروڈی کی گئی ہے‘‘۔مکتوباتی پیروڈی کے حوالے سے ’مرزاغالب ہاسٹل میں‘کے تحت شامل تین مکاتیب غالب کے مکتوب کا تحریفی پیراہن ہیں۔ن۔م۔راشد کے مجموعۂ کلام’ایران میں اجنبی‘ کی ایک نظم’برشاخِ آہو‘کو نثری پیروڈی کے قالب میں اس اہتمام کے ساتھ ڈھالاگیا ہے کہ اس کی تمام لفظیات بعینہٖ اصل کا پَرتَو نظر آتی ہیں،مصنف نے اس میں ایک لفظ کی تصنیف بھی اپنی طرف سے نہیں کی ہے۔یہ کارنامہ سبط اختر نے سر انجام دیا ہے۔حسن مثنیٰ انور صاحب کی درخواست حسنِ طلب کا نیا انداز ہے۔اس میں تازگی بھی ہے اور پختگی بھی۔ تبصراتی پیروڈی کے ضمن میں ادارے کی جانب سے شامل پیروڈیاں نئے پن کی خوبیوں سے مملو ہیں اور پرانے پن کے اکتادینے والے احساس سے نجات دلاتی ہیں۔
حصۂ نظم کے تحت شوکت تھانوی نے کلامِ اقبال ’مومن‘ کی کامیاب ترین پیروڈی کی ہے۔قمر رئیس نے ’نذرِ سرور‘ کے عنوان سے سرور صاحب کی غزل کی پیروڈی کی۔یہ ان کا نیا رنگ ہے۔قاضی غلام محمد صاحب کا ’نیا آدمی نامہ‘، مفلسوں کا قومی ترانہ‘،’آیاتِ حسرت‘ اور ’منظوماتِ قاضی‘بالترتیب نظیر اکبر آبادی کی نظم ’آدمی نامہ‘،اقبال کی نظم’بچوں کا قومی ترانہ‘، غالب کی غزل اور چند متفرق اشعار اور حسرت کی’چپکے چپکے رات دن آنسو بہانا یاد ہے‘ والی مقبولِ زمانہ غزل کی پیروڈیاں حصۂ نظم کی شگفتگی اور دل بستگی میں اضافے کی باعث ہیں۔ضیاء الدین احمد شکیب کی پیروڈی’مثنوی بیچ بیان اپنے ہاسٹل کے‘خاصے کی چیز ہے۔خالص علی گڑھ کے ماحول،مٹی اور معاشرت کی چادر میں لپٹی یہ پیروڈی نئے پیروڈی کے لیے امکان کی ایک نئی فضا ہموار کرتی ہے۔ ’نذرِ غالب اور نذرِ روش ‘پیروڈیوں کے خالق عبدالوہاب اور بدیع الحسن کلیم صاحبان ہیں۔یہ دونوں عمدہ پیروڈیاں ہیں۔

اس طرح نثری اور منظوم پیروڈیوں کے مختلف النوع نمونوں سے مزین ’اسکالر‘ کا یہ خصوصی پیروڈی نمبر اردو میں صنفِ پیروڈی کا سنگِ میل ہے، جس کے بغیر اس صنف کی تاریخی حیثیت کا تعین نہیں کیا جاسکتا۔
انیس برسوںبعد زندہ دلانِ حیدرآباد کے ترجمان ماہنامہ شگوفہ( جلد:۹، شمارہ:۹؛کل صفحات:۱۵۲ )، حیدرآباد نے ستمبر ۱۹۷۶ میں پیروڈی پر ایک خصوصی نمبرکا اہتمام کیا۔شگوفہ کے اڈیٹر سیدمصطفیٰ کمال صاحب اردو دنیا میں محتاجِ تعارف نہیں البتہ اس خصوصی نمبر کے مدیر فضل جاویدصاحب کا تعارفی سیاق اب پیروڈی کے پارکھ اور ناقد کا ہے۔انھوں نے ۱۹۶۶ میں ایم اے کے سندی مقالہ کے لیے ’اردو پیروڈی‘ کو موضوع بنایا اوررسائل و جرائد میں پیروڈی پر اپنے مستقل مضامین اور مقالات کے ذریعہ پیروڈی کومستحکم کیا۔موصوف کا مقالہ ۲۰۱۷ میں کتابی صورت شایع ہوچکاہے۔دریں اثنا انھوں نے ایم اے اردو،سال آخر کے لیے پیروڈی پر نصابی مضمون بھی تیار کیا ہے۔پیروڈی نمبر نظری مباحث کے ساتھ منظوم ومنثور پیروڈیوں کے ایک وقیع انتخاب پر مبنی ہے۔ دونوں کے التزام سے یہ خصوصی شمارہ پیروڈی کاکامیاب ترجمان اور نمائندہ کہاجاسکتا ہے۔

نقد و نظر (ایسی کی تیسی:تنقید)کے تحت دو مقالات:اردو پیروڈی(فضل جاوید)اور تحریف نگاری (خواجہ عبد الغفور)پیروڈی کی صنفی حیثیت اور شعریات سے بحث کرتے ہیں۔فضل جاوید نے عدمِ ہم آہنگی اور تضادات سے پیدا ہونے والی ظرافت، یونانی، انگریزی اوراردو ادب میںپیروڈی کے مشتق، مصدر اور روایت کی تلاش ،تحریف کی بہ جائے لفظِ پیروڈی اپنالینے کا جواز،اردو میں پیروڈی کے اوّلین نقوش،لفظی، طرزی اور موضوعاتی پیروڈی کے اصول اور دائرئہ کار،شعر و ادب میں داخل ہوتی جذباتیت کے خلاف پیروڈی بطور ایک کامیاب حکمتِ عملی، ’مداوا‘ میں فرقت کاکوروی کی پیروڈیوںکا جائزہ،علی ہٰذالقیاس کنھیالال کپور، عاشق محمد غوری، سید محمد جعفری،مجید لاہوری،علامہ حسین کاشمیری، خضر تمیمی، شوکت تھانوی اورچراغ حسن حسرت وغیرہ جیسے فنکاروں کی پیروڈیوں کا تنقیدی جائزہ لیا ہے۔(یہ بھی پڑھیں!“بلاغ 18 ڈاٹ کام”: اس کے عزائم بلند، اس کے مقاصد جلیل ! از : امتیاز وحید)

(جاری۔۔۔۔۔۔۔!)

Previous articleعقاد کی کتاب “عبقریۃ الصدیق” از: اظہارالحق قاسمی بستوی
Next articleدنیاوی حکومت مشیتِ باری تعالیٰ کے تابع ہے از: مدثر احمد قاسمی

اپنے خیالات کا اظہار کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here