پروفیسر ڈاکٹر عاصم شہنواز شبلی : بنگال کے ادبی افق کا روشن ستارہ از: مظفر نازنین، کولکاتا

0
113

عرصۂ دراز سے سرزمین بنگال علم و فن کا گہوارہ ہے۔ تعلیم و تہذیب کا مرکز ہے۔ اس سر زمین پر نہ جانے کیسے کیسے ادبی جواہر پاروں نے جنم لیا۔ جن پر ہمیں بے حد ناز ہے۔ بنگال کو یہ فخر حاصل ہے کہ یہاں اردو اور فارسی کے ادبا اور شعرا پیدا ہوئے۔ جنہوں نے عالمی شہرت حاصل کی۔

ایسی ایک شخصیت بنگال کی سر زمین سے اٹھتی ہے۔ میری مراد پروفیسر ڈاکٹر عاصم شہنواز شبلی صاحب سے ہے۔ عاصم شہنواز شبلی کی پیدائش شہر نشاط کولکاتا میں 1965 ء میں ہوئی۔ ان کی پیدائش اعلیٰ علمی و ادبی خانوادے میں ہوئی۔ ان کے والد علقمہ شبلی ایک عرصہ تک مولانا آزاد کالج ، کلکتہ میں درس و تدریس سے جڑے رہے اور ان کے چچا ڈاکٹر نصر غزالیؔ بھی مولانا آزاد کالج میں صدر شعبۂ اردو رہے۔ مجھے یہ لکھنے میں فخر محسوس ہوتا ہے کہ میرے بھائیوں نے بھی مولانا آزاد کلکتہ سے تعلیم حاصل کی۔ پروفیسر ڈاکٹر نصر غزالیؔ صاحب کے بارے میں بھائی جان سے بہت کچھ سن رکھا تھا۔

پروفیسر ڈاکٹر عاصم شہنواز شبلی نے کلکتہ یونیورسٹی سے اردو میں ایم – اے کیا اور پھر Ph.D کی ڈگری بھی کلکتہ یونیورسٹی سے تفویض کی گئی۔ چوں کہ عاصم شہنواز صاحب کا تعلق اعلیٰ علمی اور ادبی خانوادے سے تھا۔ اس لیے اردو ادب اور شاعری تو ان کے خون میں شامل تھی۔ اردو ان کے رگوں میں سرائیت کی ہوئی تھی اور پھر خاندانی ماحول کا اثر تھا کہ ان کی خفیہ صلاحتیں پروان چڑھتی گئیں۔ اور آج پروفیسر ڈاکٹر عاصم شہنواز صاحب شہر نشاط کولکاتا کے معروف کالج مولانا آزاد کالج کے پی -جی شعبۂ اردو میں درس و تدریس کے پیشے سے منسلک ہیں۔ موصوف کثیر الجہات شخصیت کے مالک ہیں۔ اپنی ذات سے انجمن ہیں۔ ’’ادارہ اثبات و نفی ‘‘ کولکاتا کے کنوینر ،’’انجمن ترقی مصنفین‘‘ دہلی کے رکن عاملہ، ’’بزم احباب ‘‘کولکاتاکے سکریٹری اور ’’بزم یاراں‘‘ کولکاتاکے ڈائریکٹر اور شہر کولکاتا کے معروف ادارہ ’’دی مسلم انسٹی ٹیوٹ‘‘ کے لائف ممبر ہیں۔’’ دوماہی سہیل‘‘ کے مشیر ہیں۔

پروفیسر ڈاکٹر عاصم شہنواز شبلی صاحب اپنی دیرینہ علمی اور ادبی خدمات کے لیے متعدد انعامات و اعزازت سے نوازے گئے۔ جن میں چند بطورِ خاص قابل ذکر ہیں۔

اعزازات :
کلیم الدین احمد ایوارڈ (برائے تنقید) بہار اردو اکاڈمی
عبد الغفور شہباز ایوارڈ ( برائے تحقیق) بہار اردو اکاڈمی
انشاء اﷲ خاں انشاء ایوارڈ ( برائے شاعر) مغربی بنگال اردو اکاڈمی
مژگاں ایوارڈ (برائے شاعری) سہ ماہی مژگاں ، کولکاتا
ساھر لدھیانوی ایوارڈ ( برائے شاعری) فن کار اکاڈمی، کولکاتا
رابندر ناتھ ٹیگور ایوارڈ ( برائے ادبی خدمات) محفل خوش رنگ ، کولکاتا
ایکسلنس ایوارڈ ( برائے سماجی بہبود) کمرہٹی یوتھ فارم، کولکاتا
پروفیسر ڈاکٹر عاصم شہنواز شبلی کے متعدد شعری مجموعے ، دیوان اور نثری تصنیفات منظر عام پر آئے ہیں۔ جو بلا شبہ اردو ادب اور شاعری میں گراں قدر اضافہ ہے۔ ان کے تصنیفات درج ذیل ہیں :
باغ ِصنوبر دیوان رباعیات
رشتۂ جاں غزلیات
تفہیم و تقلیب تحقیق و تنقید
ظفر اوگانوی نقوش و آثار ترتیب، تحقیق ، تنقید
ناز قادری نقش و عکس ترتیب و تحقیق
ادریس سنسہاروی اور سہیل کے اداریے تنقید و تجزیہ
مغربی بنگال اور بچوں کا اردو ادب تحقیق و تنقید
ان کی کتاب ’ظفر اوگانوی نقوش و آثار‘ میں صفحہ 14 پر محترم انیس رفیع صاحب ویزیٹنگ فیلو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی یوں رقم طراز ہیں :

’’ظفر اوگانوی – نقوش و آثار‘‘ عاصم شہنواز شبلی کی تالیفی صلاحیتوں کا ایک اور اچھا نمونہ ہے کہ مستقبل کے مرتبین و مؤلفین کے inspiration کا سبب بھی بن سکتا ہے۔ ان کی ادبی خدمات ہمیشہ یاد رکھیں جائیں گی۔‘‘
بقول ڈاکٹر کلیم عاجز :

جہاں خوشبو ہی خوشبو تھی جہاں نغمے ہی نغمے تھے
وہ گلشن اور وہ یارانِ غزل خواں یاد آتے ہیں

پروفیسر ڈاکٹر عاصم شہنواز شبلی کی کتاب ’’باغ ِ صنوبر‘‘ دیوانِ رباعیات کے صفحہ 36 پر پروفیسر علیم اﷲ حالی نے اپنے مضمون ’’نئے دشت کا سیاحـ: عاصم شہنواز شبلی‘‘ میں یوں رقم طراز ہیں :

’’مجھے یہ دیکھ کر حیرت اور مسرت ہوتی ہے کہ عزیزی عاصم شہنواز شبلی نے اپنے دیوان رباعیات بہ عنوان ’’باغِ صنوبر‘‘ میں رباعی کی صنف کے ساتھ نہ صرف انصاف کیا ہے بلکہ اپنی غیر معمولی اختراعی صلاحیتوں سے کام لیتے ہوئے رباعی کے ہم عصر منظر نامے میں خوشگوار اضافے کیے ہیں۔‘‘
میں وثوق کے ساتھ کہنا چاہوں گی کہ پروفیسرڈاکٹر عاصم شہنواز شبلی آسمان ادب کے وہ درخشاں ستارہ ہیں جن کی وجہ سے بنگال کا آسمانِ ادب قابندہ نظرآتاہے۔

آخر میں ، میں اپنے شہر کولکاتا کے اس انمول گوہر کو ان کی نمایاں کارکردگی اور اردو ادب ادب اور شاعری کی گراں قدر خدمات کے لیے تہہ دل سے مبارک باد پیش کرتی ہوں۔ اور خدائے پاک برتر و بالا کے دربار میں سجدہ ریز ہو کر دعا کرتی ہوں کہ خدا پروفیسر ڈاکٹر عاصم شہنواز شبلی صاحب کو مزید کامیابی اور کامرانی عطا کرے ۔ نئی نسل کے لیے ان کے شخصیت مثل راہ ثابت ہو۔

muzaffarnaznin93@gmail.com

Previous article(ہار ڈنگ )ہر دیا ل میونسپل پبلک لائبریری میں ہندو مذہب کے چند قلمی نسخے از: ڈاکٹر عرفان رضا
Next articleغزل “شامِ غم کی نہیں سحر شاید” از: افتخار راغبؔ دوحہ قطر

اپنے خیالات کا اظہار کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here