پروفیسر مناظر عاشق ہرگانوی کے ایک عاشق کی روداد از: امان ذخیروی

0
50

(استاذی پروفیسر مناظر عاشق ہرگانوی کے آبائی بے نام و نشان مکان کی زمین پر میں کھڑا ہوں)

اسی زمیں سے اٹھا ماہتاب تک پہنچا
وہ ہر سوال کے نخل جواب تک پہنچا
(امان ذخیروی )

کبھی کبھی کسی کسی کے لئے کوئ کوئ شخصیت اتنی معتبر ہو جاتی ہے کہ اس کی ہر ادا, اس کے ہر نشان, اس کی ہر پہچان سے محبت ہو جاتی ہے. یہی نہیں اس سے وابستہ ہر در و دیوار سے بھی اس کا لمس محسوس ہوتا ہے. ویسی ہی شخصیتوں میں پروفیسر مناظر عاشق ہرگانوی کا بھی شمار ہوتا ہے. انہوں نے اردو زبان و ادب کی بیش بہا خدمات انجام دی ہیں, جس کا اعتراف پوری عالمی اردو برادری نے کیا ہے. 267 کتابیں تخلیق کر دنیا سے رخصت ہونے والے پروفیسر ہرگانوی میرے استاذ تھے. اس بات پر مجھے فخر ہے. 1998سے 2000ء تک میں ان کی قربت میں رہا, ان سے تعلیم پائ. پھر غم روزگار نے ایسا گھیرا کہ ان سے ملاقات نہ ہو سکی . ہاں موبائل سے اکثر باتیں ہوتی تھیں. ادھر کچھ دنوں سے یہ خیال دل میں مچل رہا تھا کہ ان کے گاوں ہرگاواں جا کر اس در و دیوار کو دیکھوں جس کے سائے میں پرورش پا کر وہ ذرہ آفتاب بنا. آخر کل بروز جمعرات 26 اگست میں نے ارادہ کر لیا کہ وہاں جانا ہے. چنانچہ اپنے لڑکے فتح امان کو (جو تواریخ میں ایم اے کر رہا ہے) ساتھ لیکر موٹر سائکل سے ہرگاواں کے لئے نکلا. ذہن میں بہت سارے خیالات امڑ گھمڑ رہے تھے. گھر سے شیخپورہ اور شیخپورہ سے بر بیگھا تک کا سفر کیسے گزرا پتا ہی نہ چلا. ان کی یادوں نے مجھے اپنے حصار سے باہر نکلنے ہی نہ دیا. وہ تو اچھا تھا کہ گاڑی فتح چلا رہا تھا ورنہ کوئ حادثہ بھی در پیش آ سکتا تھا. بہر حال بر بیگھا مشن چوک پر پہنچ کر ہم نے پتہ کیا کہ ہرگاواں جانے کا راستہ کون سا ہے. بر بیگھا تو اکثر جانا ہوتا تھا لیکن ہرگاواں جانے کا کبھی اتفاق نہیں ہوا. حالانکہ اس گاوں سے میری رشتہ داری بھی ہے. میرے بڑے ماموں کے ساڑھو مسٹر خان اسی گاوں کے ہیں,جن کے ساتھ بچپن میں میں کیرم کھلا کرتا تھا. حالانکہ اب وہ دہلی میں رہتے ہیں. خیر پتا کرنے پر معلوم ہوا کہ بربیگھا – بہار شریف روڈ پر 3 کیلومیٹر چلنے پر ہرگاواں موڑ آتا ہے, وہا سے کو ئ ہالف کیلومیٹر دکھن ہرگاواں گاوں واقع ہے۔ اب ہماری منزل بہت قریب تھی اور شوق دیدار در یار اپنے عروج پر. دس منٹ کے اس مختصر سفر میں میرے خیالات نے پسچاسوں سال کی مسافت طے کر لی. میں ان انجانی راہوں کو حسرت کی نگاہ سے دیکھ رہا تھا اور سوچ رہا تھا کہ ان راہوں پر مناظر سر کتنی بار چلے ہونگے. انہیں راہوں پر چلکر وہ اسکول جایا کرتے ہونگے. بازار جانے کے لئے بھی انہیں راہوں کا استعمال کرتے یونگے. اس راہ کے ذرے ذرے سے وہ واقف ہونگے اور اس راہ کا ذرہ ذرہ ان سے واقف ہوگا. اس وقت برجستہ زبان پر وہ شعر جاری ہوا……

غزالاں تم تو واقف ہو کہو مجنوں کے مرنے کی
دوانہ مر گیا آخر کو ویرانے پہ کیا گزری

انہیں خیالات میں غلطاں و پیچاں ہم ہرگاواں گاوں میں داخل ہو گئے. اس سے قبل ہمارا اس گاوں میں جانا نہیں ہوا تھا, اس لئے ان کے گھر کا ہمیں پتا بھی نہیں تھا. گاوں کے شروع میں کامگار غیر مسلموں کے مکانات تھے. وہاں پر چند لوگ کسی کام میں مصروف نظر آئے. میں نے ان سے پوچھا کہ مناظر صاحب کا مکان کہاں پر ہے. ان لوگوں نے لا علمی کا اظہا کیا. میں نے ذرا تفصیل بتائ کہ مناظر عاشق صاحب جو بھاگلپور میں پروفیسر تھے. ان میں سے چند عمردراز لوگوں نے آپس میں کچھ گفتگو کی پھر بتایا کہ ہاں ہم انہیں جانتے ہیں. آپ ڈیوڑھی پر چلے جائیں وہیں ان کا مکان ہے. میں نے بھی اپنے بڑے بزرگوں سے سن رکھا تھا کہ گاوں کے بڑے زمیندار اور رئیس لوگوں کے مکان کو ڈیوڑھی یا حویلی کہا جاتا تھا. اس بات سے یہ اندازہ ہوا کہ ان کا خاندان زمیندار گھرانے سے تعلق رکھتا ہے. چنانچہ ہم ان کے بتائے ہوئے راستے پر چل کر ڈیوڑھی کے قریب پہنچ گئے. آگے بہت بڑا گیٹ تھا اور اس میں سے ایک چھوٹا سا دروازہ تھا جو کھلا یوا تھا. گیٹ کی دیوار پر انگریزی میں “صوفیہ کیمپس” لکھا ہوا تھا. خیر جھجھکتے ہوئے ہم اس دروازے میں داخل یو گئے. اندر جا کر ہمیں محسوس ہوا کہ ہم کسی بھوت بنگلہ میں داخل ہو گئے ہیں. جگہ تو بڑی کشادہ تھی. بہت سارے خود رو پیڑ پودے اگے ہوئے تھے, اور سناٹا پسرا ہوا تھا. کئی مکانات بند پڑے تھے اور بے توجہی کے سبب گرنے کے قریب تھے. ان کی دیواروں پر گھاس اگ آئے تھے. مگر ان مکانوں کے نقش و نگار ان مکینوں کے شاندار ماضی کی داستان بیان کر رہے تھے. اب ہمارے لئے یہ جاننا مشکل تھا کہ ان میں سے کون سا مکان مناظر سر کا ہے. اتنے میں ایک نوجوان پر میری نظر پڑی. میں نے اس کو سلام کیا اور کہا کہ ہم جموئ ضلع کے ذخیرہ گاوں سے آئے ہیں اور مناظر عاشق ہرگانوی کا گھر دیکھنا چاہتے ہیں. اس پورے کیمپس میں بس وہی ایک گھر آباد تھا جس سے وہ نوجوان وارد ہوا تھا. اس نوجوان نے ہماری کچھ خاص پزیرائ نہیں کی. اتنے میں برامدے پر بیٹھے ہوئے ایک عمر دراز شخص نے مجھے ٹوکا. میں نے انہیں سلام کیا اور اپنی مدعا بتائ . مناظر سر کا نام سن کر اس شخص کے چہرے پر جو آثار نمودار بوئے وہ حوصلہ شکن تھے. اس شخص کے چہرے پر کوئ بشاشت نہیں تھی . ایسا لگتا تھا کہ مناظر سر کے لئے اس کے دل میں کوئ نرم گوشہ نہیں تھا. اس نے نہ ہمیں بیٹھنے کے لئے کہا اور نہ ہی ہمارا حال پوچھا. ایک انسان ہونے کے ناطے جو انسان کا اخلاقی فریضہ یوتا ہے, وہ شخص ان سے بھی ناواقف تھا.

زمینداری کے ساتھ ساتھ اس کے اخلاق پر بھی زوال آ گیا تھا. اس شخص کا نام چاند بابو تھا. ایسا چاند جو اپنی روشنی کھو چکا تھا. تاہم اس شخص نے جلے بھنے انداز میں بتایا کہ اب ان کا مکان کہاں ہے. اس نے ہاتھ اٹھا کر قدرے کچھ اونچی پرتی زمین کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بتایا کہ اسی زمین پر ان کا گھر تھا. مگر اب وہ زمین بھی ان کی نہیں ہے . انتقال سے 15 دن پہلے گاوں آئے تھے اور زمین بیچ کر چلے گئے. دل میں بہت سارے سوالات کروٹ لے رہے تھے کہ اس بڑے میاں سے پوچھوں جو یقیناً مناظر سر کا رشتہ دار ہوگا. کیونکہ کیمپس کے اندر ہی مناظر سر کے مکان کی زمین تھی, اور کئی ویران مکانات تھے اور ایک مسجد بھی ہے, جو شاید انہیں کے آبا و اجداد نے بنوائ ہوگی, سب کے نکلنے کا ایک ہی راستہ ہے. مسجد کے رنگ و روغن سے اندازہ ہوا کہ اس میں نماز ہوتی ہے . ویسے گاوں میں دوسری مسجد بھی ہے , جیسا ایک ویران بنگلے ہر بیٹھے ہوئے ایک شخص نے بتایا. مزید پوچھنے پر معلوم ہوا کہ وہ مکان کسی موسیٰ صاحب کا ہے جو اب گیا میں رہتے ہیں. غرض میں نے چاند بابو سے مزید کوئ سوال نہیں کیا. اور کرتا بھی کیسے اس نے ذرا بھی میری حوصلہ افزائ نہیں کی. بجھے دل کے ساتھ ہم اس پرتی زمین پر گئے جہاں کبھی اس گوہر نایاب کا مکان تھا. جہاں وہ پیدا ہوئے تھے, جہاں ان کی کلکاریاں گونجی تھیں. جہاں گھٹنوں کے بل انہوں نے چلنا سیکھا تھا. جہاں ماں, باپ کی شفقتوں کی گھنیری چھاوں میں ان کے شب و روز گزرے تھے. جس مکان میں کتنی عیدیں انہوں نے منائ ہونگیں, کتنی شب براتوں میں موم بتیاں جلائ ہونگیں اور پٹاخے چھوڑے ہونگے. مگر اب وہاں کچھ بھی نہ تھا. مجھے یہ حال دیکھ کر رونا آیا اور زبان پر میر حسن کا وہ شعر…….

کل جہاں پر تھا بلبلوں کا ہجوم
آج اس جا ہے اشیانہء بوم

پھر بھی بہت دیر تک اس زمین پر میں کھڑا رہا . تصور کی آنکھوں سے اس گھر کے در و دیوار دیکھتا رہا. آخر بیٹے سے اپنی ایک تصویر اتروائ اور تحقیق کے ادھورے پن کا احساس لئے بھاری من سے لوٹ آیا. دنیا کی بے ثباتی کا شدید احساس ہوا. دعا ہے استاد محترم کو الله کریم کروٹ کروٹ جنت عطا فرمائیں. آمین ثم آمین

Previous articleخاندانی تنازعات کے حل کی تدابیر،وقت کی ضرورت از:ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی
Next articleوزیراعلی اردو ایکشن کمیٹی کے مطالبات پر غور کریں! مولانااحمد ولی فیصل رحمانی کی اپیل!

اپنے خیالات کا اظہار کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here