پروفیسر مظفر حنفی: پانچواں درویش

0
24

از: ایس ایم حسینی

مظفر حنفی کا نام سنتے ہی ذہن کے دریچوں میں ہلچل پیدا ہونے کے ساتھ سادہ کینوس پر ایک نہیں بلکہ مختلف رنگ بکھر جاتے ہیں، ہر رنگ اپنے آپ میں مکمل اور پختہ ہوتا ہے، حنفی صاحب کا نام اردو دنیا کے لئے محتاج تعارف نہیں ہے، آپ کی تخلیقات اور علمی کاوشیں وہ سرمایہ ہیں جنہوں نے آپ کو حیات جاودانی بخشی اور اردو کو بے شمار قیمتی خیالات اور احساسات سے آشنا کیا، قاری کے سامنے جب آپ کا ذکر آتا ہے تو ایک شخص کے کئی چہرے منظر پر ابھرتے ہیں، اور ایک لمحہ میں افق پر چھا جاتے ہیں، کبھی آپ ناقد کے روپ میں نظر آتے ہیں تو کبھی ایک معروف افسانہ نگار اور ممتاز شاعر کی صورت میں اور کبھی ایک مشاق مترجم کی شکل میں قاری کو مبہوت کردیتے ہیں، اس کے علاوہ آپ نے ادب اطفال اور طنز و مزاح میں بھی اپنا قلمی جوہر دکھایا، صحافت سے بھی وابستہ رہے اور “نئے چراغ” کے چودہ شمارے نکالے، مظفر حنفی کی ہمہ جہت شخصیت علم و ادب کے کئی میدان کا بخوبی احاطہ کئے ہوئے ہے، تخلیقی رنگا رنگی اور بے مثال تصنیفی و تدریسی قابلیت کی بنا پر آپ کی مثال ایک گوہر نایاب کی سی ہے جو بھیڑ میں اپنی انفرادیت سے سب پر حاوی رہتا ہے، آپ کے یہاں ترقی پسندی اور جدیدیت کے عناصر بھی دیکھنے کو ملیں گے لیکن بہت ہی مناسب سانچے میں، مظفر حنفی یوں تو شاعری اور افسانہ نگاری کے ذریعہ اردو ادب میں داخل ہوئے لیکن پھر آپ شاعری کے ہی ہوکر رہ گئے البتہ تیھکے لب ولہجہ کی شاعری سے ایک الگ شناخت بنانے میں ضرور کامیاب رہے، علاوہ ازیں دلآویز زبان و بیان، دلکش خیالات اور منفرد انداز واسلوب میں ایک ماہر فنکار کی طرح کائنات کے مختلف مظاہر اور انسانی وسماجی چہروں کو بے نقاب کرتے رہے، اور ایک سچے آرٹسٹ کی طرح اضمحال، بے چینی، بے یقینی، تھکن، گھبراہٹ جیسے گونا گوں حالات سے جوجھتی زندگی کو سطحیت سے آزاد رکھتے ہوئے سامان عیش بھی مہیا کیا ہے، آپ کے یہاں فرقہ وارانہ فسادات، معاشرے میں پھیلی بد امنی، جاری وساری تعصب، تشدد پسندی اور بے انصافی جیسے نازک وحساس موضوعات بھی ملتے ہیں، مظفر حنفی کی قلمی کاوشوں کی تعداد جو زیور طباعت سے آراستہ ہوکر منظر عام پر آئیں سو (100) ہیں، آپ کی پہلی کتاب جو بچوں کے لئے لکھی گئی “بندروں کا مشاعرہ” 1954ء میں شائع ہوئی، اور پہلا افسانوی مجموعہ “اینٹ کا جواب” 1967ء میں شائع ہوکر مقبول ہوا، اس کے بعد 1968ء میں “پانی کی زبان” کے نام سے چھپنے والا ان کی غزلوں کا مجموعہ جدید غزل کا پہلا مجموعہ مانا جاتا ہے، حنفی صاحب کو ان کی خدمات کے اعتراف میں سال در سال اعزازات وانعامات سے بھی نوازا جاتا رہا ہے، آپ کو مختلف کتابوں پر ملنے والے ریاستی وغیر ریاستی ایوارڈز کی تعداد ستاون (57) تک پہنچ جاتی ہے، جس میں غالب پریم چند ایوارڈ، پرویز شاہدی نیشنل ایوارڈ، قومی ایوارڈ، افتخارِ میر ایوارڈ، تاحیاتی خدمات ایوارڈ، شیکھر سمن، نشانِ جنگ کراچی، آفاق احمد لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ، بزم صدف انٹرنیشنل ایوارڈ، بھارتیا بھاشا پریشد ایوارڈ، مہیشوری ایوارڈ، سراج میر خاں ساحر ایوارڈ اور دہلی، اترپردیش، بہار، مغربی بنگال، آندھرا پردیش اردو اکیڈمی ایوارڈز قابل ذکر ہیں.

مظفر حنفی کی ولادت یکم اپریل 1936ء کو کھنڈوا، مدھیہ پردیش میں ہوئی، جہاں ان کے والد گرامی عبدالقدوس صدیقی میونسپل اسکول میں بحیثیت استاذ خدمات انجام دے رہے تھے، نام محمد ابو المظفر ہے اور آبائی وطن ہسوہ، فتحپور یوپی ہے، تین بہنوں کے درمیان آپ اکلوتے تھے، 1940ء میں اردو اسکول کھنڈوا میں داخل کئے گئے، اور تعلیم کی ابتداء ہوئی تھی کہ والدہ اور ہمشیرہ کے ساتھ 1941ء میں اپنے نانیہال ایرایاں ضلع فتح پور منتقل ہوگئے اور تیسری و چوتھی جماعت تک تعلیم حاصل کرنے کے بعد ہسوہ کے آبائی مکان میں سکونت اختیار کی، اور تعلیمی سلسلہ جاری رہا، 1946ء میں ورنا کیولر مڈل اسکول سے ساتویں جماعت اول درجہ میں پاس کی اور اس وقت کے اہم تعلیمی اعزاز بورڈ کی میرٹ لسٹ میں جگہ پائی، چھ سال بعد 1947ء میں آپ دوبارہ کھنڈوہ آئے اور ایم ایم اینگلو مڈل اسکول میں داخلہ لیا، آٹھویں کلاس ضلع کے تمام اسکولوں میں پہلی پوزیشن سے پاس کیا، سبھاش ہائی اسکول کھنڈوہ سے نویں، دسویں اور گیارہویں جماعت پاس کرنے کے بعد 1952ء میں سیکنڈری ایجوکیشن بورڈ ناگپور سے ہائر سیکنڈری سرٹیفکیٹ امتحان دوسری پوزیشن سے پاس کیا، اور اسی سال جامعہ اردو علی گڑھ میں ادیب ماہر کے متحان میں ممتاز نمبرات سے کامیاب ہوئے، بعد ازاں والد صاحب نے ہسوہ بلاکر فتحپور گورنمنٹ کالج میں داخل کرادیا، 1955ء میں بھوپال کے محکمہ تعلیمات میں بحیثیت ٹیچر ملازمت ملی، تقریبا تین سال اس ملازمت سے وابستہ رہے اور شادی کے ایک سال بعد 1960ء میں بھوپال کے محکمہ جنگلات میں ملازم ہوگئے، البتہ پڑھائی کا سلسلہ بھی جاری رہا، اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے بطور پرائیویٹ امیدوار بی اے، گورنمنٹ کالج سیہور سے ایل ایل بی، 1971ء میں سیفیہ کالج بھوپال سے ایم اے کرنے کے بعد 1973ء میں برکت اللہ بھوپال یونیورسٹی سے “شاد عارفی” پر سال بھر میں تحقیقی مقالہ مکمل کرکے خصوصی اجازت سے یونیورسٹی میں جمع کردیا اور اسی مقالہ پر پی ایچ ڈی کی ڈگری تفویض ہوئی، دہلی میں این سی آرٹی کے اسسٹنٹ پروڈکشن آفیسر (اردو) کا پروانہ ملا، چند سال بعد ہی 1976ء میں جامعہ ملیہ اسلامیہ کے شعبہ اردو میں ریڈر کی حیثیت سے فائز ہوئے، پھر 1989ء میں کلکتہ یونیورسٹی نے آپ کو “اقبال چیئر” کے پروفیسر کی حیثیت سے بلالیا.

مظفر حنفی کی شخصیت نو بہ نو اور رنگ برنگ روپ کی حامل رہی ہے، آپ نے مختلف اصناف میں طبع آزمائی کی اور جس میدان میں بھی قلم کو جنبش دی اپنی انفرادیت اور امتیاز کو برقرار رکھا، خواہ وہ افسانہ نگاری کا خانہ ہو یا شاعری کا پیمانہ، کبھی ادب اطفال میں بچوں کے لئے خوبصورت کہانیاں بنتے ہیں تو کبھی تراجم میں اپنی مہارت سے مبہوت کردیتے ہیں، آپ نے 1948ء میں محض بارہ سال کی عمر میں بچوں کے لئے چھوٹے چھوٹے چٹکلوں پر مشتمل کہانیاں، نظمیں لکھنی شروع کیں، جو پہلے پہل بچوں کے رسالہ “کھلونا” (دہلی) “ٹافی” (مالیگاؤں) “کلیاں” (لکھنؤ) اور “دوست” (کراچی) وغیرہ میں چھپیں، لڑکپن میں ہی ادب اطفال کے ساتھ افسانہ نگاری میں بھی اپنے جوہر دکھائے، 1953ء میں دادا میاں کی مزار سے متعلق، جو کہ کانپور میں محلہ بیکن گنج سے متصل ہے، پہلا افسانہ “منت کی چادریں” لکھا جو ماہنامہ “شمع” دہلی میں شائع ہوا، 1960ء تک تقریبا ڈیڑھ سو افسانے تخلیق کئے جو مسلسل مؤقر ادبی رسالوں کی زینت بنتے رہے، 1954ء میں نسیم بکڈپو لکھنؤ سے پہلا ناول چھپا جو انگریزی سے ماخوذ تھا، ان کے تین افسانوی مجموعے “اینٹ کا جواب” 1957ء “دو غنڈے” اور “دیدہء حیراں” 1968ء میں منظر عام پر آئے جس میں توصیفی دیباچے فراق گورکھپوری، کنہیا لعل کپور، اور کرشن چند نے لکھے اور ایک اچھا افسانہ نگار تسلیم کیا ہے، تینوں دیباچوں سے ایک ایک اقتباس پیش خدمت ہے جو مظفر حنفی کو سمجھنے میں معاون ثابت ہونگے.

فراق گورکھپوری “اینٹ کا جواب” کے پیش لفظ میں لکھتے ہیں: “مظفر حنفی صاحب ہمارے نئے افسانہ نگاروں میں ایک ہونہار ادیب ہیں، یہ ان کا پہلا مجموعہ ہے، ان کے افسانوں میں زندگی کے کئی پہلوؤں کی عکاسی ہے، بیان نہات سلجھا ہوا ہے، ان میں نیا پن ہے، ان کا انداز دلکش ہے، مکالمے فطری ہیں، اور پلاٹ میں جدت ہے، پڑھنے والوں کو یہ افسانے کہیں سے گراں نہیں گزرینگے” (1).
مشہور افسانہ نگار کرشن چند کہتے ہیں “مظفر حنفی کو بات کہنے کا ڈھب آتا ہے اور افسانے کی تخلیق کے سارے لوازم معلوم ہیں، کون سی بات قاری سے کس وقت کہنا ہوگی کون سی بات چھپا کر رکھنا ہوگی، اور صرف آخری سطر میں مٹھی کھول دینا ہوگی، حالانکہ آج کل قاری بہت ہوشیار ہوچلا ہے، اکثر اوقات افسانہ ختم ہونے سے پہلے ہی اس کا انجام معلوم کرلیتا ہے، مگر مظفر حنفی مصنف اور قاری کی اس شطرنجی لڑائی میں اکثر بیشتر اپنے قاری کو مات دے جاتے ہیں”(2).

مظفر حنفی کے افسانوں سے متعلق کنہیا لعل کپور رقمطراز ہیں: “واقعی اس کے سوچنے کا طریقہ انفرادی اور جداگانہ ہے، کیونکہ وہ زندگی کو ایک نئے زاویہ سے دیکھنے کا عادی ہے، چاہے وہ ظریف ہے یا شاعر، اس کے سر پر یہ دھن سوار ہے کہ زندگی کی ستم ظریفیوں کو بے نقاب کرے، اپنے مقصد میں کامیاب ہونے کے لئے وہ اکثر افسانے کا اختتام کو ایک ناگہانی موڑ دیتا ہے، جسے پیشِ عقرب سے مشابہت دی جاسکتی ہے”(3).
مظفر حنفی کا نام یقینا اردو شاعری کے ساتھ افسانہ میں بھی اہمیت کا متقاضی ہے، چونکہ آپ نے گرد وپیش کو گہری نظر سے دیکھا، پرکھا اور اس سے مرتب ہونے والے اثرات کو مہارت کے ساتھ اکٹھا کردیا ہے، جس میں نئے الفاظ، نئی تعبیرات اور لائق اعتناء خیالات کا ہجوم نظر آتا ہے، آپ کے یہاں بحیثیت افسانہ نگار معاشرے کے اندر موجود پیچیدگی، مصائب سے ٹکر لیتی زندگی افلاس، ظلم، بیگاری، نا امیدی، دھوکہ، فریب، ہوس اور خود غرضی جیسے موضوعات جو روز مرہ کی حقیقت ہیں اور ہم شب وروز ان سے نبرد آزما رہتے ہیں ایسے لب ولہجہ، تصنع سے مبرّا انداز اور سادہ اسلوب میں بیان کرتے ہیں کہ پورا افسانہ بولتا ہوا محسوس ہوتا ہے، ان کی طرز تحریر میں طنز ومزاح کا لطیف عنصر بھی ملتا ہے جو آپ کا خاصہ ہے، اس ضمن میں “ایمان کی بات” ایک حقیقی کہانی ہے جس کا تعلق مظفر حنفی کے آبائی وطن اور ہمارے نانیہال ہسوہ فتحپور سے ہے، مرکزی کردار نذیر بابا ہیں جو ہسوہ کے کھاتے پیتے گھرانے کے اکلوتے چشم وچراغ تھے، جو عدالت میں دائر کئے گئے ایک جھوٹے مقدمہ کے چکر میں پھنس کر جیل گئے اور جب دس سال قید بامشقت کی سزا دے کر زندہ چھوڑ دیا گیا، رہائی کے بعد گھر آئے تو کوئی زندہ نہ رہا تھا، جائداد اور اثاثہ پہلے ہی مقدمہ بازی کے بھینٹ چڑھ چکا تھا، چنانچہ چھوٹی چھوٹی چوریوں کے بعد ڈکیتی پر آمادہ ہوئے اور ساری زندگی اسی دلدل میں گزار دی، مظفر حنفی نے اسے بہت ہی عمدہ پیرائے، کاٹ دار استفہامیہ جملوں میں برتا ہے، اس کے علاوہ “سنگ دل” “مولانا منّے” “دل کے آئینہ میں ہے” پڑھئے یا “الماس کا محبوب” “بجیا تم کیوں روتی ہو” “دل اور دل”، ہر افسانہ اور کہانی ایک نیا احساس اور چھبن چھوڑ جاتا ہے، جو قاری کو ہر لحظہ کچوکے لگاتا ہے، جس میں درد ہے اور تڑپن بھی ہے، لیکن آپ کو حیرت ہوگی کہ مظفر حنفی بطور افسانہ نگار اس سفر کو جاری نہ رکھ سکے، شاعری کو اوڑھنا بچھونا بنالیا اور زود گو شاعر کے عنوان سے جانے گئے، افسانہ سے وہ دستبردار کیوں ہوئے؟ اس تعلق سے مظفر حنفی خود گویا ہیں: “1960ء کے آس پاس جدیدیت کی رو چلی اور افسانے میں بھی پلاٹ اور کردار وغیرہ کو درکنار کرتے ہوئے تجریدیت، علامت اور رمزیت نے زور پکڑا، میں ان مطالبات کو غیر فطری سمجھتا تھا، اس لئے غزل پر زیادہ توجہ صرف کرنے لگا جہاں رمزیت اور علامت پسندی سے حسن وخوبی پیدا ہوتی ہے، رفتہ رفتہ افسانہ سے بالکل دستبردار ہوگیا”(4).

اس طرح آپ شعر وشاعری کی راہ پر چل پڑے، افسانہ کہیں پیچھے رہ گیا اور کرشن چندر کی بات سچ ثابت ہوئی کہ “مظفر حنفی شعر بھی کہتے ہیں، فسانہ بھی، دونوں کا انداز بیان الگ الگ رکھتے ہیں، فسانے کو شعر اور شعر کو فسانہ نہیں بناتے اس لئے نہیں کہہ سکتے کہ میدان آخر شاعری کے ہاتھ رہے گا یا افسانے کے………………. نوجوان ہیں، نوواردان محن میں سے ہیں، دشت پیمائی ان کا حق ہے، یہ قافلہء نو بہار جہاں جا کے رکے گا وہی اس کی منزل ہے”(5).

مظفر حنفی کی پہچان ان کی شاعری ہے، وہ ایک کہنہ مشق اور بقول شمس الرحمن فاروقی زود گو شاعر تھے، جب آپ اسکول میں زیر تعلیم ہی تھے، اسی زمانے سے نظمیں اور غزلیں کہنا شروع کردی تھیں، پھر آپ نے افسانہ نگاری چھوڑ کر شاعری کی دنیا میں پورے انہماک کے ساتھ قدم رکھا، اپنے منفرد انداز ولہجہ اور ذاتی تجربات ومشاہدات کو شاعری کا پیرہن عطا کر کے نئی پہچان بنائی جو آپ کی آواز بھیڑ میں گم نہیں ہونے دیتی ہے، اور کلام میں شاد عارفی کا اثر صاف نظر آتا ہے، مظفر حنفی نے 1962ء میں شاد عارفی کی باقاعدہ شاگردی اختیار کی، جس کا ذکر انہوں نے ایک انٹرویو کے دوران یوں کیا ہے: “شاد عارفی کی طنزیہ نظمیں اور غزلیں مجھے بہت پہلے سے بھاتی تھیں، ان سے خط وکتابت کا سلسلہ “نئے چراغ” کی ادارت کے زمانے میں شروع ہوا، وہ ہمارے پرچہ کے مستقل لکھنے والوں میں سے تھے، کچھ آگے چل کر جب میں نے افسانہ نگاری کے بجائے شاعری کو اپنا مرکز توجہ بنایا تو شاد عارفی کی باقاعدہ شاگردی اختیار کی اور نومبر 1962 سے فروری 1964 تک تقریبا چودہ مہینے ان سے اپنی تقریبا ڈیڑھ سو (150) غزلوں پر اصلاح لی، یہ سب ڈاک کے وسیلے سے ہورہا تھا، فروری 1964ء میں وہ وفات پاگئے لیکن ان کی تحریروں سے آج تک سیکھتا رہتا ہوں”(6).
حنفی صاحب کے اشعار روایت پسندی اور جدیدیت کا حسین سنگم ہیں، جہاں سب کچھ بہت ہی مناسب اور اپنی جگہ پر معلوم ہوتا ہے، خلیق انجم لکھتے ہیں: “مظفر بنیادی طور پر غزل کے شاعر ہیں، ان کی شاعری روایت و بغاوت کے درمیان کی چیز ہے، وہ ماضی کا احترام کرتے ہیں، اور ہر اس روایت کو اپناتے ہیں جو قابل قدر ہے، لیکن ان تمام روایتوں سے بغاوت کرتے ہیں جو ادب کو جمود، فرسودگی اور کھوکھلے پن سے آلودہ کرتی ہے”(7).

مظفر حنفی کے شعر وسخن میں جو چیز انہیں ممتاز کرتی ہے وہ ان کا تیکھا اسلوب اور بیباک پن ہے جس میں شوخی، طنز کی کاٹ اور بے تکلفی صاف نظر آتی ہے، آپ کوئی بات کہنے میں جھجھکتے نہیں اور نہ ہی اخلاقی پیمانوں سے گریز کرتے ہوئے عامیانہ پن اختیار کرتے ہیں، خواہ طنزیہ غزلیں ہوں یا عشقیہ غزلیں وہ ایک نیا لطف اور احساس پیدا کرتی ہیں، آپ کے اشعار پڑھتے ہوئے نبض تیز ہوجاتی ہے اور جامد زندگی میں حرارت محسوس ہونے لگتی ہے، مظفر حنفی جدید شعری افق پر دور سے ہی چمکتے دمکتے اور نمایاں نظر آتے ہیں،
نہ جانے کب سے زمین گھومتی ہے محور پر
میں بن چکا ہوں، مجھے چاک سے اتارا جائے

نوٹ کرلیں میرا لہجہ نہ سمجھنے والے
کھردرا پن ہی میرے شعر کا گہنا ہوگا

سوچ نئی ہے لہجہ تیکھا لفظ کھرے آواز جدا
دانستہ رکھا ہے اپنے شعروں کا انداز جدا

مجھ سے مت بولو میں آج بھرا بیٹھا ہوں
سگریٹ کے دونوں پیکٹ بالکل خالی ہیں

شکریہ ریشمی دلاسے کا
تیر تو آپ نے بھی مارا تھا

میرے تیکھے شعر کی قیمت دکھتی رگ پر کاری چوٹ
چکنی چپڑی غزلیں بے شک آپ خریدیں سونے سے

پانچواں درویش ہوں مجھ سے سنو
اک نیا افسانۂ باغ و بہار
مظفر حنفی کے شعری مجموعوں کی تعداد چوبیس (24) ہے، جو بالترتیب یہ ہے “پانی کی زبان” 1967ء “تیکھی غزلیں” 1968ء “عکس ریز” 1969ء “صریرِخامہ” 1973ء “دیپک راگ” 1974ء “یم بہ یم” 1979ء “طلسمِ حرف” 1980ء “کھل جا سم سم”1981ء “پردہ سخن کا” 1986ء “یا اخی” 1997ء “ہاتھ اوپر کئے” 2002ء “پرچمِ گرد باد” 2002ء “آگ مصروف ہے” 2004ء “ہیرے ایک ڈال کے”2011ء “کمان”(کلیات1) 2013ء “چنیدہ” 2015ء “مظفر کی غزلیں”(ہندی) 2000ء “تیزاب میں تیرتے پھول”(کلیات جلد2) 2013ء “مظفر حنفی کی منتخب غزلیں” 2013ء “مرچ غزل پر”(ہندی) 2016ء “غزل دستہ”(ہندی) 2016ء “غزل جھرنا”(ہندی) 2017ء “غزل دریچہ”(ہندی) 2018ء “غزل دھارا”(ہندی)2018ء، حنفی صاحب کے شعری مجموعوں کے حوالے سے مشاہیر کے اقوال حسب ذیل ہیں جنہیں پڑھ کر ان کی تخلیقی کاوشوں، کوششوں اور ادبی خدمات و عظمت کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے.
مشہور نقاد اور دانشور سید احتشام حسین “عکس ریز” جو کہ ایک سو چوبیس خاکوں پر مشتمل ایک طویل نظم ہے کے دیباچہ میں رقمطراز ہیں “مظفر حنفی نے نہ تو ناصح مشفق بننے کی کوشش کی ہے، اور نہ اپنے کو ایک معلم اخلاق کی حیثیت سے پیش کیا ہے، بلکہ ایک شاعر کی طرح پڑھنے والوں کی رگِ احساس کو چھیڑا ہے، تاکہ وہ بھی سماج کی ان گندگیوں کو دیکھ لیں جنہیں انہوں نے دیکھا ہے اور جو اوپر سے صاف ستھرا، ڈھلا ڈھلایا، اور منظم نظر آرہا ہے، شاعر اور ادیب کی حیثیت سے وہ یہیں تک جا بھی سکتے تھے”(8).

پروفیسر گوپی چند نارنگ آپ کے مقبول عام، مشہور شعری مجموعہ “یا اخی” سے متعلق کہتے ہیں کہ “حنفی صاحب نے کسی پڑاؤ کو منزل بننے نہیں دیا، ان کے اندر کا تخلیق کار اگر اپنے تخلیقی کارناموں پر مطمئن ہوجاتا تو پھر “یا اخی” جیسا شعری مجموعہء کلام اردو دنیا کو میسر نہ آتا، جس کے لئے پوری اردو دنیا اور شعر وادب کے شائقین ان کے شکر گزار ہیں”.
وزیر آغا لکھتے ہیں: “مظفر حنفی کی غزل جدید اردو غزل کے بربط سے چھوٹا ہوا ایک منفرد، تازہ، پیچ وخم کھاتا دل موہ لینے والا سُر ہے، جس نے غزل کے “کل” سے لحظہ بھر کے لئے الگ ہوکر اپنے وجود کا اثبات کیا، مگر پھر لپک کر غزل کی سِمفنی میں دوبارہ شامل ہوگیا ہے، تجربے اور روایت کا بنتا بگڑتا سنجوگ مظفر حنفی کی غزل کا امتیازی وصف ہے”(9).

مظفر حنفی کا ادبی وتخلیقی سفر کئی دہائیوں پر محیط ہے، آپ نے اپنی پوری زندگی اردو زبان وادب کی خدمت میں وقف کردی، بریں بنا اردو دنیا میں آپ نمایاں اور اہم مقام کے حامل ہیں، ساتھ ہی شاعری کے بعد اہمیت کے اعتبار سے تحقیقی وتنقیدی نگارشات کا سلسلہ بھی دراز ہے، جن کی تعداد چوبیس (24) تک پہنچتی ہیں، ان میں بھی شاد عارفی پر لکھی گئی کتابوں کی گنتی نو سے زائد ہے، جسے دیکھ کر یہ کہا جاسکتا ہے کہ آپ نے شاگردی کا حق ادا کیا، شاد عارفی سے متعلق تحقیق، ترتیب و تدوین کا جو کام حنفی صاحب نے کیا وہ لائق تحسین اور سراہے جانے کے قابل ہے، آپ کی تحقیقی وتنقیدی کتب میں سے چند “شاد عارفی شخصیت اور فن” 1977ء “نقد ریزے” 1978ء “تنقیدی ابعاد” 1987ء “شاد عارفی فن اور فنکار” 2001ء “تنقیدی نگارشات” 2014ء “وضاحتی کتابیات” اور ترتیب کردہ کتابوں میں سے “شوخی تحریر” 1971ء “جدیدیت: تجزیہ وتفہیم” 1985ء “آزادی کے بعد دہلی میں طنز و مزاح” 1992ء “کلیات شاد عارفی” 1975ء “مکاتیب و مضامینِ شاد عارفی” 2016ء اور “کلیات ساغر نظامی” قابل ذکر ہیں، مظفر حنفی نے جاسوسی ناولوں کے ساتھ دیگر کتابوں کے بیشتر ترجمے کئے جو درج کئے جاتے ہیں “پر اسرار قاتل” 1955ء “چوروں کا قاتل” 1955ء “دہری سازش” 1956ء “تارِ عنکبوت” 1956ء “شرلاک ہومز” 1956ء “گلاگ مجمع الجزائر” (جلد-3) “سخاروف نے کہا” 1976ء “گجراتی کے یک بابی ڈرامے” 1977ء “اڑیا افسانے” 1980ء “بیداری” 1980ء “بھارتیندو ہریش چند” 1984ء “بنکم چندر چٹرجی” 1988ء، علاوہ ازیں آپ نے “چل چنبیلی باغ میں” کے عنوان سے ایک سفرنامہ بھی لکھا ہے.
حنفی صاحب نے صرف لکھا نہیں بلکہ ان کی زندگی میں ہی ان پر لکھا بھی گیا، جس میں ڈاکٹر محبوب راہی کی “مظفر حنفی حیات، شخصیت اور کارنامے” 1987ء “مظفر حنفی بنام محبوب راہی” 2012ء اور ڈاکٹر جاوید اختر کی کتاب “مظفر حنفی: شخصیت، فکر و فن” 2019ء دیکھنے کو ملتی ہے.
مظفر حنفی اردو کی ترقی وترویج کے لئے دل وجان سے کوشاں رہے جس سے صَرف نظر ممکن نہیں ہے، آپ کی زندگی و تخلیقی کارنامے آنے والی نسل کے لئے مشعل راہ اور قابل تقلید ہیں، حنفی صاحب کی مثال اس گُلدان کی سی ہے جس میں ہر رنگ اور خوشبو کے پھول سجے ہوئے ہوں جن کی مہک ہر آنے جانے والے کو متوجہ کرتی ہے، اب یہ اس شخص کے اوپر ہے کہ وہ اس گُلدان سے کس پھول کا انتخاب کرتا ہے، اور اس سے کتنا فائدہ حاصل کرتا ہے، مظفر حنفی کا یہ شعر گنگنائیے اور اجازت دیجئے.
روتی ہوئی ایک بھیڑ مرے گرد کھڑی تھی
شاید یہ تماشہ مرے ہنسنے کے لئے تھا
20/اکتوبر/2020ء کی کوئی گھڑی تھی، طبیعت جانے کیوں بوجھل سی تھی اور ذہن ودماغ پر مردنی کی کیفیت چھائی ہوئی تھی، ایسے میں سابقہ عادت کے مطابق کمرے کا رخ کیا اور شیلف کے سامنے جا کھڑا ہوا، نگاہیں مختلف کتابوں سے پھسلتی ہوئی مظفر حنفی صاحب کی “بھولی بسری کہانیاں” جو تینوں افسانوی مجموعے کی کلیات ہے پر اٹک گئیں، پہلے بھی یہ کتاب پڑھ چکا تھا لیکن پھر بھی کتاب شیلف سے کھینچی اور اپنا پسندیدہ افسانہ “الماس کا محبوب” پڑھنے لگا، بیٹھے پڑھ ہی رہا تھا کہ پھر کسی ضرورت کے تحت کہانی ادھوری چھوڑ کر اٹھنا پڑا، کچھ دیر بعد جب واپسی ہوئی تو اخبار پر نظر پڑی، اسے ہاتھوں میں اٹھایا اور عادت کے مطابق صفحہ اول کی سرخیوں پر نظر ڈالتا ہوا اپنا پسندیدہ کالم پڑھنے کے لئے صفحہ پلٹنے ہی والا تھے کہ ایک دھچکا سا لگا، بڑی سی سیاہ ہیڈنگ کہہ رہی تھی “مظفر حنفی کا انتقال، اردو دنیا سوگوار” لمحہ بھر کو یقین نہ آیا کہ “بھولی بِسری کہانیاں” لکھنے والا آج خود بھولی بِسری کہانی کا حصہ بن گیا، لیکن! لیکن اس یقین کے ساتھ کہ اسے ہمیشہ یاد رکھا جائیگا، یوں تو ہر ادیب شاعر اور فنکار سے ایک محبت اور انسیت سی محسوس ہوتی ہے، لیکن مظفر حنفی سے لگاؤ اس بنا پر کچھ زیادہ تھا کہ ہسوہ، فتحپور (یوپی) آپ کا آبائی وطن اور میرا نانیہال ہے، کبھی ملاقات تو نہیں ہوئی، البتہ خواہش ضرور تھی جو اب حسرت میں تبدیل ہوچکی ہے۔

حوالہ جات

(1) افسانوی مجموعہ “اینٹ کا جواب” 1957ء صفحہ نمبر: پانچ.
(2) افسانوی مجموعہ “دو غنڈے” 1968ء صفحہ نمبر: سات و آٹھ.
(3) افسانوی مجموعہ “دیدہء حیراں” 1968ء صفحہ نمبر: چھ.
(4) ماہنامہ “چہار سو” راولپنڈی، صفحہ نمبر: سولہ، جلد 18، شمارہ: نومبر دسمبر 2009.
(5) “بھولی بسری کہانیاں” صفحہ نمبر: ایک سو ستّر.
(6) ماہنامہ “چہار سو” راولپنڈی، صفحہ نمبر: سولہ، جلد 18، شمارہ: نومبر دسمبر 2009.
(7) شعری مجموعہ “یم بہ یم” 1979ء صفحہ نمبر: چھ.
(8) شعری مجموعہ “عکس ریز” 1969ء صفحہ نمبر: سات.
(9) شعری مجموعہ “یا اخی” 1997ء صفحہ نمبر: بائیس.

فون نمبر 8960512979
ندوہ کیمپس، ڈالی گنج، لکھنؤ.

Previous articleاہم خبر: بہار، محکمہ تعلیم نے کیا بڑا اعلان!
Next article1 جنوری2022 سے مہنگی ہوجائیں گی کئی چیزیں اور سروس، آپ کی جیب پر پڑے گا سیدھا اثر

اپنے خیالات کا اظہار کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here