پروفیسر فضل امام ایک تعارف از: “انسان گروپ”مغربی بنگال

0
112

تاریخ ولادت:07 اگست 1940ء
بہاء الدین پور، اعظم گڑھ
تاریخ وفات: 31 اگست 2020ۓء

جانے والے کو
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کہیں روک سکا ہے کوئی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پروفیسر فضل امام کی یاد میں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فاروق بخشی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عصر حاضر کے ممتاز ادیب، نقاد، دانشور اور شاعر پروفیسر فضل امام رضوی بھی اس دار فانی سے کوچ کر گئے۔ وہ عرصۂ دراز سے صاحب فراش تھے اور علالت کے دور سے گزر رہے تھے۔ جو اس جہان فانی میں آیا ہے وہ یقینا ًیہاں سے جائے گا اس سنگین حقیقت کے باوجود کئی شخصیتوں کا محفل جہاں سے یوں چلے جانا دلوں پر شاق گزرتا ہے۔ فضل امام صاحب جنھیں اب مرحوم لکھنا ہی پڑے گا ایسی شخصیات میں شامل تھے جن کے بغیر بزم علم وادب عرصۂ دراز تک سونی سونی نظر آئے گی۔ ان کی تحریر ان کی تقریراور ان کی بذلہ سنجی سے پر نکتہ سنجی ایسے اوصاف تھے جو ہر محفل کو زعفران زار بنا دیتے تھے۔ان کی باغ و بہار شخصیت اور ان کے نپے تلے تیز طرار جملے اچھے اچھوں کو سنبھلنے کا موقع نہیں دیتے تھے جو ان کے دوست بھی تھے اور دشمن بھی مگر فضل اما م ہمیشہ اپنی کج کلاہی کے بھرم کو قائم رکھتے تھے۔ترقی پسند فکرکے حامل تھے اور پھر جو شخص کربلا کو حرز جاں بنائے ہوئے ہو وہ حسین کے ساتھ ساتھ احتجاج اور انقلاب کو بھی سمجھتا ہے۔

میری ان کی پہلی ملاقات 1979کی جاتی ہوئی سردیوں کے دنوں میں جے پور کے ایک مشاعرے میں ہوئی۔ میں ان دنوں اجمیر میں تھا۔ میرٹھ سے قبلہ حفیظ میرٹھی کا خط آیا کہ جے پور میںفلاں تاریخ کو مشاعرہ ہے۔ میںاجمیر آجاتا ہوں وہاںسے دونوں جے پور چلیں گے۔حفیظ صاحب صبح سویرے اجمیر پہنچ گئے۔ دوپہر والی ٹرین سے ہم دونوں جے پور پہنچ گئے۔رات کو مشاعرے میں میرٹھ کے پدم شری حکیم سیف الدین بھی مجلس صدارت پر جلوہ افروز تھے۔ غالباً سیف صاحب کے ایک عزیز نصر بھائی مشاعرے کی انتظامیہ کمیٹی سے متعلق تھے۔ میرے ایک عزیز دوست اختر عادل جو شعبہ پوسٹ اینڈٹیلی گراف میں انجینئر تھے ان دنوں وہیں تعینات تھے۔ معروف جدید شاعر ممتاز شکیب بھی وہاں آل انڈیا ریڈیو کے عہدے دار تھے اور میرٹھ ان کی سسرال تھی۔ یوں اس مشاعرے میں میرٹھ والوں کا بول بالا تھا۔ فضل امام صاحب کو وہیں پہلی مرتبہ شعر پڑھتے ہوئے دیکھا بھی اور سنا بھی۔ آواز بڑی کڑک دار اور گھن گرج والی تھی،لہجہ کچھ پوربی انداز لیے ہوئے ضرور تھا مگر ذہن کو اپنی طرف کھینچنے کی صلاحیت رکھتا تھا۔پتہ چلا ڈاکٹر فضل امام راجستھان یونیورسٹی کے شعبۂ اردو و فارسی میں صدر شعبہ ہیں۔ ہماری تو طالب علمی کا زمانہ تھا اور ہماری خوبوبھی فدویانہ تھی۔ اگلے روز ممتاز شکیب صاحب نے مجھے حفیظ میرٹھی اورفضل امام صاحب کوریڈیو کی ادبی نشست کہکشاں کے لیے مدعو کر لیا۔کیا تو وسیم بریلوی کو بھی تھا مگر انھیں کسی دوسرے مشاعرے کے لیے نکلنا تھا سو معذرت کر لی۔ فضل امام صاحب کا رویہ اپنے خوردوں کے ساتھ عام طور پر دوستانہ ہوا کرتا تھا۔ممتاز شکیب یونیورسٹی میں ان کے طالب علم رہے تھے مگر یہ تعلق بے تکلف دوستی میں تبدیل ہوگیا تھا اور وہ شکیب صاحب کو بڑی بے تکلفی سے ’’شکیبا‘‘کہہ کر مخاطب کیا کرتے تھے۔ ریڈیو کی نشست کے بعد آکاش وانی کی کینٹین میں کافی کے لیے گئے۔وہ اپنی گل افشانیِ گفتار سے سب کو محظوظ کرتے رہے۔میری طرف دیکھ کر کہنے لگے میاں اچھا پڑھتے ہو۔ میں سمجھ گیا یہ ایسی ہی تعریف تھی جیسے مولانا ابو الکلا م آزاد کی تقریر سن کر حالی نے کہا تھا۔میاں اچھا بول لیتے ہو۔جی میں تو آئی کہہ دوں حضور اچھا کہنے کی کوشش بھی کرتا ہوں مگر خاموشی کو ہی اپنی عافیت جانا کیونکہ میں آئندہ کے امکانات کو محدود نہیں کرنا چاہتا تھا۔پھر تو ان سے خط وکتابت کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ دسمبر 1980میں دہلی منتقل ہوگیا تو وہ جب بھی دہلی آتے پہلے سے اپنی آمد سے مطلع کرتے اور میںان کی قیام گاہ پر حاضر ہوتا۔ دوسری اور یادگار ملاقات راشٹرپتی بھون کے مشاعرے میں ہوئی۔ گیانی ذیل سنگھ ان دنوں صدر جمہوریہ تھے۔ اردو ان کی زبان تھی۔ شعر وشاعری کے رسیا۔ مجھے دیکھتے ہی زور سے بولے ائے بخشی یہاں بھی !دم ہے بھئی دم ہے۔ مشاعرے میں انھوں نے اپنی پاٹ دار آواز میں کوئی نظم سنائی ان کا خطیبانہ انداز ذاکری کا تجربہ کل مجمع پر چھاگئے۔ اس د ن میں نے ترنم سے غزل پڑھی۔ داد دیتے ہوئے بولے اچھی آواز ہے میں نے کہا امام صاحب کبھی شعر کی تعریف بھی کیجیے تو مسکرا کر رہ گئے۔ میں نے یہ واقعات اس لیے بیان کیے کہ زیادہ تر احباب ان کی شعری شخصیت سے ناآشنا ہیں بالکل ان کے استاد پروفیسر محمود الٰہی کی شخصیت کی طرح۔ کتنے لوگ واقف ہیں کہ وہ ایک زمانے میں محمود الٰہی زخمی ہوا کرتے تھے۔ ایک زمانے میں فضل امام صاحب کو مشاعروں میں نظامت کرنے کا شوق ہوا۔ اللہ نے شخصیت اور آواز میں دم دیا تھا اور سونے پر سہاگہ ان کے استاد بھائی ڈاکٹر ملک زادہ منظور احمد اس میدان کے مرد کامل تھے۔ کچھ احباب کے اصرار پروہ اس میدان میں بھی اترآئے۔ میرٹھ، بلند شہر اور دوسرے کئی شہروں میں ہم نے بھی انھیں شاعر کے علاوہ بحیثیت ناظم بھی مدعو کیا۔ ان دنوں لکھنؤ میں والی آسی نے کچھ پاکستانی شاعروں کے مجموعے شائع کیے تھے۔ شکیب جلالی ان کے پسندیدہ شاعر تھے ان کا تقریباً تمام مجموعہ انھیں ازبر تھا۔ دوران نظامت شکیب جلالی کے اشعار بے دریغ سنایاکرتے تھے۔ مگر دوچار مشاعروں کی نظامت کے بعد ہی انھیں اندازہ ہوگیا تھاکہ ذاکری الگ شعبہ ہے اور مشاعرے کی نظامت ایک بالکل ہی الگ دنیا ہے اس میںتحکم سے زیادہ تکلم کا کمال دکھانا ہوتا ہے اور سچ پوچھیے تو ان کے علمی وادبی کاموںاور تنقیدی و تحقیقی کارناموں کے بوجھ تلے ان کا شاعر دبتا ہی چلا گیا۔ ایسے ہی ناجانے کتنے نام ہیں آل احمد سرور، محمود الٰہی، قمر رئیس۔ اس لیے شاعری بقول گوپال متل پورے مرد کی متقاضی ہوتی ہے۔

جنوری 1986میں راجستھان ہایئر ایجوکیشن سروسز کے تحت میرا تقرر بحیثیت لیکچرروہاں ہوگیا۔ میں نے انھیں خط لکھ کر مشورہ چاہا کہ مجھے راجستھان کے کس شہر کا انتخاب کرنا چاہیے۔ ان کا تفصیلی جواب آیا لکھا کہ ویسے تو راجستھان کا ہر ذرہ اپنی مثال آپ ہے مگر آپ کے لیے کوٹہ بہتر رہے گا اس لیے کہ کوٹہ سے دہرہ دون ایکسپریس اور فرنٹیئر میل ہر دن میرٹھ کے لیے جاتی ہیں اور اس طرح تم اپنے والد کی خبر گیری کا فریضہ بھی ادا کرسکو گے۔ میں نے ان کے مشورے پر لبیک کہا اور کوٹہ کے پوسٹ گریجویٹ شعبۂ اردو کو جوائن کرلیا۔ پورے چھبیس برس کوٹہ میں بسر ہوئے،پوری جوانی کوٹہ میں گزری مگر وطن مالوف سے بھی تعلق برقراررہا۔ فضل امام صاحب کا مشورہ بہت سودمند ثابت ہوا۔

1986میں انجمن کل ہند ترقی پسند مصنّفین کی گولڈن جوبلی کا سال تھا۔ دہلی میں قمر رئیس صاحب کی سرپرستی میںسہ روزہ عالمی کانفرنس کا انعقاد عمل میں آیا۔ قمر رئیس صاحب کا خیال تھا کہ صوبائی انجمنوںکو بھی اپنے یہاں کانفرنسوں کا انعقاد کرنا چاہیے۔ راجستھان انجمن ترقی پسند مصنّفین کی شاخ کی جانب سے اس بار گراں کو اٹھانے کی ذمے داری انھوں نے اپنے سر لے لی۔ وہ صوبائی شاخ کے صدر تھے۔پروفیسر فیروز احمد جنرل سیکریٹری اور میں سیکریٹری۔

انھوں نے راجستھان کے تمام سرکردہ ادیبوں اور شاعروں کو انجمن ترقی پسند مصنّفین سے جوڑ لیا تھا۔ 18,19اکتوبر1986کو جے پور میں راجستھان انجمن ترقی پسند مصنّفین کی کانفرنس کا انعقاد عمل میں آیا۔ قمر رئیس صاحب کا حکم تھا کہ میں 17 اکتوبر کو ہی جے پور پہنچ جاؤں تاکہ فضل امام صاحب اور فیروز صاحب کا ہاتھ بٹا سکوں۔ میں مسلم مسافر خانے میں مقیم تھا۔ جہاں اس زمانے میں راجستھان کے تمام ادباو شعرا قیام کیا کرتے تھے،ایک طرح سے وہ راجستھان کے ادباو شعرا کا میٹینگ پوائنٹ تھا۔ قمر رئیس صاحب نے یہ بھی لکھا تھا کہ ہم سب دہلی سے احمد آباد میل سے جے پور کے لیے روانہ ہوں گے۔ مجھے علم تھا کہ احمد آباد میل صبح سویرے جے پور پہنچ جاتی ہے۔ میں بروقت اسٹیشن پہنچ گیا مجھ سے پہلے وہاں پروفیسر فیروز احمد صاحب مہمانوں کے استقبال کے لیے موجود تھے۔دہلی سے قمر رئیس صاحب کے ہمراہ پروفیسر عتیق اللہ اور پروفیسر صادق بھی ٹرین سے برآمد ہوئے۔یہ قمر رئیس صاحب کا کمال تھا کہ وہ لوگوں کو جوڑنا جانتے تھے۔ان کی شخصیت کی سادگی سب کا من موہ لیتی تھی۔ نوجوانوں میں ارتضیٰ کریم اور ابن کنول اور کئی دوسرے بھی آئے تھے۔ فیروز احمد صاحب کچھ متفکر سے تھے۔استفسار پر انھوں نے بتایا کہ ترقی پسندوں کی اس کانفرنس کے مخالفین نے شہر میں پمفلٹ بٹوائے ہیں اور یہ پرچار کیا جارہا ہے کہ منکرین خدا اور اسلام مخالف لوگوں کی کانفرنس ہے ان کا فکر مند ہونا بجا تھا۔تھوڑی دیر میں فضل امام صاحب بھی تشریف لے آئے دوران گفتگو انھوں نے تمام مسائل کو اپنے قہقہوں میں اڑادیا۔ بولتے وقت انھیں الفاظ دہرانے کی عادت تھی۔کہنے لگے ہم کربلائی ہیں انقلاب کے جویااور حسین کے پرستار ہیں۔ہم کسی سے ڈرنے دبنے والے نہیں ہیں۔ ان کی دیکھ ریکھ میں دوروزہ یاد گار کانفرنس منعقد ہوئی۔تمام سرمائے کا بندوبست بھی انھوں نے کیا تھا۔اس کانفرنس میں مذکورہ بالا اصحاب کے علاوہ سردار جعفری جیسی عظیم المرتبت شخصیت بھی موجود تھی۔ علی احمد فاطمی،پروفیسر افصح ظفر،پروفیسر محمودالحسن بھی تشریف لائے تھے۔ راجستھان کے ادیبوں میں ڈاکٹر حبیب الرحمن نیازی، ڈاکٹر رفعت اختر خاں، سید معظم علی، ممتاز شکیب، ڈاکٹر روشن اختر کاظمی، ڈاکٹر مدبرعلی زیدی، ڈاکٹر ابو الفیض عثمانی جے پور کی سرکردہ علمی اور ادبی شخصیت انعام الحق سے بھی ان کا یارانہ تھا اور اس کانفرنس میں انعام الحق صاحب نے بہت کلیدی کردار ادا کیا تھا۔ کانفرنس کے تمام شرکاء اور مندوبین کی ضیافت کا اہتمام انعام الحق صاحب کی کوٹھی پر ہوا تھا۔ جس میں کئی سو لوگوں نے شرکت کی تھی۔رات کو ان کی کوٹھی کے وسیع صحن میں محفل مشاعرہ بھی سجائی گئی تھی۔ انعام الحق صاحب کے انتقال کے بعد اب جے پور میں اردو کا ایسا شیدائی ڈھونڈھنے سے بھی نہیں ملے گا۔ فضل امام صاحب کی سرگرمی،سرکردگی اور سربراہی قدم قدم پر جلوہ گر ہورہی تھی۔سب ان کے حسن انتظام کی داد دے رہے تھے دوسرے دن شام کو تمام مہمان رخصت ہوگئے۔ابن کنول اور ارتضیٰ کریم کہنے لگے ہم کل جائیں گے۔آج تم ہمیں جے پورسیر کے لیے لے چلو۔ رات کا وقت تھا ہم سب پیدل ہی مرزا اسماعیل روڈ پرچلے جاتے تھے کہ سامنے سے شیروانی میں ملبوس ایک صاحب کو برقعہ پوش خاتون کے ساتھ ایک رکشا پر آتے ہوئے دیکھا۔ دل کو یقین نہیں ہوتا تھا کہ دن میں جس شخص کو سوٹ اور ٹائی میں دیکھا تھاوہ اب رات کو شیروانی میں۔رکشا قریب آیا تو یقین پختہ ہوا کہ فضل امام صاحب ہی ہیں۔ وہیں رکشا پر سے زور سے بولے ائے بخشی !دن میں ہوگئی ترقی پسندی،اب ہم مجلس میں جارہے ہیں،حسین کی بارگاہ میں۔یہ تھے ہمارے فضل امام صاحب۔ اسی سال انھوں نے الہٰ آباد کے لیے رخت سفر باندھا۔ وہاں پہلے ریڈر اور بعد میں پروفیسر مقرر ہوئے۔ مگر ان کی شخصیت پر جو بہار راجستھان کے صحراؤں میں آئی تھی وہ گنگاجمنا کے سر سبز وشاداب علاقوں میں میسر نہ ہوسکی۔ حالانکہ اترپردیش ان کے بزرگوں کی سر زمین تھی بعد میں وہ اترپردیش کے چیف منسٹر ملائم سنگھ سے قربت کے سبب اترپردیش بورڈ آف سکینڈری ایجوکیشن کے چیرمین بھی مقرر ہوئے اور انھیں وزیر کا درجہ دیا گیا تھا۔ لیکن ان کے جانے سے راجستھان ایک جوہر قابل سے محروم ہوگیا۔ جس سے لوگوں کو بہت امیدیں تھیں۔ راجستھان یونیورسٹی کا شعبۂ اردو اور فارسی ان کے بعداس ادبی گہماگہمی سے محروم ہوگیا جس کی ضرورت اردو والوں کے لیے ازحد ضروری ہے۔ مگر راجستھان ان کے دل میں بسا ہوا تھا اس رشتے کو مزید مضبوط کرنے کے لیے انھوں نے اپنی ایک بیٹی کی شادی جے پور میں کی۔ ان کے داماد ڈاکٹر علی حسن بہت خوش مذاق اور قابل انسان ہیں۔ انگریزی ادب کے لیکچرر ہیں اور میرے حلقۂ احباب میں شامل ہیں۔

پروفیسر فضل امام کی پیدائش 7 اگست 1940 کو ضلع اعظم گڑھ کے موضع بہاء الدین پور میں ہوئی تھی۔یہ ایک علمی وادبی خانوادہ تھا۔ ان کے والد سید مشتاق حسین رضوی جو ریل کے محکمے میں ملازم تھے اردو و فارسی ادب سے واقفیت رکھتے تھے۔ ان کی ابتدائی تعلیم اس زمانے کے رواج کے مطابق مدارس میں ہوئی۔ ایم اے کی ڈگری آگرہ یونیورسٹی سے حاصل کی۔ اور پی ایچ۔ ڈی کے لیے اردو کے نام ور ادیب اور نقاد پروفیسر محمود الٰہی کی نگرانی میں تحقیقی مقالہ قلم بند کیا۔ان کے مقالے کا موضوع امیر اللہ تسلیم حیات اور کارنامے تھا۔ ایک تو محمود الٰہی جیسے صاحب فہم و فرا ست کی نگرانی،دوم فضل امام جیسا زیرک ریسرچ اسکالر۔ اس تحقیقی مقالے نے جہاں امیراللہ تسلیم کی شخصیت اور ان کے شعری محاسن کی بازیافت کی وہیں فضل امام صاحب کی قدروقیمت میںبھی اضافہ ہوااور وہ ادبی حلقوں میں ایک بالغ نظر نقاد تسلیم کیے جانے لگے۔ اس کے بعدتو ان کے قلم سے ایک سے بڑھ کرایک ادبی کارنامے منظر عام پر آئے جس کی بدولت ان کی شہرت میں اضافے کے ساتھ اردو کا دامن بھی ان کی علمی وادبی فتوحات سے بھرنے لگا۔

مرحوم کی تدریسی زندگی کا آغاز بلرام پور مہاراجہ کی یاد میں قائم شدہ کالج سے ہوا۔ وہ وہاں کئی برس تک اردو زبان وادب کی تدریس سے وابستہ رہے۔ ان کی زندگی میں ایک زبردست تبدیلی اس وقت آئی جب انھوں نے راجستھان یونیورسٹی کے شعبۂ اردو و فارسی سے وابستگی اختیار کرلی۔ راجستھان میں ان کا قیام دودہائی سے کچھ کم برس تک رہا۔ مگر یہ عرصے ان کے لیے بھی اور اہل راجستھان کے لیے بھی اردو زبان وادب کی تدریس کے ساتھ ساتھ اس کی ترویج کے لیے بھی بہت سود مند ثابت ہوا۔ راجستھان میں ان کی آمد تازہ ہوا کے اس جھونکے کی طرح تھی جیسے پژ مردہ کونپلوںمیں جان پڑگئی ہو۔ راجستھان یونیورسٹی کی راہ داریاںاردو کے طلبہ و طالبات سے پر ہوگئیں۔ مذاکروں،مباحثوں، مشاعروںاور سمینار وں کی ایک نئی دنیا آباد ہوئی۔ 1986کی گرمیوں میں انھیں الہ آباد یونیورسٹی سے بلاوا آیا اور وہ وہاں کے شعبۂ اردو میں پہلے ریڈر اور بعد ہ پروفیسر مقرر ہوئے۔ وہاں کے ادبی حلقوں میں بھی ان کی خوب پذیرائی ہوئی۔ ہندی اور اردو دونوں زبانوں کے ادیبوں نے انھیں ہاتھوں ہاتھ لیا۔ مگر وہ چمک کہیں کھوگئی تھی جس کی بدولت راجستھان کے ادبی صحراؤں میں بہار آگئی تھی۔ اس ویران میکدے کا نصیبا بھی سنورنے لگا تھا، جو انھوں نے الہ آباد جا کر حاصل کیا دیر سویر وہ انھیں یہاں بھی حاصل ہوجاتا مگر کئی فیصلوں کی نفسیاتی تہہ میں اترنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ حالانکہ جانے سے قبل وہ یہاں کے شعبۂ اردو و فارسی کو پوری طرح ایک مخصوص علمی و ادبی رنگ میں ڈھال چکے تھے۔ اداروں اور تنظیموں کی اہمیت اپنی جگہ مگر کئی مرتبہ ان کی شناخت اشخاص سے ہوتی ہے۔ جے پور سے ان کے جانے کے بعد پروفیسر فیروز احمد نے بہت سنبھالا۔ تنقید و تحقیق کے میدان میں شعبے کی شناخت کل ہند سطح پر ہوئی۔ مگر پروفیسر فیروز احمد کی سبکدوشی کے بعد وہاں راہ داریاں سونی پڑی ہیں۔ یہی حال اودے پور یونیورسٹی کے شعبۂ اردو کا ہے۔ جہاں پروفیسر ثاقب رضوی جیسا جید عالم شعبۂ اردو سے وابستہ تھا۔ صوبے کے پہلے وزیر اعلیٰ موہن لال سکھاڑیا بھی ان کے قدردانوں میں تھے۔وہ خوبصورت شہر اردو کی مٹھاس سے خالی سا ہوگیا ہے۔ یہی حال جے پور کا ہے۔ زیادہ لکھوں گا تو لوگ ناگواری کا احساس کریں گے۔

شعبۂ اردو الہ آباد یونیورسٹی سے سبکدوشی کے بعد فضل امام صاحب لکھنؤ منتقل ہوگئے تھے۔ بہت پر سکون زندگی گزار رہے تھے۔ دمہ کا مرض تو انھیں پہلے سے تھا۔ شوگر کی زیادتی البتہ بہت پریشان کرتی تھی مگر ایسا کچھ نہیں تھا کہ یوں رخت سفر باندھ لیں گے۔ چند روز قبل ہی لکھنئو کے کسی اسپتال میں داخل ہوئے اور کچھ روز کی علالت کے بعد ہی 31اگست 2020کو داعیِ اجل کو لبیک کہہ دیا۔اگست میں ہی وہ اس جہان فانی میں وارد ہوئے تھے اور اگست ہی میں اس دنیا کو خیر آباد کہہ دیا۔ کل اسی برس کی عمر پائی۔ اپنے پیچھے چار بیٹوںاور تین بیٹیوں نیز نواسی اور نواسوں پر مشتمل ایک بھرا پرا خاندان چھوڑ گئے۔ رہے نام اللہ کا… اپنے ایک قطعہ میں انھوںنے خود ہی اعتراف کیا تھا ؎

جانے والے کو کہیں روک سکا ہے کوئی
پھول برساؤگے کیا آگ لگاکر جاؤ
مجھ سے مانگے نہ کہیں میری تمنا تجھ کو
اپنے دامن سے چراغوں کو بجھا کر جاؤ

پروفیسر فضل امام رضوی کے علمی وادبی کارناموں کی فہرست خاصی طویل ہے۔ مگر ان کی جن تصانیف نے مجھے بے انتہا متأثر کیا ان میں امیر اللہ تسلیم پر تحریر کردہ ان کا تحقیقی مقالہ بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ ان کا طرز استدلال ان کے تحقیقی مرتبے کو بلند وبالا قرار دینے کے لیے کافی ہے۔ ان کے اس تحقیقی کارنامے سے امیر اللہ تسلیم کی شخصیت اور کلام پر پڑا ہوا گرد و غبار اس طرح صاف ہوا کہ لوگ تسلیم کے مرتبے سے واقف ہوئے۔ ان کے اس کام کا اعتراف اترپردیش اردو اکادمی نے انعام سے نواز کر کیا۔ میر انیس کی شخصیت اور ان کے فن کے تعین قدر میں ان کا ڈی لٹ کا مقالہ انیس شخصیت اور فن بڑی قدر وقیمت کا حامل ہے۔ انھیں یہ بھی اعزاز حاصل ہے کہ راجستھان کے اردو والوں میں وہ پہلے ڈی لٹ ہیں۔ جوش ملیح آبادی پر ان کی تصنیف شاعر آخرالزماں ان کی جوش کے تئیں عقیدت کی مظہر بھی ہے اور عصر حاضر میں جوش شناسی کے میدان میں سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔ میرے نزدیک بھوج پوری زبان وادب کا تعارف،تاریخ اور اردو سے اس کے لسانی رشتے کی اہمیت پر اس سے قبل اس طرح غور و فکر نہیں کیا گیا تھا۔ راجستھانی زبان و ادب کی تاریخ لکھ کر انھوں نے دوسروں کے لیے راستہ ہموار کیا۔مجھے کہنے دیجیے کہ پروفیسر فیروز احمد کو راجستھان اور اردو کے لسانی روابط پر غوروفکر کرنے کی تحریک شاید ان کی اس تصنیف سے ہی ملی ہو۔ یقیناً پروفیسر فیروز احمد نے ایک ضخیم کتاب اس موضوع پر لکھ کر ماہرین لسانیات کو اردو کی ابتدا کے مختلف نظریات پر غوروفکر کی دعوت دی ہے۔ پروفیسر فضل امام کے جانے سے راجستھان اور اترپردیش دونوں صوبوں کے علمی و ادبی حلقوں میں صف ماتم بچھی ہوئی ہے۔

Previous articleعاصی سعید کی ظرافت’’ہنسیے‘‘ کی روشنی میں از : ڈاکٹر قطب الدین اشرف (سیوان)
Next articleمایہ ناز مترجم اور مشہور مورخ پروفیسر سلیم قدوائی کے انتقال پر غالب انسٹی ٹیوٹ کا اظہار تعزیت

اپنے خیالات کا اظہار کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here