ٹی ایس ایلیٹ ایک تعارف از: انسان گروپ مغربی بنگال

0
173

پیدائش: 26 ستمبر 1888ء
انتقال:04 جنوری 1965ء
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

انگریزی زبان کا مشہور شاعر اور نقاد سینٹ لوئیس امریکا میں پیدا ہوا۔ آکسفورڈ یونیورسٹی اور ہارورڈ یونیورسٹی میں تعلیم پائی۔ ہارورڈ یونیورسٹی میں انگریزی شاعری کا پروفیسر مقرر ہوا۔ 1915ء میں برطانیہ چلا گیا اور وہیں مستقل سکونت اختیار کر لی۔ 1922ء میں ایک ادبی رسالہ Criterionجاری کیا۔ جو 1929ء میں بند ہو گیا۔ 1948ء میں ادب کا نوبل پرائز ملا۔ بعد میں آکسفورڈ یونیورسٹی میں شاعری کا پروفیسر ہوا اور او۔ ایم کا اعلی برطانوی خطاب پایا۔ متعدد منظوم ڈراموں کا مصنف ہے۔ آخری دنوں میں فیر اینڈ فیر پبلشر کا اڈیٹر رہا۔ تنقیدی نظریات بھی بہت زیادہ مشہور ہوئے۔ رومانیت کے سخت خلاف تھا۔ اور اس کے خلاف شخصیت سے گریز اور معروضی تلازمے کے نظریات پیش کیے۔ اس کا نظریہ روایت اردو ادب پر بھی اثر انداز ہوا اور کئی اردو نقاد مثلاً محمد حسن عسکری، ڈاکٹر جمیل جالبی، ڈاکٹر سید عبد اللہ اور ڈاکٹر عابد علی عابد ان سے متاثر نظر آتے ہیں۔

ٹی ایس ایلیٹ اور
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
روایت کی اہمیت
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مقصود حسنی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ٹی ایس ایلیٹ کے نزدیک‘ روایت اپنی اصل میں‘ اظہار کا تسلسل ہے‘ جو ادوار کے انقلابات سے‘ متاثر ہوتی ہے‘ لیکن دم نہیں توڑتی‘ بلکہ اپنی اوریجن سے پیوستہ رہتی ہے۔ وہ محض ماضی کے تجربات کو‘ روایت کا نام نہیں دیتا‘ اور اسے درست بھی خیال نہیں کرتا۔ گویا ماضی‘ حال اور مستقبل روایت ادبی کے مفہوم میں شامل ہیں۔ روایات ہر قوم اور ہر ملک کی زندگی کے‘ ہر شعبے میں وقت کے ساتھ ساتھ جلوہ گر ہوتی رہتی ہیں۔ تہذیب اور کلچر‘ ان ہی کے مجموعے کا نام ہے۔ یہ سب کسی قوم کے جغرافیائی حالات‘ افتاد طبح‘ فکری رجحانات اور اس پر پڑے ہوئے‘ مختلف قسم کے‘ ذہنی و وجدانی اثرات کے نتیجہ میں تشکیل پاتی ہیں۔

وراثت کی زمین میں‘ ان کے پودے جڑ پکڑتے ہیں‘ اور ماحول ان کی آبیاری کرتا رہتا ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ‘ یہ ہی پودے تناور درختوں کی صورت اختیار کر لیتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے‘ کہ ہر قوم کی بڑائی اور برتری‘ روایات پر انحصار کرتی ہے۔ اس کی ذہنی‘ فکری اور تہذیبی سربلندی کو‘ اسی پیمانے سے ناپا جا سکتا ہے۔ وہ تہذیب اور کلچر کا نچوڑ ہوتے ہیں۔ ادب‘ انسانی زندگی کا اہم ترین شعبہ ہے‘ اور وہ کسی قوم کا آئینہ دار ہوتا ہے۔ زمانے کے ساتھ ساتھ اس کا خمیر اٹھتا رہتا ہے۔
ایلیٹ کے نزدیک‘ ہر ملک اور قوم کا‘ ادب ایک خاص قسم کی‘ آب وہوا اور مخصوص طرح کے ماحول میں‘ آنکھ کھولتا اور پرورش پاتا ہے۔ اس لیے جو روایات‘ ادب میں تشکیل پاتی ہیں‘ ان سب کا ان روایات سے‘ ہم آہنگ ہونا فطری سی بات ہے۔ کوئی ادب‘ زندہ روایات کے بغیر‘ زندہ نہیں رہ سکتا۔ بڑے سے بڑا ترقی پسند‘ اس بات کا معترف ہے کہ ہر زمانے کی تہذیب کو‘ گزشتہ دور کا سہارا لینا پڑتا ہے۔ ماضی کا رنگ‘ چاہے کتنا ہلکا ہو‘ حال اور مستقبل میں ضرور ملے گا۔ سماجی زندگی اور تہذیب و تمدن‘ ماضی سے استفادہ کرنے پر مجبور ہیں‘ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں‘ کہ ماضی کو اپنا آئیڈیل سمجھ لیا جائے۔ اگر سمجھ لیا جائے گا‘ تو یہ روایت پسندی نہیں روایت پرستی ہو گی۔

ایلیٹ کا موقف ہے‘ کہ جدت‘ تکرار سے بہتر ہے۔ یہ ورثہ میں نہیں ملتی‘ بلکہ تسلسل میں چلی آتی ہے۔ روایت کی ذیل میں‘ اس نے چند خطرات سے‘ آگاہ کیا ہے۔ بعض اوقات ہم زندگی بخش اور غیرصحت مند روایات میں‘ تمیز نہ کرتے ہوئے‘ کسی غیر صحت مند روایت سے چپکے رہتے ہیں۔ اس سے غلط اور صحیح گڈمڈ ہو جاتے ہیں۔ اس کے نزدیک‘ روایت پرستی‘ سطحی تقلید اور اندھی نقالی‘ مضر اور خطرناک ہیں۔ تجربہ بھی‘ روایت کے بطن سے جنم لیتا ہے۔ نئے پن میں‘ پرانا پن یا نئے پن کے ساتھ پرانا پن بھی ضروری ہے۔
روایت‘ ادب کی نشوونما اور ترقی میں‘ اپنا کردار ادا کرتی ہے۔ ادب بدلتے حالات کی رفتار کے ساتھ‘ ارتقا اور ترقی کے راستے پر گامزن رہتا ہے۔ روایات اسے رستہ دکھاتی ہیں۔ ادب کو تجربات کی نئی دنیا سے روشناس کرانا بھی‘ روایات کے پیش نظر ہوتا ہے۔ وہ اس کے لیے‘ زمین تیار کرتی رہتی ہیں‘ اور جانچنے کا معیار بھی دریافت کرتی ہیں۔ روایت کے بغیر تنقیدی معیارات‘ تشکیل نہیں پاتے۔
ایلیٹ کے نزدیک‘ روایات‘ ادب اور عوام کے درمیان‘ رابطے کا ذریعہ بھی ہیں۔ ان ہی کے سبب‘ عوام ادب کو اپنا قومی سرمایہ سمجھتے ہیں۔ بعض لوگ‘ روایت کے مفہوم کو محدود کر لیتے ہیں۔ وہ غلط تحریکوں کے محرک ہوتے ہیں‘ اور خود کو‘ جدت پسند قرار دیتے ہیں۔ وہ سارے ادب سے‘ ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ لیکن اس کے معنی یہ نہیں‘ کہ تجربات نہ کیے جائیں۔ تجربہ‘ ادب کی جان اور تاریخ ہوتا ہے۔
روایات اور تجربات‘ ایک دوسرے کے متضاد نہیں ہیں۔ تجربات کے لیے‘ کسی زمین کا ہونا ضروری ہے۔ یہ زمین روایت فراہم کرتی ہے۔ ادب اور فن میں‘ جہاں دوسری روایت کی طرح پڑتی ہے‘ وہاں تجربے کا بھی پتا چلتا ہے۔ ایک بڑا شاعر‘ روایت پرست بھی ہوتا ہے‘ اور تجرباتی بھی۔ اس کے بزرگوں نے‘ جو دریافتیں کی ہوتی ہیں‘ وہ انہیں نظرانداز نہیں کر سکتا‘ بصورت دیگر‘ اس کی آواز‘ محض صدائے بازگشت ہو کر رہ جائے گی‘ اور وہ اپنے بزرگوں کے پائے تک‘ نہیں پہنچ پائے گا۔

تاریخی روایات کے حصول کے لیے‘ ایلیٹ نے‘ شاعر کے تاریخی شعور کو‘ اہم قرار دیا ہے۔ جو پچیس سال کی عمر کے بعد بھی‘ شاعر رہنا چاہتا ہے‘ اس کے لیے تاریخی شعور ناگزیر ہے۔ یہ تاریخی شعور‘ ادب کی لازمانی کا شعور بھی ہے‘ اور اس کے زمانی ہونے کا ثبوت بھی۔
زمانی اور لازمانی ہونے کا شعور‘ شاعر کو روایت کا شاعر بناتا ہے‘ اور اسی سے‘ اس کے زمانی مقام کا‘ تعین ہوتا ہے۔ ایلیٹ کے نزدیک‘ لافانیت کو سمجھنے کے لیے‘ روایت کا شعور‘ شرط لازم ہے۔ تاہم وہ روایت کے شعرا کے کلام کو‘ نقالی نہیں سمجھتا۔ یہ شعور شعرا کو‘ مجبور کرتا ہے‘ کہ وہ لکھتے وقت اپنے عہد ہی کو‘ پیش نظر نہ رکھیں‘ بلکہ گزشتہ سے آج تک کے ادب کو‘ اور اپنے ملک کے سارے ادب کو‘ اپنا ہم عصر تصور کریں۔
ایلیٹ ادب اور زندگی‘ دونوں میں معیارات کے نفوذ اور غیر شخصی و غیرذاتی‘ میلانات و رجحانات کا قائل ہے۔ اسی لیے وہ‘ احساس رفتہ اور احساس روایت کو ضروری سمجھتا ہے۔اس کی نظر میں‘ تمام ادبی فن پارے ایک سلسلہ میں‘ تنظیم و ترتیب پاتے ہیں۔ اس کے خیال میں‘ روایت کے یہ معنی نہیں ہیں‘ کہ ادب کو محض چند تعصبات سے پاک رکھا جائے۔ تعصبات روایت کے تشکیلی عمل کے دوران‘ وجود پکڑتے ہیں۔
ایلیٹ کے روایت سے متعلق خیالات کا‘ لب لباب کچھ یوں ٹھہرے گا:
1- روایت لکیر کےفقیر ہونے کا نام نہیں۔
2- روایت کے حصول کے لیے‘ محنت و کاوش سے‘ کام لینا پڑتا ہے۔
3- تاریخی شعور کا مطلب یہ ہے‘ کہ شاعر کو احساس ہو‘ کہ ماضی صرف ماضی ہی نہیں‘ بلکہ اس کے اعلی اور آفاقی عناصر‘ ایک زندہ شے کی طرح‘ نشوونما پاتے ہوئے‘ حال میں پہنچ گیے ہوتے ہیں۔

4- شاعری کی ادبی حیثیت کا اندازہ‘ کسی شاعر کی‘ دیگر شعرا کے کلام ہی سے لگایا جا سکتا ہے۔ اس کی مجرد طور پر‘ قدروقیمت کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا‘ کیوں کہ وہ پورے ادبی نظام کا‘ حصہ ہوتا ہے۔
5- ہر نیا فن پارہ‘ اپنے نئے پن سے تمام فن پاروں کی قدروقیمت کو متاثر کرتا ہے۔ اس کی روشنی میں گزشتہ کے فن پاروں کا‘ پھر سے جائزہ لینا پڑتا ہے۔
6- ایمان دارانہ تنقید‘ شاعر پر نہیں‘ شاعری پر ہونی چاہیے۔ یہ اس لیے ضروری ہے‘ کہ کسی ایک نظم کا تعلق‘ دوسری نظموں سے ہوتا ہے۔
7- نظم صرف ایک مفہوم ہی نہیں‘ اپنا زندہ وجود رکھتی ہے۔ اس کے مختلف حصوں سے‘ جو ترکیب بنتی ہے‘ وہ واضح حالات کی فہرست سے مختلف ہوتی ہے۔ وہ احساس یا جذبہ یا عرفان جو نظم سے حاصل ہوتا ہے‘ وہ شاعر کے ذہن میں ہوتا ہے۔
اس مضمون کی تیاری میں خصوصا درج ذیل کتب شکریے کے ساتھ پیش نظر رہیں:
مغرب کے تنقیدی اصول پروفیسر سجاد باقر رضوی مطبع عالیہ 1966
ارسطو سے ایلیٹ تک ڈاکٹر جمیل جالبی نیشنل فاؤنڈیشن 1975ء

Previous articleانکار پر بہار میں سیاست کا ہوا آغاز !
Next articleحضرت نائب امیر شریعت کا تاریخی پیغام :بہار اڑیسہ جھاڑکھنڈ کے نام

اپنے خیالات کا اظہار کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here