وہ صاحبِ کلام، تھا صاحبِ کمال از: امتیاز وحید

0
264

صدر شعبۂ اردو
یونیورسٹی آف کلکتہ

مرحوم قاسمی صاحب(پروفیسرابوالکلام قاسمی2021-1950) میرے استاد تھے۔ان سے پہلی ملاقات 1991 میں شعبۂ اردو سے متصل سیمینار روم میں ہوئی، جہاں اردو آنررس کی کلاس ہوتی تھی۔آغاز طلبہ کے تعارف سے ہوا جسے انھوں نے چند جملوں پر مشتمل اپنے تعارف پر ختم کیا۔یہ ابتدایہ غالباً ان کے اس تدریسی مہم کا حصہ تھی، جس سے وہ شروعاتی کلاس ہی میں بہ آسانی طلبہ کی استعداد کااندازہ لگالیتے تھے۔رفتہ رفتہ ہمیں اس کا اندازہوا کہ وہ مدارس کے فارغین طلبہ کو قدرِ زیادہ اپنائیت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔بادی النظر میں اس کی وجہ ہمیں ان کی قاسمیت نظر آئی جبکہ ان کی ظاہری شباہت سے اس کا بطلان ہوتا تھا۔ یہ عقدہ بہت جلد کھل گیا کہ ان کے مذاقِ لطیف کی افزائش میں امراء القیس،عمروبن کلثوم،زھیربن ابی سلمی،ابوطیب احمدمتنبی، النابغہ الذبیانی اورھمام بن غالب فرزدق کاہاتھ ہے۔ان کی ایما پردیوان الحماسہ، دیوان متنبی تو کبھی سبع معلقات کے اشعار پیش کئے جاتے تو وہ خوش ہوتے تھے۔ عربی زبان کا میرا یہی پس منظر ان کی شفقتِ خاص کا سبب بنا۔مدرسے سے ہم اردو بہ حیثیت مضمون پڑھ کر تو نہیں آئے تھے لیکن ان کی خرد نوازی سے حوصلہ پاکرڈاکٹر فیض الرحمٰن اور ڈاکٹر نوشاد عالم گیاوی جیسے کرم فرما سینئرس کی رہنمائی میں شعبہ کی میرٹ اسکالرشپ کی تیاری کی اور اوّل آئے۔نتیجے کا اعلان قاسمی صاحب نے کلاس میں خود کیااور حوصلہ بڑھایا۔

قاسمی صاحب کی شخصیت بڑی جاذب نظر تھی۔گورے نارے ،تیکھے نقوش،میانہ قد، سر پر گھنے سلیقے سے سجے بال، خوش لباس اور جامہ زیب۔ہم نے انھیں ہمیشہ کلین شیودیکھا اور پینٹ شرٹ میں ملبوس پایا۔معلوم ہوا کہ علی گڑھ آمد کے بعد تقرری کے چند برسوں تک وہ ایک باوقار علیگ اور مولویانہ شان میں نظر آتے تھے۔علی گڑھ کٹ پاجامہ،شیروانی اور نورانی چہرہ پرہلکی چاپ داڑھی تھی۔ تاہم یہ عہد گل کا قصہ تھا جو ہمارے ورودِ علی گڑھ تک تمام ہوچکا تھا۔ متین اور پراعتمادچہرہ اور خوشگوار تبسم سے مزین ایک منظم ، معتدل اور نفیس انسان۔شخصیت کی تنظیم کے مظاہر ان کے خیالات سے بھی عیاں ہوتے تھے۔باتیں بڑی نپی تلی ہوتیں۔ان کا تدریسی انداز بڑاپروقار ہوتا تھا۔ باغ و بہار پڑھاتے ہوئے عطا محمد تحسین کی نوطرز مرصع کاتذکرہ کچھ اس انداز میں کیا کہ وہ ذہن پر نقش ہوگیااور کہا کہ میرامن نے ترجمہ کو طبع زاد تخلیق بنادیا۔یہ رویہ غایت مشق و ممارست کے بعد ہی ممکن ہے۔کلاس میں کوئی سوال کرے تو وہ جواب طلب نظروں سے عموماً عربی پس منظر رکھنے والے طلبہ کی طرف متوجہ ہوتے تھے۔ایسے میں وہ ہمیں اپنے مخصوص طرزتخاطب ’ قبلہ‘ سے متوجہ کرتے ۔ ہم ان کی منشا پر لبیک کہتے ہوئے جواب دیتے تھے ۔ ایسے مواقع پر ہمیںان کی استادانہ سطوت کے مظاہر دیکھنے کو ملتے تھے۔وہ جواب دہندہ کو نہ صرف توجہ سے مانیٹر کرتے تھے بلکہ درست جواب کے بھی کئی ممکنہ اور مخفی گوشوں پر ہمیں ٹٹولنے کی کوشش کرتے تھے۔بی اے کے بالکل ابتدائی ماہ و سال میں ان کے اس اندازِ تدریس سے ہم نے خاموش بیعت کرلی اور آج ہم اسی اسوہ پر گامزن ہیں۔کسی لفظ کی ماہیئت پر گفتگو کرتے ہوئے اس کا مصدر، مشتق اور اس کے لغوی اور مرادی مفہوم پر روشنی ڈالنا ان کے مزاج کا حصہ تھا۔ لفظ اگر عربی الاصل ہے تو پھر کیا کہنے ۔قدیم عربی شعرا نے اسے اوّلاً کن معانی میں استعمال کیا اور بعد میں مرورایام کے ہاتھوں اس میں کس نوعیت کی تبدیلیاں درآئیں وغیرہ بتاتے ہوئے ان کا تبحر علمی قابل دید ہوتا تھا۔انہی دنوں 1992میں ان کی کتاب:’’ مشرقی شعریات اور اردو تنقید کی روایت‘‘ چھپ کر آئی تھی۔شیخ الجامعہ مرحوم پروفیسر نسیم فاروقی نے آرٹس فیکلٹی، شعبۂ اردو سے گزرتے ہوئے ہماری کلاس میں جھانکا، قاسمی صاحب کو دیکھ کر توقف فرمایا، کتاب کی اشاعت پر مبارک باد دی اور اس کی معنویت پر چند توصیفی کلمات ادا کئے۔ استاد سر کو باربار تعظیمی انداز میں جنبش دیتے رہے اور ان کے گزرتے ہی پھر سلسلۂ درس حسبِ معمول جاری ہوگیا۔

طلبہ سے یک گونہ انسیت کے باوصف صاف محسوس ہوتا کہ بیچ میں ایک فصیل حائل ہے۔استاد اور شاگرد دونوں اپنے تحفظات کی پناہ میں ہیں۔رفتہ رفتہ استاد نے اپنے دائرۂ کار کو بڑھالیالیکن ہم طلبہ ان کے روبرو ایک مخصوص حصارِ تلمیذی میں ہی قید رہے۔بے تکلفی کی ہماری منشا کو کبھی ان کے سامنے پنپنے کا موقع نہ ملا۔’’قبلہ ‘‘کی جگہ اب ہمارے لیے ان کی زبان پر ’’میاں!‘‘کا طرزِ تخاطب آچکا تھا۔ان سے گفتگو کرتے ہوئے احتیاط لازم تھی۔بات ذرابے سمت ہوئی کہ پکڑے گئے۔ ایسے مواقع پرضروری نہیں کہ انھیں زبان سے بھی کچھ کہنے کی ضرورت ہو۔ کبھی’’میاں!‘‘ تو کبھی زیرلب تبسم ملیح سے ہی ہماری خیرت معلوم کرلی جاتی تھی۔شکرہے کہ ہمارے حصے میں نہ ان کی تلخی آئی اور نہ ہی جھنجلاہٹ،جن کی شکایت بعض احباب کی زبانی سنی جاتی تھی۔ اس وقت شعبۂ اردو مثل ماہِ تمام ہواکرتا تھا۔ عالی مقام صدرشعبہ پروفیسر منظر عباس نقوی، پروفیسر نورالحسن نقوی، استاذی پروفیسر شہریار، پروفیسر عتیق احمد صدیقی،پروفیسر ثریا حسین، استادی ڈاکٹر نادر علی اور استادی کوکب قدر جیسے ماہ و خورشید کے درمیان قاسمی صاحب جونیر تھے تاہم اس وقت تک وہ سرزمین علی گڑھ کی علمی نخوت پر ایمان لاچکے تھے۔استاد کے نخرے مشہور تھے اور بعض حلقے میں کنایتاً ان کی’’ بقراطی‘‘ بھی۔استاد جمال پرست تھے اور خود گرفتہ بھی۔ان کی خودپسندی بسا اوقات نرگسیت کی حدوں کو عبور کرنے لگتی تھی۔ انھوں نے خودکو بڑی جتن سے سنبھال کررکھا تھا۔ غالباً انھیں اپنے بیش قیمت ہونے کا احساس تھا۔طلبہ ان کی چھاجانے والی علمی اور طلسماتی شخصیت میں پہلے ہی سے گرفتارتھے۔یہ تاثر غالباًہمارے عہد کے ہر اس طالب علم پر قائم ہوگا،جس نے قاسمی صاحب کو دیکھا اور ان کی صحبت سے فیض اٹھایا ہے۔ تلامذہ پر ان کی پروقار علمی شخصیت کی چھاپ اب بھی گہری ہے۔ قاسمی صاحب کی ٹھوس علمیت ، تنظیم وقت ، خوش مذاقی اور جامہ زیبی سے ہمیں عملی زندگی کے کئی ہنرہاتھ آئے۔استاد نے کثرت مطالعہ کو تیشہ بنایا اور اس کلیے کو سچ کردکھایا کہ علم و آگہی قوت کا سرچشمہ ہے۔ان کا منطقی اور استدلالی رویہ غالباً سرسیدؒ کے اس منشا کی خاموش تائید تھا جو سیدجی مرحوم سرزمین علی گڑھ میں بوکر گئے تھے۔علمی اورمنطقی استدلال ان کی فکرکا محور تھا۔

بی اے کے پہلے سال میں‘ میں نے خوشی اور غم کے مفہوم پر مشتمل اشعار کو یکجا کرکے ایک مضمون لکھااوراستاد کی خدمت میں پیش کیا۔عنوان تھا:’’دل غم اور خوشی کا رفیق‘‘۔دوسرے ہی دن طلبی ہوئی۔ گویا ہوئے ،اچھی کوشش ہے؛ جاری رکھئے۔یہ انشائیہ ہے،جانتے ہیں انشائیہ کسے کہتے ہیں؟پڑھ لیجئے گااور اسے ماہنامہ آجکل میں بھیجنے کی تاکید فرمائی۔اسی سال سیشنل ٹیسٹ میں ’’میرامقصدِزندگی‘‘ کے عنوان پر ایک طولانی تحریر خدمت میں پیش کی ۔یہ سرمائی تعطیل کا آخری دن تھا، اسی دن شام میں ہم گائوں کے لیے نکل گئے۔لوٹ کر آئے تو پہلے ہی دن محاسبہ ہوا۔نام پکاراگیا، نظر پڑتے ہی پہلے ان کے زیرلب تبسم سے ملاقات ہوئی اوربعدہ‘ ان کے اندازِ تخاطب: ’قبلہ‘! سے۔کچھ کہے سنے بغیر اسٹیپل کردہ وہ پیپر مجھے لوٹادئے ۔دیکھا تومیرے حصے سب سے زیادہ نمبرات آئے تھے۔میرے چہرہ کی خوشی سے وہ مطمئن ہوگئے اور پیپر لوٹانے کا سلسلہ جاری رہا۔

خلاف توقع ایک دفعہ استاد گرامی کی تاخیر سے آمد کا فائدہ اٹھاکر کلاس کے عالی مقام عمر و عیاروں نے مجھے اپنے ایک ہم جماعت طارق کی حمایت میں تقریر کے لیے کھڑا کردیا۔یونین کی ممبر شپ کے لیے یہ طارق کی انتخابی مہم کا نقطۂ آغاز تھا۔طارق چونکہ نابینا تھا اس لیے ہم نے پرجوش انداز میں کہا کہ کون کہتا ہے کہ طارق بینائی سے محروم ہے۔ ہم اس کے دست و بازو ہیں، آنکھیں ہیں اور ہماری آنکھوں میں سید جی کا وژن ہے وغیرہ وغیرہ۔ہمیں احساس نہ تھاکہ قاسمی صاحب میری لن ترانیوں کو باہر سے خاموشی سے سن رہے ہیں۔ نصرمن اللہ و فتح قریب!کے نعرۂ فاتحانہ کی لے جب زیادہ بھڑکی تو وہ معاً کلاس میں داخل ہوگئے۔خون منجمد ہوگیا لیکن ان کی خفیف مسکراہٹ نے ہمارے اعصاب بحال کردئے۔
قاسمی صاحب ایک شفیق استاد تھے۔ ان کے استادانہ منصب پر اصرار اس لیے کہ یہیں سے ان کی علوفکری اور دانشمندی کو نئے آفاق ملے۔استاد نے تصنیف وتالیف کے ساتھ تصنیف الرجال کے اپنے اساسی فریضے کی ادائیگی میں کبھی کوتا ہی نہیں برتی۔اس راہ میں ان کی ذہانت اور ریاضتِ پیہم نے ان کا بخوبی ساتھ نبھایا۔ خود فراموشی کے وہ ویسے بھی قائل نہ تھے لہٰذا ظاہر اور باطن ہردومحاذ پروہ ہمیشہ چاق چوبنددیکھے گئے۔جامہ زیبی جہاں ان کی پہچان بنی وہیں عمق مطالعہ نے بھی علمی و ادبی سماج میں ان کا قدہمیشہ بلندرکھا۔ مجھے فخر ہے کہ ہم طلبہ کبھی ان کی ترجیحات سے ساقط نہیں ہوئے اور نہ ہی وہ علی گڑھ، جس کے علمی اور تہذیبی وقار کے وہ اخیر وقت تک پاسباں بنے رہے۔ اس نازک ذمے داری کو انھوں نے بڑے سلیقے اور خوداعتمادی کے ساتھ انجام دیا۔اس ادائے خاص ہی کے طفیل علی گڑھ اور بیرون علی گڑھ دانش گاہوں میں ان کی توقیر کی انجمن ہمیشہ سجتی سنورتی رہی۔ عالم یہ ہے کہ اب نہ تو ان کے تصنیف کردہ رجال کی کمی ہے اور نہ ہی ان کی روشن تحریروںسے قوت کشید کرنے والوں کی۔جامعہ ملیہ اسلامیہ ،غالب انسٹی ٹیوٹ، غالب اکادمی، ساہتیہ اکادمی،این سی پی یو ایل، ایس ویژن ، دہلی وغیرہ کے پلیٹ فارم سے استاد گرامی کے خصوصی لکچرس، مقالات پر ان کی رائے اور صدارتی خطبات سے اخذ و استفادہ کرنے والی نئی نسل کا ایک کاررواں ہے،جن کی ذہنی آبیاری میں بالواسطہ یا بلاواسطہ قاسمی صاحب کا ہاتھ ہے۔جے این یو برادری میں بطورِ خاص ان کے لیے احترام کاایک مخصوص جذبہ پایاجاتا تھا۔ غالباً 2010کی بات ہے ۔ اسکول آف لینگویج کے سیمینار ہال میں’غالب کی شاعری‘ پر ان کا لکچرتھا۔ ہم طلبہ اور اساتذہ کثیر تعداد میں انھیں سننے کے لیے موجود تھے۔غالب کے مختلف النوع شعری جہتوں پر بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ غالب کا شعری لہجہ تفہیم غالب کا ایک موثر تنقیدی طریق کارہوسکتا ہے۔اس کے تعین میں زبان کی نحوی ساخت سے انحراف اور حرف وصوت کی ادائیگی کا انفرادی انداز بامعنی کردار اداکرتے ہیں۔ غالب کی بوالعجب طبیعت پر روشنی ڈالتے ہوئے نشاندہی کی کہ غالب اپنے اشعار میں بسااوقات مبتدا سے پہلے خبر کو نظم کرتا ہے۔اسی ضمن میں انھوں نے استفہامیہ اور استعجابیہ لہجے کی کثرت کا بھی ذکرکیا اورایسی غزلوں کا حوالہ کوٹ کیاجن میں زمین کا استعمال اور ردیف کا انتخاب پوری پوری غزل کو سوالیہ اور استفہامیہ اشعار کا مجموعہ بنادیتا ہے۔اسی لکچر میں انھوں نے یہ بھی بتایا کہ الفاظ میں حروف کی تخفیف یا سابقہ اور لاحقہ کا اضافہ بھی غالب کی معنی آفرینی کاایک حربہ ہے، جس سے مفاہیم کے نئے امکانات پیدا ہوتے ہیں۔غالب سے متعلق استاد مرحوم کے خیالات کو قدرواضح طور پر اردو اکادمی کے لیے لکھے گئے مونوگراف بہ عنوان: ’’مرزاغالب :شخصیت اور شاعری‘‘اور ’’کثرتِ تعبیر‘‘ کے مشمولہ مضامین میں شامل’’الطاف حسین حالی اور تفہیم غالب،کلام غالب میں عشق اور تصوّر عشق کی ثنویت، تفہیم غالب کی بعض امکانی جہات اور غالب کے خطوط میں انکشافِ ذات ‘‘ میں دیکھاجاسکتا ہے۔

پروگرام کے بعد ملے تو بڑے بشاش اور پرجوش تھے ۔لکچر پر ہم نے خوشی کا اظہار کیا تو ہمیشہ کی طرح مطالعہ کی تلقین کی۔مطالعہ دراصل ان کی قوتِ محرکہ تھا۔یہ بات سب پر عیاں تھی کہ مقالہ یا لکچر کے لیے وہ باقاعدہ منصوبہ بند تیاری کرتے ہیںاور موضوع کے ممکنہ اعباد تک رسائی کے بغیر دم نہیں لیتے۔ اسی ملاقات میں ‘میں نے ان کی خدمت میں اپنی کتاب ’’پیروڈی کا فن‘‘ پیش کی تو بتایا کہ کونسل سے مالی تعاون کے لیے تمھاری کتاب پر اکسپرٹ اوپینین میری ہی تھی اور خوشی کا اظہارفرمایا۔
تہذیبِ نفس اور ذہنی تربیت کے تقاضے کے تحت خودبینی اور خوداحتسابی‘ قاسمی صاحب کے علو سفر کی زادراہ تھیں۔ان کے چبھتے ہوئے کاٹ دار جملوں اور فقروں سے جزبز ہونے والے شاید اس امر سے کم ہی واقف ہوں گے کہ انھوں نے اپنے فکری، علمی، تنقیدی اور تخلیقی عمل پرخود احتسابی کاپہرہ بٹھارکھا تھا۔وہ محاسبہ ( self monitoring) ایک شدید نوع کامجاہدہ ہے ، جوانھیں مطلق العنانی یا اپنی تحریروں کے بارے میں خوش گمانی سے محفوظ رہنے ، معروضیت برقرار رکھنے،نظریاتی مرعوبیت کی عمومی فضا میں ادبی نظریات کو کامیابی کے ساتھ ادبی متن کی تفہیم میں روبہ عمل لانے کا حوصلہ دیتا ہے۔ ان کے یہاںطلبہ کے لیے بھی تہذیبِ نفس کے اسی علمی پیمانے پر یک گونہ اصرار پایاجاتا ہے۔ اور اسی سیاق میں وہ تنقید نگار کوبھی اپنی کارکردگی پر نظر ثانی کرنے اور اس کے سودوزیاں کے محاسبہ پر ابھارتے ہیں۔خوداحتسابی کے اسی محکم رویے نے انھیں معاصر تنقید میں معتبر مقام عطاکیا۔

مرحوم قاسمی صاحب اظہار کے دونوں میڈیم ۔۔۔تحریر اور تقریر کے ہنر سے بخوبی واقف تھے اور یہ دونوں اوصاف ان کی ’بے باکی‘ اور ’جرأتِ رندانہ‘ سے جلا پاتے تھے۔عربی اور فارسی زبان و ادب سے گہری واقفیت نے انھیں خوداعتمادی کی اس منزل پہ لاکھڑاکیا تھا جہاںمرعوبیت کی زنجیریں خودبہ خود ٹوٹ جاتی ہیں۔ اس کا نظارہ میں نے ساہتیہ اکادمی کے ایک پروگرام میں کیا، جہاں محفل پر ایک خاص رنگ غالب تھا لیکن استاد نے لب کشائی کی تو بادل چھٹنے لگے، نہ صرف رنگِ محفل کافورہوگیا بلکہ’ کلامی رنگ‘ غالب آتا چلاگیا۔اپنی اسی تنقیدی یافت کے بوتے پرمرحوم استاد نے نہ صرف مشرقی شعریات کا علم بلند کیا،اپنے گرد وپیش میں اکرام و التفات کی ایک نئی دنیا خلق کی بلکہ مشرق کی بازیافت کا سامان بھی کیا۔تاہم اپنی زور آور توانائی کے باوصف وہ خود کوغرقاب رنگِ خاص ہونے سے نہیں بچا سکے۔اس کا شکوہ ہم نے حینِ حیات ان سے بارہا کیا لیکن حضرتِ مصلحت کو کیا کہئے!معاصر تنقیدمیں استاد کی کم آمیز مصلحت سے آسکروائلڈ کی اس سنت کی تجدید ممکن نہ ہوپائی،جو فن کاراور قلم کار کوادارہ جاتی ایوارڈاور سندتوصیف و تفاخر کی بیڑی سے آزاد کرسکے۔مشرقی شعریات و نقد کا یہ کوہِ گراںمصر کے بازار میں اپنی ارزاں قیمت پہ راضی ہوگیا۔ جبکہ تقریباً تین دہائیوں کا معاصر تنقیدی منظرنامہ ان کی تابناکی سے عبارت ہے، جہاں ان کی بھرپور موجودگی کا احساس ہوتا ہے۔

شاعری، صحافت،ترجمہ اورتحقیق سے وابستگی کے باوصف‘ عربی و فارسی شعریات ، تاریخ اورتہذیب کے ساتھ متون کا سنجیدہ مطالعہ قاسمی صاحب کی دلچسپی کاخاص محور تھا۔وہ تنقید کے مردمیدان تھے۔ان کی تنقید دراصل ان کی تخلیقی سرگرمی کا حصہ تھی اورمعروضیت ان کے تنقیدی اصول و نظریات کامغزِ نفیس۔ کسی خاص مکتب فکریانظریۂ ادب کے زیراثر ناقدین میں دوسرے نظریات کے تئیںیکسر انحرافی رویہ سے انھیں شکایت تھی ۔گوکہ انھیں کسی مخصوص مکتب فکر کی اہمیت اور بسااوقات اس کے مفید نتائج کا بھی اندازہ تھا لیکن ان کے لیے یہ سوال ہمیشہ اہم بنارہا کہ آیا ’’تشکیلِ متن میں دوسرے عناصر اور محرکات اس اکہرے طریقِ نقد کے سبب معرضِ التوا میں نہیں پڑجاتے‘‘؟ ان کا ماننا تھا کہ متن میں کارگرتشکیلی اور تخلیقی رجحانات کی تفہیم یا تحسین کا حق اداکیا جاناناگزیر ہے۔اسی لیے وہ تنقید کو بعض ادبی تحریکات کی بالادستی اور ادبی میلانات کی شدت کے زمانے میں بھی وسیع المشرب کردار میں دیکھنے کے متمنی رہے تاکہ معاصر ادب کے کثیراسالیب اور ماضی کے ادب پاروں کی قدر و منزلت کا درست اندازہ لگایاجاسکے۔ وہ متن کی مرکزیت کے کچھ یوں قائل تھے کہ انھوں نے اپنے جملہ تنقیدی معیار اور پیمانوں کو بھی متن کی نوعیت اور تفہیم کے تقاضوں کے تابع رکھا۔

مشرقی شعریات کے وسیع دائرۂ کار کے علی الرغم اردو کے حوالے سے انھوں نے عربی اور فارسی روایت نقد کومشرقی شعریات ، دونوں زبانوں کے تصور ادب اور نظریۂ شعرکی اساس قرار دیا اور اسی تناظر میںاردو شعریات کی مبادیات ترتیب دیں۔کتاب ’’مشرقی شعریات اور اردو تنقید کی روایت‘‘کے نام سے موسوم ہوئی۔ انتقادی بحث میںاستاد مرحوم نے عربوں کے تنقیدی شعور کو لسانی اور ادبی نقطۂ نظر سے مغرب کے نئے ادبی نظریات کاپیش رو سمجھنے والے کمال ابوذیب، میخائیل نُعیمہ اور ایڈورڈ سعید جیسے مہاجر ادباکے خیالات سے فائدہ اٹھایااور نمایندہ عربی اور فارسی مآخذ کی روشنی میںان زبانوں کی تنقیدی روایت اور معیاربندی کومغربی روایت نقد کے تناظر میں پیش کیا۔مغربی تنقیدکاپیمانہ اس لیے کہ ان کے خیال میں اسے اپنائے بغیر کسی بھی زبان کی تنقیدی روایت کا تعین دشوار ہے۔ عملی تنقید سے متعلق کتاب’’شاعری کی تنقید‘‘ کے مشمولہ مضامین میں استاد نے اردو میں رائج ادبی تصورات کوبڑے سے سلیقے برتا۔’’معاصر تنقیدی رویے‘‘ میں اردو تنقید کے ماضیِ قریب اورحالِ موجود کے تنقیدی رجحانات کی ایک واضح شبیہ پیش کی اور یوں یہ کتاب اہل ادب کی توجہ خاص کا مرکز بنی اور ساہتیہ اکادمی کے انعام کا مستحق قرار پائی۔

قاسمی صاحب کی ذہنی تشکیل کا زمانہ علی گڑھ کا اہم ترین ادبی، علمی اور تاریخی زمانہ رہا ہے۔جدید اور مابعد جدید کشاکش اور بالادستی کی مخصوص فضا میں بھی وہ مشرقی ادبیات کا ثنا خواں رہے۔ عالمی ادبیات سے گہری واقفیت کے سہارے مشرقی بازیافت کا ان کا متعینہ سفرجاری رہا۔ وہ جدیت کے مداح تھے۔مابعد جدید رجحانات سے بھی انھیں گریز نہ تھا۔ان جملہ ہم عصر ادبی رجحانات و میلانات کے درمیان بھی ان کا توازان اور اعتدال قائم رہا۔یہ رویہ ان کے ایک خاص زاویہ نظر کا پتا دیتا ہے۔تنقیدی معروضیت کے لیے انھیں پروفیسر کلیم الدین احمد کی زبان پسند تھی۔ ہندوستان میں غالباً وہ پہلے حسن عسکری شناس تھے،جنھوں نے نئی نسل کے سامنے عسکری کے بسیط کارناموں کو ایک مخصوص مشرقی سیاق میں پیش کیا۔عسکری اور استاد مرحوم غالباً ایک ہی راہ کے راہ رو تھے۔ مغربی پیمانِ نقد سے انھیں بیر نہ تھا لیکن وہ مشرقی السنہ کی فضیلت سے بھی بیگانہ نہ تھے۔

مرحوم قاسمی صاحب نے بھرپور زندگی گزاری۔ نہ سیاست سے بیر، نہ معاشرتی راہ و رسوم سے بے زاری اور نہ ہی گروہ بندی سے پناہِ الٰہی۔یہ سارے پہلوان کے بربطِ حیات کے تار ہائے نفس تھے، جس کا دائرہ علی گڑھ اور دہلی سے ہوتا ہوا ملک کے قابل ذکر اردو حلقہ تک پھیلا ہوا تھا۔علی گڑھ کے بعد دہلی کی مختلف علمی و ادبی مجالس میں انھیں بارہا جلوہ افراز دیکھا۔حمیداللہ بھٹ کے زمانے میں قومی کونسل ان کی دلچسپی کا اہم مرکزہواکرتا تھی، جہاںوہ مختلف کمیٹیوں کے رکن تھے۔لٹریچر پینل کے تو وہ سروے سروا تھے ہی ، مختلف موضوعات پر پروجکٹ کاکام بھی اوّلاًانہی کی زیرسرپرستی شروع ہوا۔اسی اسکیم کے تحت انھوں نے کلیات رشید احمد صدیقی پرکام کیا اور اس کے بعدکونسل کی ’بھارت بھارتی سیریز‘ کے تحت ’آزادی کے بعد اردو طنز و مزاح‘ کے نام سے اردو کے نمایندظرافت نگاروں کا ایک اہم انتخاب پیش کیا۔وہ کونسل کے تاریخ ادب پینل کے بھی چیرمین رہے۔ متذکرہ دو علمی وادبی مراکز کے بعد کلکتہ ان کے توقیر کی ایک منزل تھی،جہاں کے سنجیدہ علمی حلقے میں وہ ہمیشہ قدر کی نگاہ سے دیکھے گئے۔کلکتہ میںان کا پہلا لکچرسیدامیر علی لائبریری ، خضر پورکے زیراہتمام غالباً۱۹۹۱۔۱۹۹۲ میں ہوا تھا۔ مغربی بنگال اردو اکادمی کی دعوت پرغالباً ۲۰۱۶ میں انھوں نے اقبال پر توسیعی خطبہ دیا۔۲۰۱۸ میں نظیراکبرآبادی پر اکادمی کے قومی سیمینار میں مرحوم نے کئی سیشن کو چیر کیا اور کلیدی خطبہ پیش کیا۔۱۹۔۲۰۱۸ کے قومی سطح کے ایوارڈ کے زمرے میں اکادمی نے انھیں ’اقبال سمان ایوارڈ‘پیش کیا اور ان کی عزت افزائی کی۔ نظیراکبرآبادی والے سیمینار میں اپنی آمد کی پیشگی اطلاع انھوں نے مجھے علی گڑھ سے ہی دی تھی۔پروگرام اور اس کے بعد کی ساعتوں میں استاد کی صحبت سے فیض یابی کا موقع ملا۔کلکتہ یونیورسٹی میں وہ میری تقرری سے بہت خوش تھے۔

قاسمی صاحب دیوبند کے فارغ التحصیل تھے اورزندگی کے معمولات میں مذہبی فرائض کے سرگرمی سے پابند۔دینی امور ہو ںیا دنیاوی معاملات دونوں محاذ پر ان کا تحرک ہی ان کا شناخت نامہ تھا۔وہ منزل کی جستجو میں ہمہ دم سرگرداں دیکھے جاتے تھے۔ خود کے لیے نئے اہداف متعین کرنا اور ان کے حصول میں تمام ممکنہ تدابیر کو بروئے کار لانا ان کی مہم جو طبیعت کا خاصہ تھا۔ہم طلبہ کے لیے انھوں نے عملاً ہمیشہ بڑا ہدف متعین کیا۔یہی سبب ہے کہ جہاں انھوں نے خود کو ادب کے لیے وقف کیا اور بڑے اہداف کا تعاقب کیا وہیں یونیورسٹی کے انتظامی امور میں بھی پیش پیش رہے۔ میں نے انھیں سرضیاء الدین ہال میں پرووسٹ کی حیثیت سے کام کرتے دیکھا، بعد ازاں وہ صدرشعبۂ اردو (۱۹۹۶۔۱۹۹۹)ہوئے اورڈین فیکلٹی آف آرٹس (۲۰۰۷۔۲۰۰۹) بھی۔ جی،ای۔سی کوارڈینیٹر(۲۰۰۶۔۲۰۰۹)، یونیورسٹی اسٹیٹ آفیسر(۲۰۱۰۔۲۰۱۳)،یونیورسٹی اکیڈمک کونسل کے ممبر(۱۹۹۳۔۱۹۹۵ اور۱۹۹۶۔۱۹۹۹)، یونیورسٹی کورٹ ممبر(۱۹۹۸۔۱۹۹۹ اور۲۰۰۷۔۲۰۰۸)،یونیورسٹی ای۔سی ممبر(۲۰۰۸۔۲۰۰۹) اور یونیورسٹی فائننس کمیٹی کے ممبر (۲۰۰۷۔۲۰۰۹) بھی رہے۔ احباب اور اپنے طلبہ کی تقرری میں بطورِ خاص انھوں نے دلچسپی لی اورعلی گڑھ اور بیرونِ علی گڑھ بہت سے چراغ روشن کئے۔ زمانۂ طالب علمی میں قاسمی صاحب علی گڑھ میگزین کے اڈیٹررہے۔وقت کے ساتھ یہ سلسلہ دراز ہوتا گیا اور انھوں نے الفاظ، انکار، تہذیب الاخلاق اور فکر و نظرجیسے اہم ادبی اور تحقیقی رسالوں کی ادارت کی۔سبکدوشی کے بعدتا حال وہ سہ ماہی کتابی سلسلہ ’’امروز‘‘ کی ادارت فرمارہے تھے۔
دو تین برسوں سے قاسمی صاحب کو کینسر جیسا مہلک مرض لاحق تھا۔گزشتہ سال ماہ فروری ۲۰۲۰ کی آخری تاریخوں میں ریفریشر کورس کے لیے علی گڑھ جانا ہوا توڈاکٹر سجاداخترنے استاد کومیری آمد کی خبر دی۔ ازراہِ محبت وہ برائون بک پبلی کیشنز کے دفتر شمشاد مارکیٹ میں تشریف لائے۔دیکھا توجسمانی طور پرانھیںکافی نحیف پایا۔سرپر سلیقے سے سجے گھنے بال کی جگہ کشتی نما اونچی ٹوپی نے لے لی تھی ۔معلوم ہواکہ کیموتھریپی کے مضراثرات ہیں۔ دیکھ کر صدمہ ہوا۔ایک پرشکوہ عمارت میں انہدام کا عمل جاری تھا۔ ملتے ہی گویا ہوئے تم سے ملنے کے لیے خود کار چلا کر آیا ہوں۔آواز میں وہی پہلی سی کھنک تھی ،بارعب اور باوقار آواز۔وہ مضبوط اعصاب کے مالک تھے۔ محسوس ہواکہ مرض کے خلاف محاذ آرائی میں استاد اپنی زندگی کی بچی کھچی خوداعتمادی کو کام میں لا رہے ہیں۔ خلاف معمول اس بے تکلف ملاقات میں استاد نے ادبی شہ اور مات کے کھیل کی دنیا کے کئی راز ہائے سربستہ سے پردہ اٹھایا،کچھ علمی اور کچھ عملی دنیا کے اپنے تجربات ہم پر لٹائے ۔ چائے کا دورچلا،مطالعہ کی تلقین کی اور اجازت چاہتی۔ہم انھیں رخصت کر نے ان کی کار گئے۔وہ ڈرائیونگ سیٹ پربیٹھے،خدا حافظ کہااور خود ڈرائیو کرتے ہوئے چل دئے۔یہ آخری ملاقات تھی، اب جی بھر کر دیکھنے کے لیے میرے پاس ان کے ساتھ لی گئی اس موقع کی ایک یادگار تصویر ہے اور ان کا وقیع علمی ترکہ جس کے ہم سبھی وارث ہیں ۔

Previous articleبہار سرکار نے فری ٹکٹ دینے کا کیا اعلان
Next articleآہ! حامد مرزا : تمہاری خوبیاں زندہ تمہاری نیکیاں باقی از: عارف حسن وسطوی

اپنے خیالات کا اظہار کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here