وحید العصر گونو جھاکاسوانحی خاکہ (سینہ بہ سینہ روایتیں)

0
66

امتیاز وحید
شعبہء اردو، کلکتہ یونیورسٹی

نامورانِ متھلا میں گونو جھا کا نامِ نامی سرفہرست ہے۔ انھیں ریاست ترہت، موجودہ متھلا میں ذہانت، علمیت اور دانشوری کا استعارہ خیال کیا جاتا ہے۔ گونو جھا کی زندگی اور ان کی شخصیت کا حال کسی تذکرے میں تفصیلی طور پر نہیں ملتا، نہ ان کے فرمودات کا کوئی تحریری ثبوت ہی دستیاب ہے۔یہ متھلا کے ملک الشعراوِدیاپتی سے پہلے کا آدمی ہے،اس وقت تحریری طور پر چیزوں کو محفوظ رکھنے کا چلن بھی عام نہیں تھالہٰذا وہ تحریری طور پر کہیں محفوظ نہیں رہ سکا۔ البتہ تاریخی حوالوں سے پتا چلتا ہے کہ وہ 13 ویں صدی عیسوی میں متھلا کے بادشاہ ہری سنگھ کا ہم عصر تھا اور ایک ذہین ترین انسان تھا۔ اس کی زندگی کی بیشتر کڑیاں اب ناپیدہوچکی ہیں۔ اس سے منسوب کہاوتوں، کہانیوں اور رسائل کے بعض تراشوں میں جو چیزیں ملتی ہیں، ان سے کماحقہ گونو جھا کی کوئی مستند شبیہ یا سوانح ابھر کر سامنے نہیں آتی۔ بکھرے شخصی مواد کے استناد کا مسئلہ اس پر مستزاد ہے کیوں کہ یہ وہ معلومات ہیں، جو متھلا لوک ادب اور کلچر میں سینہ بہ سینہ چلی آرہی ہیں۔مرورِ ایام کے ساتھ ان سے منسوب واقعات میں لوگوں نے اپنی پسند و ناپسند کا اضافہ بھی کردیا ہے، جس سے گونو جھاسے منسوب متعلقات کی نشاندہی اب ممکن نہیں رہی۔البتہ اپنی کہانیوں کی طرح گونوجھا کی شخصیت بھی بڑی دلچسپ، پر اسرار اور پرکشش معلوم ہوتی ہے۔تاریخی عدم استناد و توثیق کے باوجود معروف ناٹک کاربیکنڈ جھا نے گونوجھا سے متعلق اپنی کتاب میں مختلف اندازمیں گونوجھا کا تذکرہ کیا ہے اور انھیں رجسٹر اندراج کے حوالے سے ’سون کریاکرمہے خاندان کابرہمن‘ بتایا ہے، جن پربھگوتی کے خاص فیضان تھا۔بنگالی مصنف چندرگپت موریہ اورشوتورکچھت نے اپنی کتاب’میتھلار گوپال بھند گونوجھا‘ میں گونوجھا سے متعلق کئی پہلوؤں پر روشنی ڈالی ہے۔ان کے بموجب بیربل نے گونوجھا سے گہرے اثرات قبول کیے تھے۔وہ یہ بھی بتاتے ہیں کہ 1326میں گونوجھا کو’مہامہوپادھیا‘ کے خطاب سے نوازاگیا تھا۔نارائن جھا نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ ودیاپتی اور گونوجھا متھلا دربار کے رتن مانے جاتے تھے۔یہ بھی بتایا گیا ہے کہ راجاشیو سنگھ گوجوجھا سے متاثرتھے۔

گونوجھا دراصل بہارکی زندگی کا سرنامہ ہیں۔بہار کی زندگی کی وہ اہم خصوصیت، جو اس کو دوسرے خطے سے ممیز کرتی ہے،اہالیانِ بہار کی زندگی کی سادگی بلکہ معصومیت کے اظہار تک پہنچی ہوئی، انتہا درجے کی سادگی ہے۔دوسری خصوصیت اخلاص ہے، ایسا اخلاص جس میں دوسری کسی بھی چیزکی آمیزش نہ ہو اور معاشرتی طرزِ اظہار کا برجستہ بیان،جوبظاہر تو معمولی سی لگے لیکن اس کے باطن میں علم و شعور داخل ہو۔ گونوجھا ان خصوصیات کی تجسیم ہے،جو اپنی ذہانت، حاضر جوابی اوردیگر خصوصیات کے سبب طلسماتی کردارکا حامل ایک اہم اور دلچسپ شخصیت خیال کیا جاتا ہے اور متھلا لوک کہانیوں، کتھاؤں اور ثقافتی تناظر میں ہر جگہ لطیف پیرائے میں یاد کیا جاتا ہے۔

گونو جھا دربھنگہ ضلع کے ’بھروارا‘گاؤں میں پیدا ہوئے۔ والد مذہبی طبیعت کے مالک تھے، لہٰذا اس کی پہلی اولاد گونوجھا نے بھی والد کی طرح مذہبی طبیعت پائی۔گونوجھا کالی دیوی کے بھکت تھے۔ مانا جاتا ہے کہ انھیں کالی ماں کا خصوصی فیضان حاصل تھا، جس کے سبب انھیں فہم و فراست کی دولت ہاتھ آئی۔خوشی کی بات یہ ہے کہ وہ شرکے نہیں بلکہ خیرکی علامت سمجھے جاتے ہیں۔ان کا کردار برائی اورشر کو اس کے انجام تک پہنچائے بغیر دم نہیں لیتا۔ روایت ہے کہ بھگوتی نے انھیں وَردان دیا تھا کہ وہ کبھی مفتوح نہیں ہوگا۔ اس کی شکست اس کی موت کا سبب ہوگی۔ لہٰذا گونوجھا سے منسوب کہانیوں میں وہ ہمیشہ ایک فاتح کردار کے روپ میں ہی سامنے آتے ہیں۔ گویا اس کا کردار فتح مندی کا اعلامیہ ہے۔شکست چونکہ اس کی موت کا نوید تھی لہٰذاس سے بچنے کی تدابیرمیں گونوجھانے عقل اورمنطق کی انتہا سے کام لیا۔لوک روایت کے مطابق اس نے بھگوان کو بھی جُل دینے میں کامیابی پائی۔ ان سے میتھلی زبان میں ظریفانہ اور کئی مزے دار لوک کہانیاں منسوب ہیں، جن میں انھیں ایک چالاک، ہوشیار اورعقلمند آدمی کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔اپنی انھی گوناگوں خوبیوں کے سبب انھیں بہار کا بیربل بھی کہا جاتا ہے۔یہ بھی کہاجاتا ہے کہ وہ اپنے وقت کے زمین دار،اہلِ ثروت اور مہاراجاوؤں کے دربار سے بھی وابستہ رہے۔ درباریوں کی تملق پرستی کے سبب عام رعایا پر زمین داروں کی عدم توجہی اور ظلم و جبر کے خلاف بھی وہ برسر پیکار دیکھے گیے اور عوام کو درباریوں کے چنگل سے نجات دلانے میں اہم کردار ادا کیا۔انھوں نے سادھوؤں کے بھیس میں موجود مفاد پرستوں اور منافقین کو بھی آڑے ہاتھوں لیا اوران کی اصلیت کو بھی بے نقاب کیا۔ یہ سارا کام انھوں نے اپنی غیرمعمولی ذہانت کے سہارے انجام دیا۔بہار میں گونو جھا کی دلچسپ کہانیاں اسی طرح زبان زد عام و خاص ہیں، جس طرح متھلا-گوکل ودیا پتی کے شیریں نغمے متھلا کی فضاؤں میں گونجتے ہیں۔ گونو جھا کی کہانیاں لوگوں میں اس قدرمقبول ہیں کہ اب یہ کتھائیں نہ صرف ہمارے لوک ادب کا حصہ خیال کی جاتی ہیں بلکہ کلاسیک کا درجہ رکھتی ہیں۔

تاریخی طور پر گونو جھا سے مماثل پندرہویں صدی کے خطہ آندھرا پردیش میں گرلاپتی رام کرشنا،معروف بہ تینالی رام جیسا ذہین و فطین کردار بھی پایاجاتا ہے، جو اپنی عقلیت پسندی کے سبب مشہور ہے۔ یہ ایک تیلگو شاعر، اسکالر، مفکر اور سری کرشنادیواریا(1509 تا 1529) کے دربار میں خصوصی مشیر تھا۔اس کا تعلق موجودہ آندھرا پردیش کے ٹینالی گاؤں سے تھا۔ اس کا نام اس کی دانشمندانہ لوک کہانیوں کے لیے جانا جاتا ہے۔ وہ اشٹادیگاجا یا وجے نگر شہنشاہ کرشنادیواریا کے آٹھ درباری شاعروں میں سے ایک تھا اور دربار کا وزیربھی تھا۔اسی زمرے میں بنگال کے گوپال بھر یاگوپال بھنڈ کا نام بھی لیا جاتا ہے، جوقرونِ وسطی کے بنگال میں ایک عدالتی جیٹر تھا اور اٹھارہویں صدی میں نادیہ کے بادشاہ راجہ کرشن چندرا (1710–1783) کے دربار سے وابستہ تھا۔ گوپال خلقِ خدا میں مسرت کی افزودگی کا سرچشمہ تھا۔ دوسروں کو ہنسی مذاق اورظرافت سے خوشی فراہم کرنا اس کی فطرت ثانیہ تھی۔ بادشاہ گوپال کو اپنے دربار کا نورتن سمجھتا تھا۔ اس کا مجسمہ آج بھی کرشن چندر کے محل اور کرشن نگر قصبے کے گھورن میں دیکھا جا سکتا ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ گوپال کے پاس بڑی گہری ذہانت تھی۔اس کے کارناموں پر مبنی کہانیاں مغربی بنگال اور بنگلہ دیش میں آج تک بیان کی جاتی ہیں۔ گونو جھا کی طرح مزاح اور غایت ذہانت اس کی بھی بنیادی شناخت ہے۔ حاضر جوابی میں اس کی ذہنی اختراع اورہوشیاری کا عالم دیدنی تھا۔بنگلہ ادب میں اس کا موازنہ بیربل، ٹینالی رمن، گونو جھا اور نصرالدین کی کہانیوں سے کیا جاتا ہے۔

گونوجھا کے والد اس کے بچپن ہی میں فوت کرگئے تھے۔ اس کی پرورش و پرداخت اس کی ماں کے ہاتھوں ہوئی۔اس کی تعلیم کا کوئی سراغ نہیں ملتا۔ اس سے منسوب کوئی تحریری سرمایہ بھی موجود نہیں۔البتہ یہ بات تحریری صورت میں موجود ہے کہ گونوجھا متھلا کے ملٹری اسکالر تھے اور اسی حیثیت سے دربارسے وابستہ بھی تھے۔بعض روایتوں میں انھیں ایک ظریف درباری شاعر کی حیثیت سے یادکیاجاتا ہے۔اس کی بذلہ سنج طبیعت کو دیکھ کرالبتہ اس خیال کو تقویت ملتی ہے کہ دربار سے وابستہ وہ ایک حیوانِ ظریف تھا لیکن چونکہ اس سے منسوب کتھا کہانیوں اور کہاوتوں میں اس کے شعری ذوق یا اس کے کَوی ہونے کا کہیں کوئی اشارہ نہیں ملتالہٰذا اسے شاعرکی حیثیت سے دیکھنا قرینِ مصلحت معلوم نہیں ہوتا۔دربارسے اس کی وابستگی سے اندازہ ہوتا ہے کہ کم از کم اس کی واجب تعلیم ضرور رہی ہوگی۔محض ذہانت کی بنیاد پر دربارِ وقت تک اس کی رسائی اور وابستگی خلافِ عقل بات معلوم ہوتی ہے۔تاہم یہ محض قیاس آرائیاں ہیں۔ گونوجھا کے ایک چھوٹے بھائی بھونو کا بھی ذکر ملتا ہے۔والد کے انتقال کے بعد یہ دونوں اپنی بوڑھی ماں کے ساتھ رہتے تھے۔ ماں گوکہ گونو جھاکی ہوشیاری سے خوش اور مطمئن تھی کہ زندگی کسی طرح گزار لے گا لیکن اسے اپنے چھوٹے بیٹے کی فکر دامن گیر رہتی تھی کہ یہ سیدھا سادامیرے بعد کیسے رہ پائے گا۔ گونو ماں کو تسلی دیتے کہ میرے جیتے جی اسے کوئی پریشانی نہیں ہوگی۔گو نو سے منسوب واقعات سے یہ بھی اندازہ ہوتا ہے کہ اس کی ذہانت نے اس کے اردگرد حاسدین کی ایک بھیڑ کھڑی کردی تھی۔ گرد و نواح کے قصبات سے عوام اپنے مختلف مسائل اور سماجی معاملات میں گو نوجھا سے صلاح و مشورہ کے لیے بھی آتے تھے، جنھیں وہ بڑی آسانی سے حل کردیتا تھا۔ اس کی ذہانت نے رفتہ رفتہ اس کی شہرت کا سامان کیا اور پھر حاسدین بھی پیداکیے۔ اس کی ماں کے انتقال پر اس کے بدخواہوں نے اسے گھیرنا شروع کیا کہ قرب و جوار کے گاؤں میں دور دور تک تمھارا آنا جانا ہے، لوگ تمھیں جانتے ہیں۔ ماں کے انتقال پر تمھیں کم از کم پچیس گاؤں کو شیرینی کی دعوت ضرور دینی چاہیے۔ اصرار کچھ اتنا شدید تھا کہ گونو جھاکو ان کی بات مانتے ہی بنی۔ دعوت کی خبر گاؤں اور آس پڑوس کے مضافات میں مشتہر کردی گئی۔ گونو جھانے بھی دن تاریخ طے کردی۔ تاہم اس دعوتِ عام کی اس نے کوئی تیاری نہ کی اور مطمئن بیٹھا رہا۔لوگ حیران تھے کہ یہ کیا ہورہا ہے۔ مقرر وقت پر مہمانوں کاہجوم اکٹھا ہوا۔ گونوجھا نے متھلا کی روایت کے مطابق کھانے کے لیے مہمانوں کے سامنے پتے رکھ دئے اور ان میں گنے کے چار چار ٹکڑے پیش کردئے۔بڑے بزرگوں کی سرزنش کرنے پر گونو جھا نے نرم لہجے میں کہا کہ میں نے کیا غلط کیا ہے۔ گنا تمام مٹھائیوں کی جڑ ہوتا ہے۔ کیا گنے کے بغیر شیرینی کا تصور کیا جا سکتا ہے؟ آپ سب کا منہ میٹھا ہوجائے گا اور میری ماں کی روح کو شانتی بھی مل جائے گی۔ کیا یہ میٹھا نہیں ہے؟بزرگ نرم پڑگئے۔ گونو جھا کی بات درست تھی۔گونوجھا نے اپنی بساط بھر ضیافت کا اہتمام یقیناً کیا تھا۔اس نے اس طرح نہ صرف بعد از مرگ اپنی ماں کی روح کی تسکین کا سامان کیا بلکہ اپنے بدخواہوں کو بھی سبق سکھایا۔ یہ واقعہ گونوجھا کے اس سماجی شعور کا غماز ہے، جس سے ہندوستانی معاشرہ جوجھ رہا ہے کہ شرادھ کے نام پر لوگ برباد ہوجاتے ہیں اور ان پر قرض لے ضیافت کا بوجھ ڈالا جاتا ہے۔
گونوجھا کی کہانیاں اخلاقی اور اصلاحی نقطہئ نگاہ کے فروغ کا ذریعہ ہیں۔ صدر عالم گوہر نے’گونو جھا کے قصے اور دوسری کہانیاں‘ کے پیش لفظ میں گونوجھا حتی کہ بیربل جیسی ذہین و فطین شخصیت کو سماج کا مسخرہ بتایا ہے، جو حد درجہ تکلیف دہ ہے۔ کیا مسخروں کو اکبر کے نورتنوں میں جگہ دی جاسکتی ہے؟ ملا دو پیازہ سے بیربل کی نوک جھونک مذاقِ لطیف، ذہانت اور غایت حسِّ مزاح کی علامت نہیں؟اکبر جیسے عالی دماغ شہنشاہ کے دربار میں رکیک اور اوچھی بذلہ سنجیوں کی گنجایش ہے؟ گزرتے وقت کے ساتھ بیربل جیسے ذہین اور ان سے منسوب خردمندانہ واقعات میں عوامی دلچسپیوں کی چیزیں بھی شامل ہوتی گئیں اوروقت کے ساتھ یہ کچھ سے کچھ ہوگئیں۔ان واقعات سے پھوٹنے والی ظرافت اور ان میں درآنے والی عوامی رکاکت کے سبب بیربل جیسے ذہین و فطین شخص کے لیے بھی ہمارا ذہن کوئی باوقار سیاق تلاش کرنے سے قاصرنظرآتا ہے۔بعینہٖ یہی صورتِ حال گونوجھا کے سلسلے میں بھی پیش آئی۔کچی پکی روایات کی گرد میں اس کی شخصیت کاوقارمجروح ہوا،جس کا سلسلہ ہنوز جاری ہے۔

گونوجھا سے منسوب درجنوں واقعات، کہانی اور کہاوتوں میں اسے ایک خدادا دصلاحیت کے مالک فردکی حیثیت سے دیکھا جاسکتا ہے۔وہ اپنی ذہانت کے سبب مرجعِ خلائق تھا اوراس میں عوام کے مسائل کو بہ آسانی حل کرنے کی صلاحیت بھی موجود تھی۔وہ سماجی مسائل کے تئیں بالعموم جس طرح کا رویہ اپناتا ہے،اس سے اس کی ذہانت کا پتا چلتا ہے۔اس میں حالات اور مسائل سے جوجھنے کی قوت دکھائی دیتی ہے۔اس کی خداداصلاحیت کا سرچشمہ میتھلی روایت کے بموجب بھگوتی کا وردان ہے، جو گونوجھا کو ملا تھا۔اسی قوتِ باطن نے انھیں فہم وشعور کی دولت ودیعت کی تھی اور اسے غیرمعمولی طور پر حاضر جواب بھی بنادیا تھا۔ان کی حاضر جوابی کے قصے بھی متھلا میں خوب مشہور ہیں، جن میں ان کی ذہانت کی چمک پائی جاتی ہے۔

گونوجھا سے منسوب بہت ساری کہانیوں میں وہ شریکِ حیات کے ساتھ باتیں کرتے نظرآتے ہیں، اس سے پتا چلتا ہے کہ گونوجھا کی شادی ہوئی تھی۔خانگی زندگی میں بھی ہم انھیں ایک کامیاب، ہوش منداور وفاشعار شوہرکی حیثیت سے پاتے ہیں۔ ان کی ایک بیٹی کا ذکر بھی ملتا ہے، جو جلد ہی فوت کرگئی تھی۔البتہ اس کے بھائی بھونوکی شادی نہیں ہوئی تھی۔اس طرح ان کا نسلی سلسلہ تقریباً ختم ہوگیا۔اس کے خاندان کے کسی بھی فردیا وارثین کا کوئی سراغ نہیں ملتا۔اس کے باوصف گاؤں ’بھروارا‘ کے لوگ گونوجھا سے اپنی نسبت پر فخر محسوس کرتے ہیں اورانھیں اپنے اجداد میں شمارکرتے ہیں۔ گونوجھا کا انتقال چمر چھونچھ میں ہوا۔گونو جھا کو گزرے صدیاں بیت گئیں تاہم وہ آج بھی اپنی ذہانت اور شرکے خلاف اپنی حکمت علمی بنانے اورحق کی پاسبانی کے لیے یاد کیے جاتے ہیں۔ اپنی خوبیوں کے سبب وہ آج بھی متھلا باسیوں کے دل میں بستے ہیں۔ گونوجھا اور متھلا اب ایک ہی سکے کے دونام ہیں۔ گونوجھا کے ذکرکے بغیرمتھلا کا تمدنی تصورروشن نہیں ہوپاتا۔گونو جھا متھلا کی سماجی زندگی میں کچھ یوں شیروشکرہوگئے ہیں کہ وہ بلا تفریق وہاں آباد سبھی طبقوں، ذات اور برادری میں یکساں اہمیت طورپرمقبول اور قابل قدرخیال کئے جاتے ہیں۔کیا ہندو کیا مسلم سبھی ان کے قدردان ہیں اور گونوجھا ان میں قدرمشترک کا درجہ رکھتے ہیں۔ گونوجھا کی ہردلعزیزشخصیت کا یہ وہ روشن پہلو ہے، جو انھیں قومی یکجہتی اورمشترکہ ثقافت کے سفیرکی حیثیت سے دیکھنے کی تحریک دیتا ہے۔ متھلا کی طویل تمدنی تاریخ میں گوناجھاکاآفاق ہمیشہ روشن رہے گا۔

Previous articleقطع رحمی وصلہ رحمی-اسلام کی نظر میں
Next articleمولانا قاری احمد اللہ صاحب بھاگلپوری (یادوں کے چراغ)