واقعہ کربلا:انسانی منشورکاروشن باب از: عبدالوہاب قاسمی

0
104

انسا نی تا ریخ کے مطا لعے سے یہ حقیقت آشکا را ہوتی ہے کہ سینکڑوں واقعات ایسے ہیںجنکی درخشندگی کو وقت نے ما ند کر دیا ہے ،جنکے حسن وجمال کوچھین لیا ہے اور صدہا قصے ایسے ہیں جو زما نہ کی دھول میں دب چکے ہیں …کچھ ہی ایسے حقا ئق اور صد اقت ہیں جو اب بھی نعمت بے بہا کے مترا دف ہیں ،امتداد زما نہ کے نشیب و فر از کے با وجود انکی کرنیں آج بھی انسا نی قلوب کو روشن کر تی ہیں ،نہ انکی اہمیت کم ہوئی ہے اور نہ ہی تب وتاب میں کو ئی خلل واقع ہو ا ہے۔

تا ریخ کے سینے میں پیوست ایک واقعہ ٔ دلخراش ’’شہا دت حسین ؓ ‘‘ ہے جو دشت کر بلا میں یزید کے طا غوتی لشکر کے ہا تھوں عمل میںآیا ،جو تا ریخ انسا نی کا ایسا المناک سا نحہ ٔعظیم ہے کہ چودہ سو سال گذرجا نے کے بعد بھی وہ زخم آج ہر قلب ایما نی میں با عث حزن وملال اور وجہ درد وکسک بنا ہواہے ،جب جب ما ہ محرم الحرام اپنی عظمتوں اور بر کتوں کو سمیٹے ڈوبتے سورج کے سا تھ شفق کی گلگوں چا در پر جلوہ آرا ہو تا ہے تو روح انسا نی کا نپ اٹھتی ہے،اسکے دریا ئے اشک میں تموج بر پا ہو تا ہے ،کر بلا کا خوں فشا ں منظر آنکھوں میں رقص کرتا ہے ،اس منظر میں صبرو استقا مت ،حق ودیا نت ،جر أت و شجا عت ،عا لی حوصلہ و بلند ہمت ایک مردِ آہن حق کی للکا ر سے فضا ئے با طل میں ارتعا ش پیدا کر تا دکھا ئی دیتا ہے ۔

اس سا نحہ پر انسا نی آنکھیں روزاول سے ہی گریہ و زاری کر رہی ہیں ،نوحہ وما تم کا جاں گسل منظر پیش کر رہی ہیں ،دینا کا ہرفرد بشر انکی شہادت کے غم میں برابر کا شریک ہے، ابتدائے آفرینش سے ہی انسانی قافلوں کی آمدو رفت جا ری ہے ،ہر دن کسی نہ کسی کی موت کی جا نکاہ خبریں انسا نی وجود کودہلا تی ہیں ،لیکن کیا کوئی ایسی ہستی ہے جسکی موت پر چودہ سو سال سے بلا انقطاع ہر آنکھ اشکبار ہوئی ہو ؟گردش دوراں اور ہنگا مہ ٔروزگار کے بے رحم ہا تھو ں کو بھی یہ جرأت نہ ہو سکی کہ وہ حضر ت حسین ؓ کی اس عظیم شہادت پر غفلت کی چادریں تان سکے ،بلکہ جب جب محرم الحرام کی دسویں تاریخ آتی ہے خراج عقیدت کے عالمی پیمانوں میں اضافے ہی ہو تے چلے جارہے ہیںاورانسان اس روشن مینار کی دعوت فکر وعمل کے فلسفے کی گہرا ئیوں میں اتر نے کی جستجو کر تا ہے …یہ صرف مظلومیت کی ایک تا ریخ نہیں بلکہ با طل کے خلاف حق گو ئی ،حق جوئی ،حق طلبی ،حق پرستی ،غیرت و حمیت ،عزیمت و حریت اور شجا عت و ہمت کا ایک تا بندہ استعا رہ بھی ہے ،خدا پرستی اور دینِ حنیف کی پیروی کی یہی وہ شا ہراہ ہے جہاں نجاح و فلاح ہے ،خوشنودی ٔرب ہے،عظمتِ انسا نی کی حکمر انی ہے ،اقبا ل مندی و فیروز بختی ہے ،رفعت ورحمت کی نوید ہے ،احکم الحا کمین کی قربت کا مژدہ ہے اور حیات ابدی کی بشا رت ہے …وہ بشا رت جسکے لئے ہر دل مچلتاہے اور قلوبِ انسا نی انگڑائی لیتے ہیں ،کون مومن قلب ہے ،جس میں یہ آرزو نہ ہو کہ جب وہ زندگی کی آخری سانسیں گن رہا ہو ،دنیا کی دلفریبیوں پر حسرت بھری نگا ہیں ڈال رہا ہو اور عا لم فا نی سے عا لم جا ودانی کی طرف محوِ سفر ہو توفرشتے اس کے استقبال کو نہ آئیں ،قبر انہیں خوش آمدید نہ کہے ، نیکیوں اور اعمالِ صا لح سے اسکا دامنِ مراد بھرا ہو ا نہ ہو ،پا سبا نی ٔحق اور نگہبا نی ٔصدا قت اس کا طرہ ٔامتیاز نہ ہو ؟؟یقینا یہی ہر اس دل کی پکا ر ہے جس میں ایما ن کی قندیلیں روشن ہیں ، لاالہ کی رمق با قی ہے ۔

محمد عربی ﷺ کے نواسے ،حضرت علی ؓ کے جگر گو شے ،حضرت فاطمہ ؓکے جگر پارے ،جنت کے جوانوں کے سردار حضرت امام حسین ؓ ،جو نسبت میں اعلی و ارفع ،مر تبہ میں بلند وبا لا ،زہد ورع کا استعارہ ،ایثار وقربانی کی شمع فروازاں ،حق گو ئی و بے باکی کے مردجواں اور بزرگی کے آفتا ب درخشاں کے لئے نہ کسی مر تبے کی کمی تھی ،نہ عہدے کی قلت تھی اور نہ ہی جاہ ومنصب کے دروازے بند تھے ،انہیں تو جنت میں سرداری کا مژدۂ جا نفزا سنا یا جا چکا تھا ،وہاں کی ہر نعمتوں سے لطف اندوز ہو نے کی بشارت دی جا چکی تھی …آخر وہ کیوں خون کے دریا میں کود جا نے کو بے قرار تھے ،اہل کو فہ کی غداری کی تا ریخ انکے سا منے ہو یدا تھی ،یہی وہ بے وفا تھے جنہوں نے انکے والد محترم حضرت علی ؓ کو سخت اذیتوں سے دوچار کیا تھا ،حضرت علی ؓ کے اخلاص کے باوجود وہ کبھی مخلص نہ بن سکے تھے ،پھر بھی کیوں حضرت امام حسین ؓ کر بلا کی پیاسی ریت کو اپنے مقدس لہو سے سیراب کرنے کو بے تاب تھے ؟اور مخملیں راہوں کو چھوڑ کر راہ پر خار پر محو سفر ہو چکے تھے …اسی سوال کا جواب آج بھی قوم کی تقدیر بدل سکتا ہے !!ا ور مر دہ ضمیر کونئی روح اور نئی توانائی عطا کرسکتا ہے …مگر کب ؟جب ہم اس المناک واقعہ کے پس پردہ جھا نکنے کی جرأ ت کر سکیں گے اور حضرت امام حسین ؓ کے اس روشن عمل کے اسباب و عوامل پر غور کر سکیں گے !!یقینا وہ اسباب یہی تھے ’’احقاق حق و ابطال باطل ‘‘کہ حق کی سر خروئی ہو اور باطل کی دردناکے موت ہو ،انہیں اس عمل کو انجام تک پہونچا نے کے لئے گر دش ایام کی فکر نہیں تھی ،اظہار حق کے لئے انکے سامنے یہی پیما نہ تھا کہ ؎

نہ مال غنیمت نہ کشور کشائی
شہادت ہے مطلوب ومقصود مومن

اظہارِ حق کا یہ ولولہ اور با طل کے سا منے سرِ تسلیم خم نہ کرنے کا یہ عزمِ مصمم بھی اسی نورانی ما حول کی مر ہونِ منت تھی جس میں آفتابِ رسالت ﷺپورے آب وتا ب کے ساتھ روشن و منور تھا ،جہاں مصلحت کا وجو د ہی نہ تھا ،بڑھتے قدم کو کھینچنے کاسوال ہی نہ تھا ، جہاں کسی قسم کا خوف و ہراس ارادے اور اقدامات کے لئے ما نع نہ تھا،جہاں سچا ئیوں کے لئے جینا اور مر نا تھا ۔حضرت امام حسینؓ کی پو ری زندگی اسی ما حول کی تعبیر و تفسیر تھی ،آپنے جو کچھ کیا وہ اس روشن تعلیمات کا نتیجہ تھا جو آپ کی رگوں میں لہو بن کر گر دش کر رہی تھیں، پیغمبر ﷺ آپ کے نانا ،والدِ محترم شیرِ خدا اور با ب العلم اور والدۂ محتر مہ نبی کی چہیتی خا تونِ جنت، پا کیزہ ما حول ،مقدس صحبتیں ،نو رانی محلفیں ،خدائی نو ازشات کی بارشیں جن پر مو سلا دھار تھیں ،رضائے الہی جن کا مقدر تھی ،محبو بیت جن کی زندگی کا تا بندہ عنوان تھی اور محفلِ الہی میں تقرب جن کی شنا خت تھی ،ان کی حسین وجمیل آغوش نے اور قا بلِ صد افتخار پر ورش و پر داخت نے حضرت امام حسین ؓجیسے صدق وصفا کے خوگر ،عظیم حو صلوں کے مالک ،گو ہرِ شب تا ب ،متقی و پر ہیز گار ،صالح ،نیک ،حلیم ،بردبار اور با وقار و با عظمت انسا ن سماج اور معاشرے کو عطا کیا ۔
حضرت امام حسین کی شہادت میں بقائے انسا نیت کا رازمضمر ہے ۔انسا نی کر دار وعمل کی کا میابی کی ضمانت ہے ،آپ نے حق و انصاف اور جرأت و پا مرا دی کی جو تا ریخ رقم کی ہے ،وہی ہرد ور کی سسکتی انسا نیت اور کرا ہتی زندگیوں کی رہنما ئی کا پیما نہ ہے ۔جب بھی بلکتی انسا نیت اس پیما نہ میں سما جا ئے گی وہ زندہ جاوید ہو جا ئے گی …آج کے ظلمت کدے کوبھی حضرت حسین ؓ کے کر دار کی روشنی درکار ہے ،یہ صدی بھی حضر ت حسین ؓجیسے جری و بہادر اور برگزیدہ ہستی کے انتظار میں صبح و شا م کا سفر طے کر رہی ہے جو اپنے ایثار وقربانی،اخلاص و للہیت اور حق وصداقت کی آبیا ری سے وہ عظیم کا رنا مہ انجام دے جس کے لئے انسا نیت کی آنکھیں پتھرا گئی ہیں ۔
حضرت حسین ؓ کی یہ شہادت اس بات کا اعلان ہے کہ ’’اسلام زندہ ہو تا ہے ہر کربلا کے بعد ‘‘یہ محض اپنی ذات یا اپنی آ ل و اولاد کے ساتھ بہتر سرفروشوں اورجاں نثاروں کی قربا نی نہ تھی ،بلکہ اسلام دشمن قافلوں کی منصو بہ بند سا زش کے خلاف عرفا نی اور روحا نی قوتوں کا مظاہرہ تھا ۔اسلا می شعائر پر باطل طا قتوں اور روئے زمین پرشیطان و ابلیس کے دندنا تے کا رندوں کے لیے ضربِ کا ری کا اسلامی جذبہ تھا اور ہر دور کے اسلام پسندو ں کے لئے یہ پیغام تھا کہ اسلام کی سر خر وئی اور سر بلندی کے لئے اپنی قیمتی متاع تک کو قربان کر نے سے دریغ نہ کر نا ہی محب اسلام کا شعار ہے ۔انہو ں نے کہا تھا ’’میں مدینہ سے اس لئے رختِ سفر نہیں با ندھ رہا ہو ں کہ لو گوں پر ظلم کروں او رزمین پر فسا د مچا ئوں ،بلکہ میر ے نانا محمد ﷺکی امت پر جو ظلم و فساد کی آندھیاں چل رہی ہیں اور اللہ کے نیک بندوںپر مکر و فریب کاجو جال پھیلا رہے ہیں ان کی اصلاح کے لئے نکلا ہوں ‘‘۔
۱۰؍ محرم الحرام کی تا ریخ کو یہ مختصر قا فلہ کر بلا کی تپتی ریت اور بے آب و گیاہ میدان میںخیمہ زن ہوااور بہا دری و دلیری ،جو ا نمرد ی و جر أت مندی اور عزم و حو صلہ کاجو مظا ہرہ پیش کیا اسے دیکھ کر چشمِ فلک بھی حیران و ششدر تھا ،موت کے ہولناک مناظر دلوں کو دہلا رہے تھے،آسمان شعلہ اگل رہا تھا ،زمین انگا رے بن چکی تھی ، حضرت حسین ؓاپنے عزیزو اقار ب اور اپنے جگر گوشوںکی خاک و خون میں لت پت تڑپتی لا شوں کو اپنے کاندھوں پر لا رہے تھے ،کئی دنوں کی شدتِ پیاس سے بدن نڈھال ہو چکا تھا …مگر پائے حضرت حسین ؓمیں استقا مت کی قندیلیںروشن تھیں،خیمے میں کہرام مچا تھا ،زمین وآسمان ہچکیاں لے رہے تھے ،خون کے اس ہو لناک ساعت میں وہ وقت بھی آگیا جب نوا سۂ رسول کے مقدس لہو سے کر بلا کی پیاسی ریت سیراب ہو چکی تھی ۔ آپ کا لا شہ تپتی ریت پر پڑا تھا ،آہ…!!وہ سر تن سے جدا ہو چکا تھا ،جس کی پیشانی پر لبِ اقدس کے بوسے چمک رہے تھے ۔خانوادۂ رسول ﷺ کے آخری چشم وچراغ لباسِ شہادت میں حیاتِ ابدی پاکر زندۂ جاوید ہو چکے تھے ۔
دیگر واقعات کی طرح شہادت حسین ؓمحض ایک تا ریخی واقعہ ہی نہیں ،بلکہ یہ انسانی حیات کا روشن منشور ہے ۔ انسا نیت کی راہو ں کے لئے مشعلِ ضیابار ہے ۔مو ت و حیات کی درمیا نی مدت کے بسر کرنے کا حسین دستو رہے ۔ صر ف مسلمانوں ہی کے لئے نہیں بلکہ پو ری اقوام وملل کے لئے ا س میں پیغامِ حیات مو جودہے۔ بقول پنڈت جو اہر لال نہرو ’’حسین کی قربا نی ہر فر قے وقوم کے لئے مشعلِ راہ ہے ‘‘۔ اس واقعہ کے غازیانہ پہلو اگر ہمیں اسلام کی سر بلندی کے لئے جان تک قربا ن کر نے کے جذبہ ٔروحانی سے سر شا ر کر تے ہیں تو داعیا نہ گوشے اسلام کی روشن تعلیمات پر عملی ہدا یت کا درس دیتے ہیں ۔اس واقعہ کی تہہ میںاسلامی شعائر اوردینی مسلمات کے تحفظ کے لیے جن جذبات واحساسات کی لہریں مو جزن ہیںاور جو ایما نی تقاضے اس واقعے کے محرک ہیں،آج وہ سا رے تقاضے اپنے وجو دکے ساتھ ہم سے یہی مطا لبہ کر رہے ہیں کہ آج ہم میں کا ہر فرد حسینی جذبے سے سر شا ر ہوکر یزیدیٔ عہد کے سا منے سینہ سپر ہو جائے۔ (یہ بھی پڑھیں! نظم “ظفرکمالی” پر تنقیدی نظر از : عبدالوہاب قاسمی)

اقرا پبلک اسکول حق نگر سورا پور سیوان بہار

Previous articleخالی فریم کو بھرنے کی کاوش از: مشتاق احمد نوری
Next articleکہنہ مشق شاعر قمرسنبھلی کا انتقال، دنیائے شعرو ادب کا عظیم خسارہ

اپنے خیالات کا اظہار کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here