نظم: ضدی لڑکے : ہندی سے ترجمہ: ایس ایم حسینی

0
156

انقلاب کی سلائی مشین پر
سیتے ہیں وہ کفن
زہر ان کی زبان تلے ہوتا ہے
وہ ضدی لڑکے ہوتے ہیں
ضدی ہوتے ہیں ان کے ارمان
ضدی لڑکے پھاڑ سکتے ہیں
اپنے میٹرک کا سرٹیفکیٹ
چھوڑ سکتے ہیں اپنا گھر
دروازہ پر لات مار کر

کرسکتے ہیں کسی سے ٹوٹ کے پیار
ہضم کرسکتے ہیں کڑوے سے کڑوا سچ
ضدی لڑکے زمانہ کو ٹھوکروں پہ رکھتے ہیں
ضدی لڑکے ناخنوں کی طرح
چباکر پھینک دیتے ہیں اپنی قمست
گھر کے کوڑے دان میں
اپنی کنڈلیاں جلاکر

گھر سے دور کردیتے ہیں دقیانوسی کیڑے
ضدی لڑکے
چاقوؤں سے ہتھیلیوں پر قسمت لکھتے ہیں
ضدی لڑکے، ضدی ہوتے ہیں
کوئی سسٹم، کوئی قانون
ان کی ضد کے آگے نہیں ٹکتا
اس لئے ضدی لڑکے سولی پہ چڑھائے جاتے ہیں
کیونکہ وہ ضدی ہوتے ہیں
لیکن ضدی لڑکے کبھی مرتے نہیں
صرف لڑکے مرتے ہیں

ضدی لڑکے زندہ زندہ سے رہتے ہیں
تاریخ کی کتابوں میں
یا رنگ برنگی ٹی شرٹوں پر
شان سے گھورتے ہوئے
مسکراتے ہوئے۔

بقلم: ارہان اَسَفل
ہندی سے ترجمہ: ایس ایم حسینی

ندوہ کیمپس، ڈالی گنج، لکھنؤ۔

Previous articleجن کے کردار سے آتی ہے صداقت کی مہک از : رازد اں شا ہد
Next articleبہار مدرسہ بورڈ سے 10+2 کی سند حاصل کرنے والے طلبا کو ملی راحت

اپنے خیالات کا اظہار کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here