نظم “برگشتگی” از: ایس ایم حسینی

0
68

گھر کے پیچھے مرے
آج بھی کچے مکانات ہیں اور
کنڈوں کے ریلے چھتوں پہ
شاید نیا احساس ہے!

دنیا بدل گئی ہے
مٹی کی دیوار سے
قدریں اکھڑ گئی ہیں
اور کوٹھیوں کو گہن لگ چکا ہے

دھواں اٹھ رہا ہے
انسان بٹ رہا ہے
وقت کی ریل میں
تہذیب چل بسی ہے
کہانیاں سمٹ گئی ہیں
کردار مر گئے ہیں
لوگ زندہ ہیں پر
احساس مرگئے ہیں
نئی تازگی ہے نئی تہذیب ہے
انسان تو ہیں مگر
وہ بات نئیں ہے!!

ندوہ کیمپس، ڈالی گنج، لکھنؤ۔

Previous article۱فسانہ : ’’فنکار‘‘ از:ڈاکٹر ذاکر فیضی
Next articleپشاور ایکسپریس از: کرشن چندر

اپنے خیالات کا اظہار کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here