نجیب کیلانی کی کتاب”فارس ھوازن” از: اظہارالحق قاسمی بستوی

0
82

نجیب کیلانی مصری، عربی زبان کے بڑے قلم کاروں میں سے ایک ہیں۔ ان کی پیدائش 1931 میں اور وفات 1995 میں مصر میں ہوئی۔ ان کا قلم بہت سیال اور فکر بڑی وسیع ہے۔ انھوں نے ادب و انشاء کے کئی فنون پر قلم کو جنبش دی ہے اور بہترین کتابیں لکھ کر ہزاروں لاکھوں قارئین کے دلوں تک رسائی حاصل کی ہے۔ انھوں نے عربی ناول و افسانہ نگاری میں اسلامی تاریخی واقعات کو بھرپور جگہ دی ہے اور دلچسپ کتابیں لکھی ہیں۔
چند روز قبل غلطی سے کتابوں کا ایک بنڈل ہمارے مدرسے میں پہونچ گیا جسے مکتبہ احسان لکھنؤ نے کسی کے پاس بھیجا تھا اور ہمارے یہاں اٹاوہ میں بھی کچھ کتابیں آنی تھیں۔ بنڈل تبدیل ہو کر آگیا جس میں نجیب کیلانی کی کتاب “فارس ھوازن” بھی تھی۔ کتاب چھوٹے حجم کے 158 صفحات پر مشتمل تھی۔ پتہ چلا کہ بنڈل کل واپس چلا جائے گا تو ایک دن کا موقع مل گیا جس میں تقریباً 130 صفحات دیکھ ڈالا۔ پھر پی ڈی ایف میں مابقیہ حصہ مکمل کیا۔

کامل کیلانی کی اس کتاب میں کل گیارہ قصے (افسانے) ہیں جن میں سے ہر ایک کسی نہ کسی اسلامی پہلو کو لیے ہوئے ہے اور دلچسپی سے بھر پور ہے۔ ہر قصے کا ابتدائیہ، پلاٹ اور خاتمہ نہایت شاندار ہے۔ ہر قصے میں ایسی کشش اور دلچسپی ہے جو قاری کو از اول تا آخر باندھے رکھتی ہے اور کتاب ختم ہونے کے بعد طبیعت کہہ اٹھتی ہے ھل من مزید!

اس کا سب سے طویل قصہ “فارس ھوازن” یعنی قبیلہ ہوازن کا شہ سوار ہے جو ساٹھ صفحات پر مشتمل ہے اور جس کے نام پر مصنف نے کتاب کا نام رکھا ہے۔ اس قصے کا مرکزی کردار قبیلہ ہوازن کا سردار “مالک بن عوف” ہے جسے اسلام اور مسلمانوں سے شدید نفرت تھی اور جس نے جنگ حنین برپا کرنے میں بنیادی کردار ادا کیا تھا۔ جنگ میں اگرچہ ابتدا میں مسلمانوں کے پیر لڑکھڑائے مگر وہ سنبھل گئے اور انھوں نے قبیلہ ہوازن پر ایسا پلٹ وار کیا کہ کشتوں کے پشتے لگا دیے اور بالآخر مالک بن عوف میدان سے فرار ہوگیا۔ اس جنگ میں اس کی بیوی اور دیگر گھر والے بھی گرفتار ہوئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی اس دشمنی کے بعد بھی اس کا ذکر خیر کیا۔ چناں چہ جب اسے یہ اطلاع ملی تو اس کا سنگ دل موم ہو گیا اور اس نے آکر دامن محمدی کو تھام لیا۔

اس کے علاوہ جو دس قصے ہیں وہ بھی بہت عمدہ ہیں۔ متوسط درجے کی عربی سے واقف لوگ تھوڑی محنت کے ذریعے استفادہ کر سکتے ہیں۔ اس طرح کی کتاب پڑھنے سے زبان و بیان کی درستگی بھی ہوتی ہے اور فکر میں ولولہ انگیزی بھی پیدا ہوتی ہے۔

پی ڈی ایف ورژن والی کتاب گوگل سے ڈاؤن لوڈ کی جا سکتی ہے جس کے صفحات 178 ہیں۔(یہ بھی پڑھیں!عقاد کی کتاب “عبقریۃ الصدیق” از: اظہارالحق قاسمی بستوی)

Previous articleمسلم لڑکیوں میں پھیلتا ارتداد_ از:مفتی محمد ثناءالہدی قاسمی
Next articleایک دل دہلانے والی ویڈ یوآئی سامنے۔ محبت کے نام پر دو مسلم لڑکیوں پر کیا گیاتشدد، از : م۔ج۔ن

اپنے خیالات کا اظہار کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here