“اس نے کہا تھا”نئی صدی کا ایک اہم ناول.از:مقصود دانش

0
206

فطری ہو یا غیر فطری،موضوع اگر ’جنس‘ہو تو خواہ مخواہ ہم ناک پر رومال یا مثانے پر برف رکھنے لگتے ہیں،جب کہ ادب میں جنس بھی ٹھیک ویسا ہی موضوع ہے جیسا پریم چند کا ’کسان‘کرشن چندر کا ’مزد ور‘اور منٹو کی ’طوائف‘۔کسی بھی فنکار سے مطالبہ نہیں کیا جا سکتا کہ ’یہ کیا؟‘بلکہ اس کا طرز اظہار دامن دل کو کھینچنے میں کامیاب ہو ا کہ نہیں،یہ اہم سوال ہے۔اس طرح’کیسے‘پر گفتگو آگے بڑھائی جا سکتی ہے۔موضوع کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ موضوع کے بغیر تو ناول تخلیق کیا ہی نہیں جا سکتا،لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ بعض موضوعات اہم ہونے کے باوجود تخلیقی وفور سے گریزاں ہوکر اپنی اہمیت کھو دیتے ہیں۔

زیرمطالعہ ناول موضوع اور اسلوب،دونوں سطحوں پر قابل قدر ہے،ناول نگار تنہا روحوں کی کتھا سنانے پر اصرار کر تا ہے۔کچھ روحیں قرب آب رہ کر بھی سیراب نہیں ہوتیں،سامنے دکھائی دینے والا آب بھی سراب نظر آتاہے،ان روحوں کے مجسم کو ’گے‘ (Gay) سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ناول کا سارا بار چند ’گے‘ اٹھاتے ہیں۔موضوع کا انتخاب کسی فنکار کے لیے تذلیل کا باعث نہیں ہوسکتا ،اشعرنجمی نے بڑی سنجیدگی سے اپنے منتخب کرداروں کے روحانی کرب کو محسوس کیا ہے اور فنکارانہ درک کے ساتھ پیش کیا ہے۔

آرٹ طرز پیشکش میں وحدت کا متقاضی ہوتا ہے،وحدت میں توازن اہم نکتہ ہے،ظاہر ہے توازن میں ’حسن‘پنہاں ہو تا ہے۔ ناول نگارنے تخلیقی عمل کے جملہ آرٹ کی خصوصیات کو ملحوظ خاطر رکھا ہے،منظم پلاٹ نہ ہو نے کے باوجود بیا نیہ کی زیریں لہریں تجسیمی صورت کا احساس دلاتی ہیں۔پلاٹ لیس (Plotless) ناولوں کا ایک مختصر دور بھی اردو ناول نگار ی میں گزرا ہے۔(یہ بھی پڑھیں!اردو کے ممتاز نقاد ابوالکلام قاسمی صاحب اب ہمارے درمیان نہیں رہے از:اشعر نجمی)

’خوشیوں کا باغ‘(انور سجاد)،’نمرتا‘اور’دی وار جرنل ‘(صلاح الدین پرویز) وغیرہ اس سلسلے کی مثالیں ہیں،لیکن واقعات و سانحات میں انتشار نے ان ناولوں کو قاری سے ایک فاصلے پر رکھا۔اشعر صاحب نے ان کمیوں کو محسوس کر تے ہوئے واقعات کی تنظیم پر خصوصی توجہ دی ہے،ایک وقوعہ دوسرے وقوعہ سے پیوست ہوتے ہوئے بھی ہر وقوعہ اور منسلکہ کر دار کا نقش و عکس قدآدم آئینہ پر عیاں نظر آتا ہے۔بہت سارے دیکھے بھالے کرداروں کو بھی ناول کا حصہ بنایا گیا ہے،مثلاً ٹی وی کے ڈانس مقابلے میں چند ناظرین نے رنگیلی کو سراپا دیکھا بھی ہوگا، لیکن فنکار حقیقت اور تخیل کی آمیزش سے ہی فن پارہ خلق کرتا ہے۔

پلاٹ ، موضوع نہیں ہوتا بلکہ کرداروں اور واقعات کے امتزاج سے پلاٹ تشکیل پاتا ہے۔پلاٹ ، بیانیہ کی تشکیل میں معاونت کرتاہے۔ موضوع، پلاٹ کے بطون میں متحرک رہتا ہے۔اس ناول کے دریا میں حیات انسانی سے متعلق بے شمار مچھلیاں تیرتی ہوئی نظر آتی ہیں مثلاً:
’’میرا سفر تو تمھاری کہانی کے ساتھ ہے،جب کہانی ختم ہوگی ،سفر بھی ختم ہو جائے گا۔‘‘

اس مکالمے کی معنویت کسی فریم میں قید نہیں کی جا سکتی،جب دو جو ن کے درمیان ثنویت مٹ جاتی ہے تو من وتوکا فرق ختم ہو جاتاہے۔یہ رنگ عاشق و معشوق کے علاوہ صوفیوں کے ہاں نظر آتا ہے۔پھر کوئی کہانی تنہا راہِ سفر پر آمادہ نہیں ہو سکتی،ایک کہانی کا خاتمہ دوسرے کی نیستی کا سبب بن جاتا ہے،اس طرح کے فکرانگیز بیانات سے ناول کا پیمانہ لبریز نظر آتا ہے۔ چند مثالیں اور دیکھیں:

’’ اس کی آنکھوں میں بچوں کی سی چمک تھی۔ وہ ہنستا بھی بچوں جیسا تھا۔ عمر، مہنگائی، اقلیت، کشمیر، افریقہ، ڈونالڈ ٹرمپ، عمران خان، لوک پال، نوٹ بندی وغیرہ نے جیسے اسے چھوا تک نہ تھا۔‘‘ (صفحہ:28)

عام قلمکار موجودہ عالمی تناظر میں مذکورہ اقتباس کے ہر لفظ کو عنوان سمجھ کر تبصراتی اور صحافتی بیانیہ لکھتا، چونکہ ضخیم ناول لکھنے کا اب رواج چل پڑا ہے۔ ہمارے نئے ناول نگاروں کو پتہ ہی نہیں کہ بیانیہ کا فکری گھناپن کیا ہوتا ہے؟ زیر نظر ناول کے متعلق سے احساس ہوتا ہے کہ ناول نگار کو معلوم ہے کہ لفظوں کے جنگل سے معنی آفرینی ہاتھ نہیں لگتی بلکہ انسانی نفسیات کے جسم پر رینگتی ہوئی چیونٹیاں بھی فنکار کی نگاہ کی گرفت میں آجاتی ہیں۔دو بیانات اور دیکھیں:

’’دور ہونے کا احساس اپنائیت دیتا ہے کیونکہ اس میں قریب ہونے پر اس کے جدا ہونے کا خوف شامل نہیں ہوتا۔ فاصلہ محبت کی عجب ڈور ہے۔ جو ہمیشہ تنی ہوتی ہے۔‘‘ (صفحہ:61)

’’دنیا کی کسی کتاب کے کسی صفحے پر اجنبیت اور اپنائیت کا اتنا آسان رشتہ موجود نہیں ہے ۔ در اصل جینا، پڑھنے سے کہیں زیادہ تجربہ دیتا ہے۔‘‘ (صفحہ:62)

’’نہیںYou Know سب سے awkwardپارٹ کیا ہے؟ کسی اجنبی کے سامنے کپڑے اتارنا نہیں، بلکہ کپڑے واپس پہننا، ایک دوسرے سے آنکھیں چراتے ہوئے۔ (صفحہ:84)

بیانات اور بیانیہ کسی بھی ناول کے اہم اجزا ہیں،اردو کے بے شما ر ناول فکری بیانات کی عدم موجودگی کی وجہ سے دریا برد کردیے گئے۔فکری بیانات کی موجودگی سے ہی قرۃ العین حیدر کے بعض ناول ادب عالیہ میں شمار ہوتے ہیں جب کہ ان کے تمام ناولوں کے بیانیہ کے بعض حصے اثرانگیزی سے گریزاں نظر آتے ہیں۔’اداس نسلیں‘ کا بیانیہ ناول کے کندھے پر بوجھ نظر آتا ہے، لیکن فکری اور معنوی سطح پر ناول کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔جوگندرپال کے ناولوں سے بیانات حذف کر دیے جائیں تو ناول کا ادبی قد بحث طلب نظر آئے گا۔کسی بھی ناول کو واقعات وسانحا ت،تاریخیت اوراخلاقی قدریں،اہم بنا نے میں اتنی معاونت نہیں کرتیں جتنی مدد معنوی وفکری بیانات کرتے ہیں۔اشعرنجمی نے چھوٹے چھوٹے جملوں میں انسانی نفسیات،معاشرتی کوتاہیوں ، مذہبی جکڑ بندیوں،کو موثرطریق سے منور کیاہے ۔

پلاٹ کی تنظیم میں کہانی پن کلیدی کردار ادا کر تا ہے۔دو سو چودہ صفحات پر پھیلا ناول کا گٹھاؤ ہی اس کی اصل روح ہے۔ الگ الگ کر داروں کی الگ الگ بپتائیں ہیں، ناول نگار نے سب کی بپتاؤں کو اس ہنر مندی سے پیش کیا ہے کہ ہر کر دار اپنی اصل صورت کے ساتھ قاری کے سامنے نظر آتا ہے۔ مغرب و مشرق کے انعام یافتہ ناولوں میں بھی بعض حصے ایسے موجودہیں جنھیں ناول کے ارتقا سے سروکار نہیں،چونکہ مجموعی تاثرہی بڑے ناولوں کا ’اصل‘ قرار دیا گیا ہے،لہٰذا ان کی اہمیت سے انکار بھی نہیں کیا جا سکتا۔ اس ناول میں بھی مجموعی تاثر بکھرتا ہوا نظر نہیں آتا۔ناول آغاز تا انجام ریل کی مانند اپنی پٹری پر رواں دواں ہے۔ناول کے بیشتر اقتباسات انسانی وجود کی اہمیت اور اس کے معنوی ہونے پر اصرار کرتے نظر آتے ہیں۔

عام ناول نگار قاری کے احساسات کو مَس کیے بغیر واقعات سے دیگر واقعات کو جوڑتا چلاجاتا ہے،درمیان میں اسے یاد آتا ہے کہ اب تک سیاست پر لعن طعن نہیں کی گئی توفورا ًکسی کردار کے منھ میں کڑوے کسیلے الفاظ ٹھونس دیتا ہے۔آخر میں اسے یاد آتا ہے کہ بکھرے ہوئے کردار وں اور وقوعوں کو گلے ملوا دیا جائے؛یہی سب کچھ ہم برسہا برس سے پڑھتے آرہے ہیں۔ایک جمود کا احساس آج ہر قاری کو ہے،جمے ہو ئے فکشن کے تالاب میں کنکر پھنکنے والے ناول نگاروں کی تعداد اب انگلیوں پر گنی جا سکتی ہے جن میں اشعر نجمی شامل ہیں۔

ناول کے معنوی تناظر کو وسیع کرنے کے لیے ناول نگار نے چند تاریخی اور دیو مالائی کرداروں سے بھی مدد لی ہے۔شکھنڈی گرچہ ایک متھ ہے لیکن اس کی بطور ’دوسری جنس‘ شناخت قائم ہو چکی ہے۔فنا فی اللہ کے نام سے معروف ولی، سر مدشہید کا حوالہ بھی ناول میں موجود ہے۔اس طرح کی نا مور شخصیتوں کی شخصیت سازی کرنے کے بجائے ناول کے متن میں ان کی شخصی سطح پر بو العجبیت کو دلکش پیرایۂ بیان میں پیش کیا گیا ہے۔

مشہور و معروف ناول نگارارون دھتی رائے نے کئی عمدہ ناول لکھے ہیں، یہاں اشعر نجمی کاان سے تقابل ہرگز مقصد نہیں۔ رائے کا ناول The Ministry of Utmost Happyiness(جس کااردو ترجمہ محترمہ ارجمند آرانے ’بے پناہ شادمانی کی مملکت‘ کے عنوان سے کیا ہے۔)موضوعاتی سطح پر وسیع ہے،بیانیہ دلفریب ہے کہ نہیں ،بحث طلب معاملہ ہے۔کسی کو کافکا ئی بیانیہ کھینچتا ہے تو کسی کو میلان کنڈیرا کا خشک بیانیہ موہ لیتا ہے ، اشعرنجمی کو کافکا ئی طرز اظہار پسند ہے۔دونوں ناول میں سرمد شہید کا واقعہ جزو بیانیہ ہوا ہے۔اشعر نجمی نے اشاروں کنایوں میں پورا منظر نامہ خلق کردیا ہے جب کہ ارون دھتی رائے براہ راست بیانیہ میں ناول کو تکمیل تک پہنچاتی ہیں۔ایک انٹرویو میں نر مل ورما کہتے ہیں کہ ہم جس زبان میں سودا سلف لیتے ہیں، اس زبان میں ادب نہیں لکھا کرتے۔اس نکتہ کو اشعر نجمی نے خوب سمجھا ہے۔ دونوں ناول سے اقتباسات ملاحظہ کریں:

’’حضرت سرمد شہید کی درگا ہ کی بیشتر زائرین کو ان کی کہانی معلوم نہ تھی۔ بعض کو کچھ حصے معلوم تھے، بعض کو کچھ بھی پتہ نہ تھااور بعض نے اپنی کہانیاں خود گڑھ لی تھیں۔ بیشتر لوگوں کو معلوم تھا کہ وہ یہودی نسل کے آرمینی تاجر تھے جو اپنی محبت کا پیچھا کرتے ہوئے فارس سے دہلی آئے تھے۔ کم لوگوں کو معلوم تھا کہ ان کی زندگی، یہ محبت ابھئے چند نام کا ایک نو عمر ہندو لڑکا تھا جسے ان کی ملاقات سندھ میں ہوئی تھی۔ بیشتر لوگ جانتے تھے کہ انھوں نے یہودیت ترک کر کے اسلام قبول کرلیا تھا۔ کم لوگوں کو معلوم تھا کہ ان کی روحانی تلاش نے آخر کار ان سے روایتی اسلام ترک کرا دیا تھا۔بیشتر لوگ جانتے تھے کہ برسرِ عام سزائے موت سے پہلے وہ فقیر بنے شاہجہاں آباد کی گلیوں میں ننگ دھڑنگ گھومتے تھے ۔ کم لوگ جانتے تھے کہ انھیں سزائے موت بر سرِ عام عریاں گھومنے کی پاداش میں نہیں دی گئی بلکہ مرتد ہونا ان کا جرم تھا۔ اس زمانے کے بادشاہ اورنگ زیب نے انھیں اپنے دربار میں بلوایا اور کہا کہ کلمہ پڑھ کر ثابت کیجیے کہ وہ سچے مسلمان ہیں۔‘‘
(بے پناہ شادمانی کی مملکت، باب: خوابگاہ، مترجمہ: ارجمند آرا )

اس نے کہا تھا:
’’تمھیں وہ فقیر یاد ہے جو جلاد کے سامنے سر جھکا کر بد بدایا تھا، آؤ، تم جس بھی راستے سے آؤگے میں تمھیں پہچان لوں گا۔
شہر قاضی نے اس ننگ دھڑنگ فقیر سے پوچھا تھا،’ آپ اتنے بڑے عالم ہیں، پھر بھی اس طرح برہنہ کیوں پھرتے ہیں؟‘
فقیر کیا جواب دیتا اور کن کو جواب دیتا؟ کیا انھیں جو لباس کے اندر سب کچھ چھپالینے کے لیے بضد تھے؟ دارہ شکوہ کا قتل بھی؟
’ جو گناہ کرتے ہیں، انھیں اسے چھپانے کے لیے کپڑوں کی ضرورت پڑتی ہے۔ میں نے ایسا کچھ نہیں کیا جسے چھپانے کے لیے مجھے کپڑے کا سہارا لینا پڑے۔‘
قاضی برہنگی کو قتل کا سبب بنانا چاہتا تھا اس نے فتویٰ لکھنے کے لیے قلمدان کا ڈھکن ہٹایا ہی تھا کہ شاہ نے اسے اشارے سے روک دیا کیونکہ وہ جانتا تھا کہ برہنگی کسی کے قتل کا موجب نہیں بن سکتی۔ اور وہ یہ بھی جانتا تھا کہ اس قتل سے وہ خود بھی برہنہ ہو سکتا ہے ، سب کے سامنے۔ ‘‘ (ناول، اس نے کہا تھا، صفحہ:210-11)

قاری بخوبی محسوس کر سکتا ہے کہ پہلا اقتباس راست بیانیہ کا مظہر ہے جب کہ دوسرا اقتباس تخلیقی وفور کا احساس دلاتا ہے۔ ڈرامائیت فکشن کا اہم جز ہے۔

(جاری ہے)

Previous articleاردو کے ممتاز ادیب و نقاد پروفیسر ابوالکلام قاسمی کے سانحہ ارتحال پر منظوم تاثرات از: احمد علی برقی اعظمی
Next articleغزل کے دامن کو سائنسی رنگوں سے سجانے والا شاعر:ڈاکٹر احمد علی برقیؔ اعظمی از:انجینئر محمد عادل ؔفراز

اپنے خیالات کا اظہار کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here