ناول’’ راجدیو کی امرائی‘‘ ایک جائزہ از:منظور حسین ریسرچ اسکالر جموں

1
150

صادقہ نواب سحر کسی تعارف کی محتاج نہیں ۔انہوں نے اکیسویں صدی میں اردو ادب کو تین ناول دئیے ۔ان کا پہلا ناول ’’کہانی کوئی سناؤ متاشا‘‘2008میں شائع ہوا اس ناول پر کافی لکھا گیا اورآج تک یہ سلسلہ جاری ہے۔ ان کا دوسرا ناول ’’جس دن سے‘‘2016میں شائع ہوا اس کے بعد ان کا تیسرا ناول ’’راجدیو کی امرائی ‘‘2019میں منظر عام پر آیا۔

اس ناول کی کہانی ’’شیترپر شورام ‘‘نام کے ایک گاؤں سے شروع ہوتی ہے ۔اس گاؤں میں رام داس جوشی کا گھر ہے تقریباً 60گھر پر مشتمل اس گاؤں کے لوگ غریبی اور تنگدستی کے ساتھ زندگی گزار تے ہیں۔ رام داس اپنی غریبی سے بہت تنگ ہے پنڈت رام داس جوشی اپنی بیوی سے کہتا ہے کہ میں چاہتاہوں کہ بیٹا لکشمن پڑھ لکھ کر کوئی اچھا کام کرے۔ کلکتے میں مقیم بھولا رام کا لڑکا چندر لکشمن کو کام پر لگاتاہے۔ لکشمن میٹر ک پاس تھا اس لیے اس کے پریوار کے دن پھر گئے۔ لکشمن دھیرے دھیرے ترقی کرتے ہوئے مغربی ریلوے کا چیف بن گیا ۔آخر کار وہ بمبئی میں بس گیا۔ لکشمن نے کئی بار اپنے ماں باپ کو ممبئی میں بلانے کی کوشش کی لیکن انہوں نے انکار کردیا کیوں شیتر پرشورام کے گاؤں کی مٹی کے ساتھ ان کی یادیں بسی ہوئی تھیں ۔

لکشمن کے دو بیٹے تھے بڑا بیٹا راگو بمبئی میڈیکل کالج میں ایم ۔بی۔ بی ایس تھا پڑھائی کے دوران اس کی شادی ایک ٹھیکدار کی لڑکی سے کردی گئی لکشمن کا دوسرا لڑکا بھا ویش چہرہ کالا، چہر ے پر چچک کے گڑھے گورے رنگ میں نمایاں تھے ۔ملک تقسیم نے بڑا نقصان کیا 1948کے ہندو مسلم دنگوں نے لکشمن کو ایسا جھٹکا دیا کہ اس نے اپنا فلیٹ سستے داموں میں فروخت کرکے نوکری سے ریٹائرمنٹ لے کرشیتر پرشورام اپنے آبائی گائوں میں جا بسا ماں باپ کے انتقال کے بعد لکشمن کی بیوی کہتی ہے کہ گھاس کے چھیر والے گھر پر ٹین ڈال دیتے ہیں لکشمن نے کہا کہ اس چھت میں میری بچپن کی یادیں بسی ہوئی ہیں آخر کار انہوں نے بیوی کی فرمائش پوری کردی ۔لکشمن نے اپنے ڈاکٹر بیٹے کیلئے ڈسپنسری کھولی اور دوسرے کیلئے دوکان دونوں عیش و عشرت کی زندگی گزار نے لگے ۔اس ناول کا ایک اقباس دیکھیے۔(یہ بھی پڑھیں!ناول’ ہاں! میں دیش بھکت ہوں‘:ایک جائزہ از: منظور حسین)
’’لکشمن اور اس کی بیوی پر شورام گائوں میں کھیتی کی دیکھ بھال کرتے اور اس زندگی کا مزہ لیتے گائوں میں ایسی عورتیں مل جاتی تھیں جو چھا چھ پانے کیلئے ان کے گھر کی ملائی سے مکھن نکال دیتی تھی کھانے اور کپڑے کے بدلے گھر اور کھیت کاکام کردیتی تھی ‘‘
(راجدیو کی امرائی ۔ص۔7)
اس ناول میں مصنفہ نے بڑی چابکدستی سے گاؤں کی عکاسی کی ہے۔ تلپون کے گاؤں کے آس پاس سر سبز میدانوں کا ذکر بھی کیا ہے آم کے باغوں ،ڈسپنسری ،مکھن،چھپر،دوکان وغیرہ الفاظ بھی بھرتے ہیں یہ ناول شہری و دیہی دونوں زندگی پر مشتمل ہے ان کے علاوہ ان بے کس لوگوں کا بھی ذکر کیا ہے جو پیٹ کی خاطر امیر لوگوں کے گھر کام کرتے ہیں ۔
لکشمن کے انتقال کے بعد ان کی جائیداد دونوں بھائیوں میں بٹ گئی ڈاکٹر رگو سے بھاویش دس سال چھوٹا تھا 26سال کی عمر میں پیسہ آیا سیٹھ بن گیا بھاویش رتنا گری ضلع تعلیمی بورڈ کا ممبر بھی بنا پھر الیکشن میں کھڑا ہونے لگا کبھی جیتا کبھی ہارا ایک بار کائونسلر بنا ۔دوائوں کی دوکان پر دھیان کم رہنے لگا سیاست کے چکر میں دو دو چار چار دن گھر نہیں آتاتھا ۔
مریض آتے تو نوکر کہتا کہ چار دن بعد ملے گا بھاویش کی بیوی ساتویں پڑھی ہوئی تھی اس کی مراٹھی بہت اچھی تھی سرسوتی بادام یا زغفران کا شربت بناتی اور مہمانوں کو پلاتی شوہر کی وفات کے بعد سرسوتی نے پروگرام میں جانا بند کردیا ،سرسوتی اپنے بیٹے سے کہتی ہیں کہ کسی طرح تو بی ا۔ئے پاس کردے کیوں کہ کاکی کہتی ہے کہ وہ پریوار میں پہلی بی ائے پاس ہیں میں تم ڈاکٹر تو نہیں بن سکے لیکن بی۔ ائے کرکے ان سے آگے نکل سکتے ہو تیرے پیتا تھاویش جوشی کا نام روشن ہوجائے گا ۔
راجدیو کالجوں میں گھومتار ہا ایڈمیشن کیلئے آخر کار اس کی ملاقات دلوی سر سے ہوتی ہے وہ وہاں کے ریٹائرڈ پروفیسر بھی تھے مجھے پوچھا کیا کام ہے میں نے کہا مجھے گلاس بلوئنگ کورس میں داخلہ لیا ہے پوچھا کتنے پڑھے ہو میٹرک پاس میں نے کہا کہ فرسٹ کلاس سر پھر تمہیں آیڈمیشن نہ ملے گی تم سیکھ کر چھوڑ دو گے یہاں سیکھنے کے بعد ایک سال نوکری کرنی پڑتی ہے اس ناول کی کہانی اسی طرح چلتی رہتی ہے اور اپنی خوشگوار منظر کشی سے قارئین کے دلوں میں دلچسبی پیدا کرتی ہے۔ مختلف کردار اس ناول کی کہانی آگے بڑھاتے ہیں اور ناول کی کہانی کو برقرار رکھتے ہیں اس ناول کی کہانی رام داس جوشی نام کے کردار سے شروع ہوتی ہے جو غریب پریوار سے تعلق رکھتاہے پرشورام گائوں کا باشندہ ہے اس نے اپنی زندگی نہایت ہی تنگدستی میں گزاری لیکن وہ چاہتا تھا کے اس کی اولادیں ایسی زندگی نہ گزاریں جیسی انہوں نے گزاری ہوتی ہے ۔
آخر کار اس کے بیٹے لکشمن کو بمبئی میں کام مل جاتاہے اس کے دو بیٹے ہوتے ہیں ایک راگو دوسرا بھاویش راگو ایم بی بی ایس کرکے ڈاکٹر بن جاتاہے بھاویش بھی پڑھا لکھا نوجوان ہے ڈاکٹر رگو کی بیوی کاکی ہے جو اپنے پریوار میں پہلی بی اے ہے بھاویس کی بیوی کا نام سرسوتی ہے راج دیو ان کا بیٹا ہے ان کے علاوہ اس ناول کے کرداروں میں ڈاکٹر کشل کرن بھائی ایم بی بی ایس ہیں ،موہن جو راج دیو کا بچپن کا دوست ہے ان کے ذریعے کہانی اختتام کو پہنچتی ہے اس ناول کی کہانی مختلف مراحل سے گزرتی ہوئی گلیشیر کے مقام پر پہنچتی ہے جس میں کشمیر کی عکاسی ملتی ہے ۔
اس ناول کا ایک اقتباس دیکھیے۔
وہ دن کتنے اچھے تھے اپنی پسند سے شادی ہوگئی جلد ہی ایک بیٹے کا باپ بن گیا ماں کی نگرانی میں سب کو اور ننھے کشل کو چھوڑ کر راجا پاٹل ٹریویلس سے ہم دونوں کشمیر گئے تھے ہمارا پچاس لوگوں کا گروپ تھا چلنے کا شوق ہواتو چلو دو تین کلومیٹر دور گلیشیر آباد ہواہے برف گری ہے ٹیم منیجر نے کہا تم رک جائو میں نے اونتکا سے کہا اسے اچھا نہیں لگا لیکن لوگوں کے سامنے کیا کہتی ہم دوپہر کو گئے تھے لوٹتے لوٹتے شام ہوگئی ‘‘
(راجدیو کی امرائی ۔ص۔103)
اس اقتباس سے معلوم ہوتا ہے کہ مصنفہ نے کشمیر کی برف باری کا پس منظر پیش کیا ہے اور صادقہ نواب سحر کو کہانی بننے کے فن سے خوب واقف ہیں ان کی تحریریں ہر روز کسی نہ کسی رسائل میں شائع ہوتی رہتی ہیں لیکن ان کا یہ ناول قاری کی دلچسبی کو کھونے نہیں دیتا یہ ناول 1948کی جنگ آزادی اور ہند و مسلم دنگوں کو بھی پیش کرتاہے یہ ناول دیہی و شہری زندگی پر مشتمل ہے اس ناول میں سماجی معاشی زندگی کی عکاسی ملتی ہے ۔

9682378366
manzoorhussainmh607@gmail.com

Previous article“نایاب کا ہیرو “از: قلم رخشندہ بیگ (کراچی)
Next articleبہ یاد خواجہ جاویداختر۔۔با دیدۂ تر۔۔از:پروفیسرصالحہ رشید

1 COMMENT

اپنے خیالات کا اظہار کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here