ناول : رُوحانیت سے رومانیت تک از:خورشید حیات

0
76

رُومانیت . کُشادہ فضا ، وسیع اطراف و اکناف اور خلاء کی اُن وسعتوں کا نام ہے جہاں رُوحانی لہریں تہہ بہ تہہ ، ہوا اور تیز آندھی کو اپنی پُشت پر لئے تھرکتی پھرتی ہے – رُومانیت تخّیل کی بہتی ہوئی ایک ایسی نیم نیم ، شہد شہد ندی ہے – جو آزادیء خیال کا تصّور لئے ، ماضی اور حال کے ساتھ بہتے ہوئے ، ماورائے طبیعاتی دور کی طرف اپنا رُخ کرتی ہے – جہاں خوابوں کی طلسماتی فضا ، نئی تعبیروں کی تلاش میں چاندنی نہاتی ہے – رُومانیت ادب زندگی کے ایک ایسے موسم کا بھی نام ہے – جہاں اُجیارے کا قد بڑا اور اندھیارے کا قد چھوٹا ہوا جائے ہے –

عہد جدید کے تمام حوادث کے تخلیقی اظہار کی رُوحانی ردا کا نام رُومان ہے – جہاں ہم زخم کو نہیں ، زخم کی یادوں کے ” سارنگیا ” بن جاتے ہیں – عقلیت اور مادیت کے خلاف رومانیت ، روحانیت کی بات کرتی ہے کہ رُوح کے بغیر رُومان کا تصّور مُمکن نہیں – اصول و ضوابط سے سرتابی کچھ اس طرح سے کر جانا کہ ساری لکیروں کو مٹاتے ہوئے رُوح اپنی نیلی چُنریا سے جسم کو ڈھانپ لے تو رُومانیت جنم لیتی ہے –
گواہ ہے آسمان سے برستی ہوئی حروف بُوندیاں اور زمین کے پپڑائے ہونٹوں کی پیاس !
گواہ ہے اندرونی استعداد جس کے زور پر انسان نے خلاء کی تسخیر کی – گواہ ہے رُومانیت کی لا محدُودیت اور کائناتی سفر ::
اپنے عصر کی رُوح اور تاریخی موقف کو ساتھ لئے ماضی کی از سر نو دریافت کا تخلیقی عمل ہی ، رُوحانیت کو رُومانیت کی طرف لے جاتا ہے – جہاں وسیلہء اظہار پر کلاسیکی قدرت ، لفظ لفظ ، طبق طبق سواری کرتے ہیں –
رُوحانیت + رُومانیت = جمالیّت
رومان :: > راس لیلا ::> وصال روح –
رومانیت ::> روحانی سرور و کیف کی منزل –

حق کی بانسری کی پُر لُطف آوازجب ” رقص عشّاق ” کا ساتھ دیتی ہے تو رومانیت جنم لیتی ہے –
یہ جو پانچ حروف کا ایک لفظ ” رُومان ” ہے اس کی ہر پرت میں ایک جہان معنی ——– پانچ ستُوں کی طرح —— پنج آب کی طرح —- ہتھیلی کی پانچ اُنگلیوں اور پانچ ارکان کی طرح !
ایک رُومان بے سہارا اور بھیڑ میں تنہا ہوتے چہروں کا ہے تو ایک رُومان ٹین کی چھتوں کے نیچے خون تھُوکنے پر مجبور مزدور کسانوں کے پریواروں کا – ایک رُومان ان کاریگروں کا بھی ہے جنہوں نے اسلامی فن کا عملی اور نایاب نمُونہ پیش کیا تو انگلیاں ہتھیلیوں سے جُدا کر دی گئیں – شاید تبھی سے جمنا کی لہریں بھی رُومانی ہو گئیں –
شاید کہ تبھی سے ناول نگار کی ہتھیلی ، مُجھے کبھی آسمان تو کبھی زمین نظر آوے ہے – شاید کہ تبھی سے میں محبّت کے ان تمام عمُوو کو رُومانی مانتا ہوں – جہاں ہم رُوح سے جسم تک کا سفر کرتے ہیں – جسم سے اجسام تک کا سفر کبھی بھی رُومانی نہیں ہوتا – رومانیت تو بینائی اور دانائی کو ساتھ لئے صدیوں سے صدیوں تک سفر کرنے والی ، بلیغ تہذیبی روایت کی روح کا نام ہے –

بُلا رہی ہے
زمین اپنی
آسمان نے بھی
کُھلا رکھا ہے در اپنا –
ناول زمین بھی ہماری
یہ آسمان بھی ہمارو –

بدن میں تھرکتی رُوح نے ہر عہد کے داستان گو ، قصّہ گو اور ناول نگار کے نام ایک نیا ” رُومان ” لکھا ہے – ایک ایسا رُومان جو نئی نئی روایتوں / عقیدوں کو ، ہر جہاں میں قائم رہ جانے والی میتھڈآلوجی اور آئڈیا لوجی کے ساتھ چلتے ہوئے رومانیت کو ” رئیسُ البدن ” بنا دیتا ہے – رُومانی ناول کے کردار وحی / اشارہ / استعارہ کی زبان میں بھی باتیں کرتے ہیں – لہذا ہمیں سوال کے صحیح جواب کے لئے اشارے کی زبان کو جاننا ہوگا ورنہ تنقید قاری کو گمراہ کرنے کا سبب بن جائے گی اورمسبب الاسباب ؟
شاید کہ مسکرائے گا کہ مکتبی / نصابی تنقید کی “محدودیت” کو ” وہ ” پسند نہیں کرتا –
ہمیں تو درسی تنقید کی مسبوق روایت سے انحراف کرتے ہوئے تخلیقی تنقید کے چراغ کو روشن کرنا ہے – آپ کہیں گے تنقید کا یہ کون سا ” راگ ” ہے – یہ کون سی زبان ہے -؟ اب میں کا کروں جی ، منوا کو جو بھائے ہے وہی بھاشا بولت ہوں –
” ادب ایمان ” قواعد کا محتاج نہیں !
فکشن کی تنقید کو ُصُّم بُکّم کی کیفیت سے باہر نکلنا ہوگا ———- !!
ناول کی دنیا ایک ہم آہنگ کُل ہے جس کا کلُی مزاج ” رومان ” ہے – میں نے کبھی کہیں یہ پڑھ رکھا تھا کہ ناول زندگی کی ٹوٹالیٹی کو پیش کرتا ہے ، جس نے بھی یہ کہا غلط ہے – یہ جو دنیا دکھائی دے رہی ہے ہمیں وہ ابھی نامکمّل ہے اور اس جُزو میں کُل کی بات کیسے ممکن – ناول جُزو میں کُل کی تلاش کاصرف ایک تخلیقی عمل ہے اور رومان زندگی کی سچّائیوں کی اڑن طشتری –
—{}—

شروع کرتا ہوں میں ناول پر گفتگو ” حروف پرند ” کی آواز سے ———
الفاظ کے تغیّر و تبّدل کی وجہ بننے والی امّاں تُمہارے نام سے –
تُم نہ ہوتیں تو خواجہ گیسُو دراز کی “معراجُ العاشقین” کے اوراق نہ ہوتے – تُم نہ ہوتیں توعورت کے وجُود کی جنگ کا آغاز شہر زاد نہ بنتی – مُکمّل داستان رنگ کہانی – گاتھا بدن ” سب رس ” میں وہ خوشبو نہ ہوتی کہ داستان رنگ ناول کی سڑک کا سنگ میل “سب رس” ہی تو ہے –
قوس قزح رنگ رومانی ناول زندگی کی زاد بوم اس جہاں کی پہلی عورت جس کے آنسوؤں سے زندگی مقدّس ہوئی اور مُسکراہٹوں سے دُشمن ہوئے دوست –
پٹنہ کی رشیدۃ النسأ بیگم کی رومانی ، روحانی ، اور مقصدی ناول ”اصلاح النسا” { 1881} ہو یا ہندی کی شریمتی سُورن کُماری دیوی ، انگریزی کی الینر ہیلوول ، بنگلہ کی اآشا پُرن دیوی یا پھر دیگر زبانوں کی الگ الگ خواتین ناول نگار , سُوئی دھاگوں میں لفظوں کو پروتے ہوئے , آنکھ دیکھی کو جگ بیتی بناتی چلی گئیں – یہ جانتے ہوئے کہ عورت بہتے ہوئے دریا میں تو کھڑی ہے مگر پیاس اس کا مُقدّر ہے –
ناولا / ناول کسی کی بھی ہو اس کی لینئر ویلوسیٹی میں ماں ہی ہوتی ہے –
یہ صدی ناول کی صدی ہے –
سارے اخبار کی
سُرخیاں دیکھ
سہم سہم سے گئے ہیں ہم
ہانپتی کانپتی دوڑتی زندگی میں
زہر اُگل رہی ہے کالی زبان
بیٹیاں / مائیں تو دہشت گرد نہیں ہوتیں —–
پھُول تتلیاں بیٹیاں اب کدھر جائیں ؟” مراتُ العُروس ” { 1869عیسوی }
اے ” فسانہ آزاد ” !
سوئے ہوئے شہر کو جگانے ، اب کون آئے گا رتن ناتھ سرشار . اے ہم سب کی “امراؤ جان ادا ” ؟؟
پریم چند ترقی پسند سوچ اور انقلابی موضوعات کو لئے ناول کو نیا اعتبار دیتے رہے –
مگر سُنو سجّاد ظہیر , قاضی عبد الغفّار , سلمیٰ کے کرشن , رتن ناتھ سرشار اور ہم سب کے پریم چند !
“مجنوں کی ڈائری ” لئے ایک ” بیوہ ، ” بازار حُسن” میں ” غدّار ” کا راستہ دیکھ رہی ہے ، اور ” جب کھیت جاگ اٹھے” تو ایک ” ضّدی ” ” ٹیڑھی لکیر” عصمت چغتائی نفسیاتی اور اشتراکی نقطۂ نظر کو ساتھ لئے آنگن آنگن تھرکتی رہیں –
ناری تھرکن گھر کے اندر ، گھر کے باہر
کل بھی ، آج بھی
نہ نیند ، نہ چیناں –
” مراۃ العروس” 1869ء سے پہلے ”اصلاح النسا” { 1881 عیسوی } کی بنائے بتیاں کہ ” ماں ” کائنات کی دھڑکن –
اردو ناول کی بات جب بھی ہوتی ہے سب سے پہلے ایک ہی چہرہ ڈپٹی / مولوی نذیر احمد کا آنکھ کے ریٹنا پر اُبھرتا ہے – اردو تنقید اور تحقیق سے مجھے اک شکایت ہمیشہ سے رہی ہے اکثر ناقد / محقق ، تخلیقی فنکاروں / ناول نگاروں کی ماؤں کا ذکر نہیں کرتے سبھی کے ابّاؤں کا ذکر تو ضرور مل جاتا ہے مگر ماں — ؟ وہ ماں جو تخیّل کو آسمان بناتی ہے اور ہتھیلی کو زمین – شاید کہ یہی وجہ رہی ابتدا میں نے ناول کی اماں سے کی – روایت سے بغاوت بھی تو ضروری ہے –
خواتین ناول نگار کی سمت اول پٹنہ کی رشیدۃ النسأ بیگم –
ابھی میں اتنا ہی لکھ پایا تھا کہ بڑے دالان سے رشیدۃ النسأ بیگم کی آواز سنائی پڑی :-
” ”اللہ مولوی نذیر احمد صاحب کو عاقبت میں بھی بڑا انعام دے ۔ ان کی کتاب پڑھنے سے عورتوں کو بڑا فائدہ پہنچا ۔ جہاں تک ان کو معلوم تھا۔ انھوں نے لکھا اور اب جو ہم جانتے ہیں اس کو ان شاء اللہ تعالیٰ لکھیں گے ۔ جب اس کتاب کو لڑکیاں پڑھیں گی تو مجھے خدا سے امید ہے کہ ان شاء اللہ سب اصغری ہو جائیں گی ۔ شاید سومیں ایک اپنی بدقسمتی سے اکبری رہ جائے تو رہ جائے۔ ”

رشیدۃ النسأ بیگم کی ‘اصلاح النسا’ ایک مقصدی / اصلاحی ناول ہے جہاں راست بیانیہ کہانی ، پلاٹ ، کردار رسموں کی بدعتوں سے تشکیل پاتے ہیں – زندگی پچھلے موسم کی ہو یا آج کی ، قدروں کی شکست و ریخت نے ہمیشہ ناول کے لئے نئی راہیں ہموار کی ہیں – رشیدۃ النسأ نے جس زمانہ میں ناول لکھئ وہ زمانہ کچھ ایسا تھا کہ اپنے غلط اعمال کی وجہ سے بھیڑ اپنی شناخت کھوتی جا رہی تھی – وہ دین جو مکمّل ہو چکا تھا اس میں نئے نئے قصے اپنی مفاد کی خاطر جوڑے جانے لگے تھے – غلط رسم و رواج ہر آنگن میں اپنے پاؤں پسارنے لگے تھے – دُعا، تعویذ، جادو و سحر، جھاڑ پھونک ، کے لئے سنہری آسمانی تحریر استعمال ہونے لگی تھی – آج تاریخ تو بدل گئی ہے – مگر دُھواں دُھواں منظر آج بھی ساتھ ہے – دیکھئے اُس زمانے کی شادی کا منظر ” اصلاح النسا’ کے آئنے میں :-
::: ”مصری کا شربت بنا کر دولہا کو دیا گیا کہ پیو! پہلے تو دولہا نے انکار کیا ۔ سب عورتیں کہنے لگیں ۔ اے ہے کیسا خراب ٹرا دولہا ہے؟ شربت نہیں پیتا ہے۔ کریم النساء نے بہت سمجھایا کہ میاں پی لو۔ کوئی بری چیز اس میں نہیں ہے۔ آخر لاچار ہوکر بیچارے نے پی لیا ۔ پھر ایک عورت نے یہ کہہ کرکان میں سہاگا لگایا اور کہا سونے میں سہاگہ ۔ موتیوں میں دھاگا ۔ بنی کا جوگ بنے کو لاگا ۔ دولہا سے کہا کہو لاگا ۔ دولہا چپ رہا۔ پھر لوگوں نے کہا اگر نہ کہو گے تو ہم باہر نہیں جانے دیں گے، پھر اسی پوکھرا پر کھڑا رکھیں گے مجبور ہو کر کہنا پڑا کہ ”لاگا”۔ اتنے میں ایک عورت دُلہن کو گود میں لے کر دُولہا کے پیچھے آئی اور دُلہن کی جوتی بھرے پائوں سے ایک لات دُولہا کے شانے پر لگا کر اس جوتی کو شامیانے پر پھینک کر باہر چلی گئی۔ دولہا اُدھر دیکھ کر رہ گیا۔ اتنی رسموں کے بعد اب دولہا کو باہر لے چلے”۔:::
یہ ناول شادی کے موقعہ پر ہونے والی رسموں کا مال گودام ہے – اسی گنجینہ میں ماٹی بدن وزیرن کی روح رسم و رواج ، توہمات کے جسمانی قیود سے آزاد نہیں ہو پاتی ہے – معاشرے کے دیمک صفت کردار کی وجہ سے کئی مقام پر یہ ناول “مراۃ العروس کے آئیڈیل کردار سے بہت آگے نکلتی نظر آتی ہے – اپنے زمانے کے حقیقت پسندانہ تصور کی روکشائی میں رشیدہ کامیاب رہی ہیں – عورتوں کی اصلاح کی غرض سے اس ناول میں روائتی صنفی کردار کو ایک عورت ہی بیان کر سکتی تھی –
نذیر احمد کی ناول ” مرات العروس‘‘ {1869ء } ادب تہذیب گھرانے کے ہر دالان میں اپنی موجودگی کا احساس دلانے میں کامیاب تو رہی – مگر یہاں نذیر کے تبلیغی مزاج نے ناول نگار / تخلیقی فنکار سے زیادہ انہیں واعظ بنا دیا – تخلیقی نثر کا وہ ساحرانہ استعمال جو ادب کو فی الواقع ادب بناتا ہے اس کی تلاش اس دور کے ناول میں فعل عبث –

ہر لفظ کے لب ہل رہے تھے میں تا دیر اکبری جیسی ناخواندہ / غیر تہذیب یافتہ ، جاہل عورت کو دیکھ رہا تھا جس کی وجہ سے گھر کا سکوں ختم ہو چکا تھا اور گھر کے سارے مرد ہر دن جھگڑے سے ابھرنے والے مسائل میں الجھتے رہے ، زندگی آگے بڑھنے کی بجائے تھم سی گئی – وجہ عورت کا تعلیم یافتہ نہ ہونا —
دوسری طرف اصغری جیسی پڑھی لکھی ہنر مند عورت زندگی کو نئی رفتار دے جاتی ہے – معاشرتی زندگی میں لڑکیوں کی تعلیم کی اہمیت کو سمجھانے کے لئے مولوی نذیر احمد جیسے عربی ، فارسی کے عالم , ناول میں ناصح بن کر تو ضرور ابھرے ہیں – مگر اس سچ سے انکار کیسے ممکن کہ اس زمانے میں نذیر احمد کے سے چہرے ، سماجی زندگی میں عورت کے تعلیم یافتہ ہونے کی اہمیت کو نہیں سمجھانے تو آج بھی منظر کچھ ویسا ہی ہوتا – جس عہد کے نظیر ، نذیر احمد تھے -نذیر احمد یہ کبھی نہیں چاہتے تھے کہ عورتیں صرف باورچی خانہ اور زنان خانہ میں چٹائی پر بیٹھی ریشمی دھاگوں سے پھول کاڑھتی رہیں –
آج عورتوں کی جس آزادی کی بات کی جاتی ہے – وہ مولوی نذیر احمد کی آنکھوں میں اُگ آئے انہی خوابوں کی تعبیر ہے – جسے آج ہم ادب زندگی میں دیکھ رہے ہیں – نذیر احمد کا رومان نئی صدی کی خواتین ناول نگاروں کے یہاں اک نئی اوج لئے چمک رہا ہے – قومی اصلاح کے جذبے کو سامنے رکھ کر اس زمانے میں جو کچھ بھی لکھا گیا وہ سرخ پتھروں سے بنی زندگی رنگ ناول حویلی کا آج بھی اعتبار ہے کہ ایک روشن خیال عورت اصغری ، مردانہ بالادستی کے اصولوں سے انحراف ” مرات العروس‘‘ {1869ء} میں کرتی نظر آتی ہے – اپنی سسرال کو ،عقل مندی سے قرض داروں سے آزاد کرانے کی بات ہو یا عظمت جیسی نمک حرام کے خلاف کامیاب احتجاج یا پھر ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ مرد محمد کامل کے لئے پچاس روپے ماہانہ کی نوکری جوائین کرانے کے لئے”اصغری حوصلہ – جنوں ” –—!
اگر میں یہ کہوں کہ 6 دسمبر 1836ء کو ضلع بجنور میں پیدا ہوئے۔ مولوی سعادت علی کے ڈپٹی نذیر احمد نے ناول کے ذریعہ جس معاشرتی اصلاح کی تحریک کا آغاز کیا تھا – وہاں بھی ایک رومان ہی موجود تھا کہ بغیر کسی رومانیت کے ، خود کی اصلاح ہو یا معاشرے کی ممکن نہیں ہے – 3 مئی 1913ء کو شمس العلماء ہمیں چھوڑ کر تو ضرور چلے گئے مگر ” توبتہ النصوح“ ہو یا ” ابن الوقت “ ، کے بعد لکھے جانے والے ناولوں کے طویل سلسلے ، ہمیں یہ بتاتے ہیں کہ ڈپٹی نذیر احمد کے ناول فنی اعتبار سے کمزور ہی سہی مگر یہ کیا کم ہے کہ انہوں نے الف لیلوی داستان سے چپکے ہوئے آدمی کو باہر نکالا اور اسے خود سے خود کو ٹٹولنے کے لئے مجبور کیا – خود کو خود سے ٹٹولنا اور خود کو دائروں سے آزاد کرنے کا یہ تخلیقی عمل رومانیت کے قریب کرتا ہے اور پھر ، سرد گرم موسم میں جینے والے آدمی کا آدمی سے کبھی ختم نہ ہونے والے مکالمے کا آغاز ہوتا ہے –

دور اندیش خان ، خیر اندیش خان اور سیٹھ ہزاری مل ، کہنے لگے ، میاں ! تم کیا جانو 1857 کے حالات کو —–؟
چلے آئے تنقید کرنے —-
تم تو یہی کہوگے کہ ” مراۃ العروس” میں پلاٹ نہیں ہے – کس رومانی پلاٹ کی بات کرتے نذیر ، اس پلاٹ کی جو لہو لہو ہو رہا تھا یا پھر اس پلاٹ کی فکر کرتے جہاں نئی تہذیب دستک دے چکی تھی اور اپنی تہذیبی شناخت کا مسْلہ بھی سامنے تھا – نذیر احمد کو اس بات کا احساس تھا کہ عورتیں جب تعلیم یافتہ ہوں گی تو معاشرہ / قبیلہ کائناتی دور کی ہر تہذیب اور زندگی کے مختلف میدانوں میں اپنے فکر و عمل کی جولانی دکھانے میں کامیاب رہے گا –
ادب میں آج جس تانیثیت کی بات ہوتی ہے ، عورت کو مرد کے برابر کھڑا کرنے کی جس آرزو کی بات ہوتی ہے – اس کی شروعات نذیر احمد کے ناول اور اس سے بہت پہلے کی داستانوں سے ہو چکی تھی –
ادب عشق جنوں خالہ جی کا گھر نہیں –
چلئے ایک بار پھر ایوان کی طرف رُخ کرتے ہیں – راگ راگنی کو دیکھتے ہیں ———
ناول کہانی رنگ رس = سب رس !
:: ” یو کتاب سب کتاباں کا سرتاج ، سب باتاں کا راج، ہر بات میں سو سو معراج ، اس کا سواد سمجے نا کوئی عاشق باج، اس کتاب کی لذت پانے عالم سب محتاج۔ ” ::
سب رس سے ، اپنے زمانے کی معاشرت ، اور تہذیبی – تمدنی زندگی کی جھلکیاں دیکھانے کا جو سلسلہ شروع ہوا داستان در داستان ہوتا ہوا ” باغ و بہار ” تک پہنچتا ہے اور پھر ماضی کے حسن میں حال کو تلاش کرنے کی کوشش عبد الحلیم شرر کے یہاں ایک نئے صنف کو جنم دیتی ہے – جسے رومانی ناول کہا جاتا ہے – حالانکہ ناول کا سلسلہ تو سبھی کہتے ہیں کہ ڈپٹی / مولوی نذیر احمد سے شروع ہوتا ہے – لیکن وہاں قصے زندگی کی حقیقت بن کر ابھرتے ہیں جب کہ عبد الحلیم شرر اور رتن ناتھ شرشار رومان کی نئی پرواز بنتے نظر آتے ہیں ، اور قصے کا سفر روح سے شروع ہو کر سرشاری کی کیفیت حاصل کرتا ہے – پھر ہوتا یہ ہے کہ اچانک اک تضاد پیدا ہوتا ہے – حقیقت کیا ہے ، رومانیت کیا ہے ؟
ترقی پسند ، حقیقت کی مورت بنا کر پوجا شروع کرتے ہیں – یہاں نہ جان و جسم ہے اور نہ روح – پھر وہ لوگ بھی سامنے آئے جنہوں نے روح اور جسم کو سمجھا اور رومانی دنیا کا وجود عمل میں آیا –
تیرے آزاد بندوں کی نہ یہ دُنیا نہ وہ دُنیا –
رومان کی ایک دنیا وہ بھی تھی جسے اتر پردیش کے ضلع بارہ بنکی کے نیاز فاتح پوری { 1966- 1884} کے ناول” شہاب کی سرگزشت ” کے کردار کی ازدواجی زندگی میں رقصاں اجسام کی جنبش میں محسوس کیا جا سکتا ہے – نیاز کے یہاں رومانیت سنبھلی ہوئی کیفیت لئے ابھرتی ہے –

::” شہاب – ذرا صبر کرو – زیادہ سے زیادہ تم یہ کہہ سکتے ہو کہ تکلیف ہونا دوسری چیز ہے اور لذت کا مٹ جانا دوسری چیز – اس وقت جبکہ محبّت کی اذیت کو بھی لذت سمجھ لیا جائے – کیا تم سمجھتے ہو کہ نکاح میں بھی وہی لذت ہے – کیا تمہیں یقین ہے کہ کسی سے مل جانا ، ملنے کی آرزو سے زیادہ پر لطف ہے – کیا تم واقف نہیں کہ آرزو کا پورا ہو جانا آرزو کی موت ہے – یاد رکھو کہ لطف کا حقیقی راز صرف خلش ہے – “::
{ شہاب کی سرگزشت ، صفحہ : -16-15}
رومانوی مکالمے میں جو تشنگی سی ہے وہ اس ناول کے حُسن کو نکھار نکھار گیا ہے – رومانیت کو جذباتی آرزو مندی سمجھنے والے ” نگار” کے نیاز ، روایت پرست قاری کو ایک نئے ذائقے سے آشنا کرا گئے ہیں – یوسف سرمست کہتے ہیں :- ::
’’ نیاز نے اردو ناول کی اہم خدمت انجام دی اور اس کو نہ صرف ایک نئی وسعت سے روشناس کرایا بلکہ اپنی رومانی بغاوت سے آئندہ آنے والے ناول نگاروں کے انقلابی رجحانات کیلئے راستہ صاف کیا ‘‘::
جنس اور رومانیت کو جب عزیز احمد نے پردے سے باہر نکالا تو 1932 میں ” ہوس ” سامنے آئی – رومان اور ہوس پرستانہ جذبات کی عکاسی کرنے والے اس مختصر سے ناول کا دیباچہ مولوی عبد الحق نے لکھا – عزیز احمد پردہ کو مسلمان لڑکیوں کے لئے ترقی کی راہ کا اسپیڈ بریکر مانتے تھے –
:: ’’اس تمام مصیبت اور بدبختی کا باعث وہ لڑکیاں ہیں، پردہ نے ان کو مردوں کی صورت اور مردوں کے ساتھ اس قدر بے خبر رکھا ہے کہ ہر دم دام فریب میں ان کا پھنس جانا یقینی ہے ‘‘۔::
عزیز احمد نے رومانی خیال کو پیش کرنے کے لئے جنسی تلذز سے کام لیا ہے – جہاں لذت ، لذت کے لئے تڑپتی دکھائی دیتی ہے کہ جسم سے جسم کا رشتہ کبھی بھی دائمی لذت کا سبب نہیں بنتا – ہاں یہ ضرور ہوا کہ ترقی پسندوں اور جدیدیوں کے لئے ” ہوس ” نے ایک نئی راہ ضرور ہموار کی –
نگاہوں کی حفاظت کا حکم سب سے پہلے مردوں کو کیوں دیا گیا ؟
تخلیق کار ” کو یہ معلوم تھا ” کہ نسیم جیسا جنسی نا آسودگی کا شکار مصور بھی اس زمین پر بستا ہے جس کی نگاہوں میں کیکٹس ہر عہد میں اگتے رہے ہیں –
” فسانۂ آزاد ” قصہ گوئی کی تکنیک پر لکھا گیا پنڈت رتن ناتھ سرشار کا ایک رومانی ناول ہے – جس میں حسن و عشق کے قصے بھی ہیں اور جاگیردارانہ نظام کی چنگاریاں بھی – ایسی چنگاری , جس نے تہذیبی میراث کو راکھ میں تبدیل کرنا شروع کر دیا تھا – عیش کا سامان محلوں سے غائب ہو رہا تھا – مگر عیاشی اپنی جگہ قائم تھی – انگریز جب ہندوستان پر قابض ہوئے تو نئی تہذیب اپنے ساتھ زندگی کا ایک نیا فلسفہ لے کر آئی – سرشار کا ہیرو اسی نئی تہذیب کی نمائندگی کرتا ہے – حسن آراء اور آزاد کی محبّت کے ایک مختصر سے قصے کے پس پردہ لکھنؤ کی پوری تہذیب بولتی دکھائی دیتی ہے – جس شہر کی اپنی تہذیب نہیں ہوتی اس شہر کی اپنی کوئی تاریخ بھی نہیں ہوتی – لکھنؤ تو ایک ایسا شہر ہے جس کی اپنی تہذیب بھی ہے اور تاریخ بھی – تاریخ جب خاموش ہونے لگتی ہے تو ناول گویا ہوتی ہے – فسانہ آزاد کو پڑھ کر اتنا تو ضرور ہوا کہ میں سرشار کے ”خوجی“ کے ساتھ لکھنؤ کا چہرہ بہت قریب سے دیکھ آیا – مل آیا وہاں کے رسم و رواج ،اور تہذیب و تمدن سے -سرشار اپنے ہر” ناول- کردار” کے ذریعہ داستان رنگ زندگی – ناول کو ایک نئی وسعت دے جاتے ہیں – اخلاقی زوال کی جب تیز آندھی چل رہی تھی تو نذیر ، شرر ، سرشار ، راشد الخیری ، طبیب وغیرہ زندگی کی نئی تفہیم / تفسیر پر زور دیتے نظر آتے ہیں –
واجد علی شاہ کے درباری ماحول سے تعلق رکھنے والے حکیم تفضل حسین کے عبد الحلیم شرر {1860ء تا 1926ء } جب 1869 میں مٹیا برج کولکاتا گئے تو 9 سال کے تھے – ذہن میں خیال آیا وہ گھر کیا اب بھی مٹیا برج میں ہے ؟
بات ہو رہی تھی ناول کی یہ میری روح مجھے مٹیا برج کیوں لے کر چلی گئی ؟
کیوں تلاش کر رہی ہے ، 1877 تک کی نشانیاں ؟؟
شاید کہ روح یہ بھول بیٹھی کہ ہم اپنی نشانیوں کو مٹانے والے بن گئے ہیں – ہم پیچھے مڑ کر نہیں دیکھتے “فردوس بریں” کے عبد الحلیم شرر ! جنّت کے حصول کے لئے سیاسی مفاد — وہ جو تمہاری طاہرہ ہے نا اکثر مجھ سے سوال پوچھتی رہتی ہے – بے چہرگی کی بھیڑ میں روشن تہذیب چہرہ کو کون پڑھےگا ؟
کہاں سے گوتم نیلام بر آئے گا ؟؟
عبد الحلیم شرر کے ناول کردار آج کے ” بازار ” میں بھی ناول کی پالکی میں سوار اپنے عہد کے تاریخی واقعات کو بیان کرتے نظر آتے ہیں – شاید کہ انھیں آج بھی وجودی معنویت کی تلاش ہے –
مرزا محمد ہادی رسوا (1857ء تا 21 اکتوبر، 1931ء)
جس لکھنؤ شہر میں کبھی سنگیت کی طرح ناول گھرانہ بھی ہوا کرتا تھا آج نئی صدی کے لکھنؤ میں ادب کی وہ پُلیا ٹوٹ چکی ہے – البتہ بہار کا ناول – افسانہ – ادب گھرانہ اکیسویں صدی میں بھی اپنی موجودگی کا احساس دلا رہا ہے –
رسوا کے ناول میں لکھنوی تہذیب کے زوال کی داستان کچھ اس طرح پیش ہوئی ہے کہ اس کی تازگی آج بھی برقرار ہے – بھلے ہی طوائف کی جگہ کال گرل نے لے لی ہے اور کوٹھے کی جگہ گھر پہنچ سیوا نے – رسوا اپنے عصر کی نمائندگی کرنے کے ساتھ ساتھ ماورائے عصر بھی تھے کہ آج بھی ، محلوں – محرابوں سے امراؤ جان کے پاؤں سے بندھے گھنگھروؤں سے جھنکار نہیں سسکیاں ابھرتی ہیں – مرزا ہادی رسوا کے یہاں رومانیت نسائی بدن امراؤ جان کی معنویت میں روشن ہوتی ہے –
” امراؤ جان ادا” ہو یا ” اختری بیگم ” اس کی ارتسامّیت کل اور آج کی اُردا بیگنی کی صورت میں دکھائی دیتی ہے – اردو ناول کے نام ایک نیا آسمان اور الفاظ کے نام پرندے کی اڑان لکھ جانے والے مرزا ہادی اپنے شہرہ آفاق ناول کی وجہ سے ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے – اردو ناول کا یہ وہ زمانہ تھا جب ارواح و اجسام پھیلتے ہوئے اندھیارے میں بھی روشن لباس کو پسند کرتے تھے – اجتماعی زندگی کا عکس ناول کے سنگار دان میں ابھرتا رہا اور معاشرہ پستی کی طرف جاتی زندگی کو دیکھ اسے نئی بلندی عطا کرنے کا عزم جٹاتا رہا – ایک طرف ” کنگھی – چوٹی ” دوسری طرف , سُندری ستار کے ساتھ اُتار چڑھاؤ کرتی رہی – ” خدا کی بستی” ہو یا ” آنگن ” میں ” اداس نسلیں ” – آج کی طرح اس عہد کا آدمی چکنا گھڑا نہیں ہوا تھا – اجسام رنگ برنگی حویلیوں کے ساتھ ضرور ہوئے تھے مگر ارواح سہیلیوں کی طرح جب باتیں کرنے لگیں تو محرابوں پر ابُھری آیتیں مسکرانے لگیں – اور پھر ہوا یہ کہ رومانیت کے کئی مدارج اور کئی منزلیں سامنے آتی چلی گئیں – جہاں کبھی زمین ہلدی رنگ دکھائی دیتی تو کبھی آسمان ہفت ندی کی طرح –
:::
دھنپت رائے / نواب رائے / پریم چند کے ناولوں پر میں ابھی بات کرنا ہی چاہ رہا تھا کہ بوڑھی کاکی کا ہاتھ تھامے سوا سیر گیہوں کا شنکر دیکھائی دے گیا – ایسا کیوں ہوا مجھے نہیں معلوم – ہاں ایک آواز اس چھور سے ، ضرور آ رہی تھی پریما / ہم خورمہ و ہم ثواب ، روٹھی رانی کی —–
آسمان سے جب جب زمین والے الجھے ہیں حروف چہروں نے ناول کی صورت اختیار کی ہے –
رُومانیت جب سماجی معنویت کی نئی جہت سے ہمیں آشنا کراتی ہے تو وہ ان سارے سماجی اداروں سے بھی ٹکراتی ہے جو خواب کی تعبیر میں رُکاوٹ بنتے ہیں – رُومانیت ذات سے جب باہر نکلتی ہے تو بھرت پور کے کرشن کی بانسری بن جاتی ہے تو کبھی صلاح الدین پرویز کے عشق کی ایک ٹیس –
پریم چند اردو اور ہندی ناول کی تاریخ میں ایک اہم نام ہے – عورت کی گھٹن بھری زندگی ہو یا پھر امیری – غریبی ، اور الگ الگ ذاتوں میں بنٹا آدمی ، سچ کو سوگر کوٹڈ کیپسول میں اکثر وہ پیش کرنے میں کامیاب رہے ہیں کہ وہ قلم کے مزدور تھے مبلغ نہیں – پریم چند کے ناول کے ہر کردار ہمارے آس پاس کی زندگی کے آج بھی چشم دید گواہ بنے ہوئے ہیں کہ ہر زندہ تحریر ، بدن تا بدن سفر کرتی ہے – جسے دیکھ کر ناول پسند قارئین کی زبان سے یہ جملے آزاد ہوتے ہیں ، کہیں یہ زندگی رنگ بدن میرا تو نہیں ؟ – گاؤں کی زندگی کے مسائل کے ساتھ ساتھ عورتوں کی سسکتی دم توڑتی زندگی کو پریم چند نے جس خوبصورتی سے پیش کیا ہے – کوئی بھی دوسرا اُن تک پہنچ جائے تو یہ ایک حادثہ ہی ہوگا کہ کسی بھی حادثے کی پہلے سے ہمارے پاس کوئی مکمّل خبر نہیں ہوتی ہے – پریم چند کے ابتدائی دور کے ناول سے لے کر ” گؤ دان ” کے قریب آ جائیے – سماج کی بنیادی حقیقتیں ، طبقاتی نوعیت کے گہرے شعور کے ساتھ خود کو ایکسپلور کرتی نظر آئیں گی – رُوحانی اور مادی کشمکش کے اس دور میں بھی پریم کے ناولوں کے کردار سرمایہ دارانہ استعمار کے ظلم کے خلاف احتجاج کرتے نظر آتے ہیں – احتجاج تبھی ہوتے ہیں جب پچھڑے طبقات / دیہی عوام کے جسم ، منڈیوں میں لگنے والی بولی کے خلاف کھڑے ہوتے ہیں – روح جب جب چیخی ہے جسم حرکت میں آیا ہے – پریم چند پر بہت لکھا گیا اور لکھا جاتا رہے گا ان کی رومانیت میرے خیال میں بس یہی ہے ::>
When our soul react against the discrimination of society with some fear or tremble that also a category of romanticism which brings us into an action :khursheed hayat
:::
سلمیٰ کے کرشن چندر کو میں ناول کے آٹھویں اوتار کے روپ میں دیکھتا ہوں – جسے تنقید کی ” دیوکی” نے بھلانے کی سازش ہر عہد میں رچی ہے – رومانیت کرشن کا بنیادی وصف ہے – کرشن چندر کے ناولوں میں رومانیت زندگی کی کڑوی سچائیوں کے ساتھ سفر کرتی ہے جہاں فطرت کے حسن کو پیش کرتے وقت کرشن کا منفرد تخلیقی اسلوب ، ان کی نثر کو شاعری کے پہلو میں بیٹھا دیتا ہے لا کر –
کرشن کے یہاں رومانیت ، رگ رگ ، پگ پگ
کرشن کی” رومانیت ” برف کے پھول ” کی طرح جب کھلتی / پگھلتی ہے تو زینب اور ساجد کی معصوم محبّت ، برف کی دلہن کی طرح شوخ اور چنچل دکھائی دیتی ہے – معصوم محبّت ہمیشہ برف کی دلہن کی طرح ہی تو ہُوا کرتی ہے جو تیز دُھوپ میں حرف حرف پگھلتی ہے ، پھیل جاتی ہے چاروں دشاؤں میں – کھیتوں میں کام کرتے وقت ساجد کے ہاتھ جب تانبے کا سکہ لگتا ہے تو وہ بچوں کی طرح خوشی سے دوڑتے ہوئے سیب کے پیڑ پر چڑھ جاتا ہے – اس کا پیچھا کرتے ہوئے زینب بھی سیب کے پیڑ کے قریب پہنچ جاتی ہے – ” ساجد سیب کی شاخوں کو ہلا ہلا کر زینب پر پھول برساتا رہا۔پھول زینب کے بالوں میں تھے اس کے کندھے پر تھے اس کے سینے پر تھے اس کے پانو میں تھے ۔ پھول جو ساجد کے دل میں تھے ۔ ”
مجھے کرشن کے ہر کردار، شیام ، راگھو راؤ ، جنک ، کنول اور بھی کئی ، ایک نغمگی لئے زمین پر اُگتے دکھائی دیتے ہیں
::
سرحد کے اس پار کا ایک رومانی ناول نگار مجھے ابھی یاد آ رہا ہے جو ایک درزی تھا ، خواتین کے ملبوسات سینے میں ماہر اس درزی کا امین نواز سے مینا ناز بن جانا کسی رومانی ناول سے کم نہیں – امین نواز / مینا ناز کی روح نے عورتوں کی نفسیات کو بہت قریب سے محسوس کیا اور پھر ہوا یہ کہ اس کی بہت زیادہ باتیں کرنے کی صلاحیت ,1963 میں ” پربت ” ناول میں ابھر کر سامنے آئ – جس میں پاکستانی معاشرہ کی عورت کو موضوع بنایا گیا – وہ عورت جو ہندوستانی سماج کی عورت سے الگ تھی – اس کے مسائل الگ تھے – یہ ناول اس زمانے میں کافی مشہور ہوا – مرد سماج لفظوں کے اس امین کو مینا ناز سمجھتے رہے اور ایک بے باک خاتون سمجھ کر محبّت نامے بھیجتے رہے – کئی دل پھینک دیوانوں کی وجہ کر ” دل آشنائی ” ناول بھی منظر عام پر آئی – 80 کے دہے تک مشہور رہے اس ناول نگار کا ذکر اب کم کم ہوتا ہے کم چینی والی چائے کی طرح – شاید کہ اردو تنقید کی بینائی ڈائبیٹک مریض کی طرح کمزور ہوتی جا رہی ہے –
::
ماٹی بدن والے جسم اور روح کو آفاقی لفظی نظام کے ساتھ ایک نیا معنی دے جاتے ہیں – جہاں جسم ، جسم نہیں رہتا اور روح ، روح نہیں رہتی –
اردو ناول کے فن کو ایک نئی تازگی اور فکر کو ایک نئی وسعت دینے والی ناول نگار کا نام قرۃ العین حیدر ہے ۔ ان کے ناولوں میں نوابوں / جاگیرداروں کی عیاشیوں کے خمار کا رنگ محل بھی ہے تو دوسری طرف اودھ کی ٹوٹتی بکھرتی قدروں کا شیش محل – عینی اپنے ناولوں میں اکثر ہندوستان کے مختلف ادوار کے سیاسی ، سماجی اور سنہری تہذیب کے لہو لہو اوراق کو کھولتی نظر آتی ہیں –
قرۃ العین حیدر نے اپنے پیش رووں کی تقلید کبھی نہیں کی ہاں انہوں نے سجاد حیدر اور نذر حیدر کا اسلوب ضرور اپنایا کہ ماں باپ کے اثرات کو قبول کرنا فطری عمل ہے مگر عینی کے داستانی رنگ نے انھیں کچھ ایسا مقام عطا کیا کہ گھر والوں کے درمیان بھی ان کا قد اونچا ہوا – عشق اور رومان کی حقیقت کو عینی نے بھی سمجھا اور امرتا پریتم نے بھی –
رومانی آگہی تخلیقی سطح پر اپنا اسلوب تراشتے ہوئے ، جب دھوپ رنگ موسم کی الگ الگ کروٹوں سے آشکار کراتی ہے تو رومانیت کی ہر لہر کے ساتھ چلت پھرت دیکھائی دیوت ہیں ، رتن ناتھ سرشار ، کرشن چندر ، عبد الله حسین ، راجندر سنگھ بیدی ، عصمت چغتائی ، قدرت الله شہاب ، انتظار حسین ، بانو قدسیہ ، جمیلہ ہاشمی ، ممتاز مفتی ، خدیجہ مستور ، شوکت صدیقی ، حیات الله انصاری ، رضیہ سجاد ظہیر ، جیلانی بانو ،مشرف عالم ذوقی ، نور الحسنین ، غضنفر ، پیغام آفاقی ، صلاح الدین پرویز ، عبد الصمد ، شفق ، مستنصر حسین تارڑ ، جوگندر پال ، اقبال مجید ، سید محمّد اشرف ، ،شموئل احمد ،شائستہ فاخری ، ترنم ریاض ، صادقہ نواب سحر ، رحمٰن عباس ، ثروت خان ، اختر آزاد ، احمد صغیر ، نسترن فتیحی ، آشا پربھات —— ان کے یہاں رومانیت تمناؤں کی تکمیل میں حائل ہر دیوار کو توڑتی نظر آتی ہے –
:: ۔ سب سے پہلی یلغار جنس اور مذہب کے مسلمہ اداروں پر ہوئی اور اس کے بعد سیاست پر۔ مگر ہر صورت میں اس یلغار کی بنیادی حیثیت انفرادی اور رومانی تھی اور اس کے ہتھیار جذبے کا وفور اور تخیل کی بے پناہ قوت ہی کے ذریعہ فراہم کیے گئے تھے ,اور پھر ہوا یہ کہ عینی چہرہ نے ” آگ کا دریا ” کی صورت اختیار کی اور وہاں سے آگے بڑھتے ہوئے ، ” ایوان غزل ” بن گئی اور ” چاندنی بیگم ” نے ” آنگن “میں عورت کے نا مکمّل خوابوں کی گٹھری کو شائستہ فاخری کے ” صدائے عندلیب بر شاخ شب ” میں محسوس کیا – ” جس دن سے ” چاند ہم سے باتیں کرتا ہے ، اے ! سارے دن کا تھکا ہوا پرش —- جانتے ہو ” دو گز زمین ” پر رومانیت نے صنوبر کے درخت کے سائے میں جب جب آرام کرنا چاہا اس سے ” آئڈنٹیٹی کارڈ ” مانگا گیا – شناختی کارڈ کس کا ؟ آدمی کا ، مگر آدمی اب ہے کہاں ؟؟
چلو ، ” چاچی کے ڈھابہ ” میں ” راجہ گدھ ” سے پوچھ لیتے ہیں –
اے ” آتش رفتہ کا سراغ ” !
اے ” لیمنٹڈ گرل ” ” سورج جیسی رات ” میں ” ایک ممنوعہ محبّت کی کہانی ” کی ” جنگ جاری ہے ” — اور ہم ہیں کہ بستی بستی ، آنگن آنگن گھُومت ہیں کہ آگے سمندر ہے – اور یہ سب ناولا / ناول لیلتہ البدر –
زندگی رنگ کتھا کہانی ” ندی ” = ناول / سمندر
ناول ” ندی” کے سمندر بن جانے کا تخلیقی عمل ہے –
:::
ہر وہ عہد جس میں فطرت سے محبّت کرنے والے ناول نگار رہتے ہیں – ان کے ناولوں میں رومانیت کو شدت سے محسوس کیا جا سکتا ہے – جب جب آدمی بھیڑ میں تنہا ہوا ہے اس کی فطرت سے ہم کلامی رومانیت کی دھیمی آنچ میں سنور سنور ، نکھر نکھر سی گئی ہے – آئیے ذکر کرتے ہیں ان تین نئے ناولوں کا جہاں رومانیت ناول کے کینوس پر جذبات کی مصوری کی صورت لئے ابھرتی ہے کہ رومان کی روح تو عورت کے وجود سے ہے – نور الحسنین کے چاند کی روح رواں عورت ہے وہ عورت جس سے وہ باتیں کرتا ہے – ان باتوں باتوں میں وہ ان تمام تاریخی کردار کو زندہ بھی کرتا چلا جاتا ہے جن کی محبّت کے قصے پر دھول جم رہی تھی – منظر نگاری ، مکالمہ نویسی اور وحدت تاثر ” چاند ہم سے باتیں کرتا ہے ” کی فنی خصوصیات ہیں – محبّت کی نغمگی کو ایک نیا ویزن عطا کرنے کے لئے اس ناول میں تاریخی کردار ساتھ ہو لیتے ہیں –
”چاند ہم سے باتیں کرتا ہے“ ، نور الحسنین کے فن کی معراج ہے – اس شاہکار ناول میں محبّت کی روحانی فضا حقیقت پسندی کے ساتھ بہتی ہوئی محسوس ہوتی ہے – اس ناول کی معراج حسنین کی تخلیقی نثر کا شاعرانہ لہجہ جہاں محبّت سدرۃ المنتہ٘ی کی بلندیوں کو چھوتی نظر آتی ہے –
::“ رات کے سناٹوں کو کیڑے مکوڑوں کی مدھر راگنیاں رومانی بنا رہی تھیں – سرد ہوائیں چل رہی تھیں – پورا قبیلہ نیند کی آغوش میں ڈوبا ہوا تھا – لیکن وہ جاگ رہی تھی ”
عشق بدن والے کو نیند نہیں آتی نور الحسنین ! اورنگ آباد میں بیٹھ کر محبّت کی جس فضا کے ساتھ نور + حسنین بہتے دکھائی دے رہے ہیں اس نے نور الحسنین کی نا قابل تسخیر قوت کو ابھارا ہے – ” نفرتوں کے شہر میں ” ذوقی اور حسنین جب محبّت کے نئے راگ کو الاپتے ہیں تو حروف سازندے مسکراتے ہیں – ناول کے ان دونوں مٹی بدن شہزادوں کے ناول کا خمیر ” مٹی ” ہے جو ہر عہد کی خاموش گواہ ہے – اس زمین / ماٹی کو نئی زبان دینے والے ان دونوں کی عظمتوں سے کسے انکار ؟
ناول کے عناصر ترکیبی میں بہت کچھ گنواۓ گئے – کہانی ، ، پلاٹ ، کردار ، مکالمے ، موضوع ، اسلوب اور نہ جانے اور کیا کیا – میں اسے نہیں مانتا کہ محبّت اپنے فن سے ہو ، زمین والے سے یا پھر آسمان میں بہنے والی نہر سے ، گنتی کے لئے یہاں کوئی جگہ نہیں – تخلیقیت کھلی فضا میں پرندوں کی اران کا نام ہے جہاں ایک تناسب / توازن ساتھ تو ہوتے ہیں مگر حدود نہیں ہوتے – مجھے حدود سے نفرت ہے – محبّت ” جسم “کو نہیں مانتی کہ اس کے خد و خال ہوتے ہیں – گرو جی لوگ یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ موضوع ، اپنے ساتھ لہراتی ہوئی ” آسمانی – زمینی رنگ قبا ” لے کر آتا ہے – چاند کو دریا کے ساتھ سفر کرنے دو نور الحسنین ! تبھی ہم روحانیت + رومانیت کی اس منزل کے قریب خود کو محسوس کریں گے جہاں آسمان اپنی بانہیں پھیلاتا ہے اور زمین اپنے پاؤں پسارتی ہے –
:: ناول نئی دریافت اور تخلیق کا عمل ہے ، تقلید اور تشہیر کا نہیں ——-!
نئی صدی کی داستان گو کا نام شائستہ فاخری ہے – جو خانقاہ کی اونچی اونچی دیواروں – محرابوں سے جب باہر نکلتی ہیں تو مسخ شدہ چہروں کی بھیڑ میں روشن تہذیب چہرہ کی تلاش کرتی نظر آتی ہیں – شائستہ فاخری ناولوں میں عورت کے ان گوشوں کو بڑی بیباکی / سفاکی سے ابھارتی ہیں جو مخفی رہ گئے تھے – اپنے تخیل کے سہارے اڑن کھٹولے پر سوار شائستہ اپنے داستانی اسلوب میں ماضی کی عورت کو حال کے آئنے میں دیکھتی ہیں – شائشتہ تحریر رومانی سحر کاری کا دوسرا نام ہے کہ پہلا نام تو صرف ’ایک‘ ہی ہے جو بار بار لب پر جب آوے ہے تو چھوٹی سی چڑیا کی طرح پھُر پھُرانے لگے ہے – ایک کلیر ویزن کے ساتھ ناول جب عام قاری کو بھی ویزوآلایذڈ کر جاتا ہے تو آنکھوں کی پُتلیاں فلک ہونے لگتی ہیں – شائستہ فاخری کا ناول ” صدائے عندلیب بر شاخ شب ” ناول زمین کا اعتبار بھی ہے اور روحانی / رومانی زندگی کا نیا معیار بھی – ناول کا ایک معنی ” نیا ” بھی تو ہووے ہے جی – سانپ جب نئی صدی میں بھی آج کی حوا کا پیچھا کرتا دکھائی دیا تو شائستہ تحریر ان سانپوں کے لئے نیولا بن گئی – آج کی عورت ، اب معصوم حوا نہیں رہی – اسے معلوم ہے ایک سانپ وہاں بھی تھا ایک سانپ یہاں بھی ہے – شائستہ فاخری کے ہاں ناول سات سمندروں اور سات آسمانوں کے طواف کا نام ہے –
شائستہ فاخری کے یہاں عورت خاموشی سے مرد سماج کے ظلم کی چکی میں خود کو پیستا ہوا نہیں دیکھنا چاہتی – عورت جو آج بھی جدید تہذیبی معیارات کے آگے خود کو ہاری ہوئی محسوس کرتی ہے – چو مکھی لڑائی لڑنے والی عورت جو life style related disease کا شکار ہوتی جا رہی ہے , اس عورت کے درون میں بہنے والی لہروں سے ابھرنے والے شعلہ راگ کا نام ” صدائے عندلیب بر شاخ شب ” ہے جو کبھی کبھار سوکھے پتوں کے سنگیت موسم میں ہی لکھا جاتا ہے –
::
لہو لہو قطروں کی سازشوں نے ناول کے لئے نئی راہیں ہموار کی ہیں – تخلیقی فنکاروں کی ایک نسل کو بیس برسوں تک زہر دے کر سلا دیا گیا تھا – نتیجہ یہ ہوا کہ ان بیس برسوں میں ایسا لگنے لگا تھا کہ ناول تاریخ کے صفحات میں گم ہو جائے گی – بھلا ہو مشرف عالم ذوقی کا کہ اب تک اس نے 12 ناول لکھ کر ناول کی طرف قاری کے ساتھ ساتھ فنکاروں کو بھی کہانی سے ناول کی طرف مائل کیا –
ناول نگاری کے فن اور قاری کے مزاج سے واقف ذوقی / رومانی نے ناول کے نام تخیل کا ایک نیا آسمان لکھا ہے – ذوقی جب آرہ میں تھے تو انہوں نے 1980 میں اپنا پہلا ناول ” لمحہ آئندہ“ لکھا تھا – اس ناول کی بھی ایک تاریخ ہے – جو گیا شہر سے جڑی ہے – اس کا ذکر پہلے بھی کئی بار کر چکا ہوں – اس لئے ابھی نہیں – دو گز زمین سے بہت پہلے ذوقی نے لمحہ آئندہ ناول مکمّل کر لیا تھا – گواہ میں ہوں کہ اس پورے ناول کو کسی رسالہ میں قسطوار آنا تھا مگر —–؟
مشرف عالم ذوقی کے یہاں رومانیت، سماجی معنویت کے ساتھ ساتھ فرد کی اہمیت کی طرف مڑتی دکھائی دیتی ہے –
:: ::” کہاں جاؤگے ؟“
”کہیں بھی –“
” تاریخ کے ایک ملبے سے نکل کر دوسرے ملبے میں —؟“
” بد نصیبی ہے — ہماری مجموعی تاریخ مٹی کا ڈھیر ، ملبہ بن چکی ہے -“
” اندر کوئی ہنس رہا ہے – — ”
{ آتش رفتہ کا سراغ : صفحہ 335 }
رقص کرتی تہذیب کی دھندلی پرچھائیوں کے نقوش کو ابھارنا ذوقی جیسے مصور سے ہی ممکن ہے –
ہر زمانے میں فکری اور فنی تقاضے نیا روپ اختیار کرتے ہیں – جس کے روپ / راگ رنگ کو ڈیفائن نہیں کیا جا سکتا کہ یہ وہ دور ہے جہاں ابھی جو نیا دکھائی دے رہا ہے وہ کل پرانا ہو جاتا ہے – اب دیکھئے نا ، کل تک جس ناول کو پڑھا جا رہا تھا وہ نئی صدی میں پڑھی جا رہی ہے –
خود سے خود کو تلاش کرتے ہوئے ، خود کو خود سے آزاد کرنے کے مدارج سے گزرتے ہوئے ,آج کی نئی رومانیت وجودیت کے تصورات کا سہارا لے کر باطن اور تلاش ذات کو ناول کا موضوع بنا رہی ہے –

Previous articleدینی اور عصری علوم سے ہی دنیاوی اور اخروی کامیابی ممکن  تسخیر فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام ”ادارہ علوم اسلامیہ“ میں تعلیمی سلسلے کا آغاز
Next articleشہرِ ظلمت میں روشنی کا سفیر: پریم ناتھ بسملؔ از: کامران غنی صباؔ

اپنے خیالات کا اظہار کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here