نارنگ ساقی : ایک تعارف از: ” انسان گروپ” مغربی بنگال

0
80

نام: نارنگ ساقی
تاریخ ولادت: 24اگست 1936ء
سودھی نگر

تعلیم: بی اے
پیشہ: تجارت
کتابیں:
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۔ (1)ادیبوں کے لطیفے-1992ء
۔ (2)ادیبوں کے لطیفے-1996
۔ (3)ہمارے کنور صاحب-1986
۔ (4)انتخابِ کلام بیدی-2016
۔ (5)کائناتِ راز-1989ء
۔ (6)کلیاتِ اکبر-1998ء
(مکمل چاروں جلد)
۔ (7)کلیات سحر-1992ء
۔ (8)پیغامِ محبت
۔ (9)قلم کاروں کی خوش کلامیاں
ایوارڈ: متعدد اداروں سے
موبائل: 9811580888
پتا: فیئر ڈیل امپکس انڈیا
۔ L-4، کناسٹ سرکس، نئی دہلی-110001

میخانۂ اردو
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کا پیرِ مغاں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک جائزہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سلیم انصاری
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

میخانۂ اردو کا پیرِ مغاں کے ایل نارنگ ساقی کی ذات، اردو سے ان کی شدید محبت اور ادبی بزم آرائیوں پر نذیر فتح پوری کے ذریعہ ترتیب دی گئی ایک ایسی کتاب ہے جو اردو کی تہذیبی، ثقافتی اور ادبی صورتِ حال کا عصری منظر نامہ پیش کرتی ہے۔ یہ کتاب جہاں ایک طرف نارنگ ساقی کی ہمہ رنگ شخصیت کے مختلف پہلوؤں کا احاطہ کرتی ہے وہیں دوسری طرف اردو سے ان کی بے لوث اور بے پناہ محبت کا ثبوت بھی فراہم کرتی ہے۔ قابلِ مبارک باد ہیں نذیر فتح پوری کہ انہوں نے اردو کے ایک ایسے ادیب اور ادب نواز شخصیت پر کتاب مرتب کی جس نے اردو دوستی کا عالمی ریکارڈ قائم کیا ہے۔

کے ایل نارنگ ساقی کی تالیف کردہ کتابیں ’’ادیبوں کے لطیفے‘‘ اور ’’خوش کلامیاں قلم کاروں کی‘‘ ایسی کتابیں ہیں جو اردو میں اپنے موضوع اور نوعیت کے اعتبار سے اولین نہ سہی مگر اتنی دلچسپ اور منفرد ہیں کہ اردو ادب میں خوبصورت اضافہ کہی جا سکتی ہیں۔ نارنگ ساقی نے ایک بڑا کام یہ کیا ہے کہ چھوٹے بڑے بہت سارے ادیبوں کی شوخیوں، خوش مذاقیوں اور خوش کلامیوں کے حوالے سے ایک قابلِ قدر مواد جمع کر کے قارئین کے لئے طمانیت کا سامان فراہم کر دیا ہے۔ جس کے لئے اردو ادب کے سنجیدہ قارئین انہیں دیر تک یاد رکھیں گے۔

میخانۂ اردو کا پیرِ مغاں کے مطالعے کے دوران نارنگ ساقی کی شخصیت کے کئی پہلو اجاگر ہوتے ہیں اور ان سے براہِ راست ملاقات نہ ہونے کے باوجود کسی طرح کی اجنبیت کا احساس نہیں ہوتا بلکہ ایک طرح کی رفاقت اور قربت کا احساس ہوتا ہے۔ ان کی مہمان نوازی، خلوص، اخلاق، بھائی چارگی اور انسان دوستی کے حوالے سرحدوں کی قید و بند سے آزاد ہیں۔ پاکستان سے آنے والے ادباء، شعراء ہی نہیں بلکہ دیگر پاکستانی بھی ان کی مہمان نوازی سے یکساں طور پر فیضیاب ہوتے ہیں۔ مہمانوں کے ساتھ نارنگ ساقی کا یہ سلوک اسلئے بھی قابلِ ذکر ہے کیونکہ وہ اپنی مہمان نوازی کے دوران ہندوستان کی ادبی برادری کی نمائندگی ہی نہیں بلکہ ایک پورے ملک کی تہذیبی اور ثقافتی قدروں کی نمائندگی کر رہے ہوتے ہیں۔

کتاب میں شامل اپنی تحریر ’’دیکھو ہم نے ایسے بسر کی۔۔ ۔۔ ۔۔‘‘ میں نارنگ ساقی نے اپنے بارے میں جو معلومات فراہم کی ہیں ان سے اندازہ ہوتا ہے کہ انہوں نے اپنی زندگی کے نسبتاً کم خوش آئند لمحوں میں بھی ایمانداری اور سچائی کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا ور کسی نہ کسی روپ میں اردو کی خدمت اور ادبی سرگرمیوں سے خود کو جوڑے رکھا۔ اور میرے نزدیک یہ ایک بڑی بات ہے اور مجھے یقین ہے کہ اردو کا مستقبل ایسے ہی جیالوں کے سبب روشن اور تابناک ہے۔ اب اس سے بڑی اردو کی خدمت اور کیا ہو گی کہ پاکستان سے دہلی آنے والے تمام شعراء اور ادباء کو اپنا ذاتی مہمان بنانا اور ان کی ضیافت میں ہر طرح کے آرام اور آسائش کا خیال رکھنا، اور وہ بھی محض اردو سے محبت کی خاطر۔ میری دعا ہے کہ نارنگ ساقی جیسے محبانِ اردو کی سرپرستی اردو پر تا دیر قائم رہے، کہ اردو کے سیکولر ہونے کا اس سے بڑا اور کوئی جواز نہیں۔

زیرِ نظر کتاب میں نارنگ ساقی کی ذات اور شخصیت کے حوالے سے اپنی محبت، خلوص اور رفاقتوں رقم کرنے والے قلمکاروں کی ایک طویل فہرست ہے۔ جگن ناتھ آزاد، رتن سنگھ، شین کاف نظام، شمس الرحمن فاروقی، گوپی چند نارنگ، بلراج کومل، جوگندر پال اور مختار شمیم سے لے کر ف س اعجاز، فیاض رفعت، پروفیسر علی احمد فاطمی، عطاء الحق قاسمی، زبیر رضوی، رؤف خیر اور نذیر فتح پوری تک ایک کہکشاں روشن ہے اس کے علاوہ نئی نسل کے فنکاروں میں مراق مرزا، مشتاق صدف، ڈاکٹر مولا بخش، سیدہ نسرین نقاش، نصرت ظہیر، وقار قادری، سیفی سرونجی اور ڈاکٹر اسلم جمشید پوری وغیرہ نے نارنگ ساقی سے اپنی عقیدتوں کو لفظوں کی خوشبو سے معطر کیا ہے۔ اور قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ نارنگ ساقی کی شخصیت کو مختلف زاویوں میں منعکس کرنے والے ان قلمکاروں میں کئی نسلوں اور کئی مکاتیبِ فکر سے وابستہ قلم کار شامل ہیں۔ جس کے سبب ان کی شخصیت کے مختلف رنگوں اور ذائقوں سے روشناس ہونے کا موقع ملا ہے۔ مگر ان کی شخصیت کا یہ پہلو تقریباً تمام قلم کاروں کے یہاں مشترک ہے کہ وہ بذاتِ خود خوش کلام ہیں اور ان کی حسِ مزاح بیحد متحرک ہے۔

نارنگ ساقی کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے منور رانا لکھتے ہیں ’’تقریباً چار دہائیوں سے نارنگ ساقی ارد و اور اردو والوں سے سانسوں کی طرح جڑے ہوئے ہیں، شاعروں اور ادیبوں کی دوستی میں اتنی بے لوثی کے ساتھ دوسرا کوئی بھی شخص ان کے مدمقابل نہیں ہے۔ در اصل خاموش خدمتوں کا نور ہی انسان کو چاند اور سورج بنا دیتا ہے۔‘‘

جوگندر پال نے نارنگ ساقی کی لطیفہ گوئی پر گفتگو کرتے ہوئے لکھا ہے ’’جو شخص بے سبب کھلکھلا کر ہنستا رہتا ہے وہ جیسا بھی ہو ایک منافق نہیں ہو سکتا۔ آج کے سرد ماحول میں ایسے گرم جوش خنداں اور بے ضرر لوگ کہاں دکھائی دیتے ہیں، اور آ جائیں تو یہی جی چاہتا ہے کہ آدمی ان سے بے تکی باتیں کر کے قہقہوں کی اوٹ میں زندگی کی توانائیاں سمیٹتا چلا جائے نارنگ ساقی بھی بلا شبہ ایسے ہی لوگوں میں سے ایک ہے۔ ایک دفعہ جب میں اس کی دعوت پر اسی کے یہاں پہلی بار ملا تو مجھے لگا کہ کوئی اسے وجود کے اندر گد گدائے جا رہا ہے اور وہ بلا وجہ ہنسے جا رہا ہے۔۔ ہاں! جناب، آپ کو کون نہیں جانتا۔۔ ۔۔ ۔۔ ہہ ہہ!۔۔ ۔۔ میں آپ کا تہِ دل سے شکر گذار ہوں۔۔ ۔۔ ہہ ہا!۔۔ ۔۔ کہ آپ تشریف لائے۔۔ ۔۔ ۔۔ ہہ!۔۔ ۔ بیٹھئے۔ وہسکی سوڈے کے ساتھ یا۔۔ ۔۔ ہہ ہا ہہ۔۔ ۔۔ ۔‘‘

دیپک بد کی کے لفظوں میں ’’ساقی کی ایک بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ یاروں کے یار ہیں۔ ان کی میزبانی کے سبھی قائل ہیں۔ کاروباری آدمی ہونے کے با وجود ادب اور ادیبوں سے جنون کی حد تک لگاؤ رکھتے ہیں۔‘‘
زبیر رضوی نے اردو سے نارنگ ساقی کی محبت کو ان لفظوں میں بیان کیا ہے ’’میں نے اردو کے سلسلے میں مخلص اور بے لوث جذبوں سے سرشار پایا اردو سے ان کا عشق کل بھی تھا، آج بھی ہے اور آنے والے دنوں میں بھی رہے گا، گذرے ہوئے دنوں میں اردو والوں کے لئے لازمی اور ناگزیر شخصیت رکھنے والے ساقی کو ایک ذرا چھیڑیے تو ان کی ذات سے آج بھی رفاقت، دوستی اور محبّت کے ہزار دل پذیر راگ پھوٹ نکلیں گے۔۔ ۔۔ ۔۔ ساقی نے اردو زبان اور اردو ادیبوں کو امکان بھر توقیر دی، اپنا پیار دیا، اردو کی ہری سرخ روشنی والی شمعیں کل بھی ان کی رہائش گاہ اور دفتر کے طاقوں روشن تھیں، یہ شمعیں آج بھی روشن ہیں کیونکہ ساقی نے اردو کی ابد گیر ساعتوں کے ساتھ آخری سانس تک زندگی بسر کرنے کی قسم کھائی ہے‘‘

محّولہ بالا اقتباسات کی روشنی میں نارنگ ساقی کا عکس دیکھیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ فی زمانہ اردو اور ساقی لازم و ملزوم ہو گئے ہیں اور کچھ معنوں میں اردو کا تصور ساقی کے بغیر ممکن ہی نہیں۔ وہ محض شاعروں اور ادیبوں کے لئے ہی ساقی گری نہیں کرتے بلکہ اردو زبان و ادب کی بھی پیاس بجھاتے ہیں۔ اور یہ شاید ان کی مجبوری بھی ہے کہ اردو لہو کی صورت ان کی شریانوں میں گردش کر رہی ہے، یعنی اردو کے بغیر انہیں اپنے اندر ایک طرح کا خالی پن محسوس ہوتا ہے اور یہ خالی پن انہیں کسی صورت قبول نہیں۔
نارنگ ساقی کے لئے اپنی نظم میں چندر بھان خیال نے اردو کے لئے ان کی محبت اور خدمت کا اعتراف کرتے ہوئے لکھا ہے کہ وہ ادب کی آتماؤں اور خرد کے آشناؤں کے درمیان محبت کے چھلکتے جام تقسیم کرتا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ جتنے لوگ بھی نارنگ ساقی سے ملاقات کرتے ہیں وہ ان کے خلوص اور محبت سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتے۔
نارنگ ساقی نے ادبی لطائف کو جمع کر کے انہیں قارئینِ ادب تک پہچانے کا کام کیا ہے اور یہ ایک ایسا کام ہے جو موجودہ عہد کی پژمردگی اور قنوطیت میں ایک کارِ نیک ہی سمجھا جائے گا کیونکہ اگر یہ لطیفے کسی انسان کے ہونٹوں پر مسکراہٹ سجانے میں کامیاب ہو جائیں تواسکا ثواب لطیفہ سنانے والے کے حصے میں آئے گا۔ زندگی میں خوش مذاقی کا سرچشمہ خود زندگی میں رونما ہونے والے حادثات و واقعات میں ہوتا ہے لطیفوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے نارنگ ساقی نے کہا ہے کہ لطیفہ وہی اچھا ہوتا ہے جو بر جستہ ہو، مختصر ہو، کم سے کم لفظوں میں ظرافت سے معمور اور خوش دلی کی ساری کیفیت کو اپنے اندر حتیٰ الامکان سمیٹ لینے کی صلاحیت رکھتا ہو۔
ان حوالوں سے نارنگ ساقی کے جمع شدہ لطائف کا جائزہ لیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ ان میں ادبی چاشنی، شوخی اور ظرافت سب کچھ ہے مگر پھوہڑ پن نہیں ہے۔ مثال کے طور پر ایک لطیفہ ملاحظہ فرمائیں۔
حفیظ جالندھری بیمار ہو کر لاہور کے اسپتال میں داخل ہو گئے۔ احمد ندیم قاسمی مشاعرے میں شرکت کے لئے گجرات آئے تو ملاقات پر ضمیر جعفری نے پوچھا ’’حفیظ جالندھری کا کیا حال ہے؟ ‘‘۔ قاسمی نے جواب دیا بیماری کی وجہ سے کافی کمزور ہو گئے ہیں۔ ضمیر جعفری نے پوچھا۔ ’’کیا اپنے شعروں سے بھی زیادہ؟‘‘
اب آپ اس لطیفے میں ایک طرح کی چاشنی کا احساس کریں اور اس کے اندر پوشیدہ ظرافت کا لطف اٹھائیں۔
نارنگ ساقی کی شخصیت کے متعدد پہلو ہیں وہ لطیفے بھی جمع کرتے ہیں، کتابوں پر تبصرے بھی کرتے ہیں، خصوصاً کشور ناہید کی خود نوشت ایک بُری عورت کی کتھا پر تحریر کیا ہوا ان کا تبصرہ بے حد مقبول ہوا ہے اس کے علاوہ وہ خود خوش کلام اور شوخ ہیں۔ اردو کے کاز کے لئے ہمیشہ دامے، درمے، سخنے تیار رہتے ہیں۔ ان کے دروازے اردو والوں کے لئے ہمیشہ کھلے رہتے ہیں۔ وہ شاعروں، ادیبوں کو کھلانے پلانے کا شوق بھی جنون کی حد تک رکھتے ہیں۔ اب اتنی ساری خصوصیات کا ایک شخص کے اندر مجتمع ہو جانا ایک غیر معمولی بات ہے۔ میری دعا ہے کہ وہ تا دیر اسی طرح اردو کی سرپرستی فرماتے رہیں۔

Previous articleاحمد کمال حشمی ایک تعارف از: “انسان گروپ”مغربی بنگال
Next articleطالبان کی واپسی از: مفتی محمد ثناءالہدی قاسمی

اپنے خیالات کا اظہار کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here