نئے امکانات پر دستک دیتا گرم سیر: عظیم انصاری از: عالیہ خان

0
78

پٹنہ، بہار

غیر ضروری فارسی زدگی سے مقدور بھر فاصلہ بندی اختیار کئے ہوئے سادہ، سہج، سلیس اور سرل زبان میں اپنے عہد کی شدتوں اور شفقتوں کا درد مندانہ بیان کرنے والے سرکردہ شاعر عظیم انصاری کلکتہ اور مضافات کے تازہ گو شعرا میں نمایاں ھیں۔وہ رائج تشبیہات اور علامات ، اشاروں کنایوں، لفظیات اور خیالات کو اپنے تجربے اور مشاہدے کی آنچ میں چمکا کر اس طرح شاعری کا روپ دیتے ہیں کہ اُن کے اپنے عہد کی ر عو نتیں اور رعنائیاں غزل کے شعروں میں محفوظ ہوتی جا تی ھیں۔
وہ بہت خوبی سے اپنی بات کہ سکتے ہیں جس میں انسانی دردمندی کی جھلک ملتی ھے اور طبیعت میں ایک گداز سا پیدا کرتی جاتی ھے۔
انسانی جذبوں کی تہذیب میں انکا سخن اُن رویوں کو بھی شریک _ ترسیل کرتا ہے جن میں جنوں اور ضد کی کارفرمائی ہو۔ مثال کے طور پر یہ شعر اُن کے حاوی رجحان اور نمایاں رویے سے الگ ہونے کے باوجود اپنی جاذبیت کی بنا پر کھینچتا ہے۔ اس میں ان کا ایک امکان بھی چھپا ہوا ہے۔

جس سمت میں واقع ھے وہ ممنوعہ علاقہ
جاتے ھیں اسی سمت کو ہم اور زیادہ

عظیم انصاری کے شعری اظہار میں جو فکری میلان نظر آتا ھے اس میں اسرار، للک، آگہی، فکرمندی دردمندی، بشر نوازی کی خصوصیات بہت کھل کر سامنے آتی ھیں

حد میں رہو ُیا حد سے گزر جاؤ عشق میں
اس لا علاج غم کی دوا دو طرح کی ھے

دنیا نہ جانے آج کہاں تک پہنچ گئی
اب تک پڑے ہوئے ھیں مگر بے خبر سے ہم

دشمن _ جاں ھے مگر پھر بھی وہاں جاؤں گا
اپنی محفل میں کبھی تو وہ بلا لے مجھ کو

ہزار مست سہی اپنے کام میں وہ عظیم
کسی سے ملنے وہ لیکن جتن سے جاتا ھے

ان اشعار میں عظیم انصاری کا فکری پھیلاؤ صاف نظر آ جاتا ھے۔عظیم انصاری کے” بہت محدود دستیاب سرمایہ ” میں شامل غزلیں ایک ایسے شاعر کا پتہ دیتی ھیں جو اپنے زمانے کو سانسوں کے ساتھ لفظوں میں بھی جی رہا ھے ۔ وہ شوق سے شعر کہتے ھیں اور چونکہ ان کے تنقیدی مضامین چھپتے رھے ھیں اس لئے یقین ھے کہ وہ ہم عصر ادب پر نگاہ بھی رکھتے ھوں گےاس لئے ان کے موضوعات اور اسلوب میں عصر یت کی جلوہ نمائی امکان میں ھے۔ اس اُمید کی ایک اور بنیاد اُن کے یہاں نئی یا کم نظر آنے والی زمینوں پر ھے۔

سے جاتا ھے۔ ردیف قوافی انجمن،بدن
لا ئق ردیف۔ قوافی نظارے ہمارے

دو طرح کی ھے ردیف ۔ قوافی سزا، فضا
گئے تھے ہم ردیف۔ قوافی س

طرح کی ھے ردیف ۔ قوافی سزا، فضا
گئے تھے ہم ردیف۔ قوافی سنوارے، گزارے

اور زیادہ ردیف۔ دم کم قوافی

ان میں کچھ نئی ھیں مگر کچھ ردیفوں کا استعمال کم ھو ا ھے پھر بھی اُن میں نیا پن ُیا تازگی ھے۔یعنی ایک ” وسعت ” کی تلاش اُن کو بھی ھے مگر حیرت انگیز طور پر اُن کا اپنے شعری رویّے سے متعلق تخلیقی بیان اس کی نفی کرتا ہے۔

عجیب شخص ھے اس کو پتہ نہیں شاید
غزل کا رنگ نئے پیرہن سے جاتا ھے۔

اُن کی غزلوں میں نمایاں بات وہ صفائی اور سادگی ھے جس میں وہ کوئی بڑی بات بھی آسانی سے کہ جاتے ھیں۔

میری آواز دب گئی ھے عظیم
شور اب دوسرا کرے کوئی

یہ شور اردو دانشوری کی اس احتجاجی روایت کی توسیع کہا جا سکتا ھے جو ریلے ریس کی طرح بیٹن ایک سے دوسرے ہاتھ میں منتقل کرتی ھے۔ یہ شور اردو غزل کا مبارک شور ہے جس کی پہچان عظیم

وہ اپنی گم ہوتی آواز پر پسپا ہونے کی بجائے اس کا ہیجان دوسری جگہ منتقل ہوتا دیکھنا چاہتے ہیں ۔
عظیم انصاری کو سمجھنے کیلئے یہاں موجود ان کے ” بہت قلیل” سرمایہ میں سے ایک غزل لی جا سکتی ھے۔

سارے جہاں کے واسطے تمثیل ھو گیا
جگنو تھا رہگزار کا، قندیل ھو گیا

واقف کہاں تھا کوئی مرے دل کے درد سے
آنسو گرے تو با عث _ ترسیل ھو گیا

چہرے پہ اُن کے دیکھ کے رنگینی بہار
موسم ہمارے دل کا بھی تبدیل ھو گیا

ابر_ سیاہ لگتا تھا شہ زور ھے بہت
آیا ھوا کی زد میں تو تحلیل ھو گیا

بس چند گز زمین کی خاطر وہ لڑ پڑے
اور فاصلہ دلوں میں کئی میل ھو گیا

تاریک راستوں میں بھٹکتا کہیں عظیم
اُن کا خیال راہ میں قندیل ھو گیا

یہ اُن کی یہاں جملہ دستیاب غزلوں میں اس اعتبار سے سب سے جاذب اور نمایاں ھے کہ اس میں اُن کی فکر کے پھیلاؤ نے اپنا امکان بہت حد تک سمیٹ لیا ھے۔چند گز زمین کیلئے آپسی جھگڑنے میں قبضہ سے نکل جانے والی میلوں پر پھیلی ہوئی زمین کا ذکر اصل میں تضاد کے بیان سے بات
بات کو زوردار بنا کے کہنے کی کوشش ھے جس میں میل کا⁦ قافیہ صرف کھپا یا نہیں گیا بلکہ اس کا تخلیقی استعمال کیا گیا۔ اسی طرح بادل کے چھٹنے کی کیفیت میں انہوں نے نئی نہ سہی ایک دلکش تصویر ضرور بنائی ھے ۔دوسرے اشعار بھی قاری کو روکتے ہیں۔
عظیم انصاری کی سیاسی بصیرت بھی شعر کے پیرہن میں آتی ھے اور ایسے اشعار کی پیشکش کا سبب بنتی ھے۔

جلا رہے ھیں ستم گر جہاں پہ گھی کے چراغ
وہاں سے آگ کا دریا گذرتے والا ھے

مجھے یقین ھے شہادت حیات بخشے گی
تمہیں گماں ھے وہ شخص مرنے والا ھے

لہو میں جس کے شہادت کا ھو نشہ شامل
کہاں وہ ر عب سے ظالم کے مرنے والا ھے

گھٹا کو دیکھ کے کامل یقین ھے مجھ کو
فضا کا⁦ رنگ نکھر کر بکھرنے والا ھے

ان اشعار میں عظیم انصاری ایک بیدار مغز شہری ہونے کا ثبوت دیتے ہیں جو زمانے کی روش اور رنگ کو خوب سمجھتا اور اُنہیں اپنی تخلیقی زندگی کے پڑاؤ کے طور پر متعین کرتا جاتا ہے۔

عظیم انصاری کی غزلوں میں ایک اہم بات ڈینگیں مارنے سے گریز ہے۔ وہ عزت دار، خوددار، ایمان دار اور صاحب_ کردار ہونے کے دعووں سے اپنی غزل کی داخلی اور بیرونی فضا کو داغدار نہیں کرتے جیساکہ اُن کے ہم عصر اور ہم شہر بہت سے دوسروں کے یہاں عام رجحان ہے۔
ان کی غزلوں میں ایک بیدار مغز سادہ مزاج نیک انسان نظر آ جاتا ہے جس کو زمانہ سازی سے دلچسپی نہیں۔
شعر گوئی اُن کا محبوب شوق ہے اور اس شوق کو وہ مکمل دیانت داری اور نیکی کے ساتھ پورا کرتے ہوئے ایک ایسا تسلسل برقرار رکھتے ہیں جس میں اُن

کی غزلوں کی قرات آسان اور دلچسپ رہتی ہے ۔
کہیں کہیں فکری اور فنی سطح پر کوئی اچھی واردات اس پورے عمل کو مزید خوش گوار بناتی چلتی ہے۔
عظیم کی غزلیں پڑھنے کا تجربہ بوجھل نہیں۔
اُن کی مزید غزلیں دستیاب ہونے کی صورت میں کچھ اور خصوصیات تک رسائی کی صورت نکل سکتی تھی مگر جو غزلیں دستیاب ہیں وہ اُن کی غزل کے تئیں وفادار ی اور افکار کی سطح پر ریا سے گریز اور اظہار کی سطح پر سعادت مندی کا ثبوت ھیں۔

اس طرح دیکھیں تو عظیم انصاری کی شاعری اپنے گونا گوں خصوصیات کی وجہ سے متوجہ کرتی ھے
اور زیادہ بڑے انتخاب ُیا مجموعہ کی موجودگی میں کسی اہم واردات کے وقوع پذیر ہونے کا امکان برقرار رکھے ہوئے ھے۔

Previous articleشہرِ ظلمت میں روشنی کا سفیر: پریم ناتھ بسملؔ از: کامران غنی صباؔ
Next articleایک مذاکرہ کے بہانے (آخری قسط) از:اشعرنجمی

اپنے خیالات کا اظہار کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here