نئی کہانی : سمت ورفتار از : خورشید حیات

0
159

تبدیلیاں زندگی کا نا گزیر عمل ہو ا کرتی ہیں۔ ہر زندہ معاشرہ میں، مختلف جہتوں میں تبدیلیاں رو نما ہوتی رہتی ہیں جن کے سہارے تہذیب و تمدن اور ادب و ثقا فت کا قافلہ آگے بڑھتا رہتا ہے۔ یہ تبدیلیاں کبھی روایت کی تو سیع کی شکل اختیار کرتی ہیں تو کبھی اس سے انحراف کی صورت میں نمایاں ہوتی ہیں۔ ہر عہد میں لکھی جانے والی کہانیوں کی اپنی دھڑکنیں ہوتی ہیں۔ یہ دھڑکنیں کبھی عالمگیر ہوتی ہیں تو کبھی جغرافیائی یا پھر علا قائی حدود میں سمٹ کر رہ جاتی ہیں۔

آج کی اردو کہانی بیسویں صدی کا سفر طے کرتے ہو ئے اکیسویں صدی میں داخل ہو چکی ہے۔ گلوبلائزیشن اور معاشی لبر لائزیشن کے اس عہد تک آتے آتے اردو کہانی نے جہاں ایک طرف ۱۰۹ سال پورے کرلیے وہیں دوسری طرف’’بڑے گھر کی بیٹی‘‘،’’ منگل سُتر‘‘ پہنے ۱۰۲ برس کی ہو گئی۔جب ہم مہا لکشمی کے پل پر کھڑے ہو کر داستان رنگ زندگی کردار کو قریب سے دیکھتے ہیں تو محسوس ہوتا ہے کہ ’’ جاڑے کی چاندنی ‘‘میں’’کفن‘‘ میں لپٹی ہو ئی’’لاجونتی‘‘ آج بھی مسکرا رہی ہے اور’’ سوا سیر گیہوں ‘‘ کا شنکر ابھی بھی زندہ ہے۔ انسانی نفسیات کے گہرے نباض کے’’جنازہ‘‘ پر آج بھی دُھوم دَھام سے پھُول مالائیں چڑھائی جارہی ہیں۔ انسانی چہروں میں پوشیدہ تضادات کے قصے سنانے والے، کہانی فلک پر موضو عاتی تبدیلی لانے وا لے، غلام حسن کے سعادت حسن کا ’’نیا قانون‘‘ آج بھی اپنی موجود گی کا احساس دلانے میں کامیاب ہے۔ 24 اکتوبر 1991 کو ممبئی کے چندن واڑی میں نذر آتش، شاہد لطیف کی عصمت، اردو کہانی کی فلک اول عصمت آپا کی ’’لحاف‘‘ میں لپٹی ہو ئی’’ نئی دلہن‘‘ سے، بنائوٹی پھولوں سے سجے ہو ئے بیڈ روم میں، ترقی کرتے ہوئے شہر کا کہانی پسند قاری آج بھی باتیں کرتا ہے۔ مگر ۱۹۴۹ء کے’’گیندا‘‘ کی خوشبو کو محسوس کرنے میں وہ قاصر ہے۔ ہر وہ کہانی نئی ہے جو تہذیب نو کی تنگنائیوں سے نکل کر اور حواس خمسہ پر عائد حد بندیوں کو توڑ کر، سبز استبرق میں ماورا ئے طبیعاتی دور کا سفر کرتی ہے۔حیات فانی کی ہر وہ کہانی جو اپنے عہد کی نمائندگی کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے عہد سے بہت آگے کا سفر طے کرتی ہے۔کہانی بدن قاری کو سگما بونڈے سے جوڑنے میں کامیاب نظر آتی ہے۔

سائنس اور ٹکنالوجی کے نئے ترقیاتی دور میں جب سوچنے اور سمجھنے کے پیمانے بدل رہے ہیں۔سائنسی اور میکانیکی تہذیب کی نئی علامتیں منکشف ہورہی ہیں۔ہمیشہ ساتھ چلنے والے پرا نے روشن عقیدہ کی جگہ نئے نئے عقیدوں نے لے لی ہے۔نئی صدی کی نئی کہانی آفاقی لفظی نظام کا حصہ بنتے ہو ئے زندگی کا ازسر نو محاسبہ کرتی ہے۔ آج کے کہانی کار کا سمعی اور بصری پیکر فوق الفطری مناظر کے ساتھ کہانی فلک کے ساتویں در کو کھولنے میں کامیاب نظر آتا ہے
جب کچھ نہیں تھا
چہار سو پانی تھا
سطح آب پر صرف’’تم‘‘تھے
آج سب کچھ ہے، مگر پانی نہیں!
نئی کہانی روشنی میں نہائی ہوئی زندگی کی سڑک کی پیاس ہے، جس کی چوڑی چھاتی ہر عہد کی تاریخ کی خاموش گواہ بنتی جارہی ہے۔ زخم سے کہانی نہیں بنتی۔زخم کی یاد سے بڑی کہانی بن جاتی ہے۔ کہانی تو جذبات و محسوسات اور مشاہدات کی تہذیب کی ایک صورت ہے۔ مگر کیا کہیں ہم اس صورت کو، کم بخت ہمیشہ ایک سی نہیں رہتی۔ دیواروں کے کبھی ختم نہ ہونے والے سلسلوں کی جب شروعات ہوئی الگ الگ وچاروں کے خیموں میں جب کہانی قبیلہ بٹنے لگا۔ کالی تحریروں اور وجودیت کی کھوکھلی علامتوں کے نام پر پنڈولم جھولنے لگا اور اس کا ٹا ئم پیرئڈ معلوم کیا جانے لگا تو فیشنی جدیدیت کے علمبرداروں کی کہانی ایک ایسے درخت کی زبان بن گئی جسے قاری کی سماعت نہیں سن سکی۔ الٹرا سونک آوازوں کو ہم کہاں سن پاتے ہیں؟
وہ دن بڑا منحوس دن تھا۔ ہم سب کے خواجہ محمد اکرام الدین اور عبد الحئی!
جب مداری نے اپنے تھیلے سے ڈگڈگی نکالی تھی۔

بندر اور بندریا مداری کے اشارے پر ناچ رہے تھے اور اردو کہانی کا قاری خاموش تماشا ئی بنا بیٹھا تھا۔ کہانی کو ایک عرصے تکDehumaniseکردیا گیا۔ فن کو غیر انسانی بنا دیا گیا۔لفظوں کا نظام درہم برہم ہوگیا، تخلیق و تنقید کے سارے اسالیب گڈ مڈ ہو گئے، کہانی کار کے پاس زبان تھی مگر قوت گو یا ئی مداری کے پاس گروی رکھی تھی۔ مشاہدے کی دو صورتیں ہوتی ہیں۔ایک انفرادی دوسرا اجتما عی۔ کہانی تو’’میں‘‘ کو خود سے جدا کر کے’’ہم‘‘ بننے کا عمل ہے۔

ایک خاص سانچے میں ڈھل جانا انجماد کی کیفیت ہوتی ہے۔ کہانیوں کی سنہری روا یت سے جو انحراف کیا گیا اس کا انجام یہ ہوا کہ قاری کہانی آنگن سے غائب ہو گیا۔ ماضی کے تمام ورثے سے انحراف اور احتجاج کر نے وا لے بڑے بھیا لوگ انفرادی اور اجتماعی دونوں طرح کے انتشار میں مبتلا تھے۔ وہ بھول گئے کہ ہر عہد میں پرانی روایت کی لالٹین کی جلتی ہوئی باتی بھی ساتھ ہوتی ہے۔ بھیڑ میں سب سے الگ دکھائی دینے کی خواہش میں لفظ لفظ چہرے مسخ ہوتے رہے اور مفاہیم کی ڈور الجھتی چلی گئی۔ کہانی کے نام پر’’صرف بے ربط دستخطیں اس کامنہ چڑا رہے تھے۔‘‘ اور چند ایسے بھی چہرے تھے جو’’پیدا ہوتے ہی مرگئے تھے اور مرے مرے ہی انہوں نے ایک لمبا سفر طے کیا تھا۔‘‘ اس نسل کا المیہ یہ تھا’’جس سے امیدیں وابستہ کیں وہ شروع میں تورہبری اور حفاظت کرتا رہا۔ راہوں کے کانٹے صاف کر نے کا وعدہ کرتا رہا۔ جب مطمن ہو گئے تو معلوم ہوا ٹیلے اور لند ہو گئے، راستے اور پر خطر ہو گئے‘‘،’’اس کے چہرے پر مکڑیوں نے جالا تان رکھا ہے۔ کاش اس کے چہرے پر چیل کوئوں نے گھونسلا بھی بنا دیا ہوتا۔ یہ بو ڑھا درخت کئی بار میرے سامنے آچکا ہے۔ میں نظر اٹھا کر چاروں طرف دیکھتا ہوں۔ ہر طرف لال لال زبانیں ہیں یا جھنڈیاں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘ قوسین میں یہ جو الگ الگ کہانیوں کے جملے ہیں۔ ان کہانی چہروں کو تو آپ پہچانتے ہی ہوں گے۔ تجریدی اسلوب لیے بہت سارے کہانی کار جب گھوڑوں کے ساتھ نال ٹھکا کر ساتویں سواروں میں شامل ہوئے تو ان کا انجام کیا ہوا؟
1980 کے بعد ابھر کر سامنے آنے والی نسل پر گفتگو کرنے سے پہلے ایک ایسے تا لاب سے مل آیا جائے جس کے ٹھہرے ہو ئے پانی میں مسخ شدہ کہانی بدن چہرے انتہائی کرب اور شدید اذیت میں مبتلا ہیں۔

جب ہم 1960 سے 1980 تک کی کہانیوں کا تجزیاتی مطالعہ کرتے ہیں تو اس نتیجے پر ضرور پہنچتے ہیں کہ اس درمیان کہانی کی ہیئت میں کئی طرح کی تبدیلیاں رو نما ہو ئی ہیں۔1960 میں سب سے پہلے جو تجربے ہو ئے وہ تجربے در اصل ترقی پسند کہانی کاروں کے رد عمل کے طور پر ہمارے سامنے آئے۔ لہٰذا کہانی کا بیانیہ انداز ختم کر کے ایک نیا انداز اپنایا گیا۔ جس میں شعور کی رو کی تکنیک، علامات کے ذریعہ کہانی پیش کر نے کی تکنیک وغیرہ سامنے آئی۔جس میں کئی طرح کے فرانسیسی نیز عالمی تحریکات جنہوں نے کائنات کو متاثر کیا تھا ان سب کا تجربہ بھی اردو کہای میں در آیا،اسی کا نتیجہ تھا کہ نر گسیت، دادازم وغیرہ پر مبنی کہانیاں ہمارے سامنے آئیں۔ 1960 سے 1980 تک کہانی کی متعین ہیئت واضح نہیں ہو سکی۔ اس لیے کہ یہ دور ہی تجربے کا تھا۔ پریم چند اور ان کے ہم نوا ئوں کے اسٹائل سے ایک الگ اسٹائل اپنایا گیا۔ بلکہ یوں سمجھا جائے کہ پریم چند کے بعد جو ترقی پسند کہانی کار نواب رائے کی ڈگر پر چل رہے تھے ان سے انحراف کی کوشش پورے دور میں نظر آتی ہے۔ مگر اس دور میں ایسے باشعور فن کار کم تھے جن کے تجر بات، خیالات، افکار اور محسوسات ان کے اسٹائل میں مل کر شیرو شکر ہو ئے اور موضوع اور فن کو ہم آمیز کر کے کوئی اثر پیدا کرسکتے ہوں۔سلام بن رزاق، شوکت حیات، انورخاں، انور قمر،شموئل احمد، عبدالصمد،بیگ احساس اور سید احمد قادری کو چھوڑ کر زیادہ تر کہانی کار ایسے تھے جو علامت نگاری کے نام پر اہمال کی منطق سے گذررہے تھے۔ چونکہ یہ تحریک ایک ردعمل کے طور پر ابھری تھی۔اس لیے اس میں بڑی شدت تھی۔ ہر کس و ناکس الٹی سیدھی بکواس کر کے کہانی کار بن رہا تھا۔ ان کی کہانیوں میں جو ابہام اور الجھا ئو تھا وہ فطری نہیں تھا، کوشش کر کے پیدا کیا گیا تھا، لیکن اس تحریک نے اردو کہانی کو ایک فائدہ ضرور پہنچایا کہ محض فیشن کے جدیدے جو علامت نگاری اور نئی کہانی کے نام پر انتشار کی صورت پیدا کررہے تھے، تھک ہار کر بیٹھ گئے اور جنوئن کہانی کار ایک لخت الگ ہو گئے۔انہوں نے کہانی کے مزاج کا از سر نو جائزہ لیا اور موضوع کی ترسیل کی جانب نگاہ کرتے ہوئے علامت اور پیکر تراشی میں اس بات کا خیال رکھا کہ ان کی باتیں ہزار پردے میں ہونے کے باوجود مجذوب کی بڑ نہ سمجھی جائیں بلکہ ان کا معنی و مفہوم نکل سکے، جو قاری کے ذہن کو اس کے محسوسات اور تخیل کو متاثر کر سکے۔ چنانچہ 1969 کے آخر تک جو صورت حال تھی اس سے 1970 کے بعد آنے وا لے فن کاروں نے گریز کیا۔ 1970 سے 1985 تک کی کہانی کی جو ہیئت سامنے آتی ہے۔ اس میں کہانی کی علامتی زبان کو بھی ایک نیا معنی و مفہوم عطا کرنے میں ساجد رشید، سید محمد اشرف، طارق چھتاری، اسرار گاندھی، غضنفر وغیرہ کامیاب رہے۔ اس دور میں علامت اور استعارے کی تحریر نگاہوں میںبھی باضابطہ ایک مکمل سچویشن یا ایک مکمل سانحہ یا پھر ایک مکمل احساس کی تصویر ابھرتی ہوئی نظر آتی ہے۔

ہر وہ تخلیقی فن کار جو محض فیشن کے طور پر نہیں لکھتا اس کے یہاں موضوع اور اسلوب کو الگ الگ خانوں میں رکھ کر نہیں دیکھا جا سکتا۔ ان کا مو ضوع ہی ان سے اسلوب کی تعمیر کرا لیتا ہے۔
کہانی آنگن میں اچھل کود اور لنگڑی کبڈی کا کھیل زیا دہ دنوں تک نہیں چلتا، آخر کیا وجہ ہے کہ ہم آج نئی صدی کے گلوبل معاشرہ میں، طلسماتی جہان کی لا محدود ہوتی ہوئی تمنائوں کی پیاس کے درمیان، ترقی پسندی کے دور میں لکھی گئی یاد گار کہانیوں کو بھلا نہیں پاتے۔ ویسے ’’ترقی پسند‘‘ تو ہر کہانی کار ہوتا ہے اگر وہ ترقی پسند نہیں ہوتا تو تعیش پسندی اور نمائش پسندی کے اس عہد میں بھی بلونت سنگھ، اقبال مجید، عابد سہیل، جو گیندر پال، واجدہ تبسم، غیاث احمد گدی، سہیل عظیم آبادی، خدیجہ مستور، ہاجرہ مسرور،کلام حیدری، انور عظیم، قاضی عبد الستار، رتن سنگھ اور لال بی بی کے ’’بند کمرہ‘‘ کی ’’انور آپا‘‘،’’کالی شلوار‘‘ میں ترقی کرتے ہوئے شہر کی’’اونگھتی ڈیوڑھی پر جاگتی زندگی کاقصہ نہیں بنتی۔
قصہ کالے پہاڑ کی مضبوط بانہوں سے آزاد ہوتی ہو ئی کہانی ندی کا۔
نگاہوں میں تپتے ہوئے، بھیگے ہوئے بدن شور کرتے ہیں۔کبھی سہمی ہوئی،سوکھی ہوئی ٹہنیاں شور کرتی ہیں، سکڑتی ہوئی ندیوں کو چھاتیاں چیختی ہیں۔ چلو یہاں سے دور زمین سے آسمان تک پرواز کرنے وا لے حروف پرندوں کی بے خوف اڑان بنتے ہیں جہاں حدود نہیں، سرحدیں نہیں، آڑی ترچھی لکیریں نہیں۔

یہ اضطراب، یہ بے قراری ۱۹۷۴ء کے بعد ابھر کر سامنے آنے وا لے کہانی کنبہ کی تخلیق کی بنیاد بنی اور ہر کہانی انسانی شعور کے ارتقا کا استعارہ۔
Chaosسے یا پھر یوں کہا جا ئے کہ عدم توازن سے کہانی ندی بہتی ہے، کالے پہاڑ کی مضبوط بانہوں سے جب یہ آزاد ہوتی ہے اپنی راہ خود بناتے ہو ئے، کھلی فضا میں زمین کے نام ایک نئی ہریالی لکھ جاتی ہے۔ کہانی ندی کو بہنے دو، مچلنے دو، تھرکنے دو، مت بانٹو اسے۔اسے بانٹو گے تو یہ صدی روئے گی۔
1974 کے بعد کے کہانی کار کا کمٹمنٹ کسی خیمے میں رکھے بتوں سے نہیں ہے اور نہ ہی یہ بتوں کو توڑ کر الماری میں سجانے کے عمل سے گزر رہے ہیںؓ۔ان کے تخلیقی رویے کوdefine کرنا بڑا مشکل امر ہے کہ مچھلیاں جانتی ہیں ندی کی لہر میں بہتا ہے کوئی اور۔۔۔۔۔۔وہ سارے چہرے جو مچھلیوں کو ندیوں کے خلاف ورغلاتے رہے تھے، انہوں نے 1985 تک آتے آتے اس ’’ندی‘‘ کی لہروں میں پوشیدہ صفات خلق کو بہت قریب سے محسوس کرلیا تھا مگر اعتراف کا انداز کچھ جدا جدا سا تھا۔ پہلی مرتبہ جب صور پھونکا گیا کوہِ سیاہ کی بلندی سے۔۔۔۔۔
زمانہ تھا 1974 کا۔۔۔۔۔۔
’قلم کا مزدور‘ زندگی کا مفسر اور ترجمان 13 سال کی عمر میں’’اپنی اپنی صلیب‘‘ لیے زمین و آسمان کی باتیں کررہاتھا نام تھا ’’رو مانی‘‘ نہیں نہیں مشرف عالم ذوقی!
حیات کے بحر بیکراں میں خورشید حیات کوئی اہم نام نہیں، مگر خورشید کی اپنی اہمیت اور حیات سے دنیا کی رو نق کا انکار کسے ہو سکتا ہے کہ خورشید ہے تو حیات ہے خورشید نہیں تو قیامت۔۔۔۔۔۔14 سال کی عمر میں وہ ’’انوکھی تبدیلی‘‘ کے ساتھ اپنی موجودگی کا احساس دلاگئے، بارہ سال کی عمر میں ترنم ریاض’’دل فریب زدہ‘‘ 6 مارچ 1954 کے رفیع حیدر انجم جب 20 برس کے ہو گئے تب ان کی تحریر بولنے لگی،’’شمع ہر رنگ میں جلتی ہے،‘‘ 19 سال کے قاسم خورشید کی انگلیوں میں پھنسے قلم نے کہا’’ روک دو‘‘۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مگر تخلیقی لہر کو کہاں کوئی روک پایا ہے؟کہانی بدن مسافر سست روی کا شکار ہو سکتا ہے۔ مگر کہانی شہر میں جاگتی زندگی کا سفر جا ری رہتا ہے۔ 1974 ہی میں نگار عظیم ’’ عقیدت کے آنسو‘‘ کے ساتھ کہانی ندی لہر کا حصہ بنتی چلی گئیں۔ آدمی بولنے سے تکلیف اٹھا تا ہے اور جانور نہیں بولنے سے۔۔۔۔۔
پیغام آفاقی جب 19سال کے ہو ئے 1975 میں آج کل کے صفحات پر ’’ لو ہے کا جانور‘‘ بولنے لگا سنتے ہیں قیا مت نہ آئے گی جب تک’’ جانور‘‘ آدمیوں سے باتیں نہ کر لیں گے۔
ہاں تو میں یہ کہہ رہا تھا، پہلی مرتبہ جب صور پھونکا گیا، مسخ شدہ چہرے بے ہوش ہو کر گر پڑے تھے اور نئی تخلیقی توانا ئی کے ساتھ نر سنگھا پھونکنے وا لی نسل کو دزدیدہ نگاہیں گھوررہی تھیں۔
یہ بھی ایک اتفاق تھا کہ 17 مارچ 1985 کو ہمہ رنگ، گوپی چند نارنگ نے جب نرسنگھا پھونکا۔نویں دہائی کے کہانی کاروں کی سمجھ میں یہ بات آ گئی کہ یہ خاموش اعتراف ہے اس نسل کاجو،درویش صفت لیے،بڑی خاموشی سے کہانی ڈگر کو ایک نئے اور دائمی رنگ میں رنگتے جا رہے تھے۔ٹھیک اسی طرح جس طرح ہری گھاس رنگتی ہے چپکے سے اپنی ہر ڈگر کو!
کیا نویں دہائی میں ابھر کر سامنے آنے وا لی نسل کی چٹکی میں بہت دم ہے کہ جس کی چٹکی میں دم ہو وہی اچھا لہریا رنگ سکتا ہے۔ کیوں میں نے کچھ غلط کہہ دیا؟
’’ ایک زندہ کہانی‘‘،’’قبیلہ‘‘،’’خواب کہانی‘‘ کی ’’تعبیر‘‘ لیے’’بارش‘‘ کے موسم میں ’’سندھی بیلا‘‘ اپنی شناخت کی خاطر’’ ٹوٹی چھت کے مکان سے’’ شبراتی‘‘ اور’’غلام بخش‘‘، ’’بابا‘‘ کی’’پانچ انگلیاں‘‘ تھامے پہاڑ کی چوڑی اور مضبوط بانہوں کے بہت قریب تھے۔ آسماں سے لفظ لفظ بوندیاں برس رہی تھیں جو پہاڑ کی بانہوں سے آزاد ہوتی ندی سے مل کر شاید یہ کہہ رہی تھی یہ صورتیں الٰہی کس دیس بستیاں ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پہاڑ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مرد۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔افسانہ
ندی۔۔۔۔ عورت۔۔۔۔۔۔۔ کہانی
کہیں ایسا تو نہیں فسوں سازی میں ماہر پہاڑکی بائیں پسلی سے کہانی ندی نکلی ہے۔ افسانہ اور کہانی، اردھ ناری ایشور! افسانہ کہانی!! پہاڑ ندی۔۔۔۔۔ندی سمندر!!! نہیں،نہیں،نہیں!!!
یہ تو گذرے ہوئے لو گوں کی داستان رنگ زندگی کا چہرہ ہے۔ جب جب افسا نہ پر برا وقت آ یا، کہا نی بدن نے اسے سنبھا لا۔ مغلوب و مفتوح کی داستان، قصص حویلی کے کردار شواہد ہیں، اپنے زمانے کی دھڑ کنوں کے سر کٹی لاشوں کے قصوں کے، ہر رات نئی عورت سے جنسی لذت حاصل کرنے کے بعد وہ فسا نہ بدن مرد، مٹی بدن کہا نی عورت کا قتل کردیتا۔پھر ایک رات ایسی بھی آئی، جب خوف سے سہمی ہوئی عورت، خواب خواب زندگی کی نئی نئی داستان سناکر، فسانہ کی جز و لاینفک بن گئی۔ ہر افسا نی وجود میں ایک’’کہانی‘‘ ہوتی ہے۔کہانی جو ہر عہد کی گواہ بنتی ہے۔ داستان رنگ کہانی، آنگن میں دیواریں کھڑی نہیں کرتی وہ تو جمالیات کا عنصر بن، غیر فطری عناصر سے رشتہ توڑتے ہوئے،فطرت سے اپنا رشتہ مضبوط کرتی ہے۔
بہت جیودے وچ تدبیر کرکے
فریاد پہاڑنوں پھوڑدیا اسے
جب افسانہ کہانی، اکائی کی صورت میں راہ حیات پر چہل قدمی کرتے ہیں، حیات فانی کی دھنک رنگ خوشبو مشام جاں میں اتر کر ہولے سے کہتی ہے۔ دیکھو نا، پروائیوں میں یہ کس کی خوشبو ہے؟
تخلیق، کنکریٹ سلیپر سے جڑی ہوئی ریل کی پٹری کی طرح ہوتی ہے۔روندے جانے کے باوجود برہا کے گیت گاتے ہوئے ہر میل؍ ایکسپریس ٹرین میں بیٹھے مسافر کو، رنگ و نسل کی تفریق کے بغیر، اس منزل تک پہنچا تی ہے جہاں سے ایک نئے سفر کا آغاز ہوتا ہے اور اس سفر میں انکشافات کی نئی نئی دنیا آباد ہوتی ہے۔
میں بہک گیا شاید، مگر کیا کروں، سفر میں خیال اور موضوع یکساں کہاں رہتے ہیں؟ مگر یہ بھی ایک سچ ہے کہ بے ربطگی میں بھی ایک ربط ہوتا ہے اور ہر بے چہرگی کے پیچھے ایک چہرہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔!
ہاںتو دوستو! وہ زمانہ تھا 1985 کا اور قصہ تھا دیو قامت پہاڑ سے صور پھونکنے کا۔ مشرق کی طرف پہاڑوں کی بلند چوٹیوں پر افسانہ، کہانی خاندان کے وہ سارے چہرے جمع تھے، جنہوں نے 1974 سے 1986 کے درمیان اپنی ایک الگ پہچان بنا لی تھی۔ چہرے تو الگ الگ تھے مگر روح ان سب کے جسم میں ایک تھی۔ مشرف عالم ذوقی، نور الحسنین، خورشید اکرم، اسلم جمشید پوری، مظہر سلیم، ایم مبین، رفیع حیدر انجم قاسم خورشید، خورشید حیات، احمد صغیر، معین الدین عثمانی، اخترآزاد، عارف خورشید، عظیم راہی،م۔ناگ، اشتیاق سعید، سید احمد قادری، صغیر رحمانی، دیپک بدکی، اقبال حسن آزاد، نگار عظیم، ترنم ریاض، شائستہ فاخری، غزال ضیغم، نفیس بانو شمع، شکیل پونم، بشیر مالیر کوٹلوی، ایم۔اے حق، تبسم فاطمہ، صادقہ نواب سحر اور ڈھیر سارے چہرے ’’ ایک مٹھی خاک‘‘ لیے’’شہر‘‘ سے دور ( ایک ایسے ماحول سے نکل کر جہاں معاشرتی عقیدوں والے چہروں کی خیمے وا لوں سے جنگ جاری تھی۔)داہنے ہاتھ میں کہانی کتاب لیے پہاڑ کی چوٹی پر پہنچ رہے تھے۔
کائناتی سچائیاں جب ان سب کی انگلیاں تھا مے او پر کی جانب بڑھ رہی تھیں میں نے دیکھا دریائے جدید افسانہ سانپ کی طرح،بل کھاتا ہوا، پستی کی طرف بہہ رہا ہے۔ فیشنی جدیدیت کے علمبرداروں میں شدید گھبراہٹ کی کیفیت طاری تھی۔ وہ سارے کے سارے لوگ جو اپنی آئیڈیا لوجی کے ساتھ ناکام دفن ہوئے تھے، باہر آرہے تھے کہ صور پھونکا جا رہا تھا۔
افسا نہ کہا نی منظر (1985-86)
پہلا منظر : 17مارچ تا 21؍ مارچ 1985
1970 کے بعد کے افسانے خراد مشین پر تھے اور گوپی چند نارنگ، کہانی روایت کی جڑوں سے الگ ہوچکی نسل کو نئی راہ دکھا رہے تھے۔ یہ وہی شا ہراہ تھی جس پر نویں دہائی کے کہانی کار چل رہے تھے۔ وہ کیسے دیکھئے تحریر چہرہ:
خ۔ح :ایک سوال اور، اب اردو افسا نہ نویں دہا ئی میں داخل ہو چکا ہے اور اس کے پیچھے روا یات و تجربات کا عظیم سر مایہ ہے تو ایسے میں نویں دہا ئی کے لکھنے وا لوں نے کیا اپنی کوئی الگ پہچان بنا ئی ہے اور کیا مستقبل میں اردو افسا نے کا کوئی نیا رخ سا منے آ نے والا ہے۔جس طرح ماضٗی میں نفسیاتی، علامتی، استعاراتی، تجریدی غرض کہ مختلف رخ سامنے آتے رہے ہیں۔ کیا نئے افسانہ نگاروں نے قاری اور تخلیق کار کے بیچ کھائی کو کم کر نے کی کوشش کی ہے؟
کلام حیدری: ہر دہائی میں افسانہ نگاری شروع کرنے والے اتنی جلدی اپنی پہچان بنا لیں گے؟ انہیں اور وقت ملنا چاہیے۔ہاں ایک بات ذرا صاف ہے۔ اس لیے کہہ سکتا ہوں کہ بے معنی، مبہم اور ہذیانی تحریر کا جو دَور تھا وہ شکر ہے ختم ہو گیا، بیانیہ نے اپنی سخت جانی اور بے پناہ طاقت کا اس سے منکر لوگوں کو قائل کردیا۔ قاری اور تخلیق کے بیچ کھائی کھودنے وا لے اپنے دوستوں کی تعریفوں میں زندہ ہیں ورنہ ان کی وفات امر واقعہ ہے۔
(آہنگ اپریل 1985،صفحہ9)
خ۔ح : میں اپنی نسل کے افسا نہ نگاروں کے سلسلے میں آپ کی را ئے جاننا چاہوں گا۔ آپ کے بعد کی نسل کے سلسلے میں آپ کے تاثرات کیا ہیں؟ کیا آپ کی نسل اور آج کی نسل کے در میان کوئی واضح فرق نما یاں ہو سکا ہے اگر ہاں تو یہ فرق منفی ہے یا مثبت؟ در اصل میں آپ سے نویں دہائی کی افسا نہ نگاری کے بارے میں جاننا چاہتا ہوں؟
رضوان احمد : نویں دہائی کے افسا نہ نگار زیادہ محتاط ہو کر لکھ رہے ہیں کیو نکہ ان کے سامنے پچھلی نسل کے تجربات بھی ہیں۔میری نسل کے لوگوں نے تجربات پر وقت بہت بر باد کیا اور اس میں تخلیقی صلاحیتیں ضائع ہوئی ہیں۔ان تجربات سے ہم کو بہت کم چیزیں مل سکی ہیں۔ مگر آپ کی نسل کے افسانہ نگاروں کے لیے یہ چیزیںRaw Materialکا کام کررہی ہیں۔
آٹھویں اور نویں دہائی کے افسانہ نگاروں میں کوئی ایسا واضح فرق نہیں ہے کہ حد فاصل کھینچی جا سکے۔ مگر ایک فرق واضح ہے کہ نویں دہائی کے افسا نہ نگار علامتی، تجریدی یا جدید کہانی سے انحراف کر کے کہانی پن کی جانب مائل ہو گئے ہیں۔ شاید اب وہ چھپانے سے زیادہ وضاحت میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ اس کا فیصلہ تو ناقدین ہی کرسکتے ہیں کہ ان کا رویہ منفی ہے یا مثبت۔ (آہنگ اپریل 1985 ص 29)
عبد الصمد نے اس سوال کا جواب کچھ یوں دیا :
عبد الصمد : میں اپنے بعد کی نسل سے ما یوس نہیں ہوں۔ سب سے بڑی بات تو یہ ہے کہ ان لوگوں کے یہاں فیشن اور روش دیکھ کر چلنے وا لی کوئی بات نظر نہیں آتی۔ ان لوگوں نے کہا نی کو صحیح Perspective میں سمجھنے کی کوشش کی ہے۔ وہ کہانی، کہانی کے ذریعہ لکھ رہے ہیں۔ صرف اتنا مشورہ ہے میرا کہ اگر کوئی آپ لوگوں کو با نس پر چڑھا نا چاہے تو ہر گز مت چڑھئے گا اور زمین کو چھوڑنے پر کبھی راضی مت ہوئیے گا۔
شوکت حیات نے میرے سوال کے جواب میں کہا :
آٹھویں اور نویں دہائی کے جنوین افسا نہ نگار کسی وا ضح فرق کے بغیر افسا نوں کے ساتھ ایمانداری برتتے ہوئے افسا نوں کو دہائیوں کے دائرے سے بلند کر کے ہر دہائی میں یاد کیے جانے والے یاد گار افسا نوں کی تخلیق میں کو شاں ہیں۔
وہی افسانہ نگار اہم ہوں گے جو دہائیوں کی سر حدوں کو توڑتے ہوئے اوپر اٹھ سکیں گے۔ مجھے یقین ہے کہ افسانے کی آزاد تخلیقی فضا کو بحال رکھنے میں اور اسے مزید صاف کرنے میں آنے وا لی نسل کے جنوئن افسا نہ نگار ہم لوگوں سے بھی زیادہ فعال اور گار گر ہوں۔(آہنگ۔اپریل 1985 ص 27)
نیا نظام۔ نئی میزان
1980 کے بعد کہانی کا ایک نیا نظام نئی میزان کے ساتھ سامنے آ یا۔
زندگی کہا نی۔ کہانی زندگی
انفرادیت پسندی کی ایک روایت، خود غرضی کی بد ترین شکل بن کر ادب بازار میں جب دکھا ئی دے رہی تھی اور تہذیبی جارحیت کا خطر ناک کھیل جاری تھا۔ جس کی زد میں زبان بھی آرہی تھی۔ ۱۹۷۴ء کے بعد وا لوں نے بڑی شدت سے یہ محسوس کیا کہ کہانی سننے وا لے کان اور کہانی سنانے وا لی زبان اگر گم ہوئی تو تہذیبی، ثقا فتی روایت کا قیمتی ورثہ ہم سے دورچلا جائے گا۔ معاشرہ جب گم ہونے لگا اور اخلاقی، روحانی قدریں شکست و ریخت کی منزلوں سے گذرنے لگیں تو قرۃ العین حیدر کو یہ کہنا پڑا:
’’نئے لکھنے وا لوں کو نہ صرف افسانہ بلکہ اردو زبان اور قاری کے بارے میں سو چنا چاہیے ورنہ وہ دن دور نہیں جب ایک فن کار دوسرے فن کار کا قا ری ہو گا اور بس۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘(قرۃ العین حیدر،17 مارچ 1985)
قاری لفظ سے مجھے یا آ رہا ہے قوس( نیا افسا نہ کچھ نئے نام) مئی 1985 اور حالی(نئی کہانی نیا مزاج)1986 شمارہ 5-6 جس کی ترتیب و تہذیب میں بدن میرا تھا احمد صغیر کی سائیکل تھی اور کہانی کا نیا صغیر بدن سیٹ پر سوار۔ گیا شہر میں دولیتھو پریس تھے۔ کلام حیدری کا ہند لیتھو پریس جہاں سے’’ آہنگ‘‘ اور ’’مورچہ‘‘ شا ئع ہوتا تھا۔دوسری طرف تاج پریس تھا جہاں سے ’’سہیل‘‘،’’قوس‘‘ اور’’حالی‘‘ کے ہر شمارہ کی چھپائی ہوتی تھی۔
96 صفحات کا قوس( نیا افسانہ کچھ نئے نام) اور 152 صفحات کے ساتھ جب حا لی کا خصوصی شمارہ نئی کہانی نیا مزاج آ یا تو مجھے آج بھی یاد ہے اس کی ایک بھی کا پی نہیں بچ پائی تھی۔ نئے کہا نی کا ر نئے قا ری کو سا تھ لے کر آ ئے تھے۔
چلئے! پیچھے مڑ کر دیکھتے ہیں اس نسل کے تخلیقی وتنقیدی رویوں کو۔
مشرف عا لم ذوقی:
مذاکرہ کے لیے یہ عنوان پسند آ یا۔ شاید اس مذا کرہ سے نقادوں کی ایک ایسی پود تیار ہوسکے جو نویں دہائی میں سانس لینے والے پر اعتماد اور با شعور افسا نہ نگاروں کا خیر مقدم کر سکیں۔۔۔۔۔۔ نویں دہائی کا تخلیق کار پوری طرح سے اس معاشرے کی تخلیق کرتا ہے جس میں کہ وہ سانس لے رہا ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔آٹھویں دہائی کا سورج جب غروب ہونے کو تھا تو با شعور اور پر اعتماد افسا نہ نگاروں کا قلم تب تک حر کت میں آچکا تھا جو آ نے وا لے وقت میں پوری طرح سے اپنی شناخت کرا سکیں گے اور پالتو قسم کے نقادوں کی آ نکھیں کھول سکیں گے جن کی وا قفیت پرا نے پرچوں کے مضا مین تک ہی محدود ہے(قوس نیا افسا نہ کچھ نئے نام: اکثر جدید افسانہ نگار مصنوعی جدیدیت کا شکار ہیں۔ مذاکرہ ص 18)
رفیع حیدر انجم :
نویں دہائی کے آ غاز سے جدیدیت کا افلا طونی دور ختم ہو چکا ہے اور اب افسا نہ ٹو پھوٹ کے عمل سے گزر کر تجرید سے تجسیم اور مصنوعی پن سے حقیقت نگاری کی طرف گامزن ہے۔ اب افسا نہ قا ری کو سا تھ لے کر ماجرا کی تلاش میں نکل کھڑا ہوا ہے۔(قوس نیا افسانہ کچھ نئے نام: ص 21)
رام لعل :
نویں دہائی یقینا افسا نے کی وا پسی کی دہا ئی ہے۔
ڈاکٹر محمد حسن :
کہا نی کا جو میلان سا منے آ رہا ہے وہ نویں دہائی کے افسا نہ نگاروں کی دین ہے۔ (حالی،نئی کہانی نیا مزاج)
حالی کے اس خصوصی شمارہ میں اختر وا صف، مشرف عالم ذوقی، خورشید حیات، رفیع حیدر انجم، رحمن شا ہی اور احمد صغیر کی کہا نیاں اور انٹرویوز تھے۔ کلام حیدری، احمد یو سف، ڈا کٹر علیم اللہ حا لی اور جاوید حیات کے تا ثرات و تجزیے شا مل تھے۔
نویں دہائی کی نسل کابڑھاپا جوانی سے زیادہ خوبصورت ہے کہ ان کے پائوں میں تھکاوٹ کی کوئی زنجیر نہیں۔ کچھ کمزور کہانیوں کو اگر ہم کنارے رکھ دیں تو آج کی کہانی معتبر چہروں کے یہاں ایک نئے تخلیقی وژن کے ساتھ نئی عبارت لکھ رہی ہے۔ طبقاتی جنگ ہو یا فرقہ واریت، نا آسودگی کی چنگاری لیے ترقی کرتے ہوئے شہر کا ہر کہانی کار اندر ہی اندر سلگ رہا ہے۔
توسیع انحراف اور احتجاج کا عمل ابھرتی ڈوبتی لہروں کی طرح رواں دواں ہے۔1980 کے بعد اپنی پہچان بنانے وا لوں کی پو ری کھیپ سامنے آ چکی ہے اور نئی صدی کی شروعات میں کئی نئے نام مہتاب عالم پرویز، مہ جبیں غزال وغیرہ کہانی زمین سے جڑتے جارہے ہیں اور قدیم و جدید کا قصۂ دیرینہ ابھی باقی ہے۔’’ مداری‘‘ کے ہم قبیل آج بھی مسلط ہو نا چاہتے ہیں تاکہ تخلیقی فن کار صرف دیکھنے کی تہذیب کا حصہ بن جائے اور محسوس کرنے کی صلا حیتیں سلب کردی جائیں۔
نئی کہانی، تہذیب بدن پر اگ آ ئے زخموں کے نشانات کی طرف اشا رہ کرتے ہو ئے ایک ایسے آنگن کی تلاش میں ہے جہاں الگ الگ عقیدوں کی دیواریں نہ ہوں۔ گھٹن اور تعفن کے بغیر سانس لیا جا سکے۔ نئی صدی کی نئی کہانی ایک حساس تخلیقی فن کار کے باطن کا اظہار یہ ہے اور باطن بے سکون معاشرہ کے تجربات کی آ ماج گاہ۔
ابھی میں اتنا ہی لکھ پایا تھا کہ با ہر سے آواز آئی۔
’’اجی سنتے ہو‘‘
’’کیا ہوا؟‘‘
’’ہیرا اور موتی نے کانجی ہائوس کی دیوار کو گرادیا ہے۔‘‘
’’مگر میں تو بہرا ہوں۔‘‘
ٹھیک ہے تم سن نہیں سکتے مگر میں تو بول سکتی ہوں۔
میرے جسم پر روح کی قبا ہے اوردرون میں روحا کنواں!

Previous articleسنت طریقہ تدریس از:مدثر احمد قاسمی
Next articleڈاکٹر ریحان غنی: اردو صحافت کا مردِ قلندر از: انوار الحسن وسطوی

اپنے خیالات کا اظہار کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here