میرا پیغام محبت ہے از : ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی

0
20

ادھر تقریباً معمول سا بن گیا ہے کہ جہاں کہیں جانا ہوتا ہے وہاں کے رفقا مقامی علماء اور ائمہ مساجد کے ساتھ نشست کا اہتمام کرتے ہیں _ گزشتہ ماہ مغربی بنگال جانا ہوا ، پھر رواں ماہ کے دوسرے ہفتے ناندیڑ (مہاراشٹر) کا سفر ہوا _ دونوں جگہوں پر علماء کی اچھی نشستیں ہوئیں _ گزشتہ دو دن ریاست اترپردیش کے اضلاع میرٹھ اور مظفر نگر میں گزرے _ وہاں بھی علماء کی نشستیں رکھی گئیں _

جماعت اسلامی ہند علاقہ میرٹھ کے ارکان کا تربیتی اجتماع سردھنہ میں 18 _ 19 ستمبر 2021 میں منعقد کیا گیا _ طے پایا کہ 18 کو بعدِ نماز مغرب علماء و ائمہ کے ساتھ ایک نشست رکھ لی جائے _ اس نشست میں 15 افراد شریک ہوئے _ ان کے سامنے مختصر گفتگو کرنے کا موقع ملا _ میں نے عرض کیا کہ ملک کے بگڑتے ہوئے حالات کو سنبھالنے اور ملت کی رہ نمائی کرنے کا کام علماء کو انجام دینا ہے _ نئی نسل دینی تعلیم و تربیت سے محروم ہورہی ہے اور مسلم سماج میں بھی بہت سی برائیاں پنپ رہی ہیں _ علماء اگر خطباتِ جمعہ و عیدین ، خطباتِ نکاح ، رمضان ، قربانی ، عید میلاد النبی اور دیگر مواقع پر اپنی تقریروں میں دین کی بنیادی تعلیمات پیش کریں تو عوام اور نوجوانوں کی تربیت ہوسکتی ہے _ میں نے ان کے سامنے اصلاحِ معاشرہ کے لیے کی جانے والی جماعت کی کوششوں : نکاح کی آسان اور سادہ تقریبات کے انعقاد کی ترغیب ، جہیز اور دیگر غیر شرعی مُسرفانہ رسوم کی روک تھام کی تدابیر ، تقسیمِ وراثت کی تلقین ، ازدواجی تفہیمی کورس (pre marriage counselling) ، خاندانی مفاہمتی مرکز (post marriage counselling) ، مثالی مسجد (model mosque) ، بزم اطفال (children circle) ، ہر ہفتہ خطبۂ جمعہ کی ترسیل اور اصلاحِ معاشرہ پر لٹریچر کی تقسیم وغیرہ کا تذکرہ کیا _ علماء نے اپنے تاثرات میں ان کوششوں کو سراہا _ یہ جان کر خوشی ہوئی کہ وہ وقتاً فوقتاً مل بیٹھتے ہیں اور پیش آمدہ مسائل پر باہم مشاورت کرتے ہیں _

مولانا گلزار محمودی نے بتایا کہ انھوں نے پورے شہر میں مکاتب کا جال بچھا رکھا ہے _ وہ خود اسکول جانے والے بچوں کو دینیات پڑھاتے ہیں اور ان کی اہلیہ چھوٹی بچیوں اور لڑکیوں کو تجوید ، حفظ قرآن اور دینیات کی تعلیم دیتی ہیں _ اس کے علاوہ وہ شہر میں چلنے والے بائیس مکاتب کی نگرانی کرتے ہیں _

19 ستمبر کو دوپہر میں پروگرام ختم ہوا تو رکن جماعت جمال الدین صاحب نے خواہش کی کہ میرا گھر ضلع مظفر نگر کے قصبہ محمد پور معافی میں ہے _ اس کے پڑوس میں پُھلت ہے ، جو شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کا وطن ہے ، وہاں مولانا محمد کلیم صدیقی کی سرپرستی میں ایک بڑا مدرسہ جامعہ الإمام ولی اللہ الاسلامیۃ کے نام سے چل رہا ہے _ وہاں چلیے تو علماء کے ساتھ ایک نشست ہوجائے گی _ میں تیار ہوگیا _

محمد پور پہنچنے پر کئی علماء ملاقات کے لیے تشریف لائے _ بعد نماز عصر نمازیوں کے سامنے مختصر تذکیر کی _ تھوڑی دیر میں جامعہ ولی اللہ کے مہتمم مولانا محمد طاہر ندوی بھی چند اساتذہ کے ساتھ تشریف لے آئے _ ان کے ساتھ مغرب سے قبل اور بعد میں نشست رہی _ مولانا طاہر ندوہ میں مجھ سے سینیر تھے _ طویل عرصے سے پھلت میں خدمت انجام دے رہے ہیں _ پورے علاقے میں انہیں نیک نامی حاصل ہے _ ان حضرات کے سامنے اصلاحِ معاشرہ کے میدان میں جماعت کی کوششوں کا تعارف کرایا ، جس پر انھوں نے پسندیدگی کا اظہار کیا _

علماء کے ساتھ روابط سے اندازہ ہورہا ہے کہ مختلف اسباب سے ان کے درمیان پائی جانے والی مسلکی اور تنظیمی عصبیتوں میں کمی آرہی ہے اور وہ مل بیٹھ کر امت کے مسائل پر سوچنے اور انہیں حل کرنے پر آمادہ نظر آرہے ہیں اور جماعت اسلامی سے ان کی دوری میں بھی خاطر خواہ کمی آئی ہے _ الحمد للہ یہ ایک خوش آئند پہلو ہے _

Previous articleبہار یونیورسٹی کے زیر اہتمام امتحانات کا اعلان
Next articleبھٹکل میں صادق بھائ کے بھتیجے کی شادی۔ اور میری شرکت از : قمر اعظم صدیقی

اپنے خیالات کا اظہار کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here