مہرِ دکن : جے پی سعید از: ڈاکٹر غضنفر اقبال(گلبرگہ)

0
165

دکن کے نغزگو شعرا میں جے پی سعید مہرِ سخن تھے۔انھوں نے یکم مارچ 1932 کو اورنگ آباد دکن میں مولوی قاضی محمد وزیرالدین اور جمیل النساء بیگم کے گھر آنکھیں کھولیں۔والدین نے قاضی غوث محی الدین احمد صدیقی نام رکھا۔گھر کے دیگر افراد خاندان نے محبت سے جیلانی پاشاہ عرفیت رکھی۔اوروہ موقر سخنور حمایت علی شاعر کے تجویز کردہ اسمِ گرامی جے پی سعید سے تعلیمی وادبی دنیا میں شہرت رکھتے ہیں۔ان کے والدِ بزرگوار وزیر الدین اورنگ آباد دکن کے ممتاز قانون داں تھے۔وہ ادب وشعر کا ستھرا ذوق رکھتے تھے۔ انھوں نے اپنے لائق وفائق فرزند جے پی سعید کو کم عمری میں ہی پند نامہ سعدی، گلستان،بوستان اور پند نامہ عطار سے سبق آموز اشعار اور حمد ،نعت اور چھوٹی چھوٹی نظمیں از بر کروائی تھی۔ان سے احباب کے سامنے سنانے کا التزام وزیرالدین کیاکرتے۔والد کے اس عمل کا یہ نتیجہ نکلا کہ جے پی سعید شعر کہنے کی طرف مائل ہوگئے۔ اپنے والد کے انتقال کے تین ماہ بعد بابائے قوم گاندھی جی شہید ہوئے تھے۔اس وقت جے پی سعید کے اندر کا شاعر باہرآیا اور مہاتما گاندھی کو خراجِ عقیدت ان الفاظ میں کر بیٹھا:

آہ! موہن داس گاندھی آج تو ہم میں نہیں
آسماں آنسو بہاتا اور روتی ہے زمیں
تو نے آزادی کے دیکھے جو سہانے خواب تھے
تیرے ہاتھوں پورے ہونے کے لیے بے تاب تھے

جے پی سعید کی لیاقتِ تعلیمی ایم اے (اُردو) ایم اے (فارسی) اور بی ایڈ تھی۔انھوںنے جس زمانے میں ڈاکٹر امبیڈکر کے قائم کردہ ادارے ملند ڈگری کالج اورنگ آباد سے بی اے کیا تھا۔ جے پی سعید کی گذارش پر بابائے دستور ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈ کر نے دستور ہند کے زیرِ عنوان چار توسیعی خطبات دیے تھے،جو تاریخِ ملند کالج میں بابا صاحب کے خطبے سنہری حروف سے لکھے گئے ہیں۔عصری تعلیم کو مکمل کرنے کے بعد جے پی سعید کا تقرر اورنگ آباد دکن کے باوقار ادارے مولانا آزاد ہائی اسکول میں 1956میں بہ حیثیت مدرس ہوا۔وہ 1974 سے 1990 میں سبکدوش ہونے تک میرِ معلم رہے۔ ان کے اساتذہ میں حضرت یعقوب عثمانی اور پروفیسر سید مبارزالدین رفعت سرفہرست ہیں۔ جے پی سعید ایک مثالی مدرس گذرے ہیں۔ان کو علاقہ اورنگ آباد میں شمس الاساتذہ سے جانا اور مانا گیا۔ان کی تدریس کی ایک خوبی یہ تھی کہ وہ جماعت میں بغیر کتاب دیکھے نظم سناتے اوراشعار کی تشریح کرتے۔وسعتِ مطالعہ نے ان میں ایسی نظر پیدا کردی تھی کہ نصاب کی کتابوں میں در آنے والی اغلاط کی نشاندہی بھی کرتے جاتے جس پر طلبہ حیران رہ جاتے۔ان کے تلامذہ نے بھی علم وادب میں نام کمایا۔ جے پی سعید کے لیے سخنوری ایک مشغلہ تھی۔ وہ بے مقصد شعر نہیں کہتے تھے۔ان کا ایقان تھا:

ہو نظر میں شاعر کی مقصدِ سخن گوئی
صرف قافیوں پر ہی شاعری نہیں ہوتی

اورنگ آباددکن میں 19 /دسمبر1951کوایک مشاعرہ مخدوم محی الدین کی صدارت میں ہواتھا۔ اس مشاعرے میں جے پی سعید نے پہلی بار اپنی نظم ’’پھول کی فریاد‘‘ سنائی تھی،جس پر حضرت یعقوب عثمانی کے علاوہ حاضرین نے پسندیدگی کا اظہار کیاتھا۔ان کے ہم جماعت ڈاکٹر وحید اختر اور احسن یوسف زئی کے اصرار پر انھوں نے پنڈت نہرو پر نظم کہی تھی:

بادشاہِ ہند ہے تو گو نہیں ہے سر پہ تاج
قوم کی فکروں میں مثلِ شمع گو گھلتا ہے آج
آج بھارت میں جواہر سب سے غم گین فرد ہے
اے سعید انسانیت کا جس کے دل میں درد ہے
آپ ناراض ہوئے کوئی سبب تو ہوگا
کیا کوئی مجھ سے خطا ہوگئی انجانے میں
بابائے اُردو مولوی عبدالحق کی اورنگ آباد سے مراجعت کے بعد اورنگ آباد میں ادبی فضا پرایک جمود سا طاری ہواتھا۔اس جمود کو توڑنے کے لیے چند انجمنیں بزم رنداں،اور انجمن نوجوانانِ اورنگ آباد معرضِ وجود میں آئیں۔اس وقت جے پی سعید نے 20فروری 1955 کو شعرونغمہ کی مشعل کو روشن رکھنے کے لیے’’مطلعِ ادب‘‘قائم کی تھی۔مطلع ادب کے زیرِ اہتمام منعقدہ محافل میں اورنگ آباد کے فن کار شریک ہوتے اور اپنے مشوروں سے تخلیق کاروں کو مستفید کرتے رہتے تھے۔ انھوںنے مطالع ادب کے اجلاس میں اپنی اولین غزل پڑھی تھی جس کی ان کے اتالیق محترم یعقوب عثمانی نے حوصلہ افزائی کی۔ مطلع ادب کے میرِ کارواں کے مطلع کو بار بار پڑھوایا گیا تھا۔ مطلع یہ تھا:

شکست و فتح مقابل سے بے نیاز تو ہے
بہ فیض دار و رسن عشق سرفراز تو ہے

ان کی اولین غزل روز نامہ سیاست حیدر آباد دکن میں اُستاد شاعر حضرت نذیر علی عدیل کے نوٹ کے ساتھ شائع ہوئی تھی۔ نوٹ میں شاعر کو مشق سخن جاری رکھنے کی ترغیب دی گئی تھی۔جے پی سعید نے’ مطلع ادب‘ کے اجلاس میں پڑھے گئے پانچ افسانہ نگاروں، الیاس فرحت،رفعت نواز،رشیدانور،غوث ساجد اور محمود شکیل کے افسانوں کا انتخاب’’جستجو‘‘ کے عنوان سے اپنے عزیز دوست اور ہم زلف قاضی متین الدین سے مرتب کروایاتھا۔کتاب’’جستجو‘‘ مئی1967 میں انطباع پذیر ہوئی تھی۔جے پی سعید نے کتاب’’جستجو‘‘پر روشنی ان لفظوں میں ڈالی تھی:
’’زیرِ نظر (جستجو) افسانے مطلع ادب کے فن کاروں کی کاوشوں کا نتیجہ ہیں۔ان کے معیاری ہونے کی تصدیق تو قارئین کرام خود ہی کریںگے۔ لیکن یہاں یہ تذکرہ بے محل نہ ہوگا کہ ادب صرف توصیف وتنقیص کا خواہاں نہیں ہے۔ بلکہ عملی حوصلہ افزائی کا بھی مستحق ہے۔‘‘

جے پی سعید کے دوشعری مجموعے ’’گل گشت‘‘(1986) اور’’شاخِ گل‘‘(2007) نے اشاعت کے مراحل طے کیے ہیں۔ اس کے علاوہ انھوںنے زبان فارسی کی دو مشہور کتابوں مجالس کلیمی واحسن الشمائل (2003) اور مکتوبات کلیمی (2008) کو بامحاورہ سلیس زبانِ اُردو میں منتقل کیاتھا۔ وہ ماہر عروض،منفرد قطعۂ تاریخ اور معتبر خطاط تھے۔
راقمِ تحریر کی جے پی سعید سے چند ایک ملاقاتیں رہی ہیں۔ان کی شخصیت میں انانیت کا دور کا بھی رشتہ نہیں تھا۔شرافتِ نفس، ایثار، انکساری بدرجہ اتم جے پی سعید میں موجود تھی۔وہ ایک وضع دار،بے غرض اور نہایت سادہ منش انسان تھے۔جے پی سعید کا عقدِ نکاح اشرف الدین مرحوم کی صاحبزادی نواب بیگم سے1951 میں ہواتھا۔ان کے چار لڑکے اور پانچ لڑکیاں ہیں۔ان کی دو صاحبزادیاں ڈاکٹر قاضی اختر سلطانہ( سابق اسوسیٹ پروفیسر آف اُردو)،قاضی انور سلطانہ اور دو صاحبزادے انجینئر قاضی جاوید احمد صدیقی فنا اور ڈاکٹر قاضی نوید احمد صدیقی(صدر شعبہ اُردو مولانا آزاد کالج اورنگ آباد)،جے پی سعید کے علمی اور ادبی وارثین ہیں۔ جے پی سعید کی بہو محترمہ اسما ثمرین اہلیہ نوید صدیقی کو بھی شعروادب سے لگائو ہے۔ڈاکٹر قاضی نوید احمد صدیقی نے جے پی سعید کی قائم کردہ تنظیم’’مطلع ادب‘‘ کو احیاکرنے کے علاوہ بازیافت (کلیاتِ یعقوب عثمانی) حمایت علی شاعر:حیات اور شاعری،مولانا آزاد:ذات وحیات کے علاوہ جے پی سعید کے نظام فکروفن پر دو کتابیں شاخ گل اور نیرنگ خیال مرتب کرکے حق فرزندی اداکرنے کی سعی کی ہے۔ اسی لیے انھوںنے اپنے بچوں کے لیے دعائے خیر کی تھی:

میرے بچوں کو اللہ سلامت رکھے
دیکھ کر ان کو خوش، ہوتا ہوں شادماں
جے پی سعید:حیات و شاعری کے زیر عنوان پروفیسر صدیق محی الدین کی نگرانی انصاری شکیب الحسن نے 2011میں ایم فل کا مقالہ تحریر کیا تھا۔ جے پی سعید نے اورنگ آباد دکن کے تعلیمی وشعری منظرنامے میں اپنے گہرے نقوش چھوڑے ہیں۔وہ راسخ العقیدہ مسلمان تھے۔ فرائض اسلام کی پابندی کیا کرتے تھے۔ بیماری کی حالت میں وہ مسجد جاتے تھے۔آخری نماز انھوںنے نماز مغرب کی ادا کی تھی۔نماز کی ادائیگی کے بعد اپنی رہائش گا’’وزیر منزل‘‘ لوٹ رہے آٹو رکشہ کے تصادم سے گرپڑے۔ سرپر شدید چوٹیں آئیں۔اس حادثے کے بعد وہ خاموش رہنے لگے تھے۔

جے پی سعید 77برس 8ماہ 23دن عالم فانی میں بسر کرنے کے بعد ان کی روح24نومبر2009کو قفس عنصری سے پرواز کرگئی۔ وہ بیرون پٹن دروازہ قبرستان اورنگ آباد میں آسودۂ خواب ہیں۔ان کے سانحہ انتقال کے بعد میونسپل کارپوریشن اورنگ آباد نے مولانا آزاد ہائی اسکول کی روڈ کو ’’جے پی سعیدروڈ‘‘ کے نام سے موسوم کیا۔بہ قول جے پی سعید:
میں نہ تھا تو تنہا تھا، میں نہیں تو تنہا ہے
کل بھی وہ اکیلا تھا، آج بھی اکیلا ہے
جے پی سعید نے اصناف شعر میں غزل کے علاوہ حمد،نعت،قطعات،رباعی،مرثیہ اور نظم میں طبع آزمائی کی جس پران کے اپنے دستخط موجود ہیں۔ان کی غزل میں شاعرانہ لطافت تازگی اور رعنائی پائی جاتی ہے۔ انھوںنے غزل میں روایت اور درایت کا حسین امتزاج پیش کیاتھا جے پی سعید نے کہیں لکھاہے:
’’میں غز ل میں روایت کو اہمیت دیتاہوں۔حال ماضی کے بطن سے پیداہواہے اور مستقبل حال کے بطن سے جنم لے گا۔ماضی سے بغاوت تو اپنے ورثہ سے بغاوت ہوگی جس پر ہمیں فخر ہے۔‘‘

جے پی سعید نے غزل میں چند تجربے کیے تھے۔غزل میں مرحوم نے قوافی کی تلاش کو اہم جانا تھا۔مثال کے طورپر انھوںنے ایک غزل کہی تھی جس کے قافیے کافر،تاجر،مظاہر،شاعر،ایک اور غزل کے قافیے سخاوت،کہاوت،ذکاوت،مہارت۔اسی طرح ایک اور غزل میں امارت،تجارت،جسارت اور حرارت وغیرہ۔ان کے بعض اشعار میں تشبیہ،استعارہ،تضاد،مراعات النظیر کا استعمال ملتاہے۔جے پی سعید کے کلام میں بھرپور تخلیقی بہائو تھا۔انھوںنے آدابِ فن کی پاس داری کرتے ہوئے غزل کو فکروخیال کی پاکیزگی عطا کی تھی:
گھر میں روشنی کر لو تم چراغِ دولت سے
اس چراغ سے دل میں روشنی نہیں ہوتی
جہاں چھوڑا تھا تو نے وقتِ رخصت
وہیں پر زندگی ٹھہری ہوئی ہے

سب سے چھپ کر ترا غم دل سے لگایا اے دوست
کام اچھے بھی کیے ہم نے گناہوں کی طرح

ہزاروں میں کوئی ہوتا ہے بختاور زمانے میں
بنے مٹی سے سونا سب کی یہ قسمت نہیں ہوتی

تری صورت ہے ہر صورت سے بہتر
بڑی پُرکار تیری سادگی ہے
جے پی سعید شعری ادب ، روایت، صورت کاری اور اسلوب سے واقف تھے۔اسی لیے ان کی غزلوں میں کلاسیکی رنگ نمایاں ہے۔پروفیسر حمیدسہروردی لکھتے ہیں:
’’جے پی سعید غزل کی روایت سے واقف ہیں۔اپنی شعری روایت کے تلازموں کا وہ نئے عہد پر انطباق کرتے ہیں۔‘‘
جے پی سعید کو شعری روایات عزیز تھیں۔ وہ اپنے احساسات و واردات کا اظہار رموز و علائم کے پردے میں کرتے تھے۔ ان کے بہت سے اشعار روانی و برجستگی اورسادگی و پرکاری کے سبب متوجہ کرتے ہیں۔ ان کلام میں تاثیر کی چاشنی اور درد کی خفیف سی چبھن ہے۔ انھوں نے اپنے کلامِ شوق میں پرانی بات کو نیا انداز دیاہے۔ جے پی سعید لکھتے ہیں :
’’ یہ صحیح ہے کہ نئی بات کہنا مشکل ہے لیکن پرانی بات کو نئے انداز سے پیش کرنا بھی جوئے شیر لانے سے کم نہیں۔ روایت سے ایک احترام آمیز انحراف شاید شاعری میں نئی راہیں کھولنے کا ذریعہ بن سکتاہے۔ ‘‘
جے پی سعید کی شاعری میں دل آویزی اور دلکشی کا احساس ہوتا ہے۔ کیوں کہ ان کے ہاں فکر کے ساتھ ساتھ فن کا بھی بہت نکھرا ہوا شعور ملتا ہے۔ انھوںنے پرانی شاعرانہ روایات کو صحت مند اقدار کی روح میں جذب کر لیا تھا۔ خوش آہنگ لفظوں سے طرزِ بیان کو حسن و تاثر کی وسعت عطا کی:
دل کے غم کدے میں کیوں ہو گذر اندھیرے کا
ایک شمع بجھتی ہے ایک شمع جلتی ہے
سبب اُداسی کا میری تو سب نے پوچھا ہے
مگر نگاہِ دل درد آشنا ہے الگ
اور بڑھ جاتی ہے کچھ دامن دل کی وقعت
جب ترے اشکوں سے دامن مرا نم ہوتا ہے
جے پی سعید کو زبان پر دستگاہ اور طبیعت میں روانی تھی جس کی وجہ سے زندگی کی حقیقت کو خارجی دبائو قبول کیے بغیر شعر میں سمو دیتے تھے۔ وہ اپنی تخلیقی صلاحیت اور جمالیاتی شعور کو قادرالکلامی کے ذریعے برجستگی اور بے ساختگی سے کلام میں پیش کر دیتے تھے:
اک ہمیں تھے کہ رہے پوچھتے سب کے احوال
خیریت اپنی کوئی پوچھنے والا کب تھا
آج کا روز بھی الجھن میں گذرا، کل بھی
وہی ہم ہوں گے، وہی اپنے مسائل ہوں گے
جے پی سعید نے کیفی اعظمی،سکندر علی وجد،قاضی سلیم،ڈاکٹر عصمت جاوید،اخترالزماں ناصر کی قطعاتِ تاریخ وفات لکھی۔قطعۂ تاریخ وفات میں ان کا طرزِ سخن اچھا اور سچا تھا:
رفت راہِ جاوداں قاضی سلیم
ہیں مکیں لامکاں قاضی سلیم
سال رحلت ہے یہ ہجری میں سعید
کہیے عمر جاوداں قاضی سلیم

کون ہے دنیا میں لافانی یہاں
نام ہے کسی کا جاوداں
سالِ ہجری میں ہے یہ تاریخ وجد
شاعرِ خوش فکر مقبولِ جہاں

تھے وہ اپنی ذات میں بحر العلوم فکر و فن
نعمت علم و عمل بھی ان کو خالق سے ملی
جستجو تھی سالِ رحلت کی جو ہجری میں سعید
عصمت جاوید محبوبِ خلائق سے ملی

جے پی سعید کاکلام ان کے شعری ذہن کا پیداوار ہے،جس میں پنداور نصیحت کا اظہار بیان منازل اعلیٰ کا آئینہ دار ہے۔ان کی شاعری میں تازہ گوئی اورنگ آباد کے ادبی ماحول کی دین ہے۔اسی ماحول نے شاعرکو فنی وشعری مزاج کی شناخت بخشی ہے۔
میدانِ نثر میں جے پی سعید کا مضمون اپنے دیرینہ کرم فرما ڈاکٹر عصمت جاوید مرحوم پر خاکہ یاد گار ہے۔’’میں اور میرافن‘‘ میں جے پی سعید نے جامع انداز میںاپنی باتیں لکھ دی ہیں۔ معروف خاکہ نگار احمد اقبال کی کتاب ’میرا شہر میرے لوگ‘ پر تاثرات کے علاوہ ان کی ایک اور تحریر’’سال نو‘‘پرہے جو آکاشوانی اورنگ آباد پر بھنی سے نشر ہوئی تھی۔بعد میں آکاش وانی کے ترجمان ’آواز نئی دہلی‘ میں یکم جنوری 1981کو شائع ہوئی تھی۔ مذکورہ تحریر میں نثر نگار خیال انگیز بات لکھتے ہیں:
’’یہ بات بھی فطرتِ انسانی میں شامل ہے کہ جب وہ اپنے ماضی کا موازنہ حال سے کرتاہے تو اُسے اپنا ماضی ہی بہتر نظر آتاہے۔‘‘
جے پی سعید،ملک عنبر اورنگ زیب عالم گیر کے شہر اورنگ آباد دکن کی آبرو تھے۔ان کے شاعرانہ مزاج،تخلیقی اُپج اور فکری کاوش اُردو قلم کاروں کے ذہن وقلب میں ہمیشہ تازہ رہے گی۔بہ قول جے پی سعید:
مری نوا سے ہم آہنگ ہوں گے کیوں کر ساز
سماع خانے میں ہے منفرد مری آواز
vvv
Dr. Ghazanfar Iqbal
“SAIBAN” Zubair Colony,
Hagarga Cross, Ring Road
GULBARGA – 585104,
(Karnataka), INDIA
email:ghazanfaronnet@gmail.com

Previous articleجشن آزادی بنام ” آزادی کا امرت مہو تسو ” کی پوسٹ میں آزاد بھارت کے پہلے وزیر اعظم اور پہلے وزیر تعلیم کی تصویر کیوں موجود نہیں؟ از: ڈاکٹر کہکشاں عرفان (الہ آباد)
Next articleاولاد کی پرورش سے متعلق چند ضروری ہدایات۔از: حکیم الأمۃ,مجدد الملۃ مولانا اشرف علی تھانوی رحمة الله عليه

اپنے خیالات کا اظہار کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here