مُربّی کے پانچ امتیازی اوصاف( سیرتِ طیبہ کی روشنی میں) از: ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی

0
199

جو شخص ‘مُربّی’ کے منصب پر فائز ہو ، لوگوں کے درمیان وعظ و ارشاد کرتا ہو ، دوسرے اس کی باتیں سننے اور ان پر عمل کرنے کے خواہاں رہتے ہوں اسے اپنے اندر درج ذیل اوصاف پیدا کرنے کی کوشش کرنی چاہیے :

1_ اپنا نمونہ پیش کرے

مربی کو چاہیے کہ لوگوں کو جن اچھے کاموں پر ابھارے ، ان پر پہلے خود عمل کرکے دکھائے اور لوگوں کے سامنے اظہار بھی کرے کہ میں جو باتیں کہہ رہا ہوں ان پر خود بھی عمل کرتا ہوں _
اللہ کے رسولﷺ نے اپنے اصحاب کو اہلِ خانہ کے ساتھ اچھے برتاؤ کی تلقین کی تو ساتھ ہی اپنا نمونہ پیش کیا _ فرمایا :
خَيْرُكُمْ خَيْرُكُمْ لِأَهْلِهِ، وَأَنَا خَيْرُكُمْ لِأَهْلِي( ترمذی : 3895)
” تم میں بہتر وہ لوگ ہیں جو اپنے اہلِ خانہ کے لیے بہتر ہوں اور میں اہلِ خانہ سے برتاؤ کے معاملہ میں تم میں بہتر ہوں _”
آپ نے زندگی میں اعتدال اور توازن کی تعلیم دی تو صاف الفاظ میں بیان کیا کہ آپ خود بھی اس پر عمل پیرا ہیں _ فرمایا :
أَمَا واللَّهِ إنِّي لَأَخْشَاكُمْ لِلَّهِ وأَتْقَاكُمْ له ، لَكِنِّي أصُومُ وأُفْطِرُ ، وأُصَلِّي وأَرْقُدُ ، وأَتَزَوَّجُ النِّسَاءَ (بخاری : 5063)
” لوگو ! اللہ کی قسم _ میں تم میں سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والا اور سب سے زیادہ تقویٰ اختیار کرنے والا ہو ، لیکن میں روزہ رکھتا ہوں اور نہیں بھی رکھتا ، نماز پڑھتا ہوں اور سوتا بھی ہوں اور نکاح بھی کرتا ہوں _”

2_ آسانی پیدا کرے

مربی کو چاہیے کہ لوگوں کے سامنے دین کو آسان بناکر پیش کرے _ ان کے دلوں میں یہ بات راسخ کرنے کی کوشش کرے کہ احکامِ دین پر عمل کرنا آسان ہے _
رسول اللہ ﷺ نے حضرت ابوموسیٰ اشعری اور حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہما کو یمن بھیجا تو فرمایا :
يَسِّرَا ولَا تُعَسِّرَا ، وبَشِّرَا ولَا تُنَفِّرَا (بخاری :4341)
” آسانی پیدا کرو ، دشواری پیدا نہ کرو _ خوش خبری دو ، متنفّر نہ کرو _”
حجۃ الوداع کے موقع پر لوگوں نے آپ سے مختلف مسائل دریافت کیے _ ایک نے کہا : میں نے قربانی کرنے سے پہلے حلق کرلیا _ آپ نے فرمایا : اب قربانی کرلو ، کوئی حرج نہیں _ دوسرے نے سوال کیا : میں نے رمی کرنے سے پہلے قربانی کرلی _ فرمایا : “اب رمی کرلو _ کوئی حرج نہیں _” اسی طرح صحابہ نے مناسکِ حج کی تقدیم و تاخیر کے بارے میں بہت سے سوالات کیے _ آپ نے ہر ایک کو یہی جواب دیا :
” افْعَلْ وَلَا حَرَجَ “(بخاری : 83)
“کوئی بات نہیں ، ایسا ہی کرلو _”

3 _ رجائیت پسند ہو _

مربی کو چاہیے کہ حالات چاہے جتنے سخت ہوں ، ہمیشہ امید افزا بات کرے _
مکی عہد کے ابتدائی زمانے میں حضرت خبّاب بن ارت رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ سے اہلِ ایمان کو دی جانے والی اذیّتوں اور تکالیف کی شکایت کی تو آپ نے فرمایا : ” تم سے پہلے کے لوگوں کو اس سے کہیں زیادہ مصائب سے دوچار ہونا پڑا تھا _” پھر ارشاد فرمایا :
واللَّهِ لَيُتِمَّنَّ هذا الأمْرَ ، حتّى يَسِيرَ الرّاكِبُ مِن صَنْعاءَ إلى حَضْرَمَوْتَ ، لا يَخافُ إلّا اللَّهَ ( بخاری : 3612)
” اللہ کی قسم _ یہ کام ضرور پورا ہوکر رہے گا ، یہاں تک کہ سوار صنعاء سے حضرموت تک سفر کرے گا ، لیکن اسے اللہ کے سوا کسی اور کا خوف نہ ہوگا _”
غزوۂ احزاب کے موقع پر مدینہ کے اطراف میں خندق کھودنے میں صحابہ کے ساتھ رسول اللہ ﷺ بھی شریک تھے _ ایک بڑی چٹان کسی سے نہیں ٹوٹ رہی تھی _ آپ نے اس پر تین ضربیں لگائیں _ وہ پاش پاش ہوگئی _ ہر مرتبہ اس سے چنگاری نکلی _ آپ نے فرمایا :
إِنِّي حِينَ ضَرَبْتُ الضَّرْبَةَ الْأُولَى رُفِعَتْ لِي مَدَائِنُ كِسْرَى وَمَا حَوْلَهَا وَمَدَائِنُ كَثِيرَةٌ، حَتَّى رَأَيْتُهَا بِعَيْنَيَّ ، ثُمَّ ضَرَبْتُ الضَّرْبَةَ الثَّانِيَةَ، فَرُفِعَتْ لِي مَدَائِنُ قَيْصَرَ وَمَا حَوْلَهَا حَتَّى رَأَيْتُهَا بِعَيْنَيَّ ، ثُمَّ ضَرَبْتُ الثَّالِثَةَ، فَرُفِعَتْ لِي مَدَائِنُ الْحَبَشَةِ وَمَا حَوْلَهَا مِنَ الْقُرَى حَتَّى رَأَيْتُهَا بِعَيْنَيَّ _ ( نسائی :3176)
” پہلی ضرب سے نکلنے والی چنگاری میں مجھے کسریٰ کے محلات اور شہر ، دوسری ضرب سے نکلنے والی چنگاری میں قیصر کے محلات اور شہر اور تیسری ضرب سے نکلنے والی چنگاری میں حبشہ کے محلات اور شہر دکھائی دیے ہیں _”

4_ تذکیر کے مواقع سے فائدہ اٹھائے

مربی کو چاہیے کہ وہ اپنی بات کہنے کے مواقع تلاش کرے _ جب اور جہاں بھی موقع ملے اپنی بات کہہ گزرے _ حالات سے فائدہ اٹھائے ، تمثیلات استعمال کرے اور مؤثر انداز میں سامعین کی توجہ اس جانب مبذول کرائے جدھر چاہتا ہے _
ایک جنگ کے بعد قیدیوں میں ایک عورت بھی تھی _ اس کے پستانوں سے دودھ ٹپک رہا تھا _ وہ کوئی بھی بچہ پاتی اسے چمٹا لیتی اور دودھ پلانے لگتی _ اسے دیکھ کر رسول اللہ ﷺ نے اپنے اصحاب کو مخاطب کرکے فرمایا : ” تمھارا کیا خیال ہے؟ کیا یہ عورت اپنے بچے کو آگ میں ڈال سکتی ہے؟” صحابہ نے جواب دیا : ” ہرگز نہیں _” تب آپ نے فرمایا :
لَلَّهُ أرْحَمُ بعِبادِهِ مِن هذِه بوَلَدِها (بخاری : 5999)
” اللہ اپنے بندوں پر اس سے زیادہ مہربان ہے جتنی یہ عورت اپنے بچے پر _”
ایک مرتبہ اللہ کے رسول ﷺ اپنے اصحاب کے ساتھ کہیں جا رہے تھے _ راستے میں بکری کا ایک بچہ مردہ حالت میں پڑا ہوا تھا _ آپ نے فرمایا : ” یہ اتنا بے وقعت ہے کہ اس کے مالک نے اسے باہر پھینک دیا ہے _” صحابہ نے عرض کیا : ” ہاں ، اے اللہ کے رسول! اب اس کی کوئی وقعت نہیں رہ گئی ہے _” آپ نے فرمایا :
فَالدُّنْيَا أَهْوَنُ عَلَى اللَّهِ مِنْ هَذِهِ عَلَى أَهْلِهَا (ترمذی : 2321)
“جتنا یہ اپنے مالک کے لیے بے وقعت ہے اس سے زیادہ دنیا اللہ کے لیے بے وقعت ہے _”

5 _ خوش گفتار ہو _

مربی کے لیے ضروری ہے کہ اس کی زبان میٹھی ہو _ اس کے چہرے پر ہمیشہ مسکراہٹ رقصاں رہتی ہو _ وہ بولے تو اس کے منھ سے پھول جھڑیں _ رسول اللہﷺ نے فرمایا :
تَبَسُّمُكَ فِي وَجْهِ أخِيكَ لَكَ صَدَقَةٌ ( ترمذی :1956)
” اپنے بھائی کے سامنے تمھارا مسکرانا تمھارے لیے صدقہ ہے _”
متعدد صحابہ نے گواہی دی ہے کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ سے زیادہ کسی کو مسکراتا ہوا نہیں دیکھا _

[ تذکیر بالحديث ، تربیتی اجتماع بہ عنوان ‘مربی ، داعی ، رہ نما’ ، مرکز جماعت اسلامی ہند ، 13 اکتوبر 2021 ]

Previous articleقائد احرار مولانا حبیب الرحمن ثانی لدھیانوی ؒ از:مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی
Next articleدوسری ہجرت …ایک جائزہ از: ڈاکٹر سیدشاہداقبال(گیا)

اپنے خیالات کا اظہار کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here