مولانا کا انٹرویو ممکنہ نعمت ہے از : توصیف القاسمی

0
49

(مولن اسی) مقصود منزل پیراگپوری سہارنپور

آج کل شوشل میڈیا پر مولانا ارشد مدنی کے ایک انٹرویو کو لیکر کافی بحث چل رہی ہے ۔ بہت سے محترم قلمکار مولانا پر اس لئے اعتراض کر رہے ہیں کہ انہوں نے ایک فرقہ پرست کٹر ہندو و ٹی وی چینل کو انٹرویو کیوں دیا ؟

کچھ چیزیں اتفاقیہ ہوجاتی ہیں ، مولانا خود بھی اس انٹرویو کو اتفاقیہ ہی بتلا رہے ہیں ۔ مولانا نے انٹرویو کیوں دیا ؟ اور وہ بھی اس خبیث اینکر کو ؟ میرے خیال میں بحث کا یہ رخ غلط ہے ۔ جو چیز اتفاقیہ ہونی ہوتی ہے وہ تمام منصوبے پلاننگ احتیاطی اقدامات کے برخلاف ہو جاتی ہیں ۔ اب آپ بہتر پلاننگ کرکے اس کے نتائج کو بدل سکتے ہیں یا نہیں ؟ یہ سوال اب قابلِ غور ہے اور یہ ہی ہم سب کی ذمے داری ہے ۔

میرے خیال میں جو کچھ ہونا تھا وہ ہوچکا اب ہم اس انٹرویو کو ذراسی کوشش سے بہتر کر سکتے ہیں ، اس اتفاقیہ مصیبت سے ”دائمی راحت“ کا پہلو نکال سکتے ہیں ، اس تنگی اور عسر سے ”یسر“ پیدا کرسکتے ہیں ۔ عقلمند وہی ہے جو مواقع کو استعمال کرنا جانتا ہوں ، برائی کو ”اچھائی“ میں بدلنے کا ہنر جانتا ہو ، ہائے افسوس کو ”شاباش “ میں تبدیل کرسکتا ہو ، چیلنچز کو کامیابی میں ڈھال سکتا ہو ، کہتے ہیں کسی عقلمند آدمی کو لوگوں نے پتھر مارے اس عقلمند نے ان پتھروں سے اپنے گھر کا زینہ بنا لیا ، یوں اسکو زینے کا مٹیریل فری میں دستیاب ہوگیا ۔
قارئین کرام ، آئیے ! اس سوال پر غور کرتے ہیں کہ اب ہم کیا کر سکتے ہیں یا ہم کو کیا کرنا چاہیے ؟

مولانا کا مذکورہ انٹرویو میں نے بھی سنا ہے ، میرا خیال ہے کہ جس قدر بھی سوالات اینکر کی طرف سے کئے گئے ہیں ، وہ تمام سوالات اور تمام باتیں مکمل طور پر غلط فہمی پر مبنی ہیں اور یہ غلط فہمی ایسی نہیں جو انجانے میں پیدا ہوگئی ہو ، بلکہ یہ غلط فہمی منصوبہ بند طریقے سے ہندو احیاء پرستوں نے پھیلائی ہے ، حقائق کو توڑ مروڑ کر بیان کیا ہے ، تاریخ کے ساتھ خیانت کی گئی ہے ، جھوٹ کو ”خوش نما“ کرکے ہندو کمیونٹی کے اندر پھیلایا گیا ہے ، ہندو کہیں مسلمان نہ ہوجائیں ؟ اس کے لیے اسلام کو اور مسلمانوں کی تاریخ کو انتہائی بھدے طریقے سے اور قاتلانہ انداز میں بیان کیا گیا ہے ، تب جاکر اینکر کے مذکورہ سوالات کی لسٹ تیار ہوئی ہے ۔ بھارت کے پس منظر میں غیر مسلموں کے اندر اسلام اور مسلمانوں کے تعلق سے کس قدر غلط فہمیاں اور شکوک وشبہات ہیں ؟ اس کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ 21 ویں صدی کے حقیقت پسند مفکر مولانا وحیدالدین خان صاحب مرحوم نے بھی اس بات کا اعتراف کیا ہے چنانچہ مولانا مرحوم اپنی کتاب ”دین و شریعت“ میں ’اسلامی تعلیم‘ کے عنوان کے تحت مدارس اسلامیہ پر طویل تحقیقی تجزیہ کرتے ہوئے ایک ”مدارس سینٹر“ کی ضرورت پر زور دیتے ہیں اور مدارس سینٹر کے سلسلہ وار 9/ فوائد تحریر کرتے ہیں جن میں سے سے 8/ اور 9/ نمبر پیش خدمت ہیں ، چنانچہ مولانا لکھتے ہیں کہ

8۔ 17 مئی 2001 کا واقعہ ہے میرے پاس دہلی کے ایک انگریزی اخبار کا نمائندہ آیا یہ ایک ہندو نوجوان تھا ۔ اس کا نام مسٹر کارتیکے شرما تھا ۔ اس نے کہا کہ میں اپنے اخبار کے لیے لیے ایک اسٹوری کر رہا ہوں ۔ یہ مسلمانوں کے دینی مدارس کے بارے میں ہے ۔ اس نے کہا کہ میں نے بہت تلاش کیا مگر مدارس پر کوئی انگریزی کتاب مجھ کو نہیں ملی ۔ اس سلسلے میں آپ میری مدد کریں ۔

اس طرح کے مختلف تجربات کے بعد مجھے اندازہ ہوا کہ مدارس کے تعارف پر انگریزی زبان میں غالباً کوئی کتاب موجود نہیں ہے یہ بلاشبہ بہت بڑی کمی ہے ……. مدارس سینٹر کا ایک خاص کام یہ ہوگا کہ وہ اس قسم کی تعارفی کتابیں تیار کرے اور مختلف زبانوں میں اس کے ترجمے کا انتظام کرے ……. ۔

نومبر 1999 میں انڈین ائیر لائن کا طیارہ اغوا ہوا اس سلسلے میں بھارت کے اعلیٰ افسران مذاکرات کے لئے افغانستان گئے ، وہاں کسی افغانی نوجوان نے دیوبند دیکھنے کی خواہش کا اظہار کیا اور کہا کہ ہم بھی دیوبندی ہیں ۔ اس کے نتیجے میں بھارتی افسران بعض سنگین قسم کے شکوک وشبہات میں پڑگئے ۔ مذکورہ پس منظر میں حکومت کے ایک اعلیٰ افسر نے مولانا وحیدالدین خان صاحب سے بات کی جس کا تذکرہ مولانا مدارس سینٹر کے 9ویں فائدے کے تحت کررہے ہیں ۔

9۔ …..حکومت کے مذکورہ ذمہ دار کی بات چیت سے اندازہ ہوا کہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ دیوبند شاید جنگ جوئی کی تربیت کا سینٹر ہے ، افغانستان میں نیز ہندوستان کی سرحد پر جو تشدد عرصے سے جاری ہے اس کی فکری تربیت کا مرکز شاید دیوبند ہے ۔

ان کی یہ بات سن کر مجھے ہنسی آ گئی ، میں نے کہا کہ دیوبندی تو میں بھی ہوں میری تعلیم مدرسۃالاصلاح میں ہوئی ہے اس مدرسے کا سنگ بنیاد دیوبند کے مولانا اصغر حسین نے رکھا تھا جو شیخ الہند مولانا محمود الحسن کے شاگرد تھے ، پھر میں نے ان کو بتایا کہ دیوبندی یادیو بندیت سے مراد وہ مسلک ہے جس میں اتباع سنت پر زوردیا جاتا ہے ۔ اسی نسبت سے ان افغانی نوجوانوں نے اپنے کو دیوبندی بتایا ، کیونکہ افغانستان کے لوگ عرصہ دراز سے دینی تعلیم کے لئے دیوبند آتے رہے ہیں اور وہ اپنے شرعی مسلک کے اعتبار سے دیوبند کے علماء پر اعتماد کرتے ہیں ۔ اس معاملے کا سیاسی تشدد یا جنگ جوئی سے کوئی تعلق نہیں ، میری اس وضاحت کے بعد وہ پوری طرح مطمئن ہوگئے ۔

مدارس دینیہ کے خلاف اس قسم کی غلط فہمیاں بڑی تعداد میں ملک میں پھیلی ہوئی ہیں ۔ دراصل یہی غلط فہمیاں ہیں جن کی بنا پر مدارس کے خلاف طرح طرح کی باتیں کہی جاتی ہیں ، مثلاً مدارس پر کنٹرول کرنے کے لیے قانون بنانا یا کچھ لوگوں کی طرف سے بھارتیہ کرن کا نعرہ لگایا جانا ۔ یا کچھ لوگوں کا یہ کہنا کہ یہ مدارس قومی یکجہتی یا نیشنل فکر پیدا کرنے میں رکاوٹ ہیں ۔ اسی طرح کچھ لوگوں کا یہ کہنا کہ یہ مدرسے جب تک قائم ہیں اس وقت تک ملک میں مجموعی ترقی نہیں ہو سکتی ، کیونکہ وہ مسلمانوں کو ملک کی مین اسٹریم میں داخل ہونے میں روک بنے ہوئے ہیں ، وغیرہ وغیرہ ۔

یہ الزامات بلاشبہ بے اصل اور بے بنیاد ہیں اور اگر سنجیدہ انداز میں کوشش کی جائے تو یقینی طور پر ان کا خاتمہ کیا جا سکتا ہے ۔ مجوزہ مدارس سینٹر کا ایک ضمنی یا جزئی کام یہ بھی ہوگا کہ وہ مناسب انداز میں ان غلط فہمیوں کی تردید کرے ۔ ( دین و شریعت صفحہ 159 )
راقم بھی پچھلے کچھ سالوں سے غیر مسلم حضرات کے ساتھ کام کررہا ہے ان کی باتوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ ٹی وی چینلوں کی پھیلائی ہوئی بکواس ہی کو یہ لوگ اسلام اور مسلمانوں کا حقیقی روپ سمجھتے ہیں ۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ انٹرویو کا زیادہ تر حصہ بہتر رہا ہے اور مولانا نے بہتر جواب دئیے ہیں ۔ بھارت کے پس منظر میں منہ توڑ جواب نہیں دینے چاہیے ، ”سانپ بھی مر جائے لاٹھی بھی نہ ٹوٹنے پائے “ والے نہج کو بہر حال برقرار رکھنا چاہیے جس کی مولانا نے بھرپور رعایت رکھی ہے ۔ ہاں مگر بعض سوالات کا تحقیقی جواب دینے کے ساتھ ساتھ ”الزامی جواب“ بھی ضرو دیا جانا چاہیے ، میرا یہ مشورہ حضرت مولانا کو نہیں ہے بلکہ ان مسلم نوجوانوں کو ہے جو یوٹیوب چینلوں پر ویڈیوز اپلوڈ کرتے ہیں ۔ اس انٹرویو کے ذریعے ”کٹر ہندوؤں کے سوالات کٹر ہندو کی زبانی “ ہم کو مل گئے ہیں ۔ اب مسلم محققین کی ذمہداری ہے کہ ان تمام سوالات کا تحقیقی جواب تحقیقی پس منظر میں دیں ، یہ کام ڈاکٹر ذاکر نائیک ، مولانا وحیدالدین خان سمیت کئی علماء کرام پہلے بھی کر چکے ہیں اور آج بھی ان کی شاندار کتابیں موجود ہیں مگر وہ اردو زبان میں ہونے کی وجہ سے ”کھجور میں اٹکی“ ہوئی ہیں ، اسلام کے تعلق سے بعض کتابیں ہندی میں بھی ہیں مگر وہ ’بہتر تشہیر‘ کی بلکہ ’فری تقسیم‘ کی منتظر ہیں ۔ نوجوان مسلم یوٹیوبرس کے تحقیقی ویڈیوز اپلوڈ کرنے کے کا کام انتہائی آسان ہے کیونکہ تمام ہی سوالات کے شاندار جوابات پہلے سے دئے جاچکے ہیں ، اورنگزیب کے تعلق سے علامہ شبلی نعمانی صاحب کی تحقیقی کتاب ”اورنگزیب عالمگیر پر ایک نظر“ موجود ہے ، مدارس کے تعلق سے بھی کتابیں موجود ہیں ۔ اب بہتر انداز میں اس تیار مواد کو فلمانے کی ضرورت ہے ۔

ہم یہ چاہتے ہیں کہ ہندی زبان میں جوابات سے پر ویڈیوز سوشل میڈیا پر اپلوڈ کی جائیں تو اسلام مسلمان اور مدارس اسلامیہ کی رسائی ہر فرد تک آسان ہوجائے گی اور کمنٹس کی صورت میں ناظرین کے مزید خدشات و سوالات بھی آجائیں گے ، ایک مصنف کتاب لکھ کر فارغ ہوجاتا ہے اپنے قارئین سے برابر رابطے میں نہیں رہ سکتا وہ قارئین کے سوالات بھی نہیں لے سکتا ، مگر یوٹیوب وغیرہ پر ویڈیوز اپلوڈ کرکے ناظرین کے ساتھ رابطہ برقرار رہتا ہے ، سوالات و خدشات سامنے آتے رہتے ہیں ۔

Previous articleتحفظ ماحولیات -اسلامی تعلیمات کی روشنی میں از: مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی
Next articleتقسیم ہند نے اردو کا منظر نامہ یکسر تبدیل کردیا: ڈاکٹر فوزیہ فاروقی

اپنے خیالات کا اظہار کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here