مولانا محمد سجاد ___حیات اور کارنامے

0
22

مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی
نائب ناظم امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ

بانی امارت شرعیہ مولانا ابو المحاسن محمد سجاد رحمۃ اللہ علیہ کاشماربیسویں صدی کی اہم علمی ،سماجی، مذہبی اور سیاسی شخصیتوں میں ہوتا ہے،علامہ انور شاہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ انہیں فقیہ النفس عالم کہا کرتے تھے ،واقعہ یہ ہے کہ بیسویں صدی کے نامور اور بافیض لوگوں کی مختصر سے مختصر کوئی فہرست تیار کی جائے گی تو اس میں مولانا ابو المحاسن محمد سجاد رحمۃ اللہ علیہ کا نام ضرور ملے گا ،وہ ہمہ جہت شخصیت کے مالک تھے اور ان کا میدان عمل میں علم، سماج، مذہب، دین و سیاست سب کا گزر تھا، ان کے مضامین و مقالات ان کی علمی گہرائی اور گیرائی کا پتہ دیتے ہیں، جمعیت علماء اور امارت شرعیہ اپنے وجود میں مولانا کی مرہون منت ہے، ان اداروں کے قیام کے خاکے بنانا، ان خاکوں میں رنگ بھرنے کے لیے اپنی پوری زندگی داؤ پر لگا دینا ان کی زندگی کی بڑی خصوصیات میں سے ایک ہے ،جس کے لیے پوری ملت مولانا کی مرہون منت ہے ۔
ان خصوصیات کی وجہ سے مولانا کی حیات و خدمات محققین کی توجہ کا مرکز رہا ہے اور بہت ساری کتابیں ان پر طبع ہو چکی ہیں، ان کتابوں میں مولانا مسعود عالم ندوی کی محاسن سجاد، مولانا عبدالصمدرحمانی کی حیات سجاد انہیں دونوں کتابوں سے اخذ کردہ مضامین کا مجموعہ حیات سجاد مرتبہ مولانا انیس الرحمن قاسمی ،انہیں کی مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد حیات و خدمات (سیمینار میں پڑھے گئے مقالات کا مجموعہ) مولانا اختر امام عادل کی حیات ابو المحاسن اور مولانا طلحہ نعمت ندوی کی حضرت مولانا ابو المحاسن محمد سجاد، انتہائی مستند محقق اور قابل قدر مجموعے ہیں ،ان میں ایک مجموعہ جمعیت علماء کی جانب سے منعقد ان پر سیمینار کے مقالوں کا ہے اور دو خالص تحقیقی نوعیت کا کام ہے، ان میں مولانا اختر امام عادل کی کتاب حیات ابو المحاسن کا جواب نہیں۔
اب ڈاکٹر مولانا عبدالودود قاسمی کی نئی کتاب مولانا محمد سجاد ۔حیات اور کارنامے کے نام سے سامنے آئی ہے، یہ دراصل ان کا پی ایچ ڈی کا تحقیقی مقالہ ہے جسے انہوں نے پی ایچ ڈی کے مقالوں میں جو رطب ویابس ہوتا ہے، اسے حذف کر کے مقالہ کی تلخیص منظر عام پر لانے کا کام کیا ہے، اور اچھا کیا ہے۔
ڈاکٹر عبدالودود قاسمی اپنے اصلی نام سے زیادہ اور قلمی نام واؤ قاسمی سے کم جانے جاتے ہیں ،16؍ اکتوبر 1973کو الحاج ماسٹر محمد یوسف رحمہ اللہ کے گھر ڈلوکھر، مرزا پور، تھانہ لدنیا ضلع مدہو بنی میں آنکھیں کھولیں، دارالعلوم دیوبند سے فاضل اور متھلا یونیورسٹی سے ایم اے،بی ایڈ، پی ایچ ڈی کیا، یو جی سی کا نیٹ نکالا اور ان دنوں سی ایم بی کالج ڈیوڑھ، گھوگھر ڈیہا، مدھوبنی میں اسسٹنٹ پروفیسرکے عہدے پر فائز ہیں، عمر فرید میموریل ایوارڈ برائے ادب اور انور جلال پوری ایوارڈ برائے نقابت حاصل کر چکے ہیں ،ایوارڈ میں کیا سب ملا،دوستوں کو بھی نہیں بتاتے، اس لیے اسے پردۂ خفا میں ہی رہنے دیجئے، عکس سخن، درسگاہ اسلامی۔ فکر و نظر کی بستی، صدائے اعظم، دربھنگہ کا محرم تاریخ و تجزیہ، موصوف کی مطبوعہ کتابوں میں شامل ہے،یہ تو رہا مصنف کا تعارف، اب رخ کتاب کی طرف کرتے ہیں۔
227 صفحات کی اس کتاب کا پیش لفظ خود مصنف نے لکھا ہے، جس میں احوال واقعی کا ذکر ہے، قطعہ ٔتاریخ پروفیسر سید شاہ طلحہ رضوی برق کا ہے، کتاب کا انتساب والدین مرحومین کے نام ہے،جو مصنف کی سعادت مندی کی دلیل ہے ’’جن کی بے پناہ محبتوں اور دعاؤں کے صدقے‘‘ وہ علمی کاموں کے لائق بنے۔
ڈاکٹر عبدالودود قاسمی نے اس کتاب میں مولانا کے خاندانی حالات ،نام و نسب ، تحصیل علم ،تدریسی خدمات اور تبحر علمی کا تفصیل سے جائزہ لیا ہے، مولانا سجادؒ کی ازدواجی زندگی، جسمانی خد و خال ،اخلاق و عادات، اساتذۂ کرام، تلامذہ، رفقائے کار اور معاصرین پر روشنی ڈالی ہے، مولانا سجادؒ کی سیاسی و سماجی خدمات، ان کی سیاسی بصیرت اور نقطۂ نظر کو بھی موضوع بحث بنایا ہے، انجمن علماء بہار، جمعیت علماء ہند ،خلافت کمیٹی اور مسلم انڈیپینڈنٹ پارٹی کے قیام، مقاصد اور خدمات کو زیر بحث لا کر اس عہد کی ملی اور سیاسی تنظیموں کی خدمات اور طریقۂ کار پر کلام کیا ہے،’’ وفات سجاد‘‘ ’’یاد سجاد‘‘ ’’ماتم سجاد‘‘ ’’ذکر سجاد‘‘ اور قطعۂ تاریخ وفات کو بھی اس کتاب میں جگہ دی گئی ہے۔
کتاب کا بڑا حصہ مولانا سجاد کی اردو تصانیف ،ان کے نثر کی خصوصیات اور ان تصانیف کی اہمیت کے جائزے پر مشتمل ہے جن کتابوں پر گفتگو کی گئی ہے اس میں حکومت الٰہیہ، فتاوی امارت شرعیہ، مقالات سجاد، سیاسی مقالات، مکاتیب سجاد، قانونی مسودے، خطبۂ صدارت، قضایا سجاد،امارت شرعیہ :شبہات و جوابات، خاص اہمیت کی حامل ہیں ،مولانا کے افکار و خیالات ان کتابوں کی روشنی میں جاننے کی کوشش کی گئی ہے۔

آخر میں مولانا سجاد کے بارے میں ہم عصر ادبی و مذہبی اور دور حاضر کے دانشوروں کی آراء قلم بند کی گئی ہیںاور اس نتیجے پر پہنچا گیا ہے کہ ایک عالم دین، ایک مفکر ،ایک مدبر و محقق اور انشاء پردازی کی تمام خوبیاں ان میں بدرجۂ اتم موجود تھیں۔

روشان پرنٹرس دہلی کے مطبع میں چھپی اس کتاب کا ناشر ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس دہلی ہے، 200 روپے دے کر الفاطمہ ایجوکیشنل اینڈ ویلفیئر ٹرسٹ ڈیوکھر ،بابو برہی ،مدھوبنی بہار، بک امپوریم سبزی باغ پٹنہ، ناولتی بکس و بک گیلری قلعہ گھاٹ دربھنگہ سے حاصل کر سکتے ہیں، مفت لینے کی خواہش ہو( جو اچھی نہیں ہو تی)تو مصنف کے موبائل 9534590987پر فون کر لیں۔

Previous articleڈاکٹر محمد سالم سلفی: موت سے بھی ختم جس کا سلسلہ ہوتا نہیں
Next articleبھارت رتن اور ووٹوں کا جتن: یا الٰہی یہ ماجرا کیا ہے؟