“موشگافیاں” ایک تعارف از: سعادتِ پذیرائی: سلمان خالد

0
15

(ورجینیا، امریکہ)

عزیزم احمد نعیم ہاشمی سے تعارف سماجی رابطہ کے پلیٹ فارم سے ہوا۔جن ابتدائی دِنوں میں راقمِ لا وصف؛ لفظی بےروزگار و قلم طراز نشیبی گھاٹیوں کا چاند مار مسافر تھا، اُنہی ایامِ قصد میں یہ عاجز، برادرنعیم ہاشمی کی کاٹ دار تحریری ظرافتوں کا پرستار ہوا۔ نعیم بھائی کی فیس بُک وال سے ہمہ روز یک سطری فقروں کی یورش ہونے لگی تو نَو وارد کو تجسس ہوا کہ مزید جان پہچان کا سلسلہ بڑھانا چاہئیے۔ معزز صاحبانِ چشم! کہنے دیجئے کہ بھائی صاحب نے دِل کے اوطاق میں ہم ایسے بےمہار ناقہ کو نخلِ الفت کا سایۂ اخوان حصہ بقدر جُثہ عطا کیا۔ سوشل میڈیا سے راقم کا تعلق کوئی ایک دہائی کے زائد المعیاد عرصہ سے قائم ہے جسے چند بھل صفائیوں کے بعد ہر برس رواں رکھنے کی باقاعدہ کاوشیں گزشتہ دو برس سے جاری و ساری ہیں۔ اِنہی دوامی نہروں کے بہتے پانیوں سے احمد نعیم ہاشمی کی تحاریر کا تعارف ہوا اور ایسا خوب کہ لہلہاتی و سرسبز، ترو تازہ و معطر، شاداب و موثر، دل بستہ و دل آویز، دل کش و طرح دار، خوش مزاج و خوش دِل، پُرکشش و شگفتہ خاطر، شُستہ رَو و خوش بیاں نگارشات بس آپ کو اپنے ساتھ بہا لے جائیں۔ روز رفتہ میں خلفشاری و مکدر زدہ مسائلستان میں مسکرانے کا ساماں میسر کرنے والے اب بہت تھوڑے رہ گیے ہیں۔

برادر نعیم ہاشمی کا مزاح عامیانہ پھکڑ پن سے دور حقیقی طرب نگاری ہے جس میں سچ پوچھئیے تو مجھے “یوسفی” کا سا مزہ آیا۔ کئی فقروں میں یوں لگا کہ جیسے یہ بذبانِ “ضیاء محی الدین” ادا ہوئے ہوں۔ مثلاً آپ “موشگافیاں” میں “سگریٹ نوش کو دو دوش” کا باب پڑھیے، “ اُس کے ابّا کو بھی کینسر ہوا تھا، اور پھر بانکے نے سگریٹ سینے سے چِمٹا لی۔۔۔یہ کہہ کر۔۔۔کیوں دور کروں، کیسے دور کروں۔۔۔ابّا کی نشانی جو ہے”۔ مثلاً آپ “نام و نسب” کا دلچسپ باب پڑھیں؛ جس میں گھر کے ہر فرد بشمول شوکت حسین شیرازی کو چھوڑ، باقی سب افراد کا نام “شفقت حسین شیرازی” ہے۔ جی ہاں! ابا، امی، بھائیوں یہاں تک کہ پالتو بکری بلکہ میمنے کا نام بھی “شفقت شیرازی کے وزن پہ “شفو” ہی ہے۔ کیا برجستگی ہے صاحب!۔ “بیوی کی بیوگی” اور خصلتی خاوند” ایسا تبسم سماں خیز ہے کہ بس!!!۔ “ایک رات غالب کے ساتھ” تو کمال ہے۔ پڑھتا جا، مُسکراتا جا، ہنستا جا، بہت سے مقامات ایسے آئے کہ راقم مصنف کی آمد پہ اَش اَش کر اُٹھا۔

“موشگافیاں” چندن و اطلس میں لپٹے ملتانی سوہن حلوے کی طرح میری جند جاں، میرے میٹھے سوہنے جنوبی سرائیکی وَسیب سے تعلق رکھنے والے سکہ بند مزاح نگار جناب احمد نعیم ہاشمی کے دل سے لکھا گیا صنفی تحفہ ہے جس کو پڑھنے کے بعد پھیپھڑوں کا مساج کرنا لازم ہے۔ یقیناً یہ ایک مکمل سر بمہر طربی سوغات ہے کہ جس نے ورق پلٹا وہ لوٹ پوٹ ہوا۔ اِسے “جہاں بخت پبلیکیشنز” نے ملتان و لاہور سے شائع کیا ہے، خوب صورت سرورق “فیض محمد شیخ” اور “حمدان خالد” نے مل کر تیار کیا ہے۔ باذوق قارئین اِس شاہ کار کو حاصل کرنے کے لیے مصنف سے درج ذیل طریقے سے رابطہ فرما سکتے ہیں۔

احمد نعیم ہاشمی
۳۸/ بی۔ سفاری ٹاؤن، بوسن روڈ ملتان
فون نمبر/وٹس ایپ: +92 312 5346374
ای-میل: ahmadnaeemhashmi@gmail.com
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~

Previous articleمحمد رضوان کے سب کے سامنے نماز پڑھنے پر وقار یونس نے جتایا فخر، ہرشا بھوگلے نے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا
Next articleعوام پریشان، مہنگائی کے خلاف چولہاا ور موٹر سائیکل کے ساتھ کیا احتجاج!

اپنے خیالات کا اظہار کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here