منٹو کا تخلیقی جہان از: امتیاز سرمد

0
171

شعبۂ اردو، راجا سنگھ کالج، سیوان (بہار)
رابطہ: 9891985658

سعادت حسن منٹو نے مثالیت پسندی، جذباتیت اور رومانیت پرستی سے پرے ایسا تخلیقی جہان آباد کیا، جس میں انھوں نے حقیقت کو بالکل عریاں صورت میں دیکھنے اور دکھانے کی کوشش کی۔ انھوں نے اصلیت پر پڑے ہوئے سارے پردوں کی دھجیاں اڑا کر رکھ دیں؛ اس کے نتیجے میں خواہ غلاظت، گندگی اور بدصورتی ہی کیوں نہ نظر آئے۔

وہ نہایت حسّاس ذہن کے مالک تھے۔ان کی متنوع طبیعت اضطراب، بےچینی اور بے اطمینانی سے مملو تھی؛ اس کی وجہ یہ ہے کہ انسانی قدروں کی پامالی اور شکست و ریخت انھیں کسی صورت میں گوارا نہیں تھی۔ بغاوت ان کی سرشت میں شامل تھی؛ اس بغاوت کی نوعیت اور اس کی مقصدیت اس عہد کے دیگر ادیبوں سے مختلف تھی۔ وہ سماج کے کھوکھلے پن کے خلاف تھے، وہ فرد کی فطری جبلّتوں کی آزادی کے طالب تھے۔ اس لیے ان کی تحریروں میں چیخ و پکار، گھن گرج اور نعرے بازی نہیں ملتی ہے۔ وہ بات بات پر طبقاتی کش مکش کے لقمے بھی نہیں توڑتے؛ شاید یہی وجہ ہے کہ ترقی پسندوں نے انھیں اپنے قبیلے سے خارج کر دیا تھا۔منٹو ذہنی طور پر نہ صرف یہ کہ نابغۂ روزگارتھے بلکہ اردو افسانے کے تاریخی نقوش میں ایسے انمٹ نقش تھے جو آج بھی ہمارے ذہنوں پر ثبت ہے۔

منٹو انفرادی معاملات کو اجتماعی تجربات کے توسط سے پیش کرتے ہیں، جن میں تخلیقی لہریں موجزن ہوتی ہیں۔ جبر کے خلاف احتجاج ان کا سب سے اہم مسئلہ ہے۔ ان کا المیہ اجتماعی تہذیب کا زوال نہیں بلکہ اجتماعی تہذیب کے ان حصوں سے بے زاری ہے، جسے ہم سماجی ناسور کہ سکتے ہیں۔ ان کا شعور تمام کھوکھلے عقیدوں اور سماج کی جکڑ بندیوں سے ماورا ہے۔ وہ جذبہ جو انھیں افسانہ لکھنے پر مجبور کرتا ہے؛ہم دردی،کرب یا برہمی کا جذبہ ہے۔ ان کی اس برہمی کا نشانہ عقل و تہذیب سے عاری وہ لوگ ہیں، جن کے دلوں سے ہم دردی کا جذبہ ختم ہو چکا ہے۔

منٹو کے افسانے ہمیں چونکاتے نہیں، جھنجھوڑتے ہیں۔ مروجہ سیاسی نظام سے بے زاری، نابرابری، کم زور طبقوں کا استحصال، ریاکاری اور جنس ان کے موضوعات ہیں۔ ان کی تیز نظر دور سے اپنا شکار دیکھ لیتی ہے اور وہ اس کو اپنی گرفت میں لے کر اس پر عملِ جراحی شروع کر دیتے ہیں۔ ان کی انفرادیت، ان کے موضوعات کے ساتھ ساتھ ان کے انداز بیان میں بھی پوشیدہ ہے؛ جس میں طنز ہے، باغیانہ لہجہ ہے اور دو ٹوک بات کہنے کا انداز ہے۔ عورت کی سماجی حیثیت، سماج کے فرسودہ رسم و رواج اور معاشرے میں ہونے والے ظلم و تشدد منٹو کے افسانوں میں کھل کر سامنے آتے ہیں۔
منٹو نے اردو افسانے کو رقت انگیز بیان سے باہر نکالا اور اسے حالات کے خلاف بغاوت کرنے کی راہ دکھائی۔ زندگی کے برہنہ مسائل بالخصوص جنسی اور نفسیاتی موضوعات کو جرأت مندی اور بے باکی سے پیش کرنے کی طرح ڈالی۔ اس طرح بے باکی کی نئی مثال قائم ہوئی، جو ان کے نوکیلے اور کٹیلے لہجے کی دین ہے۔ ان کے افسانوں میں سیاست، رومان، جنسی نفسیات کے علاوہ بھی بہت کچھ ہے۔

منٹو نے سیاسی حقائق سے چشم پوشی نہیں کی۔ انھوں نے معاشرتی جسم کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر حالات کا مقابلہ کیا۔ انھوں نے ‘نیاقانون’ کی شکل میں ایسا افسانہ دیا، جو اس عہد کے سادہ لوح افراد کی ذہنی کش مکش کا اعلامیہ ہے؛ منگو کوچوان اس افسانے کا مرکزی کردار ہے، جس کا سیاسی شعور بیدار ہے۔ اس کی شخصیت فطری جبلتوں، خواہشات، ترغیبات، ہیجان اور ترنگ کا مجموعہ ہے۔ نئے قانون کے استقبال میں وہ ایک گورے کو جس تمکنت سے پیٹتا ہے، وہ اس کے ابتدائی ہیجانات اور جذبۂ انتقام سے عبارت ہے۔ منٹو کے ایسے کرداروں میں سیاسی انسان کے اجتماعی شعور سے کہیں زیادہ ان کی انفرادیت اور ان کی ‘انا’ کام کرتی ہے۔

منٹو جنسی عریانی اور فحاشی کو بے سبب انگیخت نہیں کرتے، بلکہ اس کے پیچھے نفسیاتی عمق اور مقاصد کار فرما ہوتے ہیں۔ وہ جنس کے نفسیاتی تجزیوں سے کرداروں کے لاشعور، تحت الشعور اور شعور کی پوشیدہ جبلتوں، جذبات اور احساسات کی تہوں تک پہنچ جاتے ہیں۔ وہ بنیادی طور پر حقیقت پسند ہیں۔ ان کی عریاں حقیقت پسندی نے انھیں بدنام بھی کیا اور مشہور بھی۔ ‘دھواں’، ‘کالی شلوار’، ‘کھول دو’، ‘ٹھنڈا گوشت’ وغیرہ جیسے ان کے افسانوں پر مقدمے بھی چلائے گئے اور عدالتوں نے متعدد دفعہ ان پر جرمانے بھی عائد کیے۔ ان کی جنسی حقیقت نگاری کے خلاف ان کے بعض معاصرین نے بھی محاذ قائم کر لیا تھا۔ منٹو کی حیات میں ان کی حمایت میں کم اور مخالفت میں زیادہ صفحے سیاہ کیے گئے۔ انھوں نے جنسی جبر کے خلاف قلم اٹھایا، جنسی استحصال اور مظالم سے وہ متنفر رہے۔ انھوں نے’ٹھنڈا گوشت’ اور’کھول دو’ کی شکل میں ایسے افسانے لکھے ہیں، جو انسانی شہوت کی انتہاؤں کو پیش کرتے ہیں اور جن کے تصور سے انسان کانپ جاتا ہے۔
انھوں نے اپنے افسانوں میں مکروہ اور بھیانک درندگی کو جس فنی چابک دستی سے پیش کیا ہے، اس سے حظ و انبساط یا کسی قسم کی مسرت حاصل نہیں ہوتی، بلکہ انتہائی حقارت اور شدید نفرت پیدا ہوتی ہے۔ وہ سماج کے اس طبقے کو موضوع بناتے ہیں، جسے ہم فاحشہ یا طوائف کے نام سے منسوب کرتے ہیں اور اس سے نفرت یا کراہیت کا اظہار کرتے ہیں؛ لیکن اس پر غور نہیں کرتے کہ آخر وہ کون سے عوامل ہیں، جو انھیں اپنی عفت کو داؤ پر لگانے کے لیے مجبور کرتے ہیں۔

منٹو کا افسانہ’لائسنس’ اس سماجی نظام پر عمیق طنز ہے، جو عورت کو جسم فروشی کا لائسنس تو دے دیتا ہے، لیکن اسے تانگہ چلانے کا لائسنس نہیں دیتا۔ یہ افسانہ بہت خوب صورتی سے لکھا گیا ہے، اِسے طنز اور حقیقت نگاری کا خوب صورت آمیزہ کہا جا سکتا ہے۔

تقسیم ہند کے نتیجے میں ہونے والے خوں ریز فسادات سے انسانیت لرز اٹھی اور ادیبوں نے اس سے پیدا ہونے والے کرب کو اپنا موضوع بنایا۔ فسادات کے دوران دو بنیادی وحشیانہ جذبے یعنی جنسی تشدد اور قتل و غارت گری، اتنی شدّت اختیار کر گئے تھے کہ انسان کی انسانیت پر سوالیہ نشان لگنے لگا۔ انسان حیوانیت اور درندگی پر آمادہ ہو گیا، ایسی نازک صورت حال میں بھی انسان پر منٹو کا اعتماد اتنا مضبوط تھا کہ ایسے وقت میں بھی انھیں مایوسی نہیں ہوئی۔ فسادات پر لکھتے ہوئے جہاں بہت سے ادیبوں نے انسان کی اس بہیمیت اور وحشی پن پر توجہ دلائی، منٹو نے ہمیں بار بار یہ یقین دلایا کہ انسان حیوان بن کر کر بھی اپنی انسانیت نہیں کھو سکتا۔ منٹو نے اپنے افسانوی مجموعے’ٹھنڈا گوشت’ کا اس طرح انتساب کیا:
‘ایشر سنگھ کے نام۔۔۔
جو حیوان بن کر بھی اپنی انسانیت کھو نہ سکا۔’

فسادات پر منٹو نے ‘سہائے’، ‘ٹھنڈاگوشت’، ‘گورمکھ سنگھ کی وصیت’، ‘کھول دو’٬ ‘شریفن’ اور’موذیل’ جیسے افسانے سپردِ قلم کیے۔ ان افسانوں میں’ٹھنڈا گوشت’ کا ذکر اس لیے ضروری ہے کہ اس افسانے سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ انسان حیوان بن کر بھی انسان ہی رہتا ہے۔ کہیں نہ کہیں لچک اس میں نظر آتی ہے۔ ایشر سنگھ نے متعدد آدمیوں کا قتل کیا تھا، لیکن اس کے ذہن پر اس کا بہت زیادہ اثر نہیں ہوا تھا؛ کیونکہ قتل آدمی کی فطرت کے خلاف نہیں ہے۔ ایشر سنگھ سے جو مذموم حرکت ہوئی تھی وہ تو انسانی فطرت کے خلاف تھی۔ ایک مردہ لڑکی کے ساتھ زنا، فطرت کے خلاف سنگین ترین جرم ہے؛ چنانچہ اس جرم کے نتیجے میں وہ اپنی قوتِ مردانگی کھو بیٹھتا ہے۔ اس حرکت کے بعد بھی وہ پہلے جیسا نارمل انسان رہتا تو اس کا مطلب یہ ہوتا کہ انسان کچھ بھی کرلے اس کی کرتوتوں کا اس پر کچھ اثر نہیں ہوگا۔ یہاں افسانے کا گہرا نفسیاتی نکتہ یہ ہے کہ اس کی قوت مردانگی کی موت انسانیت کی علامت ہے۔

‘ٹھنڈا گوشت’ کا فنی تجزیہ کرتے ہوئے ممتاز شیریں لکھتی ہیں:
‘ٹھںنڈا گوشت’ ایک ایسا افسانہ ہے، جسے ہم منٹو کے فن کے مکمل نمونے کے طور پر لے سکتے ہیں۔ منٹو کے اسلوب تحریر میں غضب کی چستی ہے۔ ‘ٹھنڈا گوشت’ اتنا گٹھا ہوا، چست اور مکمل افسانہ ہے کہ اس میں ایک لفظ بھی گھٹایا یا بڑھایا نہیں جا سکتا۔ ایشر سنگھ کے چند ٹوٹے پھوٹے جملوں میں اس کے مضطرب دل و دماغ کی ساری کرب انگیز کیفیت کھنچ آئی ہے۔ (منٹو نوری نہ ناری، ص:127)

منٹو نے فسادات پر لکھے اپنے افسانوں میں یہی ثابت کیا ہے کہ انسانیت ایسی سخت جان یے کہ انسان کی بہیمت بھی اسے ختم نہیں کر سکتی۔ انسانیت پر اعتماد بحال رکھنے کے لیے منٹو نے ایسے کرداروں کی تخلیق کی جو اس قیامت خیز صورت حال میں بھی ثابت قدم ریے تھے، جو اس بربریت اور حیوانیت کی تیز لہروں میں بہ نہیں گئے تھے، بلکہ اس کے آگے سینہ سپر ہو کر اپنے دوستوں کو بچانے کے لیے جان تک کی بازی لگا دی تھی۔ایسے کرداروں کے توسط سے انسان کی عظمت ثابت کرنا آسان بات تھی، لیکن منٹو نے انھی چھوٹے موٹے قاتلوں کو اپنے افسانوں کا محور بنایا جو اپنے مذہبی جنون میں وحش بن گئے تھے، لیکن ان میں انسانی حس پھر بھی باقی تھی۔ منٹو نے یہ بتانے کی کوشش کی کہ جب تک یہ ذرا سی بھی حس باقی ہے، ہمیں انسانیت سے مایوس ہرگز نہیں ہونا چاہیے۔ کب رجائیت کی چنگاری بھڑک اٹھے گی، کچھ کہا نہیں جا سکتا۔

‘بابو گوپی ناتھ’ منٹو کے آخری دور کا افسانہ ہے، بقول ممتاز شیریں منٹو کی ادبی تکمیل کا مظہر ہے۔ اس میں منٹو نے خلاف معمول بڑا بھرپور، پیچیدہ اور مکمل کردار پیش کیا ہے، اس کردار کو سامنے لاتے ہوئے منٹو کا رویہ بھی ایک سچے فن کار کا ہے۔ ایک مکمل کردار کے ہم راہ اس افسانے میں ایک بھرپور تجربہ بھی ملتا ہے۔ منٹو عموماً چھوٹے چھوٹے تجربوں میں بھی بڑی اور سبق آموز باتیں ڈھونڈ لیتے تھے، یہ ان کی انفرادیت ہے۔

منٹو کو جذبات نگاری میں مہارت حاصل ہے، ان کی جذبات نگاری میں ایک خاص توازن ہے۔ وہ پہلے اپنے مشاہدے اور تخیل سے ایک واقعہ ایجاد کرتے ہیں، پھر مکالموں میں زبان و بیان اور طرزِ اظہار کی کرشمہ سازی دکھاتے ہیں؛ جن میں ایجاز، اختصار اور جامعیت کے ایسے اوصاف ہوتے ہیں کہ کسی لفظ یا اس کی ترتیب کو بدلا نہیں جا سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے افسانوں میں ارتکاز کا حسن نمایاں ہے۔
ان کے اسلوب میں تشبیہات و استعارات کا استعمال اس ہنر مندی سے ملتا ہے کہ جاذبیت، بانکپن اور برجستگی اپنی بہاریں دکھاتے ہیں۔
اس مختصر سے جائزے کے بعد یہ کہا جا سکتا ہے کہ منٹو نے معاشرتی غلاظت اور بدصورتی کو بہت قریب سے دیکھا ہے۔ یہی نہیں بلکہ انھوں نے زندگی کے زہراب کو اس طور پر چکھا ہے کہ اس کی تلخی زبان سے گزر کر نس نس میں سرایت کر گئی ہے۔ حیاتِ فانی کے تجربے اور مشاہدے میں انھوں نے اپنے آپ کو شمع کی طرح پگھلایا ہے اور زندگی کے ان پہلوؤں کو پوری جرأت مندی، بے باکی اور بے رحم صداقتوں کے ساتھ پیش کیا ہے، جنھیں چھونے کی جرات بہت کم ادیبوں کو ہو سکتی ہے۔ (یہ بھی پڑھیں!عین المعارف( دیوان آسی) مبصر: امتیاز سرمد)

Previous articleکہانی “ابرِ رحمت”از: شاہ تاج ( پونے)
Next articleرفعت میں آسماں سے بھی اونچا ہے بامِ ہند! از: مظفر نازنین، کولکاتا

اپنے خیالات کا اظہار کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here