منفی احساس وخیالات سے بچیے از: مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی

0
61

نائب ناظم امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ

منفی احساس وخیالات ہمیں نفسیاتی طور پر کمزور اور جسمانی طور پر بیمار بنا دیتے ہیں، اس لیے ہمیں اس سے دور رہنا چاہیے، اس کا طریقہ یہ ہے کہ جیسے ہی آپ کو غصہ آوے، مزاج میں چڑ چڑ اپن پید اہو، ذہن ودماغ پر مایوسی کا غلبہ ہو تو پُرسکون ہونے کی کوشش کریں ، گہری سانسیں لیں، ضرورت محسوس ہو تو پانی کی چھینٹیں چہرے پر ڈالیں، پُر سکون ہونے کے لیے کوئی خاص طریقہ نہیں ہے ، اپنی نفسیات کے اعتبار سے کسی بھی طریقہ کاانتخاب کرلیں، بعض لوگ ٹہل کر پُر سکون ہوتے ہیں اور بعض لوگ جگہ کی تبدیلی سے بھی اپنے احساسات وخیالات کو مثبت رخ دینے میں کامیاب ہوجاتے ہیں، جب بھی منفی خیالات دل ودماغ میں پرورش پانے لگیں سر کو ایک طرف جھٹکئے اور کہیے کہ ’’میں تو ایسا نہیں ہوں‘‘، یا مجھے اس قسم کے خیالات سے پیچھا چھڑا لینا چاہیے، اس قسم کی خود کلامی بھی آپ کی سوچ کو دوسرا رخ دینے میں معاون ہو گی ، دوسروں کے بارے میں کچھ بولتے وقت بھی یہ خیال رکھیے کہ اس سے منفی اثرات پیدا نہ ہوں، آپ جو کچھ جذبات میں دوسروں کو بولتے ہیں، اس کا پہلا اور منفی اثر خود آپ کی ذات پر پڑتا ہے ، جس کی وجہ سے آپ کی نفسیات کو نقصان پہونچتا ہے، ہمیشہ اچھا بولیں ، اچھا سوچیں اور اچھے خیالات کے ساتھ زندگی گذاریں، اس سے آپ کے منفی احساسات وخیالات ختم نہیں تو کم ضرور ہو جائیں گے ، اگر آپ کی سوچ یہ بنتی ہے کہ مجھے اس شخص ، اس کام یا اس کے طریقۂ کار سے نفرت ہے ، اس کو اس طرح بدلیے کہ میں اس کے مقابل کچھ بہتر کرنے کی پوزیشن میں ہوں اور میں ایسا کر سکتا ہوں۔

جو حالات آپ کے موافق نہیں ہیں، ان کو موافق بنانے کے لیے مسلسل سوچتے رہیے، صوفیاء کے یہاں مراقبہ کی اہمیت اسی لیے ہے کہ انسان آخرت کو ٹھیک کرنے اور اللہ کی رضاء کے حصول کے لیے مسلسل فکر کرتا ہے ، امیر شریعت سابع مفکر اسلام حضرت مولانا محمد ولی رحمانی ؒ ہم لوگوں سے کہا کرتے تھے کہ فرصت کے ایام میں بھی دماغ کو خالی مت چھوڑیے ، امارت کی ترقی کے لیے مسلسل غور وفکر کرتے رہیے ، بلکہ انہوں نے کارکنوں کے درمیان ایک چھوٹی ڈائری بھی تقسیم کروائی تھی کہ اس سوچ کا جونتیجہ سامنے آئے، اسے قلم بند کیجئے، ہر وقت لگے رہیے، واقعہ یہی ہے کہ اگر آپ نے مثبت انداز میں سوچنا بند کر دیا تو ذہن میں خرافات آنے لگیں گے اور جو مشہور ہے کہ ’’خانہ خالی دیو می گیرد‘‘ کے مصداق انسان بن جائے گا۔

غصہ سے بھی انسان منفی سوچ کی طرف بڑھتا ہے، جس شخص پر غصہ آ رہا ہے اس کو شکست دینے اور پریشان کرنے کے منصوبے میں سارا وقت برباد ہوجاتا ہے ، اس سے دل ودماغ میں مثبت سوچ کی صلاحیت کم ہوتی ہے ، آپ کے منفی منصوبے اس شخص کو نقصان پہونچا سکیں گے یہ ایک موہوم بات ہے ہوسکتاہے نقصان پہونچ جائے،یہ بھی ممکن ہے کہ آپ کی تدبیر کار گرنہ ہو ، لیکن اس طرز عمل سے آپ کا نقصان یقینی ہے ، اسی وجہ سے حدیث میں آیا ہے کہ بڑا پہلوان وہ ہے جو غصے کو پچھاڑ دے ، قرآن کریم میں بھی الکاظمین الغیظ والعافین عن الناس کہہ کر غصہ کو پی جانے اور لوگوں کو معاف کرنے کی اہمیت بتائی گئی ہے ، اور اسے احسان میں شامل کرکے اللہ نے اعلان کر دیا کہ وہ احسان کرنے والوں کو محبوب رکھتا ہے ۔
ہماری سوچ اور فکر پر ہم نشینوں کے بھی اثرات پڑتے ہیں، اچھے کی صحبت اچھا بناتی ہے اور بُروں کی صحبت برا بنا کر چھوڑتی ہے ، عطر کی دوکان میں بیٹھنے والا عطر نہ خریدے تو بھی بدن پر خوشبو کے اثرات لے کر واپس ہوتا ہے ، اور کوئلہ کی کان میں جانے والا کوئلہ نہ بھی چھوئے تو بھی اس کے کپڑوں پر کوئلہ کی سیاہی کے اثرات نمایاں ہوتے ہیں، اس لیے کہا گیا ہے کہ آدمی کی پہچان اس کی ذات سے نہیں، ساتھ اٹھنے بیٹھنے والوں سے ہوتی ہے، اس لیے ضروری ہے کہ اپنی سوچ کو درست رکھنے کے لئے مثبت سوچ والوں کے ساتھ بیٹھیے، وہ لوگ جو ہر وقت منہہ بِسورے اور تناؤ کی کیفیت میں ہوتے ہیں، وہ آپ کو بھی تناؤ کی دنیا میں پہونچا دیں گے ، اس لیے قرآن کریم کی اس آیت کو زندگی کا نصب العین بنائیے کہ اے ایمان والو اللہ سے ڈرو اور سچوںکے ساتھ رہو، یہ سچے لوگ آپ کی سوچ کو مثبت رکھنے ، آخرت کی فکر کرنے اور زندگی کو راہ راست پر رکھنے میں معاون ہوں گے ۔

Previous articleتبدیلی مذہب: آئی۔اے۔ ایس افتخار الدین حکومت کے نشانے پر!
Next articleمولانا کلیم صدیقی اور ان کے ساتھیوں کی رہائی کا مطالبہ

اپنے خیالات کا اظہار کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here